سیاسی جماعتوں کے ہاتھوں جمہوریت کی بے قدری

ایاز امیر
ایاز امیر
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

ہمیں جس سب سے بڑے مسئلے کا سامنا ہے وہ مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی ہے، باقی سب مسائل بعد میں، لیکن پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اس جنگ میں زبانی جمع خرچ (اور وہ بھی پشاور خونریزی کے بعد) کے سوا کچھ نہیں کیا اور نہ ہی لامتناہی ایکسپریس ویز، موٹرویزاور پل وغیرہ بنانے کی ترجیحات میں رتی بھر تبدیلی لائی۔ ایک انگریزی اخبار میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں آئی اے رحمٰن بتاتے ہیں کہ گلبرگ کو موٹر وے کے ساتھ ملانے کے لئے ایکسپریس وے بنانے کا منصوبہ بن رہا ہے۔ اس سے زیادہ احمقانہ اور بے مقصد منصوبے کا تصور بھی محال، تاہم خبط اور وہم کا علاج تو حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں تھا۔

صوبے کے ایگزیکٹو ہیڈ ہونے کی وجہ سے وزرائے اعلیٰ کافرض تھا کہ وہ مذہبی انتہا پسندی کے خلاف جنگ کامحاذ تیار کریں، تاہم پنجاب، خیبر پختونخوا اور سندھ میں ایسا کچھ بھی ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ ہاں، اگر انتہا پسندی بیان بازی سے ختم ہو سکتی تو اس وقت تک پنجاب میں اس کا نام و نشان تک نہ ملتا۔ عملی طور پر پولیس اصلاحات، صحت اور تعلیم کے شعبوں کو ترقی دینے کی کوئی کوشش دیکھنے میں نہیں آ رہی اور دہشت گردی اور انتہا پسندی کوشکست دینے کے لئے انہی مورچوں کو پکا کرنے کی ضرورت تھی۔ اس دوران معیشت کے میدان میں دکھائی جانے والی بدانتظامی جاری ہے۔ زیر ِ گردشی قرضے اب پہلے سے بھی زیادہ ہو چکے ہیں ، لیکن ہم نے مزید سڑکیں بنانی ہیں اور لاہور کو خوبصورت بنانے کے لئے چند سال پہلے بنائی گئی سڑکوں کو ادھیڑ کر دوبارہ تعمیر کرنا ہے۔ میں اس توڑپھوڑ نما ترقی میں راولپنڈی اسلام آباد میٹرو منصوبے کا ذکر کیے بغیر نہیں رہ سکتا کیونکہ اس نے نہ صرف ماحول کو تباہ کردیا ہے بلکہ یہ لوگوں کو بھی ذہنی مریض بنارہا ہے۔ صرف اسی ایک منصوبے کی وجہ سے ہم فطرت کے مجرم قرار دئیے جا سکتے ہیں۔ تاہم جب اس کی شروعات کرنا تھی تو نہ کوئی مشاورت ہوئی ، نہ کوئی اے پی سی بلائی گئی، بس بسم اﷲ پڑھ کر ہر چیز پر کدال چلادی گیا۔

پنجاب میں تعلیمی بجٹ 18.6 ارب روپے ہے جبکہ پنڈی میٹرو منصوبے کی مجوزہ لاگت چالیس بلین روپے ہے۔ اتنا ریاضی کا حساب آپ بھی رکھتے ہوں گے کہ حکومت کے نزدیک کون سی چیز زیادہ اہم ہے .... تعلیم یا ایک سڑک؟ دانتے کا کہنا ہے.... ’’یہاں آنے والو، امیدوں کے چراغ گل کر دو۔‘‘ اپنے خبط کے حوالے سے عمران خان بھی ناقابلِ علاج ہیں۔ کیا وہ واقعی انتخابی دھاندلی کے خلاف ایک اور احتجاجی مہم شروع کرنے والے ہیں؟ اگر وہ ایسے کرتے ہیں تو یقینا وہ عوام کے تبدیل شدہ موڈ کو سمجھنے میں ناکام ہیں، وہ موڈ جو پشاور سفاکیت کے بعد صرف اور صرف دہشت گردی کا خاتمہ چاہتا ہے۔ اگر اس ملک میں عوامی رائے نامی کوئی چیز پائی جاتی ہے توا س کا ارتکاز اب صرف اور صرف دہشت گردی پر ہے نہ کہ انتخابی دھاندلی اور تبدیلی کے مبہم نعروں پر۔ رائے عامہ چاہتی ہے کہ ریاست مذہبی انتہا پسندی اوراس سے جنم لینے والی دہشت گردی کے خلاف متحرک دکھائی دے۔ تاہم اسے سول حکومت کی بے حسی اور لاتعلقی کے سوا کچھ نہیں آتا۔

یہی وجہ ہے کہ اب لوگ سول حکومت کی بجائے فوج کی طرف دیکھ رہے ہیں کیونکہ وہ سیاست دانوں کی طرح دکھاوا کرنے اور جھوٹی تسلیاں دینے کی بجائے دشمن کو میدان میں چیلنج کر رہی ہے۔ آپ ملک کے کسی حصے میں چلے جائیں اور کسی سے بھی پوچھ کر دیکھ لیں تو آپ کو رائے عامہ کی سمجھ آجائے گی۔ اس وقت فوج ماضی کی نسبت قطعی طور پر مختلف رویوں کی حامل دکھائی دیتی ہے اور اسے حاصل عوامی حمایت کا گراف انتہائی بلند ہے۔ ماضی میں اس کے انتہا پسندوں سے روابط رہے ہوں گے لیکن یہ بات اب فراموش کر دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ احساس بھی جاگزیں ہے کہ فوج نے خون دے کر اپنے ماضی کے گناہوں کا کفارہ ادا کر دیا ہے، اور یقینا خون سے بڑا کوئی کفارہ نہیں ہوتا۔

چنانچہ اگر عمران خان کا خیال ہے کہ ایک بٹن دبا کر احتجاجی تحریک وہیں سے دوبارہ شروع کردیںگے جہاں اُنھوں نے چھوڑی تھی تو بہتر ہے کہ وہ اپنی غلط فہمی دور کرلیں۔ کچھ غمزدہ والدین نے آرمی پبلک ا سکول ، پشاور ، میں اُنہیں، جب وہ اپنی بیوی کے ساتھ وہاں گئے، حقائق سے روشنا س کرادیا تھا۔ اگر اُنھوں نے اپنے روئیے میں تبدیلی برپا نہ کی تواُنہیں ایسے مزید رد ِ عمل کے لئے تیار رہنا چاہئے۔اُنہیں سوچنا چاہئے کہ وہ موجودہ حکمرانوں کے متبادل کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ ان کا کام یہ ہونا چاہئے تھا کہ پی ایم ایل (ن) کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اس جنگ میں قوم کی قیادت کرتے، عوام کو متحرک کرتے کہ یہ جنگ کا وقت ہے جبکہ حکمران اپنے میگا پروجیکٹس میں مگن ہیں۔ اُنہیں اس قابل ہونا چاہئے تھا کہ وہ پولیس اور عدالتی نظام میں اصلاح کا کوئی خاکہ پیش کرسکیں۔ اُنہیں رجعت پسندی اور تنگ نظری کے خطرات سے عوام کو آگاہ کرتے ہوئے بتانا چاہئے تھا کہ دہشت گردی انہی سوتوں سے جنم لیتی ہے۔ تاہم وہ اس موضوع پر زبان کھولنے کی زحمت بھی نہیں کر رہے۔ اس وقت ملک انتہا ئی اہم مسئلے کا سامنا کر رہا ہے لیکن تبدیلی کے دعویداروں اور امید کے نقیبوں کے پاس کہنے کے لئےبھی کچھ نہیں۔

اس طرح ہمیں سول قیادت کے دہرے دیوالیہ پن کا سامنا ہے۔ پی پی پی کا کوئی شمار نہیں کیونکہ بہت دیر ہوئی ، یہ اس دیوالیہ پن کا شکار ہوکر قوم کی نظروں سے اوجھل ہو چکی ۔ سیاست دانوں کی کوتاہی اور لاتعلقی سے پیدا ہونے والے خلاء میں فوجی جنرل معاملے کو اپنے ہاتھ میں لے چکے ہیں۔ ملک میں یہ تا ثر قوی ہوچکا ہے ، اور اس کی وجہ بھی ہے ، کہ دراصل فوج کا حکم ہی چل رہا ہے۔ عمران اور نواز شریف کے روئیے کی وجہ سے اس تاثر کو مزید تقویت مل رہی ہے۔ اگر مزید کچھ نہیں تو بھی سویلین انتہا پسندی اور دہشت گردی سے متعلق بیانیے کو جاندار اور توانا کرسکتے تھے تاکہ ماضی کے پھیلائے ہوئے بیانیے کا توڑ ہوسکے۔ اگر ایسا ہوتا تو دکھائی دیتا ہے کہ کم از کم فکری محاذپر وہ بھی پیش قدمی کر رہے ہیں.... کاش ایسا ہوسکتا۔ اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں کہ تمام حالات سویلین حکومت کے خلاف دکھائی دیتے ہیں جبکہ ہر معاملے میں آرمی چیف ہی آگے ہیں۔

جنگ کے بارے میں اہم فیصلے کرنے، اگلے مورچوں کا دورہ کرنے، اہم بیرونی ممالک کے دورے کرنے اور وہ جہاں بھی جاتے ہیں، ان کی زبردست پذیرائی دیکھنے کو ملتی ہے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ فوج نے پی اے ایف کی مدد سے پاک افغان بارڈ ر پر طوفان کار خ موڑ دیا ہے۔ وہاں ہونے والی خونریز لڑائی میں فوج کے جوان اور افسران قربان ہورہے ہیں لیکن فوج اب پیچھے ہٹنے کے موڈ میں نہیں۔ درحقیقت اب قوم کے پاس بھی پیچھے ہٹنے کا کوئی آپشن نہیں ہے۔ دراصل ہیرو مرد ِ میدان ہی ہوتے ہیں اور بقول اقبال....’’ظن و تخمیں سے ہاتھ آتا نہیں آہوئے تاتاری۔‘‘اگر ایسا ہوتا تو اے پی سی کے شرکاء کو بھی قوم آنکھوں پر بٹھاتی۔
فوج اور سول حکومت کے درمیان یہی عدم توازن ہے اورا س کا تعلق ہتھیاروں کی طاقت سے نہیںبلکہ اپنے اپنے شعبے میں دکھائی جانیو الی کارکردگی سے ہے۔ اب عوام دیکھتے ہیں کہ فوج میدان میں ہے جبکہ سیاست دان پھلجھڑیاں چھوڑ رہے ہیں۔ سول حکومت کی طرف سے چوہدری نثا ر اس جنگ کی قیادت کر رہے ہیں...

استغفراﷲ۔ پرویز رشید جب بھی لب کشائی کرتے ہیں، آسمانی طاقتیں ان کی قسمت میں ہزیمت لکھ دیتی ہیں۔ یقینا انسان اپنی قسمت خود ہی بناتا ہے۔ عمران خان کی سوئی ابھی تک ووٹوں کی گنتی پر اٹکی ہوئی ہے یا ان کے پیشِ نظر دھاندلی ہی دھاندلی ہے جبکہ قوم کے موڈ کا موسم بدل چکا ہے۔ اب قوم دہشت گردی کے خلاف ایسے کنٹینر پر چڑھ چکی ہے جس کے سامنے ہر سیاسی معروضہ یا سماجی مفروضہ ہیچ ہے۔ اگر اس عالم میں عمران نے اپنے سیاسی کنٹینر پر چڑھنے کی غلطی کی تو .... بہرحال مجھے یقین ہے کہ اُنہیں بہت جلد سمجھ آجائے گی۔ تجربہ استاد ہی ہوتا ہے اور پھر آرمی پبلک اسکول میں ایک والدہ نے انہیں درس دے بھی دیا تھا۔ کیا وہ قوم کو ایک رہنما دے سکتے ہیں؟ اگر ہم پھر جمہوریت اور اسے لاحق خطرات کی بات کریں تو ہمیں پہلے جمہوریت کی کارکردگی کابھی ذکر کرنا ہوگا۔ دنیا کے دیگر ممالک کے برعکس ہمارے ہاں جمہوریت کا دفاع جذباتی وابستگی سے ہوتا ہے نہ کہ آئین کے تقاضوں سے۔ اس لئے اگر جمہوریت کی بے قدری ہورہی ہے تو اس کا ذمہ دار کوئی اور نہیں، سیاست دان ہی ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں