.

آرمی چیف کے ہاتھ مستقبل کی نبض پر

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنرل راحیل شریف نے قوم کے مستقبل کااستقبال خود کیا۔بچے ہمارے آنے والے کل کے مالک اور علامت ہیں۔نسلیں آتی ہیں اور چلی جاتی ہیں۔ زندگی ایک اسٹیج ہے۔ ہر کوئی وقت مقررہ تک اسٹیج پر نمودار ہوتا ہے اور پھر پردہ گر جاتا ہے اور نئے منا ظر اور نئی دنیائیں جلوہ گرہو جاتی ہیں۔ جنرل راحیل کو قوم کے مستقبل کی کتنی فکر ہے کہ جس لمحے دہشت گردوں نے بچوں کو نشانہ بنایا، جنرل راحیل نے بھی جیسے قسم کھا لی کہ وہ چٹان بن کر سامنے کھڑے رہیں گے، انہوں نے دکھی دل کے ساتھ کہا تھا کہ دہشت گردوں نے ان کے دل پر وار کیا ہے اور اب وہ روز للکارتے ہیں کہ دہشت گرد بچ کر دکھائیں۔ پشاور کے سانحے نے قوم کو حیات تازہ کا تحفہ بخشا۔ عمران خان ٹامک ٹوئیاں مارتا رہا، اس کے جنونی انقلابی گانے گاتے رہے اور ناچتے رہے، انہیں نئے پاکستان کی تلاش تھی، انہیں کیا پتہ کہ نیا پاکستان معصوموں کے لہو کے رقص سے ہویدا ہوتا ہے، یہ نیا پاکستان ان بچوں کے حنائی رنگ خون سے درخشاں ہے، اب تو قوس قزح کا رنگ بھی دودھیا نہیں رہا، اسے میری قوم کے پھولوں جیسے بچوں کے خون نے شفق کے حنائی رنگ میںغسل دے کر گلنار بنا دیا ہے۔ ایک نیا پاکستان پوری تابناکی کے ساتھ جلوہ گر ہو چکا۔

پشاور کا آرمی پبلک اسکول دوبارہ کھلا، جنرل راحیل ایک باپ کی حیثیت سے اپنے بچوں کے استقبال کے لیے گیٹ پر کھڑے تھے، ان کی بیگم صاحبہ نے ممتا کے جذبوں کی مٹھاس بچوں پر وار دی، یہ ایک ولولہ ا نگیز منظر تھا، بہت سے بچے ابھی تک پٹیوں میں لپٹے ہوئے تھے، اکثر بچے بیساکھیوں کے سہارے اپنے اپنے کمروں کی طرف جاتے نظرا ٓئے، اور کچھ بچے رکشوں اور ویگنوں سے اترے تو انہیں تنہائی کے عذاب نے جکڑ رکھا تھا، تین ہفتے پہلے وہ سولہ دسمبر کو اسی اسکول میں آئے تھے، تو ان کے بڑے یا چھوٹے بھائی بھی ساتھ تھے، مگر وحشی درندوں نے انہیں آن کی آن میں خون کا غسل دے ڈالا۔ ان بچھڑنے والوں کی یاد پتھر کی طرح سینوں پربوجھ بن کر چمٹ گئی ہے، شاید یہی وہ بچے تھے جن کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بیگم راحیل شریف کی آنکھیں تر ہو گئیں اور کڑیل جوان آرمی چیف اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔

کیا کسی کو خیال آیا کہ سولہ دسمبر کے بعد کا موسم اتنا غم زدہ کیوں ہے، سردیاں پہلے بھی آتی تھیں، کہر پہلے بھی اترتی تھی، دھند ہمیشہ حد نظر میں رکاوٹ بنتی تھی مگر ایسے تو کبھی نہیں ہوا کہ سولہ دسمبر کے بعد موسم نے دن اور رات کا فرق مٹا دیا ہو، کہرے نے زمین اور آسمان کی وسعتوں کو لپیٹ میںلے رکھا ہے، دسمبر بھی گزر گیا اور جنوری کا نصف بھی مگر سورج کی بھیگی آنکھوں سے ایک بھی شعاع خارج نہیں ہو سکی، پشاور کے بچوں کا دکھ اس کائنات کا دکھ بن گیا۔

ہر انسان کو ایک زندگی ملتی ہے اور ایک بار ہی اسے لیڈر شپ کا جوہر نصیب ہوتا ہے، یہ موقع دوبارہ ہاتھ نہیں آتا، گزر گیا تو گزر گیا، جنرل راحیل شریف نے اس موقع کو اپنی مٹھی کی گرفت میں لے لیا، اور اب وہ لیڈر شپ کی معراج کو چھو چکا ہے، قائد اعظم کے بعد ایوب خان کی زندگی میں بھی ایک لمحہ ایسا آیا جب اس نے ثابت کیا کہ وہ اپنی قوم کا لیڈر ہے، بھارت نے چوروں کی طرح رات کی تاریکی میں پاکستان کی سرحدوں کو روند ڈالا تھا، ایوب خان کی للکار بلند ہوئی کہ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے دشمن پر ٹوٹ پڑو اور اسے جارحیت کا مزہ چکھاﺅ اور اب ایک ان دیکھے، بے چہرہ دشمن نے پشاور میں 150 پھولوں اور کلیوں کو مسلا تو جنرل راحیل میدان میں ڈٹ گئے، وہ آرمی چیف کے طور پر قوم کے لئے معتبر اور معزز تو تھے ہی مگر اب انہیں قوم نے ایک لیڈر کے روپ میں دیکھا اور ان کے ماتھے پر چمکتے عزم نے قوم کے رگ و پے میں بجلیاں دوڑا دیں۔ ایک سچا لیڈر قوم کا باپ ہوتا ہے، یہ باپ اپنے بچوں کے پاﺅں میں آنکھیں بچھائے کھڑا تھا۔

میرا خیال غلط نکلا کہ پاکستان تنہائی کا شکار ہے اور ساری دنیا پیرس کے ملین مارچ میں شریک ہے، جس روز وہاں چالیس عالمی لیڈر اکٹھے ہوئے، اسی روز پاکستان میں متعین عالمی سفیروں کے ایک باوقار گروپ نے پشاور ملٹری اسکول کا دورہ کیا ، شہید بچوں اور اساتذہ کے لئے دعا کی، لواحقین سے اظہار رنج وغم کیا اور یگانگت اور یک جہتی کا پیغام دیا۔

اب امریکی وزیرخارجہ جان کیری پاکستان آئے ہیں، انہوں نے جی ایچ کیو کی یادگار شہدا پر پھول پیش کئے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاکستان کی کوششوں کی توصیف کی۔میڈیا کے مطابق جان کیری نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ بلا امتیاز تمام دہشت گردوں کو ٹھکانے لگائے، ا ور اس کا ترنت جواب پاکستان کی زبان سے سن لیا کہ امریکی فوج افغانستان میں پناہ گزیں پاکستانی دہشت گرد لیڈروں کو انجام تک پہنچائے۔ پاکستانی آرمی چیف پندرہ روز تک امریکہ میں رہے، اس لئے امریکہ کو ان کا مزاج سمجھنے میں کوئی غلطی نہیں کرنی چاہئے۔ جنرل راحیل کے بارے میں کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ انہوں نے فیصلوں کا اختیار ڈنڈے کے زور پر لیا ہے، جنرل کیانی کو یہ اختیار پارلیمنٹ کی قرارداد کے ذریعے ملا اور جنرل راحیل شریف کو قومی اتفاق رائے سے فیصلہ کن حیثیت حاصل ہوئی۔ جان کیری کابل حکومت کے کوئی اہل کار نہیں کہ شوقیہ یا مجبوری کے تحت جی ایچ کیو جا پہنچے، وہ پہلے امریکی وزیر خارجہ ہیں جنہیں معاملات طے کرنے کے لئے جی ایچ کیو جانا پڑا۔ آخر وہ سمجھدار انسان ہیں۔

ہماری سیاسی قیادت کو بھی فوج کے بارے میں یک سو ہو جانا چاہیے اور میڈیا کو بھی یہ پروپیگنڈا بند کر دینا چاہیے کہ پاکستان میں خارجہ اور دفاعی امور پر جی ایچ کیو کا قبضہ ہے، ہمارا میڈیا یہ تو بتائے کہ بھارت میں دفاعی امور کون طے کرتا ہے، نوازشریف نے جب کہا کہ پاکستان کو یک طرفہ طور پر سیاچین سے فوج واپس بلا لینی چاہیے تو یہ بھارتی آرمی چیف تھا جس نے نخوت اور نفرت کے لہجے میں کہا تھا کہ پاکستان اپنی فوج واپس لے بھی جائے تو بھارتی فوج اپنی پوزیشنوں پر قابض رہے گی۔ اور ہمارا میڈیا یہ بھی بتا دے کہ امریکہ کے دفاعی فیصلوں میں پینٹاگان کا کیا کردار ہے۔اس لیے اگر جنرل راحیل کے ہاتھ میں آپ کو دفاعی امور کی لگام نظرا ٓتی ہے تو اس پر بھنویں تاننے کی ضرورت کیا ہے۔ اور یہ بات کوئی مائی کا جنا ہی کہہ سکتا ہے کہ بچے بلا خوف اسکولوں میں جائیں، کوئی ان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.