.

بلوچ باغیوں کے سرپرستوں کو انتباہ

وکیل انجم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘

بلوچستان کا ایشو آج ہماری سول حکومت کیلئے کافی سنجیدہ رخ لئے ہوئے ہے۔ یہ گڑ بڑ ہے تو بہت پرانی، کبھی یہ قوم پرستی، کبھی احساس محرومی، کبھی بغاوت، کبھی دہشت گردی کے روپ میں ہمارے سامنے آتی رہی ہے۔ پاکستان دہشت گردی کی جس آگ میں جھلس رہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ بلوچستان کافی عرصہ سے عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اور وقفے وقفے سے کوئی نہ کوئی دہشت گردی کی واردات سامنے آتی ہے۔ بلوچستان میں آزادی کی تحریک ہے؟ اس کو تقسیم کرنے کا سوال ہے اس کے پیچھے فنڈنگ ہے اور یہ سب کچھ نظر بھی آتا ہے۔ دیکھا جائے تو مسائل اتنے گھمبیر ہیں اس کو اب فیصلہ کن نتیجے تک پہنچانے کا وقت آ گیا ہے۔ اس بار وجہ بنی ہے پشاور کے آرمی پبلک سکول کی دہشت گردی۔ دہشت گردی کا یہ زخم اتنا گہرا ہے کہ اب یہ کسی کیلئے ہضم ہونے والی بات نہیں ہے۔ سیاسی جماعتوں نے حکمت عملی بنائی۔ بڑے اہم اور تاریخی فیصلے کئے۔ ایسے ناپسندیدہ فیصلے بھی سیاستدانوں نے حالات کے جبر کے تحت قبول اور برداشت کئے۔ بیس نکات کو دیکھا جائے تو ایک ہی نکتہ ہے پاکستان کو دہشت گردی سے پاک کیا جائے۔ پیش رفت اچھی ہے۔ پہلی مرتبہ حکمران، اپوزیشن اور ملٹری ایک پلیٹ فارم پر ہیں۔

قومی ایکشن پلان کا زیادہ تر حصہ صوبوں کے پاس ہے۔ اب ٹال مٹول کی بات نہیں ہو گی اور نہ ہو سکتی ہے اور نہ کسی کو غفلت کا موقع ملنا چاہیے پھر بھی کچھ لوگوں کو اعتراض ہے سپہ سالار خارجہ پالیسی بھی چلا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے جس فوج کی ذمہ داری میں پاکستان کی حفاظت اور سا لمیت ہو وہ اپنا حصہ نہ ڈالے اور کیا کرے۔ راحیل شریف سانحہ پشاور کے بعد افغانستان پہنچے۔ افغان صدر کو بتایا کہاں کہاں اور کس کس جگہ سے افغان سرزمین پاکستان کی سا لمیت کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ ان کے بعد آئی ایس آئی چیف یہی سوال لے کر دو مرتبہ افغانستان گئے۔

برطانیہ کا دورہ کافی کامیاب رہا۔ زبردست استقبال ہوا، سپہ سالار نے تین روزہ دورہ میں دہشت گردی کے موضوع کو ہی آگے بڑھایا۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے دورہ برطانیہ کے حوالے سے جو پریس ریلیز جاری کیا گیا ہے۔ اس میں بلوچستان کے معاملات کو اہم ایشو کے طور پر پیش کیا ہے۔ ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ نے سپہ سالار کے دورہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ کس طرح بلوچستان میں قوم پرستی کے نام پر خون کا بازار گرم ہے اور برطانیہ میں بیٹھے ریاست پاکستان کے دشمنوں کی کیسے کیسے حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔ ایسے رویے کو ترک کرنے کے حوالے سے سپہ سالار کا تین روزہ دورہ خاصا کامیاب رہا۔ وہ اس سوال پر برطانوی حکومت پر بھی بہت سے سوالات چھوڑ آئے ہیں۔

بلوچستان میں قوم پرستی کے نام پر ماضی میں بھی تخریبی سرگرمیاں ہوتی رہی ہیں۔ اس بار معاملہ کچھ اور ہے۔ فنڈنگ باہر سے ہو رہی ہے۔ بلوچ شدت پسندوں کی تربیت کا مرکز بنا ہے۔ افغانستان جہاں ریاست پاکستان کے باغیوں سے وی آئی پی سلوک ہو رہا ہے۔ بھارت اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسیاں پورا زور لگا رہی ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ قومی ایکشن پلان بلوچستان میں ناکام ہو، اس سے پہلے امریکہ بھی کبھی حقانی نیٹ ورک، کبھی ملاعمر کی موجودگی کے سوال پر یہاں مداخلت کرتا رہا ہے جو لوگ بلوچستان کی علیحدگی کی تحریک چلا رہے ہیں وہ بلوچستان کے وہ سردار یا اُن کے بچے ہیں۔ وہ اب اور کھیل کھیل رہے ہیں۔ اگر سرداروں کے ماضی کو دیکھا جائے تو قوم پرستی کے نام سے وہ اپنی بالادستی کیلئے لڑتے رہے ہیں۔ انہوں نے بلوچ عوام کی غربت اور پسماندگی ختم کرنے کیلئے کبھی کچھ نہیں کیا۔ عبدالمالک بلوچ اور پختون مل کر حکومت چلا رہے ہیں وہ اُن لوگوں کو پسند نہیں ہے۔ اب بلوچستان کافی حد تک بدل رہا ہے۔ سیاسی میدان میں جمہوریت کے اثرات عام آدمی تک پہنچ رے ہیں اب کوئی گوریلا کارروائی کرے گا تو ریاست بھی اپنا وجود دکھائے گی۔

سپہ سالار اور سیاستدانوں نے بلوچستان میں عسکری کارروائیاں کرنے والوں کو للکارا ہے۔ پہاڑوں میں چھپ کر فراری کیمپ بنا کر دہشت گرد تنظیمیں کچھ حاصل نہ کر سکیں گی۔ ماضی میں بھی وہ ایسا راستہ کم و بیش چار مرتبہ لے چکے ہیں۔ فراری کیمپوں کو ختم کرنا اب سپہ سالار نے اپنے ذمہ لے لیا ہے۔ اصل بات تو ان کے سرپرستوں کو پیغام دینا تھا رک جاؤ۔ دوسری طرف ہماری سیاسی مجبوریوں سے بھی یہاں شدت پسندی بڑھی ہے اور یہ سلسلہ قیام پاکستان کے بعد سے ہی جاری ہے۔ یہ بات حوالے سے ملتی ہے قیام پاکستان کے بعد پہلی قوم پرست تحریک خان آف قلات نے چلائی۔ مبینہ طور پر کہا جاتا ہے اس تحریک کو سکندر مرزا کی حمایت حاصل تھی پھر 58ء سے 62ء تک یہ تحریک پہاڑوں پر چلتی رہی۔ قیام پاکستان سے ہی بلوچستان کو واپس تقسیم سے پہلی والی پوزیشن پر لانے کی کوشش کر رہے تھے۔ انہوں نے 1958ء میں عظیم بلوچ رہنما شہید محراب بلوچ کی قبر پر تمام بلوچ سرداروں کو اکٹھا ’’اقرار‘‘ لیا تھا۔ اقرار میں یہ عہد باندھا گیا تھا کہ وہ بلوچستان کی آزادی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ جب بغاوت ہوتی ہے ایوب خان کی حکومت اور ریاست بھی اپنی رٹ دکھاتی ہے اور کسی حد تک اس رٹ کا اظہار بھی کیا گیا جس کی وجہ سے بغاوت کچل دی گئی۔ایوب خان نے صلح کے نام پر نوروزکو پہاڑوں سے نیچے اتارا اور چن چن کر اُن کے خلاف انتقامی کارروائیاں کی اور 7 افراد کو پھانسی پر چڑھایا۔

بعد ازاں بلوچ سردار سیاست میں سرگرم ہوئے۔ ان میں خیر بخش مری، سردار عطا اللہ مینگل بھی شامل تھے۔ یہ وہ سردار تھے جنہوں نے ایوب خان کے سیاسی عمل میں ہی انتخابی میدان مارا تھا اور قومی اسمبلی تک پہنچے تھے۔ دلچسپ بات یہ تھی ایوب خان نے تین طاقتور بلوچ سرداروں سردار عطا ء اللہ مینگل، نواب اکبر بگٹی اور خیر بخش مری کی سرداریاں ختم کرکے ان کی جگہ ایوب خان سردار کی حیثیت سے ایسے لوگ سامنے لے آئے جو حکومت کے حمایتی، اُن کے مددگار تھے مگر ان کو قبیلے کی حمایت حاصل نہیں تھی لیکن ان تینوں سرداروں کو قبیلے نے تسلیم نہ کیا۔ بعد ازاں یہ یکے بعد دیگرے قتل ہو گئے۔ بلوچستان کے عوام کے زخموں پر کسی حد تک مرہم رکھنے کا سہرا ایوب خان کے ہٹ جانے کے بعد آنے والے صدر یحییٰ خان کے سر تھا جو ایک منظم سازش کے بعد ایوب خان کو اقتدار سے ہٹانے کے بعد بڑی منصوبہ بندی سے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور صدر پاکستان بنے تھے۔ اُن کے آتے ہی بلوچستان میں بڑی تبدیلیاں محسوس کی گئیں، اُن کو عام معافی دے کر قومی دھارے میں شامل کیا گیا تھا۔ یحییٰ خان کے حکم سے ہی بلوچ سرداروں کی مشکلات کم ہوئی تھیں اور سرداروں پر مقدمات ختم ہو گئے۔ دوبارہ وہ اپنے اپنے قبیلے کے سردار بن گئے۔ 1970ء کے انتخابی اور سیاسی میدان میں بھی انہیں آگے بڑھنے کا موقع یحییٰ خان کے دور میں ہی ملا تھا۔ انہی اقدامات کی حوصلہ افزائی سے ہی بلوچ سرداروں کو سیاسی حوالے سے آگے بڑھنے اور قدم جمانے کا موقع ملا کیونکہ بلوچستان کے عوام نے نیشنل عوامی پارٹی کو بھاری مینڈیٹ دیا تھا۔ پیپلزپارٹی اس صوبے میں عبرتناک ہی نہیں بلکہ شرمناک شکست سے دوچار ہوئی تھی۔ بھٹو جمہوری آداب کا احترام کرتے۔

بلوچستان کی حکومت سے بھٹو نے بلوچستان میں اپنی شکست کا بدلہ عوام کے ووٹوں سے کامیاب حکومت کو ختم کرکے لیا۔ وہ بلوچستان کے سیاسی سومنات پر بار بار حملہ آور ہوتے رہے۔ اگر بھٹو بلوچستان کے عوام کا فیصلہ تسلیم کرتے تو آج بلوچستان کی سیاسی تاریخ کا باب محرومی کے عنوان کی بجائے اور طرح سے لکھا جاتا۔ پہلے حکومت کا خاتمہ پھر گورنر راج لگانا بلوچ کو بھڑکانے اور برگشتہ کرنے کیلئے کافی تھا۔ واضح اکثریت رکھنے والی جماعت کو ہٹانا جمہوریت کے مروجہ طریقہ کار اور اصولوں کی نفی تھی۔ ضیاء الحق کے دور میں نسبتاً قوم پرستی کی تحریک مانند پڑ گئی۔ وجہ یہ تھی سردار خیر بخش مری جلاوطن ہو کر افغانستان چلے گئے۔ سردار عطاء اللہ مینگل لندن جا بیٹھے۔ پونم کا پلیٹ فارم بھی متحرک ہوا مگر یہ چل نہ سکا۔ مشرف کا دور اس حوالے سے خاصا طوفانی رہا تھا۔ ایک بار بغاوت کی تحریک اٹھی ماضی کی نسبت اس تحریک کو غیر ملکی طاقتوں کی حمایت ملی۔ نواب اکبر بگٹی کی موت سے جو چنگاری شعلہ بنی وہ آج دہشت گردی کے نام سے سامنے آئی ہے۔ اب قومی ایکشن پلان کے ذریعے ہی اسے روکا جائے گا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.