.

توہین پر مبنی خاکے اور احترام گریز ادارتی پالیسی ساتھ ساتھ

نجم الحسن عارف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے چارلی ہیبڈو نامی جریدے پر حملے اوراس کے بعد اس جریدے کے اپنے ایجنڈے کے ساتھ کھڑے رہنے کے اعلان سے پوری دنیا کی توجہ اس کی جانب مبذول ہو گئی ہے ۔ مغربی دنیا کے لبرل خیالات کے حامل عوام ملینز کی تعداد میں اس [ جریدے کے ایجنڈے کو ایک مقدس ایجنڈا سمجھ کر عملاً ایک ''مذہبی'' کمٹمنٹ کے سے انداز میں اس کے شانہ بشانہ نظر آرہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں زیادہ سے زیادہ ساٹھ ہزار کی سرکولیشن کی حد تک بمشکل پہنچنے والا چارلی ہیبڈو اب پچاس لاکھ کی اشاعت کو چھو گیا ہے۔ اہل مغرب اس کے دیوانے ہوئے جارہے ہیں۔ اس کی پذیرائی کو دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ ہے کل کلاں اس جریدے کی خدمات اور ایجنڈے کو سراہنے کے لیے اس کے مدیر یا پورے ادارے کے لیے نوبیل انعام کا نہیں تو اس طرح کے کسی غیر معمولی انعام کا اعلان بھی سامنے آ سکتا ہے۔ آخر اس جریدے کا ''کنٹری بیوشن'' سوائے اس کے کیا ہے کہ اس نے لگ بھگ ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی دل آزاری کر کے ان کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کیا ہے۔ اسے آج کی رائج اصطلاح کی رو سے دیکھا جائے تو یہ بدترین دہشت گردی ہے۔

بلا شبہ اس جریدے کی خدمات عالمی سطح پر موجود کسی عوامی مسئلے کے حوالے سے نہیں ہیں۔ اس نے عالمی ماحولیاتی مسئلے کے لیے کوئی خدمت انجام دی ہے۔ نہ اس کی خدمات کا میدان بدامنی کی زد میں دنیا میں تحمل اور برداشت کے پرچار کے حوالے سے ہے۔ بلکہ سچی بات یہ ہے کہ اس نے عدم برداشت کے لیے دوطرفہ بنیادوں پر ایسا زہر گھولا ہے کہ دنیا کو اس کی زہر ناکی کے اثرات سے نکلنے کے لیے اب دہائیاں درکار ہوں گی۔ بہت ممکن ہے اس عالمی منافرت کی بیج کاری کے نتیجے میں تہذیبی تصادم تونہ ہو لیکن کم از کم تہذیبی مناقشوں کی صورتیں جگہ جگہ نظر آنے لگیں۔ یہ حقیقت واضح رہنی چاہیے کہ اس کے کار شر میں اکیلا چارلی ہیبڈو نہیں بلکہ اس کے ایجنڈے کی حمایت کرنے والے اور اس کی براہ راست یا بالواسطہ مالی و اخلاقی امدا د کے مرتکب افراد بھی شامل ہوں گے۔ اس مثال کو سمجھنے کے لیے عرض ہے جس طرح طالبان کے حامیوں کو طالبان کی کارروائیوں میں برابر کا شریک کہا جاتا ہے ۔ اسی طرح چارلی ہیبڈو کی اشاعت کو پچاس لاکھ تک لے جانے والے، ''میں چارلی ہوں'' کے کتبے بنانے اور اٹھانے والےاور چارلی کے لیے سڑکوں پر ہی نہیں میڈیا کے محاذ پر آواز بلند کرنے والے بھی اس کے ساتھی سمجھے جائیں گے۔

چارلی ہیبڈو کا ایجنڈا جس کے رد عمل میں فرانس کے دو مسلمان بھائیوں نے حملہ کیا بڑا کھلا اور واضح ہے۔ یہ جریدہ نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خدا واسطے کا بیر رکھتا ہے ۔ اس بغض اور عناد میں جب چاہے توہین آمیز خاکے شائع کرتا ہے۔ معاذ اللہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا مضحکہ اڑاتا ہے۔ اس ساری شر انگیزی سے جریدے کے سٹاف اور قارئین کو ایک طرح سے دلی خوشی مل جاتی ہے۔ جبکہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے امتیوں کے لیے یہ شر انگیزی تکلیف ، اذیت اور اضطراب کا باعث بنتی ہے۔ جس کا اظہار مختلف جگہوں پر مختلف انداز سے ہوتا ہے ۔ ہر کوئی اپنی سمجھ ، تعلق، توفیق اور سہولت کے مطابق ردعمل ظاہر کرتا ہے ۔

بعض ''مجنوں'' اپنا ہی گریباں چاک کر لیتے ہیں اور بعض اپنا سر اپنے گھروں کی دیواروں سے مارتے رہنے یا اپنی قومی املاک کو نقصان پہنچانے کے بجائے شر انگیزوں کا ناطقہ بند کرنے کے لیے کوشش و کاوش میں میں لگ جاتے ہیں۔ یہ بھی اس صورت میں ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے جب انسانی حقوق اور جانوروں کے حقوق تک کے لیے آواز اٹھانے والوں کی زبانوں پر اس حوالے سے تالے لگے دیکھتے ہیں کہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم اوران کے ماننے والوں کے کوئی انسانی حقوق نہیں؟ ان کے لیے کوئی رواداری نہیں؟ ان کے لیے جو چاہے اپنی مرضی کی اصطلاحات گھڑتا رہے۔ ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرتا رہے ۔ حیف صد حیف ۔ ایسی اظہار رائے کی آزادی پر، تف ہے ایسی عدم رواداری کو پھیلانے کا ذریعہ بن کر عالمی امن کو خطرے میں ڈالنے والوں پر۔

فسوسناک بات یہ ہے کہ یہ فلسفہ ء شر ان لبرل مغربی طبقات میں زیادہ پایا جاتا ہے، جو برداشت، تحمل، بقائے باہمی ، جیو اور جینے دو ایسے دلفریب نعرے ہی نہیں بین المذاہب مکالمے اور مذہبی ہم آہنگی کی باتیں کرتے ہیں۔ ان مقاصد کے لیے بظاہر بین الاقوامی سطح پر بڑے بڑے ادارے ، تھنک ٹینک اور این جی اوز بناتے ہیں۔ حد یہ ہے کہ یہ کھلی شر انگیزی کو اظہار رائے کی خوبصورت پیکنگ میں پیش کرتے ہیں اور پھر سادہ لوح لوگوں سے داد کے طلبگار ہوتے ہیں۔ انہی طبقات میں کچھ ایسے بھی ہیں جو نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی کھلی توہین کے ایجنڈے کو بہ انداز دگر آگے بڑھاتے ہیں۔ اولاً کھلی شرانگیزی اورابلاغی دہشت گردی کرنے والوں کے وکیل اور موئید بن کر ان کے جرم کو خفیف تر ثابت کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے خلاف سامنےآنے والے ردعمل کو ، بلا جواز، بڑھا ہوا ، متجاوز اور شر انگیزی کا پیرایہ لیا ہوا بتاتے ہیں۔ ان کا دوسرا کام یا شعبہ یہ ہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خود توکھلی توہین یا براہ راست شرانگیزی نہیں کرتے۔ لیکن چارلی ہیبڈو سے ہٹ کر ایک دیر پا اثرات کے حامل منفی اسلوب کو اختیار کرتے ہیں۔ ان کا اسلوب بظاہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنے کا نہیں ہے بلکہ ان کا طریقہ واردات اور ایجنڈا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا احترام نہ کرنے کا ہوتا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ان کا اسلوب خاموش مگر دیر پا اور دوررس اثرات کا حامل ہوتا ہے۔

انہی میں ایک طبقہ برطانیہ کے ایک معروف نشریاتی ادارے کی صورت میں موجود ہے ۔ اس کی مجبوری یہ ہے کہ اس کا دائرہ اور ایجنڈا شرق و غرب تک ہر جگہ پر محیط ہے۔ اس لیے یہ کھلی گالی نہیں دے سکتا۔ یہ ادراہ اپنا کام بڑی ہنرمندی سے کرتا ہے۔ راقم کو اس امر کا مشاہدہ ان چند دنوں کے دوران بطور خاص ہوا۔ اس نشریاتی ادارے نے چارلی ہیبڈو سے متعلق خبروں اور چارلی کے خلاف سامنے آنے والے رد عمل پر مبنی واقعات کی کوریج کے دوران کہیں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے احترام اور ادب کا پیرایہ اختیار نہ کیا۔ اس برطانوی ادارے کے آ ن لائن خبری ویبسائٹ کواس دورانیے میں جب بھی دیکھا تو جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرنے کی اس نے ضرورت دیکھی وہیں اپنی گھڑی اصطلاح ''پیغمبر اسلام'' کا سہارا لیا۔ کسی ایک سٹوری یا خبر میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام احترام اور تقدس کے اس انداز میں نظر نہ آیا جو پوری دنیا کے مسلمانوں میں رائج ہے۔ اس برطانوی ادارے کی کسی بھی خبر میں صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ تک نہ لکھے گئے۔ اگر سٹوری اس ادارے کے معروف نشری پروگرام سیربین میں سنائی گئی تو بھی وہی پیغمبر اسلا م کی ترکیب استعمال کی گئی اور صلی اللہ علیہ وسلم کہنے سے شعوری طور پر گریز کی ادارتی پالیسی بروئے کار لائی گئی۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی خبروں میں ایک افسوسناک پہلو یہ رہا کہ ایسی خبریں پاکستان ، انڈیا سے ''اوریجینیٹ'' ہوئیں تب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام نامی کے ساتھ اسی طرح ''ٹریٹ '' کیا گیا جس طرح لندن اور پیرس سے ''اوریجنیٹ'' ہونے والی خبروں میں کیا گیا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اس برطانوی ادارے کی مسلسل احترام گریز پالیسی کی عمل داری دیکھی تو اس ادارے سے قربت کے حامل صحافی دوستوں سے رجوع کا سوچا کہ آخر یہ ماجرا کیا ہے؟ کہ یہ ادارہ چارلی ہیبڈو تو نہیں لیکن مسلسل عدم احترام کا پیرایہ کسی بھی صورت چارلی ہیبڈو کی شر انگیزی سے کم نہیں ہے؟ تو معلوم ہوا کہ میرے یہ احساسات غلط نہ تھے کہ یہ اہم نشریاتی ادارہ براہ راست توہین تو نہیں کرتا لیکن احترام کا اظہار بھی نہ کرنے پر سختی سے کاربند ہے۔ یہ ایسا اپنی طے شدہ ادارتی پالیسی کی وجہ سے کرتا ہے۔

بظاہر کہا جا سکتا ہے کہ یہ ادارے کی ادارتی پالیسی اور لسانی ضابطہ کاری کا تقاضا ہے ۔ یہ بھی دلیل دی جاسکتی ہے کہ ہر ادارے کو اپنی ادارتی پالیسی طے کرنے کا حق ہے۔ بظاہر یہ ایسے دلائل ہیں کہ میرے جیسے دوسرے سادہ لوح مان جائیں گے۔ لیکن جب سوال یہ اٹھے گا کہ یہی حق تو چارلی ہیبڈو بھی استعمال کر رہا ہے۔ جس پر پوری مسلم دنیا میں لعن طعن کی جارہی ہے تو کیا دوسرے کسی ادارے کا یہ مطلق اداراتی حق تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں احترام گریز پالیسی اپنے مسلمان قارئین ،سامعین اور ناضرین پربھی مسلط رکھے۔

اداراتی حق اور پالیسی اپنی جگہ لیکن کیا ایک رواداری کا داعی نشریاتی ادارہ اپنے کروڑوں سامعین ، ناظرین اور قارئین کے جذبات کے علی الرغم اسلوب اور پالیسی کو بلاوجہ ہی جاری رکھے ہوسکتا ہے۔ جبکہ سب جانتے ہیں کہ سامعین ، ناظرین اور قارئین کو اس قدر غیر متعلق بنا دینے سے ادارے کامیابی سے دور ہوجاتے ہیں۔ اس کی پروا نہ سہی کہ برطانیہ کے وسائل اس ادارے کو چلانے کے لیے کافی و شافی ہیں۔ لیکن یہ سوال تو ضرور اٹھے گا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ادارے کے پالسی ساز اس معاملے میں اتنے سخت، متعصب اور پکے کیوں ہیں، کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جب بھی ذکر آئے گا تو انہیں صرف پیغمبر اسلام ہی لکھا جائے گا۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ کیا اس سے رواداری کے ساتھ دشمنی صاف صاف ظاہر نہیں ہورہی۔ کیا اس سے مسلمانوں کے جذبات کی پروا نہ کرنے کا اظہار کھلا کھلا نہیں ہو رہا ۔ کیا مسلسل احترام گریز پالیسی توہین آمیز پالیسی کی ہی دوسری شکل نہیں ہے۔ کیا یہ چارلی ہیبڈو کی احمقانہ توہین سے زیادہ خوفناک توہین کا ایک مسلسل عمل نہیں ہے اور کیا یہ اپنے ادارے کے اندر کام کرنے والے صحافیوں پر بھی کڑی قدغن نہیں کہ بظاہر بلاو جہ وہ اپنے نبی کا نام اپنے انداز سے نہیں لے سکتے، اپنی مرضی کے مطابق بول سکتے ہیں نہ لکھ سکتے ہیں۔ کیا ایسی سنگد لانہ ادارتی پالیسی کسی نام نہاد صحافتی اخلاقیات کا لازمی تقاضا ہے ۔ جس کی بنیاد پر مسلمانوں کے لیے سب سے قابل احترام ہستی کو احترام نہ دیا جائے۔

جو احباب جنوبی ایشیا، مشرق وسطی سمیت پورے ایشیا اور افریقہ میں غیر معمولی طور پر پذیرائی رکھنے والے اس نشریاتی ادارے کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں طریقہ واردات کا براہ راست جائزہ لینا چاہیں وہ حالیہ دنوں کی چند خبروں کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔ ان میں بارہ جنوری کو نئی دہلی کی ڈیٹ لائن والی سٹوری، تیرہ جنوری کو چارلی ہیبڈو میں توہین آمیز خاکوں کی امکانی اشاعت والی سٹوری، چودہ جنوی کو چارلی میں خاکے شائع ہوجانے کی سٹوری، پندرہ جنوری کو آزادی اظہار کی حدیں کہاں تک اور دوسری خبر فرانس کے صدر کے چارلی کو خراج تحسین پیش کرنے سے متعلق تھی۔ سولہ جنوری کو توہین آمیز خاکوں کے خلاف پاکستان میں یوم احتجاج سے متعلق خبر تھی۔ یہ تمام خبریں بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے ریکارڈ کا حصہ ہیں۔

ان خبروں کی نشاندہی کیوں ضروری ہے؟ اس کے لیے عرض ہے کہ جب توہین رسالت کا ارتکاب ایک جریدے کے لیے جائز نہیں تو اس سے کہیں زیادہ وسیع دائرہ کار رکھنے والے نشریاتی ادارے کی طرف سے مسلسل احترام گریز پالیسی کو احترام کے دائرے میں لانے کی بات کرنا کیوںکر غیر ضروری ہو سکتا ہے۔ کیا اس رواداری کے داعی ادارے سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ کم از کم انبیا علیہم السلام کے نام احترام سے لینا شروع کردے اور اپنی ادارتی پالیسی کا نفاذ کم از کم انبیا علیہم السلام اور دنیا بھر کے لیے قابل احترام ہستیوں کے لیے نرم کر دے۔ کیا ادارتی پالیسی کوئی خدائی پالیسی ہے ؟ یا یہ ادارہ اپنی ادارتی پالیسی کو پرانے وقتوں کے فرعونی انداز میں مقدس ہستیوں سے بھی زیادہ معتبر اور مقدس سمجھتا ہے۔ ایسا کچھ بھی ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے احترام گریز پالیسی مسلمانوں کے لے قابل قبول نہیں ہو سکتی ، بلکہ خدشہ ہے کہ یہ احترام گریز پالیسی جاری رہی تو اس ادارے کو بھی اشتعال انگیزی کا مرتکب تصور کیا جائے گا۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.