ایشیا کے قلب میں اتحاد کی دھڑکن!

جنرل مرزا اسلم بیگ
جنرل مرزا اسلم بیگ
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

افغانستان میں تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے حالات سے امید کی کرن نظر آتی ہے کہ اب قابض فوجیں نکل چکی ہیں اور وہاں ماضی میں کی جانے والی 1990ء کی طرز کی سازشوں کا اعادہ ممکن نہیں ہے۔ افغانوں کے مستقبل کا تعین کرنے کے لیے نئے ابھرنے والے عوامل کا تجزیہ کرتے وقت ماضی میں کی جانیوالی سازشوں کو ذہن میں رکھنا لازم ہے جو سوویٹ یونین کی پسپائی کے بعد پر امن انتقال اقتدار کی راہ میں حائل ہوئی تھیں اور نتیجے میں افغانستان خانہ جنگی کا شکار ہوا تھا۔ طالبان سے تو جان چھڑا لی گئی لیکن افغانستان قابض فوجوں کے نرغے میں چلا گیا۔قابض فوجوں کی تیرہ سالہ ظالمانہ جنگ اب اپنے اختتام کو پہنچی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ سازشیں بھی دم توڑ چکی ہیں جو ملک میں انکی حسب منشاء حکومت سازی کی راہ میں رکاوٹ تھیں اوراب یہی امرجنگ سے تباہ حال ملک میں قیام امن کی ضمانت ہے۔حال ہی میں بیجنگ میں منعقد ہونیوالی Heart of Asia Conference بلاشبہ پرامن افغانستان کی نوید ثابت ہوگی اور بہت جلد افغانستان میں امن و استحکام کا نیا دور شروع ہوگا جس کا اظہار ان اہم عوامل سے بخوبی ہوتا ہے:

٭طالبان اس جنگ میں فاتح کی حیثیت سے ابھرے ہیں اور انہوں نے مقصد سے پرخلوص وابستگی اور سیاسی بصیرت سے ثابت کر دیا ہے کہ وہ قوم کو ان کی حقیقی منزل تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ صدر اشرف غنی کی زیر قیادت قائم ہونے والی نئی حکومت سے مذاکرات کرنے کیلئے تیار ہیں جو بڑ ی خوش آئند بات ہے۔

٭ملا عمر کے وہ الفاظ افغان قوم کی لگن کی صحیح ترجمانی اور منزل کا تعین کرتے ہیں‘ جو میں نے متعدد بار اپنے مضامین میں دوہرائے ہیں کہ ’’جب قابض فوجیں یہاں سے نکل جائیں گی تو ہم آزاد فضا میں ایسے فیصلے کریں گے جو پوری قوم کیلئے قابل قبول ہوں گے۔ ہم دشمنوں کی چالوں میں نہیں آئیں گے‘ جنہوں نے ماضی میں ہمارے قومی اتحاد کو پارہ پارہ کیا۔‘‘

٭پیرس کے Foundation for Strategic Research نامی ادارے کے زیر اہتمام دسمبر 2012ء میں انٹرا افغان ڈائیلاگ (Intra-Afghan Dialogue) منعقد ہوئے تھے جن میں طالبانٍ ‘شمالی اتحاد اور صدر کرزئی کے نمائندوں نے شرکت کی تھی۔ اس میٹنگ میں ملا عمر کے عزم کی تائید کی گئی اور 2015ء تک قیام امن کاروڈ میپ بھی تیار کیا گیا ہے‘ جس میں امریکہ کی منظوری سے پاکستان کیلئے بھی ایک کردار معین کیا گیا ہے۔ اس میٹنگ میں اس عزم کا بھی اعادہ کیا گیا ہے کہ : ’’ہم متحد رہتے ہوئے وسیع البنیاد حکومت کے قیام اور افغانستان میں قیام امن کی کوششیں کرتے رہیں گے۔‘‘حالیہ اقدامات انہیں کوششوں کا سلسلہ ہیں۔

٭صدر اشرف غنی کی زیر قیادت قائم ہونے والی نئی افغان حکومت نے ایسے تمام مثبت اقدامات اٹھائے ہیں جن سے پیرس میںمنعقد ہونیوالی میٹنگ کے دوران کئے گئے فیصلوںکی تائیدہوتی ہے۔ یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔

٭افغانستان کے صدر جناب اشرف غنی نے واضح کر دیا ہے کہ افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ منفرد انداز سے کیا جائیگاجس میں اپنے چھ قریبی ہمسایہ ممالک ‘ پاکستان‘ ایران‘ چین‘ روس اور وسطی ایشیائی ممالک سے بہت ہی قریبی رابطہ رکھا جائیگا۔ انہوں نے دیگر تمام ممالک سے اپنے اقدامات کی تائید کی توقع ہے۔

٭ایک عرصہ بعد پاکستان اور افغانستان کے نظریاتی اور تہذیبی روابط مزید مضبوط ہو رہے ہیں جس سے بیرونی طاقتوں کی جانب سے دونوں برادر ممالک کے باہمی معاملات میں مداخلت کے امکانات ختم ہوں گے۔

٭حالات کے ستم سے مجبور امریکہ نے اپنا تذویراتی مرکز ایشیاء پیسیفک کی جانب منتقل کر دیا ہے‘ اب ایسا لگتا ہے کہ افغانستان میں رونما ہونیوالی تبدیلیوںکے سبب ‘صدر اشرف غنی کے پاکستان سے قریبی تعلقات استوار کرنے کے اقدامات اور’’ایشیاء کے قلب میں اتحاد قائم کرنے کے نظریے ‘‘کے پیش نظرامریکہ نے حالا ت سے سمجھوتہ کرنے کی راہ اختیار کر لی ہے‘ جبکہ بھارت کو ایشیائی بحرالکاہل کے اتحاد میں چین کیخلاف اہم شراکت دار کا کردار سونپا گیا ہے‘ جیسا کہ مشرق وسطی میں اسرائیل کو حاصل ہے۔

یہ بڑے مثبت اشارے ہیں جو افغانستان کے پرامن مستقبل کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں امن و استحکام قائم ہونے کے اثرات پاکستان تک بھی پہنچیں گے اور بھارت اور اتحادیوں کی سازشوں سے حکومتی سرپرستی میں افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں جاری دہشتگردی کا سلسلہ بھی ختم ہوگا۔

اس طرح امریکہ کا بھارت کو کابل سے ڈھاکہ تک علاقائی موثر طاقت بنانے کا خواب بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا اور افغانستان کے قریبی چھ ممالک کے درمیان علاقائی امن قائم ہونے کے سبب ایشیا کے قلب میں طاقت کا توازن بھی قائم ہو گا جو عالمی امن کیلئے بھی اشد ضروری ہے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کے اہداف ایک نئے انداز سے متعین کیے جارہے ہیں جو کسی اعتبار سے معذرت خواہانہ نہیں ہیں۔جنرل راحیل شریف کا کابل جاکر بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف 2005ء سے جاری سازشی نیٹ ورک کو بند کرانے اور پاکستانی دہشت گردوں کی افغان سرزمین سے جاری دہشت گردی کی کاروائیوں کو ختم کرانے کی درخواست کرنا اہمیت کا حامل ہے۔ اسی طرح جنرل راحیل نے برطانیہ جاکر حکومت کو بتایا کہ ’’ یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ ان کی سرزمین سے’ لندن پلان ‘ کی صدا بلند ہوئی ہے ۔‘‘

ہمارے پاس اس امر کے ٹھوس ثبوت ہیں کہ پاکستان دشمن عناصر کو وہاں نہ صرف ٹھکانے دیے جاتے ہیں بلکہ ان کو سرمایہ بھی فراہم کیا جاتا ہے اور اس سلسلے کو اب ختم ہونا چاہیے۔ اس سے قبل انہوں نے دو ہفتے کاامریکہ کا بھی دورہ کیا اور اس دوران انہوں نے امریکی اکابرین کو ایشیا کے قلب میں ابھرنے والے نئے حقائق سے آگاہ کرنے کے علاوہ پاکستان کی سلامتی کے حوالے سے خدشات و اہداف سے بھی آگاہ کیا اور سمجھایا‘ یہاں تک کہ وہ سمجھ گئے اورجب جان کیری پاکستان کے دورے پرآئے تو امریکی سوچ میں رونما ہونے والی تبدیلی بآسانی دیکھی جا سکتی تھی۔ امریکہ کی اپنی کوئی خارجہ پالیسی نہیں ہے۔ مسئلہ کشمیر پر ان کی خارجہ پالیسی کے اقدامات مکمل طور پر بھارت نواز تھے جبکہ انہوں نے پاکستان سے ’’ڈو مور‘‘ کا پرانا مطالبہ دہراتے ہوئے حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کے خلاف کارروائی پر بھی زور دیا۔یوں لگتا ہے کہ امریکیوں کی نظر میں شایدہم ابھی تک افغانستان کیخلاف جنگ میں شامل ہونے کے فیصلے پر عمل پیرا ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں