جان کیری کا دورہ پاکستان اور پیرس کی امن ریلی

عظیم ایم میاں
عظیم ایم میاں
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

ان سطور کی اشاعت تک امریکی وزیر خارجہ جان کیری بھارت کے بعد اپنا دو روزہ دورئہ پاکستان بھی مکمل کرچکے ہوں گے بلکہ جان کیری کے دورہ پاکستان کے مفید، کامیاب اور اہم ہونے کے بارے میں سرکاری بیانات بھی سامنے آچکےہوں گے۔ حالانکہ جنوبی ایشیا میں امریکی وزیر خارجہ کی آمد کا بنیادی مقصد اسی ماہ کے آخر میں امریکی صدر اوباما کے دورئہ بھارت کے انتظامات،ماحول اورمعاملات کو فائنل شکل دینا تھا۔انہوںنےاپنے حالیہ دورئہ بھارت کے دوران بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارت میں مزید تیز رفتار اضافہ،بھارت میں سول نیوکلیئر پلانٹس کی نئی تعمیر میں امریکی سرمایہ کاری، اسلحہ سازی میں اشتراک، فوجی ضروریات کی خریدو فروخت اوردیگر معاشی اور تجارتی شعبوں میں فروغ اور توسیع کے معاملات پر نہ صرف گفتگو کی بلکہ اس وسیع بھارت، امریکہ اشتراک پر عمل کرنے کی جلدی بھارت کی بجائے امریکی وزیر خارجہ نے ظاہر کی ہے۔ حالانکہ بھارت نےابھی اس بھارت، امریکی اشتراک کے سلسلے میں بہت سے قوانین بنانے کا وعدہ پورا کرنا ہے۔ بھارت میں غیر ملکی کمپنیوں کی جو مصنوعات بنائی جائیں گی اس کیلئے مینوفیکچرنگ رولز بھی ابھی طے ہونا باقی ہیں۔

بھارت کا ایٹمی پروگرام بھی پاکستان کی طرح عالمی ایٹمی معاہدے این پی ٹی کا نہ تو حصہ ہے اور نہ ہی تسلیم کیا جاتا ہے مگر امریکی اور دیگر غیرملکی کمپنیاں سول نیوکلیئر ایٹمی پلانٹس اور ایٹمی ضروریات کیلئے ہیوی واٹر اوردیگر نوعیت کا تعاون اور تعمیر کرنے کیلئے منتظر ہیں۔ بھارت نے تو اپنی ایک ارب سے زیادہ آبادی کو دنیا کے سامنے ایک بڑا اثاثہ اور مصنوعات و تجارت کیلئے ایک بہت بڑی کنزیومر مارکیٹ کے طور پر کامیابی سے پیش کیا اور ہمارے پاکستانی قائدین نے اپنی 18کروڑ کی آبادی، قدرتی وسائل، اہم اسٹرٹیجک پوزیشن کو ایک بوجھ اور ذمہ داری کا روپ دے کر دنیا کے سامنے پیش کیا۔ مختصر یہ کہ اب امریکہ نے بھارت سے اپنی موجودہ 97 ارب ڈالر سالانہ کی تجارت کو بڑھا کر 500 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچانے کا ہدف تیار کرلیا ہے۔ مودی حکومت کے امریکہ سے اس معاملے میں وعدے ابھی وعدے ہی ہیں لیکن امریکہ آگے بڑھ کر اس نئے بھارت، امریکہ تعاون کو عملی شکل دینے کیلئے عملی طور پر تیار ہے جبکہ ہم پچھلے کئی سال سے ابھی تک پاک، امریکہ تعلقات کیلئے اسٹرٹیجک ڈائیلاگ کے مراحل میں ہی ٹہل رہے ہیں۔ ان تمام سالوں میں بھی اسٹرٹیجک ڈائیلاگ میں تعطل بھی آیا ہے اور ابھی تک یہ ڈائیلاگ محض ڈائیلاگ اور کسی نتیجہ و عمل کے بغیر ہی چل رہا ہے۔

مختصر الفاظ میں اتحادی پاکستان کو محض ڈائیلاگ اور وعدوں پر ٹہلایا جارہا ہے جبکہ پڑوسی بھارت کے ساتھ اربوں ڈالر کا اشتراک و سرمایہ کاری، فوجی تعاون،کے ساتھ اس علاقائی برتری دلوانے کے ساتھ اور عالمی اتحادی درجہ بھی دیا جارہا ہے۔اس کے یوم جمہوریہ 26جنوری کی تقریبات میں امریکی صدر اوباما ہوں مہمان خصوصی گے۔ اس تناظر میں یہ سمجھنا کہ امریکہ پاک، بھارت کشیدگی، پاکستانی سرحدوں پر بھارت کی اشتعال انگیزی اور پاکستان کے خلاف بھارتی قیادت کے تعصب اور دشمنی پر پاکستان کے موقف کو ہمدردی سے سنے گا یا مصالحت کی کوشش کرے گا یا پھر بھارت پر دبائو ڈالے گا۔ یہ ایک غیرمنطقی توقع اور محض خام خیالی ہوگی۔ حقائق کے تقاضوں کے مطابق عالمی طاقت کے ساتھ تعلقات کو ناخوشگواری سے بچاکر رکھنا اورڈائیلاگ میں مصروف رہ کر اپنی حفاظت کرنا ہی دانشمندی ہوگی۔ مگر خوش خیالی اور توقعات کے انبار میں خود کو گم رکھنے کے بجائے حقائق کا سامنا کرنے کی ضرورت ہے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری وزیر اعظم نواز شریف، آرمی چیف جنرل راحیل شریف، مشیر خارجہ سرتاج عزیز سمیت مختلف پاکستانی قائدین سے بھی ملے ہیں اوراسٹرٹیجک پاک، امریکہ ڈائیلاگ کی صورتحال کا مجموعی جائزہ بھی انہوں نے لیا ہوگا مگر بھارت کے مقابلے میں ان کا پاکستان کا دو روزہ دورہ محض رسمی نوعیت کا ہے کہ جس میں دہشت گردی کے انسداد میں پاکستانی فوج کا اپنے ہی وسائل سے دہشت گردوں کے خلاف جنگ کی ہمت افزائی اور حمایت کرنا اورپاک، افغانستان تعاون اور تعلقات کی مانیٹرنگ سے زیادہ کچھ اور اہمیت نہیں رکھتا۔ جن 352 ملین ڈالر کی امریکی امداد کی بازگشت سنی جارہی ہے۔ اس کے جاری ہونے میں ابھی کئی تقاضے پورا ہونا باقی ہیں۔ یہ قانونی اور طریقہ کار کے امریکی تقاضے پورا ہونے پر یہ چند سو ملین ڈالر کا اجرا ہوگا جو خود امریکہ کی اپنی مفاداتی ضرورت بھی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ دورئہ بھارت سے قبل جرمنی میں گوادر کی منفرد، اہم اور اسٹرٹیجک بندر گاہ سے متصل سلطنت عُمان کے علیل سلطان قابوس کی عیادت اور 90منٹ کی ملاقات کرکے بھارت اور پھر پاکستان آئے تھے۔ سلطان قابوس نے ایران، امریکہ خفیہ مذاکرات اور ڈیل میں جو اہم رول ادا کیا وہ اپنی جگہ اہم اور قابل ستائش ہے مگر 74سالہ سلطان قابوس کی جانشینی کا مشکل اور پیچیدہ معاملہ نہ صرف عمان کیلئے اہم ہے بلکہ پاکستان کیلئے بھی اس پر نظر رکھنا پاکستانی مفاد کا تقاضا ہے۔ اس سے غفلت کی بہت بڑی قیمت ادا کرنا پڑسکتی ہے۔ پاکستانی قیادت کو محض وقت ٹالنے یا دیگر بااثر قوتوں سے توقعات اور خوش خیالیوں کی بجائے جرأت کے ساتھ حقائق کا سامنا کرتے ہوئے فیصلے کرنے اور عملاً پاکستانی بقاء و استحکام کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

امریکی وزیر خارجہ دہشت گردی کے خلاف پیرس میں نکالی جانےوالی ڈیڑھ ملین سے زائد انسانوں کی امن ریلی سے تو غائب رہے اور صدر اوباما نے بھی شرکت نہ کی جبکہ 40 ممالک کے سربراہوں نے اس ریلی میں شرکت کی۔ ان میں مسلم ممالک نائیجر، گیبون، مالی، فلسطین، ترکی، اردن وغیرہ نے بھی شامل ہیں مگر دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر اور سب سے زیادہ قربانیاں دینے والے پاکستان نے اس ریلی میں شرکت نہیں کی۔ امریکی وزیر خارجہ اور امریکی صدر عالمی طاقت ہونے کے ناتے ایسی عالمی ریلی میں شریک نہ ہونا برداشت کرسکتے ہیں مگر پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن ملک ہونے کے باعث بڑی قربانیاں دے چکا ہے اور اب حالیہ اہم فیصلوں کے نتیجے میں افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنی بقاء کی جنگ بھی قرار دے چکا ہے۔ پاکستانی قیادت کو موقع ملا تھا کہ وہ پیرس میں ہونے والی اس عالمی امن ریلی میں شرکت کرکے عالمی سطح پر واضح پیغام دیتی کہ پاکستان بھی دہشت گردی کے مخالفین کی عالمی صف میں کھڑا ہے۔

پاکستان مسلم دنیا کا ممتاز ملک ہے۔ پاکستان کے مخالفین نے دہشت گردی کے خلاف تمام تر مثالی قربانیوں کے باوجود پاکستان کو مختلف انداز کے الزامات اور پروپیگنڈہ کے ذریعے اس کے امیج کو مسخ کر رکھا ہے۔ کیا ہی بہتر ہوتا کہ مسلم ممالک سے وزیراعظم نوازشریف ایک روز کیلئے پیرس جاکر اس عالمی ریلی میں شرکت اور قیادت کرتے۔ مالی، گیبون، ترکی، اردن، فلسطین اتھارٹی کے مقابلے میں پاکستان کی اہمیت اور امیج کا نوٹس لیا جاتا۔ اسرائیلی وزیراعظم کی موجودگی میں اگر فلسطین اتھارٹی کے سربراہ ریلی میں مارچ کرسکتے ہیں تو پھر پاکستان کی شرکت کیوں نہیں؟ میرے خیال میں پاکستانی حکومت کو اس موقع کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے پاکستان کا امیج کو بہتر طور پر ابھارنے کیلئے اس عالمی ملین مین مارچ اور 40 ممالک کے حکومتی قائدین کے اجتماع میں پاکستانی قیادت کو شرکت کرنا چاہئے تھی یہ موقع کھونا نہیں چاہئے تھا۔

یورپ بھی پاکستان کیلئے بڑا اہم ہے اور معیشت کے فروغ کیلئے ایک بہتر آپشن اور تجارتی ضرورت بھی ہے۔ ویسے پیرس میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات نے یورپ میں آباد پاکستانیوں جن کی واضح اکثریت مسلمان ہے اُن پر ایک نئے دبائو کا اضافہ کیا ہے۔ مسلمانوں بشمول پاکستانیوں کو اپنی وضع قطع، شناخت اور مذہب کے حوالے سے ایک نئے چیلنج کا سامنا ہے صرف یہی نہیں بلکہ امریکہ و کینیڈا میں آباد پاکستانی بھی پیرس کے واقعہ کے منفی اثرات کی زد میں آگئے ہیں وہ سانحہ 11 ستمبر کے منفی اثرات سے ابھی حال ہی میں نکلنا شروع ہوئے تھے کہ اب پیرس کے واقعہ نے مغربی دنیا کے انتہاپسندوں اور نسلی و مذہبی تعصب پھیلانے والوں کو مزید سرگرم کردیا ہے۔ فرانس کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ ہماری جنگ انتہا پسند اسلام کے خلاف ہے۔ حالانکہ اسلام کی تو صرف ایک ہی قسم اور ایک ہی تعلیمات ہیں دہشت کرنے والے خود کو مسلمان اسی طرح کہتے ہیں جس طرح نسل پرست گورے عیسائی ناموں والے کو کلکس کلان یعنی K.K.K کے نام سے سیاہ فام اور ایشیائی نسل کے انسانوں کے خلاف تعصب اور جرائم کرتے ہیں۔ جب انہیں انتہاپسند عیسائی نہیں کہا جاتا تو اسلام کے نام پر دہشت گردوں کو مسلمان اور انتہاپسند اسلام کی بجائے صرف دہشت گرد کہنا چاہئے۔ پاکستان کو پیرس کی عالمی امن ریلی میں شریک ہونا چاہئے تھا۔

بشکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں