پاکستان، افغانستان اور ہندوستان۔ تبدیلیاں اور چیلنج

سلیم صافی
سلیم صافی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں جو تبدیلی آگئی ہے ‘ وہ ایسی ویسی نہیں بلکہ بہت بڑی تبدیلی ہے ۔ تبھی تو پاکستان کے باخبر حلقے شاید تاریخ میں پہلی بار افغان حکومت زندہ باد کے نعرے لگارہے ہیں اور تبھی تو دہلی میں صف ماتم بچھی ہے ۔ کابل اور اسلام آباد جتنے آج قریب ہیں‘ پچھلے تیرہ سال میںکبھی نہ تھے ۔ اسی طرح دہلی اور کابل کے درمیان جو دوریاں آج واقع ہوئی ہیں‘ پچھلے تیرہ سال میں کبھی دیکھنے کو نہیں ملی تھیں ۔یقین نہ آئے تو اس موضوع سے متعلق دہلی پالیسی گروپ (Dehli Policy Group) کی تازہ ترین رپورٹ پڑھ لیجئے۔ Afghanistan's New National ?Unity Government: What can India expect کے زیرعنوان اس رپورٹ کا آغاز ان ماتمی کلمات سے کیا گیا ہے کہ :

’’ترجمہ :(ہندوستان کے لئے تشویشناک ) پہلی بات یہ ہے کہ افغان صدر اشرف غنی نے ہندوستان کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول کو بتایا کہ ان کا ملک مزید ہندوستان سے فوجی امداد نہیں لے گا۔ دوسری بات یہ کہ اشرف غنی نے پاکستان کو بہت بڑی رعایتیں دینی شروع کردی ہیں ۔تیسری بات یہ کہ (اشرف غنی کی اس روش کی وجہ سے ) اب ہندوستان کی بجائے پاکستان اگلی ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس (Heart of Asia Conference) کی میزبانی کرے گا۔ چوتھی بات یہ کہ افغانستان‘ چین اور امریکہ نے اب ذہنی طور پر یہ قبول کرلیا ہے کہ پاکستان اپنے راستے سے کبھی بھی ہندوستان کے ساتھ افغانستان کو ٹرانزٹ ٹریڈ کی سہولت نہیں دے گا‘‘۔

ہندستانی عالی دماغوںکا یہ ماتم اور پاکستان کے عالی دماغوں کی یہ خوشی بیجا نہیں ۔ ہندوستان نے یہ توقع لگا رکھی تھی کہ امریکہ 2014ء کے بعد افغانستان میں اسکے کردار کو مزید بڑھا دیگا۔ سابق افغان صدر حامد کرزئی کی طرف سے بھی ہندوستان کویہ تاثر دیا جارہا تھا۔ا س تناظر میں ہندوستان نے ایران کیساتھ مل کر خاطر خواہ انتظامات بھی کررکھے تھے ۔ ڈاکٹر اشرف غنی اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے ماضی کی وجہ سے ہندوستانی پالیسی سازوں کو خوش فہمی تھی کہ انکے ملک کے ساتھ قربت میں حامد کرزئی صاحب نے جو کسر چھوڑ رکھی ہے، وہ افغانستان کی نئی قیادت پوری کرلے گی لیکن پچھلے تین سالوں کے دوران ڈاکٹر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کیساتھ پاکستان کے رابطوں اور شمال کی قوتوں کیساتھ تعلقات پر نظرثانی کی پاکستانی پالیسی ان کی نظروں سے محو رہی ۔ انکی نظروں سے یہ حقیقت بھی اوجھل رہی کہ عملیت پسند رہنمائوں کی طرح ڈاکٹر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کی پہلی ترجیح اپنے ملک میں امن ہے اور وہ اس حقیقت کو بھانپ چکے ہیں کہ افغانستان سے پاکستان کی شکایات کی بنیاد وہاں پر ہندوستان کا کردار ہے ۔

چنانچہ اقتدار میں آنے سے قبل یہ دونوں رہنماپاکستان کو یہ یقین دلاچکے تھے کہ وہ کبھی بھی پاکستان کی قیمت پر ہندوستان کو ترجیح نہیں دین گے ۔ اب ایک طرف افغانستان میں حکومتی تبدیلی کا عمل جاری تھا اور دوسری طرف امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں جوہری تبدیلی آ رہی تھی ۔ امریکی نکلنے سے قبل پاکستان کو ایک اور موقع دینے پر تیار ہوگئے تھے اور فریقین اعتماد سازی کے عمل کا آغاز کر چکے تھے ۔ پاکستان کی طرف سے شمالی وزیرستان میں آپریشن کا آغاز اور امریکہ کی طرف سے حکیم اللہ محسود کو ڈرون کے ذریعے نشانہ بنانے اور انکے دست راست لطیف اللہ محسود کو افغانستان سے گرفتار کرنے جیسی کارروائیوں کے ذریعے اس اعتماد سازی کا آغاز ہوچکا تھا۔ انتخابات سے قبل امریکہ ‘ افغانستان میں ہندوستان کے کردار کے حوالے سے پاکستان کے اعتراضات کو دور کرنے اور پاکستان جواب میں امریکیوں کے انخلاء کیساتھ ساتھ طالبان کو سنبھالنے میں سنجیدہ تعاون کا یقین دلاچکا تھا۔ چنانچہ رکاوٹ ڈالنے کی بجائے پہلی مرتبہ امریکہ، پاکستان اور افغانستان کی قربت کے عمل میں تعاون کررہا ہے جبکہ وہ افغانستان کو ماضی کی طرح ہندوستان کے ساتھ قربت کے لئے مجبور نہیں کر رہا ۔

یہی وجہ ہے کہ افغان صدر اشرف غنی نے صدر بننے کے فوراً بعد بیجنگ میں منعقدہ ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس (Heart of Asia) سے خطاب کے دوران اپنی خارجہ پالیسی کے جو دائرے سامنے رکھ دئیے ‘ وہ ماضی کے دائروںسے یکسر مختلف تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ :
Our immediate six neighbors form our first circle. The Islamic world forms our second circle. North America, Europe, Japan, Australia and member of NATO -ISAF form our third circle. Asia, being transformed into continental economy, forms our fourth circle and international developmental organizations, the UN, multinational firms and international civil society and non-developmental organizations form our fifth circle.

گویا انہوں نے ہندوستان کو افغانستان کی خارجہ پالیسی کے چوتھے دائرے میں ڈال دیا حالانکہ اس سے قبل وہ افغانستان کی خارجہ پالیسی کے پہلے سرکل کا حصہ تھا۔ دوسری طرف پاکستان پہلے سرکل کا بھی حصہ ہے اور دوسرے یعنی اسلامی دنیا کے سرکل کا بھی حصہ رہ گیا۔ گویا نئی افغان حکومت نے اس کے کردار کو یورپ اور جاپان سے بھی پیچھے ڈال دیا۔ یہ پالیسی گائیڈ لائن انہوں نے بیجنگ کانفرنس (جو بنیادی طور پر استنبول پراسس کے تحت منعقد ہوا تھا) سے خطاب کے دوران دئیے۔ یہ پہلے سے طے تھا کہ استنبول پراسس یعنی ہارٹ آف ایشیاء کا اگلا اجلاس 2015ء میں دہلی میں منعقد ہوگالیکن اشرف غنی صاحب نے یہ سعادت دہلی سے چھین کر اسلام آباد کو بخش دی۔ انہوںنے اس پر بھی بس نہیں کیا بلکہ سارک کانفرنس میں ہندوستانی وزیراعظم کی موجودگی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’’ وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے اور کسی کو افغان سرزمین سے پراکسی وار لڑنے کو بھی گوارا نہیں کریں گے‘‘۔

اسی طرح اقتدار سنبھالتے ہی انہوں نے اپنی فوج کو تربیت کے لئے پاکستان بھیجنے پر آمادگی ظاہر کی ‘ حالانکہ حامد کرزئی صاحب تیرہ سالوں میں اس پر آمادہ نہیں ہوئے تھے ۔ پاکستان کے حساب سے خوش آئند امر یہ ہے کہ اس عمل میں وہ تنہا نہیں ہیں بلکہ عبداللہ عبداللہ اس حوالے سے ان سے بھی دو قدم آگے ہیں اور ان کے رابطے پاکستان کے ساتھ پہلے سے اس سے بھی زیادہ مستحکم ہوچکے تھے ۔ استاد عطاء‘ رشید دوستم اور استاد محقق وغیرہ بھی اس حوالے سے ہمنوا ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب کے بار پاکستان کی طرف سے‘ سیاسی قیادت سے بڑھ کر عسکری قیادت نئی افغان حکومت سے متعلق گرمجوشی کا مظاہرہ کررہی ہے اور پنڈی کے جی ایچ کیو میں ڈاکٹر اشرف غنی کا والہانہ استقبال اس کا ایک مظہر تھا۔

امریکہ اور افغان حکومت کی طرف سے یہ مہربانیاں یوں ہی نہیں ہورہیں۔ پاکستان کی طرف سے بھی دونوں کے ساتھ وعدے وعید ہوئے ہیں اور جواب میں پاکستان کوبھی بہت کچھ دینا ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان نے بھی امریکہ اور افغانستان کو مطمئن رکھنے کی تیاری کرلی ہے اور کیا پاکستان ان دونوں کی توقعات پر پورا اترنے کی استعداد رکھتا ہے ؟ اگر خاکم بدہن پاکستان ان کی توقعات پر پورا نہ اترا اور اس جانب سے کئے گئے وعدے پورے نہیں کئے گئے تو پھر کیا ان دونوں کے قہروغضب کی صورت میں جو نئے چیلنج سامنے آئیں گے ‘ ان کا مقابلہ کیسے ہوگا؟۔ اسی طرح ہندوستان نے افغانستان میں بہت بڑی سرمایہ کاری کی ہے ۔ اس سال تو وہ پھل کاٹنے کی توقع کر رہا تھا لیکن اس کی ساری امیدیں خاک میں مل گئیں۔ اب ظاہر ہے یہ زخم خوردہ ہندوستان آرام سے تو نہیں بیٹھے گا۔ شاید اس وجہ سے اس نے مشرقی سرحد پر دبائو بڑھا دیا ہے۔ افغانستان کے محاذ پر بھی وہ ایران جیسے پارٹنروں کے ساتھ مل کر اپنے کردار کو بڑھانے اور پاکستان کو زک پہنچانے کیلئے نئے جال بچھا رہا ہے ۔ کیا ہمارے پالیسی سازوں کو ہندوستان اور اسکے اتحادیوں کے ان نئے منصوبوں کا ادراک ہے اور کیا ان کے مقابلے کی بھی کوئی تیاری ہورہی ہے یا کہ پھر صرف افغانستان اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے جشن اور ابہامات سے بھرے ہوئے قومی ایکشن پلان کے ورد پر ہی اکتفا کیا جا رہا ہے؟

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں