شاہ عبداللہ کی وفات حسر ت آیات

اسد اللہ غالب
اسد اللہ غالب
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

رات کے آخری پہرخادم حرمین شریفین کی وفات کی خبر نے کلیجہ چیر کر رکھ دیا، مگر اس کلیجے پرآری تو دو دن پہلے چل گئی تھی جب ہمارے ایک وفاقی وزیر سید ریاض حسین پیرزادہ نے الزام تراشی کی کہ سعودی پیسہ پاکستان میں فساد کا باعث بن رہا ہے۔ اس الزام کے بعد شاہ عبداللہ کو جینے کی کیا خواہش رہ گئی ہو گی، زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب اڑھائی ارب ڈالر اسی بادشاہ نے چپ چاپ سے ریاض حسین پیرزادہ کے وزیر اعظم نواز شریف کی ہتھیلی پر رکھ دیئے تھے، کس اکاﺅنٹ میں ، کس کام کے لئے، یہ راز شاہ عبداللہ اپنے ساتھ لے گئے یا وزیر اعظم جانتے ہوں گے یا اس راز کو سید ریاض حسین پیرزادہ نے فاش کیا ہے۔ شورش کاشمیری نے ایک شہرہ آفاق کتاب لکھی تھی، وہ بازار میں موجود ہوتی تو میں پتہ چلاتا کہ کیا اس عظیم قلم کار نے سید ریاض حسین پیرزادہ کا تذکرہ اس میں شامل کیا ہے یا نہیں، مجھے کبھی وقت ملا تو میں ضرور یہ تذکرہ عام کروں گا۔ انسان ایسا ویسا ہو تو بیان بھی ایسا ویسا ہی دیتا ہے، اس بیان نے پاکستان کو منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا، ہم نے ہمیشہ سعودی عرب کا کھایا اور ہمیشہ اسی کی تھالی میں چھید کرنے کی کوشش کی۔

شاہ عبداللہ ایک فرد کا نام نہیں ایک خانوادے کا نام ہے، حرمین شریفین کی خدمت کا شرف حاصل کرنے والا یہ خاندان ہے تو سعودی عرب کا حاکم مگر اسے پوری مسلم دنیا کی فکر لگی رہتی ہے، ریاض حسین پیر زادہ کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں ہو گی کہ جب بوسنیا کے مسلمانوں پر جینا حرام کر دیا گیا تھا اور جب سربیا کے درندے ان مظلوموں کی تکا بوٹی کر رہے تھے اور فورتھ آرمی کے بکتر بند ڈویژن نے آخری یلغار کر دی تھی تو سعودی عرب سے پرواز کرنے والے دیو ہیکل مال بردار سی ون تھرٹی جہازوں میں کھانے پینے اور پھلوں کی ٹوکریوں میں در حقیقت کیا کچھ بند کر کے بوسنیائی مسلمانوں کو بھجوایا جا رہا تھا، کسی وقت ریاض حسین پیرزادہ ہوش و حواس میں ہوں تو میں انہیں اسٹٹنگر میزائلوں کی وہ لازوال اور باکمال کہانی سناﺅں گا جنہوں نے بوسنیائی درندوں کے ٹینکوں کا بھرکس نکال کر رکھ دیا تھا۔ اس سعودی عرب کے پیسے کے اس طرح کے جرائم کی تفصیلات بے اندازہ ہیں۔

مگر مجھے اس عشق کا ذکر کرنا ہے جو سعودی خاندان کو حرم مکہ اور حرم نبوی سے ہے، اس عشق کو بیان کرنے کی حاجت اس لئے نہیں کہ یہ ہر آنکھ کو نظر آ رہا ہے، آج حرم مکہ اور حرم نبوی کی وہ حالت نہیں جو آج سے پچاس ساٹھ برس قبل تھی، آج کشادگی ہے، فراخی ہے، روشنی ہے، وسعت ہے، چاہت ہے جو ہر زائر کے دل ودماغ کو اپنی لپیٹ میں اور اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔

سعودی پیسے کا ایک فساد یہ بھی ہے کہ اس ملک نے پیش کش کی کہ وہ بالا کوٹ کے زلزلے سے تباہ ہو جانے والے شہر کو نئے سرے سے نئے مقام پر تعمیر کرے گا، اس کے سب اخراجات برداشت کرے گا، مگر دو ہزار پانچ کے بعد سے دو ہزار پندرہ تک کسی پاکستانی حکومت یا کسی پشاوری حکومت نے نئے شہر کے لئے زمین الاٹ ہی نہیں کی۔ سعودی سفیر تڑپتے ہی رہ گئے۔

سعودی عرب کے پیسے سے کہاں کہاں گناہ سرزد نہیں ہوا، فرانس جو آج ۔۔ میں چارلی ہوں ۔۔ کے نعروں سے گونج رہا ہے اور جہاں مسجد کی تعمیر سرکاری قانون کے تحت ممنوع ہے، وہاں پیرس کے مرکز میں سعودی عرب نے مسجد بنوائی۔ یہ شاندار فن تعمیر کا نمونہ تھی، فرانس کی ایک مسجد کا کیا ذکر، لندن کی مرکزی مسجد، اٹلی کی مسجد اور کس کس ملک میں سعودی پیسے نے مسجدیں کھڑی کیں۔

اسلام آباد میں اگر کوئی خوبصورتی ہے جو نظروں میں ایک دم کھب جاتی ہے تو وہ شاہ فیصل مسجد کی ہے، اس کے بلند وبالامیناروں کی ہے اور بادشاہی مسجد کی وہ صف آج بھی شاہ فیصل کے آنسوؤں سے بھیگی ہوئی ہے جب وہ اسلامی کانفرنس میں شرکت کے لئے لاہور تشریف لائے اور جمعہ کی ادائیگی کے لئے بادشاہی مسجد میں فرش نشین ہوئے تو کشمیر کے لئے آزادی کی دعا پروہ زارو قطار رونے لگے۔

برما میں روہنگیا کے مسلمانوں پر خدا کی زمین تنگ کر دی گئی ہے، اقوام متحدہ کی مسلسل اپیلیں بھی برمی درندوں پر اثر نہیں کرتیں اور دہشت گردی کا لیبل لگنے کے خوف سے ان روہنگی مسلمانوں کی کوئی مدد کے لئے بھی آگے نہیں بڑھتا مگر ایک سعودی عرب ہے جو سرکاری طور پر ان مظلوموں کی امداد کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
کیا سعودی پیسہ نہ ہوتا اور سعودی خاندان ہماری سرپرستی نہ کرتا تو ہم اپنا وہ ایٹم بم بنا پاتے جس پر اتراتے پھرتے ہیں اور جس نے کم از کم چار مرتبہ ہمیں بھارتی جارحیت سے محفوظ رکھنے میں مدد دی ہے۔ نجانے ہم محسن کش قوم کیوں ہیں۔ پچھلے برس سعودیہ نے اڑھائی ارب ڈالر دان کئے تو کونسی گالی تھی جو ہم نے اس محسن ملک کو نہیں دی، یہاں تک کہا گیا کہ ہماری فوج کو کرائے کی فوج سمجھ لیا گیا ہے اور اس اڑھائی ارب کے عوض اسے سعودی عرب، کویت وغیرہ میں قربان کرنے کے لئے بھیجا جائے گا۔

یہ نکتہ چین اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے جب تک دفتر خارجہ سے واضح اعلان نہیں کروا لیا گیا کہ پاک فوج اپنی سرحدوں سے باہر لڑنے کے لئے کسی صورت نہیں بھیجی جائے گی۔ اور ساتھ ہی ہم اڑھائی ارب ڈالر بھی ہڑپ کر گئے۔ سعودی عرب سے بے وفائی کی یہ پہلی کہانی نہیں، اس کا ابتدائی شو اس وقت ہوا جب صدام حسین کا عفریت پھنکار رہا تھا، سعودی عرب نے اپنے دفاع کے لئے ہماری مدد مانگی ، ہم نے تھوڑے سے فوجی دستے بھیجے ا ور اسلم بیگ صاحب نے طمطراق سے کہا کہ کہ انہیں عراق کے بارڈر پر نہیں بلکہ دور کسی ا ور سرحد پر متعین کیا گیا ہے، یہ وہ مقام تھا جہاں سے سعودی عرب کو کوئی خطرہ درپیش نہیں تھا۔

میں کسی اور ملک کا نام نہیں لیتا، پاکستان میں کبھی سیلاب آیا، زلزلہ آیا، قحط کی صورت حال در پیش ہوئی یا ایٹمی دھماکے کے بعد پاکستان پر عالمی پابندیاں لگیں تو یہ سعودی عرب تھاجس نے بے اختیار ہو کر ہماری پشت پناہی کی، ہمیں پیسہ بھی دیا اور تیل کی سپلائی بھی برقرار رکھی، یہ بلا قیمت تھی۔اس گلوکوز نے ہماری معیشت کو ڈوبنے سے بچایا۔

آج شاہ عبداللہ کی وفات نہیں ہوئی، یہ ہمارے محسن کی موت ہے، ہمارے سروں سے سایہ اٹھ گیا ہے، شاہ عبداللہ پاکستان کا فریفتہ تھا، کوالالم پور کی اسلامی کانفرنس کے بعد وہ سیدھا اسلام آباد آیا اور ایئر پورٹ پر پاکستان زندہ باد کے نعرے بلند کرنے لگا، آیئے خدا کے حضور دعا کریں کہ وہ مرحوم کے درجات بلند کرے اور ان کے جانشین شاہ سلمان بن عبدالعزیزکو حرمین شریفین اور ملت اسلامیہ کی خدمت میں پیش پیش رکھے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں