.

صدر اوباما دہلی میں اور پاکستانی دال، قیمہ؟

عظیم ایم میاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ جان کیری بھارت کے سرکاری اعلان شدہ دورے کے بعد پاکستان کا غیر اعلانیہ دو روزہ دورہ کر کے بھی جا چکے مگر ہم ابھی تک جان کیری کے دورۂ پاکستان کے بارے میں ’’کیا کھویا کیا پایا؟‘‘ کے تجزیوں اور تبصروں میں مصروف ہیں جبکہ جان کیری کے بعد اب امریکی صدر اوباما بھارت کے یوم جمہوریہ کی تقاریب کے مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کے لئے تاریخی اور مثالی انداز میں 25 جنوری کو بھارت کے دورے پر دہلی پہنچ رہے ہیں، اسی نریندر مودی نے بھارتی وزیراعظم کی حیثیت سے اوباما کو دعوت دی تھی، جس نریندر مودی کو امریکہ نے ایک عرصہ سے امریکہ کا ایک معمولی ’’وزٹ ویزا‘‘ دینے سے انکار کر رکھا تھا۔

ہمارے وزیراعظم نواز شریف نے 23 اکتوبر 2013ء کو واشنگٹن کے وہائٹ ہائوس پہنچ کر نہ صرف صدر اوباما کو دورۂ پاکستان کی دعوت دی تھی بلکہ دورۂ پاکستان کے دوران صدر اوباما کو ’’دال اورقیمے‘‘ کی پسندیدہ ڈش کی بھی ضمانت دی تھی اور صدر اوباما نے مناسب وقت پر دورۂ پاکستان کا ذکر بھی کیا لیکن حالات کی تبدیلی اور ستم ظریفی بھی دیکھئے کہ ہم تو پندرہ مہینوں سے پاکستان میں صدر اوباما کے منتظر ہیں لیکن آٹھ ماہ قبل بھارت کا وزیراعظم مقرر ہونے والے اسی ناپسندیدہ نریندر مودی کی ایک حالیہ دعوت پر صدر اوباما بھارت کے یوم جمہوریہ کی تقاریب میں مہمان خصوصی کے طور پرنہ صرف خود آ رہے ہیں بلکہ اس موقع پر انتہائی با مقصد تعاون و اشتراک کےمعاہدوں اور منصوبوں پر دستخط بھی ہوں گے۔ تجارتی، صنعتی، معاشی، جنگی، دفاعی اور ثقافتی شعبوں میں بھارت، امریکہ تعاون و اشتراک کا ایک مثالی عمل شروع کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں پانچ گنا اضافہ کرنا بھی امریکہ کا ہدف ہے۔

ہم تو ابھی تک امریکہ سے پاکستانی سرزمین پر ڈرون حملے روکنے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور بھارت، امریکہ کے تعاون و اشتراک سے ڈرون طیاروں کی مینوفیکچرنگ کا پروجیکٹ، لڑاکا طیارے، جدید جنگی سامان اور دفاعی شعبے میں ہتھیاروں کی تیاری کے منصوبے،بھارت میں تعمیر کرنے کے سمجھوتے کرنے والا ہے بلکہ مزید سنئے… انتشار و تباہی کے شکار مشرق وسطیٰ کے ممالک میں بھی بھارت کو رول ادا کرنے کی اجازت اور امریکی اشتراک حاصل ہو گا۔ صدر اوباما کے اس اہم دورۂ بھارت کے نتیجے میں بھارت نہ صرف جنوبی ایشیا میں امریکہ کی ’’پراکسی‘‘ قوت کا رول ادا کر سکے گا بلکہ تیل اور معدنی ذخائر سے مالامال،خوشحالی کی زندگی بسر کرنے والے مشرق وسطیٰ کے عرب ممالک میں بھی امریکہ کے پارٹنر کے طور پر جو رول ادا کر سکے گا وہ ان ملکوں کے حکمرانوں کی آنکھیں کھولنے اور پاکستان کی اہمیت، ضرورت اور افادیت کا احساس بھی دلا دے گا مگر اب کافی تاخیر ہو چکی ہے۔ ہم تو ابھی تک جان کیری کے دو روزہ دورۂ پاکستان کی خیالی کامیابیوں اور تشریحات میں ہی گم ہیں جبکہ جان کیری نے تو ہمیں صرف ’’ڈو مور‘‘ اور دہشت گردی کے خلاف مزید اقدامات کے لئے حوصلہ افزائی کے الفاظ کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں دیا۔ صدر اوباما کے دورۂ بھارت کا ایجنڈا اور بھارت، امریکہ تعاون کی رفتار اور اسٹرٹیجی کو دیکھتے ہوئے ہمیں اس خوش فہمی سے نکل آنا چاہئے کہ امریکہ، پاکستان سے بھارت کے متوازی اور علیحدہ تعلقات رکھنا چاہتا ہے۔

