.

نئے سیارے دریافت کرنا ہوں گے

جاوید چودھری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا کے پاس اب دو آپشن ہیں، ہم لوگ زمین جیسے پانچ نئے سیارے دریافت کر لیں اور دنیا کے مختلف مذاہب، نسلیں اور گروہ ان پر شفٹ ہو جائیں، ایک سیارہ عیسائیوں کا ہو، دنیا بھر کے عیسائی بیت اللحم، ویٹی کن سٹی اور بائبل کے ساتھ وہاں منتقل ہو جائیں، وہ سیارہ عیسائی زمین کہلائے اور دوسرے مذہب اور نسل کے لوگ وہاں نہ جا سکیں، یہ لوگ وہاں اپنی مرضی کی دنیا آباد کر لیں، جس کے چاہیں کارٹون بنائیں، جس کے خلاف چاہیں فلم تیار کر لیں اور جس کی چاہیں توہین کر دیں۔

کے مختلف مذاہب، نسلیں اور گروہ ان پر شفٹ ہو جائیں، ایک سیارہ عیسائیوں کا ہو، دنیا بھر کے عیسائی بیت اللحم، ویٹی کن سٹی اور بائبل کے ساتھ وہاں منتقل ہو جائیں، وہ سیارہ عیسائی زمین کہلائے اور دوسرے مذہب اور نسل کے لوگ وہاں نہ جا سکیں، یہ لوگ وہاں اپنی مرضی کی دنیا آباد کر لیں، جس کے چاہیں کارٹون بنائیں، جس کے خلاف چاہیں فلم تیار کر لیں اور جس کی چاہیں توہین کر دیں۔

اپنی مرضی کی زندگی بسر کریں اور کسی کو ان پر کوئی اعتراض نہ ہو، ایک سیارہ یہودیوں کو الاٹ ہو جائے، یہ لوگ بھی اپنی دیوار گریہ اور ہیکل سلمانی اٹھائیں اور اس سیارے کو اسرائیل ڈکلیئر کر کے وہاں آباد ہو جائیں اور کوئی ان کی ریاست، ان کے طرز عمل پر اعتراض نہ کرے، ایک سیارہ ہندوؤں کو مل جائے، یہ بھی اپنے دیوی دیوتاؤں کو اٹھائیں، اپنے مندر لیں، اپنے ترشول، اپنے دھاگے اور اپنی گنگا سمیٹیں اور وہاں چلے جائیں، یہ لوگ وہاںجتنے چاہیں نعرے لگائیں، یہ وہاں جتنی چاہیں دھمکیاں دیں، کوئی شخص کوئی قوم اعتراض نہیں کرے گی اور ایک سیارہ مسلمان بھی آباد کر لیں۔

یہ بھی اپنا خانہ کعبہ، اپنا قرآن مجید اور اپنی مسجدیں اٹھائیں اور اس سیارے پر آباد ہو جائیں اور یہ وہاں جتنے چاہیں القاعدہ اور داعش بنا لیں، جتنے چاہیں جلوس، اجتماعات اور ریلیاں نکال لیں اور ایک سیارہ بدھ مت بھی آباد کر لیں، یہ بھی اس کو اپنا تبت ڈکلیئر کر دیں، یہ وہاں اپنے لاما دریافت کریں اور اپنی مرضی سے زندگی گزار لیں اور ہم اگر یہ نہیں کر سکتے تو پھر ہم دنیا کو پانچ حصوں میں تقسیم کر لیں، ہم دنیا بھر کے عیسائیوں کو یورپ تک محدود کر دیں، یہودیوں کو ،،ڈیڈسی،، اور مسلمان مشرق وسطیٰ تک محدود ہو جائیں، ہندوؤں کو برصغیر دے دیں اور بدھ مت مشرق بعید تک محدود ہو جائیں۔

ہم ان پانچ حصوں کے گرد بیس ہزار فٹ اونچی دیواریں بنائیں تاکہ کسی حصے کا کوئی باسی دوسرے حصے میں جھانک تک نہ سکے، ہم سب کے سمندر ہم سب کے دریا، ہوائیں ،پانی، کمیونی کیشن کے ذرائع، سورج اور چاند تک اپنے اپنے ہوں، ہم ایک دوسرے کی شکل تک نہ دیکھیں اور اپنے اپنے حصے میں اپنی اپنی مرضی کی زندگی گزارتے رہیں، ہم سب اپنے اپنے دائروں، اپنے اپنے حلقوں میں رہ کر زندگی گزارتے چلے جائیں یہاں تک کے زمین آخری سانس لے یا کائنات ٹوٹ کر بکھر جائے۔

ہم اگر یہ نہیں کرتے تو پھر ہمارے پاس دوسرا آپشن بچتا ہے، ہم ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزاریں، ہم ایک دوسرے کے ساتھ رہنا سیکھ لیں، ہم ایک دوسرے کی ذہنی، نفسیاتی، جذباتی، تقافتی اور معاشرتی مجبوریاں سمجھیں، ہم اہل مغرب کو اہل مغرب، اہل مشرق کو اہل مشرق، عیسائیوں کو عیسائی، یہودیوں کو یہودی، ہندوؤں کو ہندو اور مسلمانوں کو مسلمان مان لیں، ہم غریب اور امیر اور جاہل اور پڑھے لکھے کی تقسیم کو بھی تسلیم کر لیں، ہم آرٹ کو آرٹ اور سائنس کو سائنس، مذہب کو مذہب اور روحانیت کو روحانیت مان لیں، ہم یہ بھی مان لیں یورپ کے لوگ یورپ کی طرح زندگی گزاریں گے، مشرق کے لوگ مشرقیت کے ساتھ رہیں گے، عیسائی ،عیسائی عقیدے کے ساتھ سانس لیں گے اور یہودی، یہودی، بودھ، بودھ، ہندو، ہندو اور مسلمان مسلمانوں کی طرح حیات کا سفر طے کریں گے۔

دنیا میں برقعہ پوش بھی رہیں گی اور اسکرٹ والیاں بھی، لوگ شراب بھی پئیں گے، سور بھی کھائیں گے اور حلال اور حرام کی تمیز کرنے والے بھی یہیں آباد رہیں گے، لوگ کلیسا بھی جائیں گے، سینا گوگا بھی، مندر بھی، پاٹ شالا بھی اور مسجد بھی، لوگ غربت کی دوہائی بھی دیں گے اور امیر غریبوں کو روٹی کی جگہ کیک کھانے کے مشورے بھی دیں گے، دنیا میں گدھا گاڑیاں بھی چلیں گی اور لوگ فراری بھی خریدیں گے، لوگ بسوں کے ساتھ لٹک کر بھی سفر کریں گے اور لوگ ذاتی جہازوں میں بھی اڑیں گے، دنیا میں ڈالر بھی رہے گا، پاؤنڈ بھی، یورو بھی اور روپیہ بھی اور دنیا میں ویٹی کن سٹی بھی، ہیکل سیلمانی بھی اور خانہ کعبہ بھی موجود رہیں گے، ہمیں ماننا ہو گا، دنیا میں لوگ انگریزی بھی بولیں گے۔

فرنچ بھی، چینی بھی اور عربی بھی، دنیا میں فادر بھی ہوں گے اور پنڈت بھی، ربی بھی، مولوی بھی اور لبرل فاشسٹ بھی اور پھر دنیا میں آجر بھی ہوں گے، اجیر بھی، کیمونسٹ بھی، سرمایہ کار بھی اور قاتل بھی اور مقتول بھی، دنیا میں بھگوان کی آوازیں بھی آئیں گی، فادر،مادر اور چائلڈ کی صدا بھی اور اللہ اکبر بھی اور دنیا میں کالے بھی ہوں گے، زرد بھی، سرخ بھی، سفید بھی اور براؤن بھی اور پھر ہمیں یہ بھی ماننا ہو گا ہم جب اکھٹے رہیں گے تو پھر ہم میں اختلاف بھی ہو گا، ہم سب اپنے اپنے عقیدے کو سچا اور دوسرے کے عقائد کو جھوٹا بھی کہیں گے، ہم اپنی عبادت کو مقدس اور دوسروں کے سجدوں کو کفر بھی کہیں گے، ہم میں سے کچھ لوگ سبزی کھائیں گے، کچھ کوشر، کچھ حلال اور کچھ سب کچھ، ہماری میز پر بیٹھ کر ایک شخص شراب پیئے گا اور دوسرا کوکاکولا اور تیسرا لسی، ہم میں سے کچھ لوگ موسیقی اور رقص کو حرام بھی قرار دیں گے اور کچھ اعضاء کی شاعری اور تہذیب اور کچھ لوگ فلموں، تھیٹر اور اسٹیج ڈراموں کو فحاشی بھی قرار دیں گے اور کچھ اسے سماجی عبادت بھی کہیں گے۔

ہم اگر ایک دوسرے کے وجود کو مان لیتے ہیں، ہم اگر یہ تسلیم کر لیتے ہیں، ہم مختلف رنگوں، نسلوں، زبانوں، مذہبوں اور ثقافتوں کے لوگوں نے اس کرہ ارض پر رہنا ہے تو پھر دنیا کے ہر چارلی کو یہ بھی ماننا ہو گا ہم 18 لوگ جسے آرٹ اور ہم جسے آزادی اظہار رائے سمجھتے ہیں اسے دنیا کے ایک ارب 70 کروڑ مسلمان توہین گردانتے ہیں اور یہ اس توہین پرجان دے بھی سکتے ہیں اور جان لے بھی سکتے ہیں اور ہم نے اگر اب اسی دنیا میں دوسری نسلوں اور دوسرے مذہب کے لوگوں کے ساتھ رہنا ہے تو پھر دنیا کے تمام شریف کوشی اور سعید کوشیوں کو بھی یہ سمجھنا ہو گا حملوں سے مسئلے حل نہیں ہوتے، حملوں سے مسئلے بڑھ جاتے ہیں، ہمیں یہ ماننا ہو گا چارلی ایبڈو 7 جنوری سے قبل ایک مرتا ہوا کمزور ہفت روزہ تھا۔ اس کی سرکولیشن کبھی پچاس ہزار سے اوپر نہیں گئی۔

سنجیدہ لوگ اس ہفت روزہ کو پسند نہیں کرتے تھے لیکن اخبار پر حملے کے بعد چارلی ایبڈو نے گستاخانہ خاکے 30 لاکھ کی تعداد میں شائع کیے، یہ اب مزید 50 لاکھ کاپیاں شائع کر رہا ہے، یہ میگزین7 جنوری تک صرف پیرس کے ایک محلے تک محدود تھا، لوگ یہ میگزین دیکھتے تھے اور ڈسٹ بین میں پھینک دیتے تھے لیکن 7 جنوری کے واقعے کے بعد یہ نہ صرف بین الاقوامی اخبار بن گیا بلکہ پوری مغربی دنیا، پورے وسائل کے ساتھ اس کے ساتھ کھڑی ہو گئی، دنیا بھر کے اخبارات ، ٹیلی ویژن چینلز اور ویب سائیٹس چارلی ایبڈو سے اظہار یکجہتی کے لیے وہ خاکے روزانہ شائع کر رہی ہیں، یورپ، امریکا اور مشرق بعید میں مسلمانوں کے لیے آزادانہ نقل و حرکت مشکل بن چکی ہے، فرانس میں مسلمانوں پر 80 حملے ہو چکے ہیں، لوگ اب مارکیٹس، اسکول اور مسجدوں میں جاتے ہوئے ڈرتے ہیں، اسلامی دنیا اور مغربی دنیا کے درمیان ٹینشن میں بھی اضافہ ہو گیا اور یہ صورتحال اگر کنٹرول نہ ہوئی تو دنیا میں کسی بھی وقت تیسری عالمی جنگ چھڑ جائے گی۔

ہمیں یہ ماننا ہو گا ہمارے حملے، ہماری گولیاں مسئلے ختم نہیں کررہیں، یہ مسائل میں اضافہ کر رہی ہیں اور ہم نے اگر اکھٹے رہنا ہے تو پھر اقوام متحدہ، یورپی یونین، جی 20 اور او آئی سی کو بھی آزادی اظہار رائے کے نئے پیرا میٹر بنانے ہوں گے، دنیا کے بڑے فورمز کو مذہب، عقائد اور رسومات کو آزادی رائے کے دائرے سے باہر نکالنا ہو گا، دنیا کو فیصلہ کرنا ہو گا، دنیا میں کسی جگہ کسی پیغمبر، کسی مذہب کے بانی اور کسی عبادت کے خلاف فلم بنے گی اور نہ ہی کارٹون۔ دنیا بھر کے مصنفین بھی لکھتے وقت احتیاط سے کام لیں گے، دنیا کو مذہبی حقوق کو انسانی حقوق کی فہرست میں شامل کرنا ہو گا اور دنیا میں جس طرح انسانی حقوق کی خلاف ورزی جرم ہے بالکل اسی طرح مذہبی توہین بھی جرم ہو گی، دنیا کو اسلحے پر بھی پابندی لگانی ہو گی۔

اقوام متحدہ پوری دنیا کو حکم دے یہ پانچ سال کے اندر اندر اپنے شہروں کو اسلحے سے پاک کرے، دنیا کے کسی شہری کے پاس اسلحہ نہیں ہونا چاہیے، اسلحہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں، پولیس اور فوج تک محدود ہونا چاہیے، دنیا کو تبلیغ کا نظام بھی وضع کرنا ہو گا، دنیا کے تمام مذاہب اپنے تبلیغ گھر بنائیں، جس شخص کو اس مذہب کے بارے میں جاننے کی خواہش ہو، وہ اس تبلیغ گھر میں پہنچ جائے اور وہ مذہب سیکھ لے، تبلیغی مشنوں پر پابندی ہونی چاہیے، دنیا یہ فیصلہ بھی کرے، پبلک میڈیا یعنی اخبارات، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ پر کسی مذہب کے خلاف گفتگو نہیں ہو گی، سوشل میڈیاکے رولز بھی تبدیل کیے جائیں، متنازعہ مذہبی ویب سائیٹس پر پابندی ہونی چاہیے اور آخری بات اقوام متحدہ کو بین المذاہب رابطے کے لیے فنڈ تشکیل دینا چاہیے۔

یہ مختلف مذاہب کے لوگوں کو دوسرے مذاہب کے ساتھ ملاقاتوں کے لیے بھیجوائیں، عیسائی، یہودی اور ہندو عالم مسلمان عالموں سے ملاقات کریں اور مسلم اسکالرز دوسرے ملکوں میں جا کر ان کے علماء سے ملاقاتیں کریں، یہ رابطے اختلافات کم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے، ہم میں سے کتنے لوگ ہوں گے جنھوں نے ویٹی کن سٹی دیکھا ہو گا اور کتنے عیسائی عالم ہوں گے جنھوں نے قمریونیورسٹی، جامعہ الازہر اور مدینہ یونیورسٹی کا دورہ کیا، ہم میں سے سینا گوگا اور مندروں میں جانے والے مسلمانوں کی تعداد بھی انتہائی کم ہو گی، یہ بیریئر بھی ٹوٹنا چاہیے، ہمارے درمیان انٹرایکشن ہو گا تو غلط فہمیوں اور نفرتوں کی دیواریں گریں گی۔

دنیا کو ایک دوسرے کے عقائد کے بارے میں بھی زیادہ سے زیادہ معلومات ہونی چاہئیں، ہم اگر ایک دوسرے کے عقائد، مذہبی رسومات اور مذہبی شخصیات کے بارے میں جانتے ہوں گے تو ہم توہین سے بھی پرہیز کریں گے اور یوں دوسرے مذاہب کی دل آزاری نہیں ہو گی، مجھ سے ڈیلفی کے ایک پادری نے پوچھا ،،تم مسلمان ہمارے نبی کو کیوں نہیں مانتے،، میں نے جواب دیا ،،حضرت عیسیٰ ؑکی نبوت کو تسلیم کرنا ہمارے ایمان کا حصہ ہے، ہم جب تک انبیاء کرام کو تسلیم نہ کریں، ہم مسلمان ہی نہیں ہو سکتے،، وہ میرا جواب سن کر حیران رہ گیا، کیوں؟ کیونکہ اسے بتایا گیا تھا مسلمان حضرت عیسیٰ ؑکونبی نہیں مانتے، عیسائی اس لیے مسلمانوں کے خلاف ہیں، ہمارے درمیان رابطے بڑھیں گے تو یہ غلط فہمیاں بھی ختم ہو جائیں گی۔

ہم نے دنیا کو پرامن بنانے کے لیے یہ اقدام نہ کیے تو دنیا رہنے کے قابل نہیں رہے گی اور وہ مذہب جو انسان کو پرامن رکھنے کے لیے دنیا میں آئے تھے وہ انسان کے خاتمے کا ذریعہ بن جائیں گے یا پھر ہر مذہب کو اپنے لیے نیا سیارہ دریافت کرنا پڑے گا۔

بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.