.

’’سیاسی لائن آف کنٹرول‘‘

مطیع اللہ جان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کیا عوام مرنے کے لیے ہیں اور سیاسی حکومتیں ذلیل ہونے کے لیے ؟اس ملک کی تقدیر کے فیصلے کرنے والے یہ دونوں نہیں، نہ تو کبھی عوام نے اچھے یا برے طالبان کی تفریق پرو وٹ ڈالے اور نہ ہی کسی سیاسی حکومت کے پاس وفادار اور غدار طالبان کی خفیہ فہرستیں رہی۔ اور اب جبکہ پشاور واقعے نے پوری قوم کو جھنجھوڑ ڈالا ہے تو اصل فیصلہ ساز قوتوں نے نہ صرف فوری راست اقدامات کیے ہیں بلکہ کھل کر اس کا کریڈٹ بھی لینا شروع کر دیا ہے۔ یہ کو ئی نئی بات نہیں آج سے پہلے بھی حادثات سانحات کی ذمہ داری منتخب حکومتوں اور ان پر قابو پانے کا کریڈٹ فوجی اسٹیبلشمنٹ کو ہی دیا جاتا رہا ہے۔جس کی ایک مثال تو اچھے برے طالبان میں تفریق ترک کرنے کی موجودہ ـ

’’حکومتی ‘‘پالیسی ہے ۔جب تک یہ پالیسی رہی اس کا خمیازہ بھگتنے کے لیے وزیراعظم اور وزیر خارجہ تھے اور اب جبکہ یہ پالیسی تبدیل ہو گئی ہے تو اس کا تمام تر کریڈٹ براہ راست لینے کے لیے دنیا کے سامنے مارچ پاسٹ جاری ہے چلیں ایسے ہی سہی کم از کم اب ہماری سیاسی اور فوجی قیادت ایک صفحے پر تو ہیں یہ اور بات ہے کہ جنر ل راحیل شریف کا جو استقبال امریکہ اور لندن میں اس نئی پالیسی کے بعد کیا گیا اگر یہی استقبال اس نئی پالیسی کے ساتھ ہمار ے وزیر اعظم کا ہو تا تو نہ صرف یہ کہ ہماری سیاسی قیادت کو میڈیا کے گھس بیٹھیوں کے ذریعے غدار وطن قرار دیا جاتا بلکہ اس نئی پالیسی پر سرے سے عملدرآمد ہی نہ ہوتا ۔ آخر کارگل کے معرکے کے بعد نواز شریف کے ساتھ یہی کچھ تو کیا گیا۔ جب امریکی مدد سے پاک فوج کو مشکل صورت حال سے نکالا گیا تو سیاسی حکومت کے خلاف جیتی ہوئی جنگ مذاکرات کی میز پر ہار دینے کا الزام لگا دیا گیایہ اور بات ہے کہ ہماری فوج کے سربراہ نے جس موثر انداز میں پاکستان کے ’’نئے موقف‘‘اور ’’نئی پالیسی ‘‘کو بیرون ملک بیان کیا ہے وہ کام رائیونڈ کے جاگیر دار کبھی نہیں کر سکتے تھے۔

مگر پھر اس خاکی دورے نے پاکستان کی سبز ہلالی شناخت کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ دنیا کو اگر پہلے شک تھا تو اب یقین ہو چکا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی خارجہ اور دفاع کی پالیسیاں پارلیمنٹ میں نہیں بلکہ فوجی ہیڈا کوارٹر وں میں تیار ہوتی ہیں وگرنہ قابل قبول نہیں ہوتیں۔ اب پارلیمنٹ میں 21ویں آئینی ترمیم کے ذریعے فوجی عدالتوں کے قیام سے یہ بھی ثابت ہو چکا ہے کہ پاکستان میں نہ صرف سیاسی حکومت بلکہ عدلیہ بھی ناکام ہے۔ ہمارے دفاعی تجزیہ کار اپنے فوجی پس منظر و تجربے کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے کئی بار یہ ثابت کر چکے ہیں کہ ہمارا سیاسی اور عدالتی نظام اپاہج ہو چکا ہے۔ کسی حد تک تو یہ دلیل درست بھی لگتی ہے ۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ پشاور واقعے کے بعد اتنی بڑی حکومت کے ہوتے ہوئے عوام کا حوصلہ بلند کرنے کے لیے ایک قومی نغمہ بھی فوجی ترجمان کے آ فس سے جاری ہوتا ہے جسے سن کر ہر انسان آبدیدہ ہو جاتا ہے۔ کہاں ہے ہماری وزارت اطلاعات و نشریات ؟

کیا وہ حلقہ این اے 122 میں ووٹوں کی تھیلیوں پر پریس کانفرنس کرنے کے لیے رہ گئے ہیں؟ ہمارے سفید ہاتھی جیسے سرکاری نشریاتی اداروں سے ایک بھی ایسا ملی نغمہ نہیں بن سکتا تھا؟ افسوس صد افسوس۔اب ایسے میں کیسی جمہوریت ، پارلیمنٹ اور انتخابی پرچی کی حرمت جس کا رونا عمران خان اب تک رو رہے ہیں۔ یہ وہی عمران خان ہیں جن کو پشاور سکول کی سیکیورٹی کے ذمے داروں کا ایک ماہ بعد اس وقت معلوم ہواجب انہیں شہید بچوں کے سکول کھلنے کے دن سکول جانے نہ دیا گیا۔ تب انہیں پتہ چلا کہ سکول کی حفاظت کی ذمے داری تو فوج کی تھی۔ بقول خان صاحب کے اگر ایسا نہ ہوتا تو فوج انہیں سکول جانے سے کیسے روک سکتی تھی۔

شہید بچوں کے سکول کھلنے پر اگرآرمی چیف حکومتی اور سیاسی قیادت کے ہمراہ سکول میں موجود ہوتے تو یقینالوگ مان جاتے کہ فوجی اورسیاسی قیادت ایک صفحے پر ہیں۔ مگر جس انداز میں آرمی چیف نے اکیلے ہی وہ دن بچوں کے ساتھ گزارا اس سے جمہوری سیاسی نظام کی ناکامی کا ہی ٹھپہ لگا ہے عسکری حلقے تو جب چاہتے ہیں سیاسی قیادت کے صفحے پر صف آراء ہو کر ایک صفحے پر ہونے کا بیان جاری کر دیتے ہیں اورموقعہ ملے تو اپنی کتاب ہی الگ کر لیتے ہیں ۔ عوام تو بیچارے اس بھینس کی مانند ہیںجو لاٹھی والے مالک کی ہوتی ہے نہ کہ قانونی مالک کی۔اور اگر پٹرول نہ ملے تو کیسا قانون اور کون سامالک۔ اب جبکہ اچھے برے طالبان کی تفریق ختم ہو گئی ہے تو امید ہے کہ اس جنگ کی کامیابی اور ناکامی کے ذمے داروں میں بھی تفریق نہیں رکھی جائیگی۔ اس جنگ کی کامیابی اور ناکامی کا سہرا سیاسی حکومت کے سر ہوگا اور ہونا چاہئے۔

یہ نہ ہو کہ کامیابی کو دلیل بنا کر جمہوریت کو نشان عبرت بنا دیا جائے یا پھر ناکامی کو سیاسی قیادت کے گلے کا طوق بنا کر ملکی بقا کے لیے اقتدار پر ہاتھ صاف کیے جائیں۔ ہماری قیادت کو سمجھنا ہو گا کہ جب تک ملک پاکستان کی چار دیواری کا ایک مالک نہیں ہو گا ہماری چادر اور چاردیواری کی حرمت برقرار نہیں رہے گی۔ امریکی اور یورپی حکومتوں کو ہمارے سیاسی نظام یاجمہوریت میں کوئی دلچسپی نہیں۔ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے وہ حکومتیں دوسرے ممالک کی جمہوریت کی بھول بھلیوں میں نہیں پڑتی۔ اب جبکہ ہماری نئی پالیسی اور دوٹوک موقف نے ان حکومتوں کو بھی حمایت کے لیے آ مادہ کر لیا ہے تو یہ حمایت ملک، قوم اور حکومت کے لیے ہونی چاہئے نہ کہ کسی ایک ادارے کے لیے اگر پارلیمنٹ نے فوجی عدالتیں بنانے کا گناہ کر ہی لیا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس گناہ کا ملبہ بھی اسی پر پڑنے دیا جائے۔ہماری سیاسی جماعتوں، پارلیمنٹ اور حکومت کو ملکی سلامتی ٹھیکے پر دے کر اقتدار کے کمیشن پر اکتفا کرنے کی بجائے اس کا فوری کنٹرول اور نگرانی سنبھالنا ہو گی۔

دفاع و خارجہ پالیسیوں کو مقبوضہ علاقے تصور کرتے ہوئے سیاسی و عسکری قیادت کے درمیان تصوراتی لائن آف کنٹرول نہیں کھینچنی چاہئے۔ وگرنہ پھر ہماری جمہوریت اور قوم کا مستقبل وہی ہو گا جو اس وقت کشمیری قوم کا ہے۔ وہ ایک قوم تو ہیں مگر ملک نہیں۔ اور دوسری طرف ہم ایک ملک تو ہیں مگر ایک قوم نہیں۔ ہمارا جھنڈا تو سبز ہلالی ہے مگر اس کو لہرانے والا ڈنڈا بندوق والوں کے ہاتھ میں ہے۔ آ خر ہم کس کے احترام میں خاموش اور باادب کھڑے ہوتے ہیں؟

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.