اب بھارت، امریکہ تعلقات ایک نئی سمت اور ترجیحات کے ساتھ علاقائی اور عالمی تناظر کے حامل ہیں۔ ہم کو تبدیل شدہ حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے خود کو صورتحال اور اپنی بقاء کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ صدر اوباما کی معیاد صدارت تو 2016ء کے آغاز میں ختم ہو رہی ہے، امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ری پبلکن پارٹی کی اکثریت ہے مگر بھارت، امریکہ تعلقات کی موجودہ سمت پر اثر نہ پڑنے کی وجہ یہ ہے کہ ری پبلکن پارٹی کا ایک بڑا مؤثر حصہ چین کا سخت مخالف ہے لہٰذا چین کے مقابلے میں بھارت سے تعاون و حمایت کی پالیسی جاری رہنے کا امکان ہے۔ پاکستان کو افغانستان کی دو جنگوں میں الجھا کر معیشت اور معاشرت کی جن تباہ کاریوں کا نشانہ بنا دیا گیا ہے، اس سے باہر آنے میں ایک طویل عرصہ درکار ہے جبکہ بھارت دہشت گردی کے خلاف ایک بھی گولی چلائے بغیر 12؍سال کے عرصے میں اپنی معیشت اور دفاع کو مضبوط کرتے ہوئے کافی آگے نکل گیا ہے۔ ہمارے حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کا شکریہ۔ اب ذرا یہ جائزہ بھی لیا جائے کہ امریکی صدر اوباما پاکستان کی ’’دال اور قیمے‘‘ کی پیشکش کو نظرانداز کر کے اپنے صدارتی دور کے آخری سال میں کس دھوم دھام کے ساتھ کن مقاصد کے لئے بھارت آ رہے ہیں اور بھارت کے ساتھ امریکی تعلقات کو کس بلندی پر لے جانا چاہتے ہیں، جس بھارت نے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورموں پر گزشتہ سالوں میں 80% سے زائد شرح کے ساتھ امریکہ کے مؤقف کے خلاف ووٹ ڈالے ہیں۔

بعض اطلاعات کے مطابق (ابھی اس بات کی تصدیق امریکی ذرائع سے ہونا باقی ہے) امریکہ نے پاکستان پر واضح کر دیا ہے کہ اگر صدر اوباما کے دورۂ بھارت کے دوران کوئی ’’کراس بارڈر‘‘ دہشت گردی کی کوشش یا واقعہ ہوا تو اس کے نتائج برے ہوں گے۔ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو پھر بھارت کی نیت اور خواہش دونوں ہی ٹھیک نہیں۔ خدا کرے صدر اوباما کا دورۂ بھارت امن و سکون کے ساتھ اختتام پذیر ہو۔ بھارتی دارالحکومت میں ’’راج پلاٹ‘‘ کا علاقہ یعنی ایوان صدر، ایوان وزیراعظم اور دیگر اہم سرکاری عمارات کے اردگرد کے علاقوں میں مثالی سیکورٹی کے سات حصار قائم کئے گئے ہیں۔ بھارتی سیکورٹی ایجنسیوں کے انتظامات کے ساتھ ساتھ امریکی سیکرٹ سروس اور دیگر امریکی ایجنسیوں کے 1600 افراد بھی صدر اوباما کی حفاظت کے فرائض انجام دیں گے۔ دہلی پولیس کی 80 ہزار پر مشتمل نفری اور دیگر صوبوں سے مزید 20 ہزار پولیس نفری بھی حاصل کر کے ایک لاکھ پولیس حفاظت پر مامور کر دی گئی ہے۔ اینٹی ایئر کرافٹ گنوں کا نظام بھی نصب کر دیا گیا ہے جبکہ صدر اوباما کی بلٹ پروف لیموزین بھی دہلی پہنچ چکی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ صدر اوباما اس لیموزین میں سوار ہو کر بھارت کے ری پبلک ڈے کی تقاریب میں آئیں گے۔ امریکی سیکرٹ سروس کوئی رسک مول نہیں لے گی۔ جس ہوٹل میں صدر اوباما قیام کریں گے وہ ہوٹل ابھی سے مکمل طور پر امریکی سیکرٹ سروس کے کنٹرول میں ہے۔ صدر اوباما کے دورۂ بھارت کے باعث بھارت، امریکہ تعلقات میں جو تیز رفتار عملی تبدیلی آئے گی اس میں بھارت میں امریکی اشتراک و تعاون سے ڈرون طیاروں کی مینوفیکچرنگ، جدید ہتھیاروں کی تیاری، صنعتی اور معاشی تعاون، دفاعی ساز و سامان، ثقافتی تعاون کے ساتھ ساتھ سول نیوکلیئر پلانٹس کی تعمیر کے لئے سرمایہ کاری کے بڑے بڑے منصوبے شامل ہیں جن کے عمل پذیر ہونے پر بھارت کو ایک نئی حیثیت، نئی قوت اور حاصل ہوجائے گی۔

ہم تو صدر اوباما کو ان کے پسندیدہ ’’دال اور قیمے‘‘ کی پرکشش پیشکش کے ساتھ دورۂ پاکستان کے منتظر رہ کر خودفریبی کا شکار ہیں اور ہمارے پڑوسی ملک نے خاموشی سے بھارت، امریکہ تعاون اور اسٹرٹیجی کی وہ راہ تلاش کر لی ہے جو مشرق وسطیٰ کے تیل اور دیگر وسائل تک بھارت کو دسترس فراہم کر دے گی۔ یہ سب کچھ منطقی انجام ہے، ہماری حکومتوں کی غلط اور ناعاقبت اندیش پالیسیوں کا۔ ’’دال اور قیمے‘‘ کی پرکشش پیشکش پندرہ ماہ بعد بھی صدر اوباما کو پاکستان نہ لا سکی لیکن ’’ناپسندیدہ‘‘ نریندر مودی وزیراعظم بنتے ہی آٹھ ماہ میں صدر اوباما کو دہلی کھینچ لایا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.