.

یہ اسلام نہیں۔۔۔!

طیبہ ضیاء چیمہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پیرس کے نامور جریدے ”چارلی ہیبڈو“ کے دفتر پر شدت پسندوں نے حملہ کر کے مدیر اعلیٰ اور پانچ کارٹونسٹس سمیت بارہ افراد کو ہلاک کر دیا اور فرار ہو گئے۔ دو روز کی تلاش کے بعد قاتلوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ فرانسیسی جریدہ اسلام سمیت مختلف مذاہب اور مشہور شخصیات کے خاکے بنا کر ان پر تنقید اور طنز کرنے کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے۔ جریدہ عموماً60 ہزار کاپیاں جاری کرتا ہے لیکن اس ماہ نئے شمارے کی اشاعت کی تعداد 30 لاکھ بتائی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق تازہ شمارے کے سرورق پر پیغمبر اسلام کا خاکہ بنا ہے اور اس پر فرانسیسی زبان میں شہہ سرخی سے درج ہے کہ ”سب کو معاف کیا۔“ دہشت گردی کے واقعہ کے بعد جریدہ کی شہرت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ گستاخ خاکوں کا سلسلہ جاری ہے اور جاری رہے گا۔ مارنے والوں کا مقصد پورا نہیں ہو سکا البتہ مسلمانوں کے امتحان میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ مصر کی اسلامی اتھارٹی نے جریدے کے نئے اشتعال انگیز کارٹون کی مذمت کرتے ہوئے بیان جاری کیا کہ جریدے پر نیا کارٹون فرانس میں نفرت کی نئی لہر اور مغربی ممالک میں عام طور پر ایسی لہر پیدا کر سکتا ہے۔

دنیا میں مسلمان واحد قوم ہے جسے اپنے نبی سے جذباتی عقیدت ہے، گناہگار مسلمان بھی اپنے نبی کی توہین برداشت نہیں کر سکتے۔ مگر پیرس میں ہونے والی دہشت گردی نبی سے محبت نہیں بلکہ نبی کے مذہب سے دشمنی ہے۔ جریدہ خاکوں کی اشاعت میں مزید شیر ہو گیا ہے۔ دنیا بھر کی ہمدردیاں حاصل ہو گئی ہیں۔ شہرت اور کاروبار کو مزید ترقی ملی ہے۔ آزادی رائے کو سمجھانے کیلئے اب اس جریدے کی مثال دی جائے گی جس نے کبھی اس جریدہے کا نام تک نہ سُنا تھا، اس نے بھی انٹرنیٹ پر جریدے کے تازہ شمارے پر پیغمبر اسلام کے توہین آمیز خاکے کو تجسّس اور دلچسپی سے دیکھا۔ بعض اوقات حالات و واقعات جو نظر آتے ہیں ان کے پس پشت حقائق کچھ اور ہوتے ہیں۔ اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لئے افسوسناک واقعات کرائے جاتے ہیں جبکہ مسلما ن جانتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں آزادی رائے پر قابو پانا آسان نہیں رہا اور جو لوگ اسلام کی آڑ میں مسلمانوں کو بدنام کر رہے ہیں، ان کا اسلام سے کچھ لینا دینا نہیں۔ پیرس میں جریدے کے دفتر پر حملہ پیرس کا نائن الیون ہے۔ یورپ میں مسلمانوں کے لئے حالات مزید تنگ کر دیئے گئے ہیں۔

چین میں عورتوں کے نقاب پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کا تعلق داعش سے بتایا جاتا ہے۔ فرانس کی پارلیمان نے مشرق وسطیٰ میں سرگرم شدت پسند تنظیم داعش کے عراق میں واقع ٹھکانوں پر فضائی حملوں کا دائرہ وسیع کرنے کی منظوری دیدی ہے۔ فرانسیسی وزیراعظم نے بیان دیا ہے کہ ان کے ملک کی لڑائی اسلام کے خلاف نہیں بلکہ شدت پسندوں سے ہے۔ یورپی یونین کی پولیس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین برسوں کے دوران لگ بھگ پانچ ہزار یورپی باشندوں نے جہاد میں شرکت کی غرض سے شام کا رُخ کیا۔ امریکہ نے فرانسیسی جریدے کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کے بعد امریکہ سے باہر مقیم امریکی شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔ یورپ میں مسلمانوں کے خلاف جذبات زور پکڑ رہے ہیں۔

دہشت گردی کے واقعات میں عموماً پاکستانی ملوث نہیں پائے جاتے لیکن کچھ انتہا پسند تنظیمیں پاکستان کو بدنام کرنے کے مشن میں مصروف ہیں۔ مسلمان اپنی کھوئی ہوئی عزت بحال کرنے کی سعی کر رہے ہیں۔ فرانسیسی جریدے پر حملے کے دوران فرائض کی انجام دہی کرتے ہوئے ایک مسلمان افسر بھی جاں بحق ہوا۔ پیرس میں ہی ایک سپر مارکیٹ میں حملہ آوروں نے متعدد افراد کو یرغمال بنا لیا اور چار افراد کو ہلاک بھی کر دیا تو اس وقت سپر مارکیٹ میں کام کرنے والے مسلمان دکاندار نے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر کمال جرا¿ت کا مظاہرہ کرتے ہوئے 15 یہودیوںکی جان بچا لی۔ پیرس میں جو بھی ہوا، اس کا تعلق اسلام سے نہیں۔ پاکستان میں کچھ تنظیمیں مبینہ طور پر بیرونی امداد سے ملک کو کمزور کرنے کے مشن پر کاربند ہیں۔ پاکستان کو جہنم بنانے کا جو مشن اغیار نے اٹھا رکھا ہے، اس کا مقصد اسلام کو بدنام کرنا اور ”مدینہ ثانی“ کو تباہ کرنا ہے۔

پاکستان کو”مدینہ ثانی“ اس لئے کہا جاتا ہے کہ پاک کا مطلب ”طیبہ“ اور ستان کا مفہوم ”علاقہ، بستی، خطہ“ ہے، عربی میں اسے مدینہ کہا جاتا ہے ۔ کچھ نام کی برکات ہیں اور کچھ شہداءکی قربانیوں کی حیا ہے کہ اللہ سبحان تعالیٰ اس ملک کو بچائے ہوئے ہے۔

بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.