برصغیر کا مذہبی منظر نامہ اور دہشت گردی کی لہر

عدنان رندھاوا
عدنان رندھاوا
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

دہشت گردی کی حالیہ لہر کی وجوہات جاننے کیلئے برصغیر کے تاریخی منظر نامے پر نظر دوڑانا ضروری ہے۔ برصغیر نے بہت سے مذاہب کو جنم دیا، جن میں چند ایک کو دنیا کے بڑے مذاہب کا درجہ بھی حاصل رہا ہے۔ ہندو مت ایک بڑا مذہب ہے لیکن اس کا زیادہ تر پھیلائو برصغیر اورجنوبی ایشیا ء کے خطے تک محدود رہا ہے لیکن بدھ مت کا پھیلائو جنوبی ایشیاء کے ساتھ ساتھ چین، جاپان، کوریا جیسے ممالک تک بھی گیا ہے۔ جب برصغیر میں اسلام پھیلنا شروع ہوا تو آہستہ آہستہ اسلام برصغیر کے بڑے مذاہب میں سے ایک مذہب کے طور پر ابھرا۔ تبدیلی مذہب کی وجوہات کے بارے میں متضاد آراء ہیں لیکن اس سے قطع نظر یہ بات تو طے ہے کہ لاکھوں لوگ تبدیلی مذہب کے عمل سے گزرے۔ اس وجہ سے سب سے بڑے مذاہب ہندومت اور اسلام کے ماننے والوں، خصوصا مذہبی رہنمائوں کے درمیان ایک تفاوت کی فضا کا قائم ہونا قدرتی بات تھی۔ انگریزوں نے وسیع و عریض برصغیر کو انتظامی اور سیاسی لحاظ سے کنٹرول کرنے کیلئے مذہبی تقسیم کا فائدہ اُٹھایااوران کے زیر سایہ نسبتاً سازگار ماحول کی وجہ سے ہندو مذہب کے احیاء کیلئے کوششوں میں تحرک پیدا ہوا۔ برہمو سماج، آریا سماج، کل ہند مہاسبھا، راشٹریہ سیوک سنگھ، وشوا ہندو پریشد، جیسی تنظیمیں اور شدھی اور سنگھٹن جیسی تحریکیں اسی کا نتیجہ تھیں۔ ان تحریکوں کا ایک قدرتی نتیجہ اسلام مخالف جذبات کا پیدا ہونا بھی تھا۔ پھر انگریزوں کا جھکائو بھی ہندوئوں کی طرف تھا، کیونکہ انہوں نے مسلمان حکمرانوں سے اقتدار چھینا تھااور انہیں زیادہ تر مزاحمت کا سامنا بھی مسلمانوں کی طرف سے کرنا پڑا تھا۔

دوسری طرف مسلمان مذہبی رہنمائوں نے بھی اپنی عظمتِ رفتہ کی بحالی کیلئے احیائے مذہب کی تحریکوں کا آغاز کیا۔ جن کے زیراثرفرائضی تحریک، اور خاکسار کے علاوہ دارلعلوم دیوبند، ندوۃالعلماء، انجمن حمایت اسلام جیسے ادارے وجود میں آئے۔ ان اصلاحی تحریکوں میں مذہب کے ساتھ ساتھ سیاست کا عنصر بھی شامل تھا۔ کسی حد تک ان تحریکوں میں مقاصد کے حصول کیلئے طاقت کا استعمال اور کچھ صورتوں میں اس کا پرچار بھی شامل ہو گیا۔

ان دو دھاروں کے ساتھ ساتھ برصغیر میں ایک تیسرا دھارا معتدل ،لبرل اور سیکولر لوگوں کا بھی پیدا ہو رہا تھا، یہ وہ طبقہ تھا جس نے مغرب میں پروان چڑھنے والے علمی اور عقلی انقلاب کا مشاہدہ، مطالعہ یا تجزیہ کیا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ جدید علوم کی روشنی میں نجات کا راستہ مذہبی تحریکیں نہیں ہیں۔ مذہب ایک شخصی معاملہ ہونا چاہئے اوراجتماعی زندگی میں رواداری کو فروغ دیا جانا چاہئے اور سیاست کو مذہب سے علیحدہ رکھا جائے۔ اس سوچ کے حامل ہندو رہنمائوں نے کانگریس کے ذریعے سیکولر سیاسی جدوجہد کو بہتر مستقبل کی ضمانت جانا جبکہ مسلمان رہنمائوں نے آل انڈیا مسلم لیگ، یونینسٹ پارٹی جیسی سیاسی جماعتوں کی نیم سیکولر سیاسی جدوجہد کے ذریعے سہانے مستقبل کے سپنے سجانے شروع کر دیئے۔ کانگریس کو ہندو مذہبی رہنمائوں اور آل انڈیا مسلم لیگ کو مسلمان مذہبی رہنمائوں کی طرف سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ ہے وہ منظر نامہ جس میں پاکستان وجود میں آیا۔ پاکستانی معاشرہ اور ریاست دونوں اپنے وجود میں آنے سے لیکر اب تک مذہبی حوالے سے انتشار کا شکار ہے۔ اقلیتی سوچ کا حامل ایک خاص قسم کا مذہبی طبقہ پاکستان کے موجودہ مذہبی حالات سے مطمئن نہیں ہے، وہ پاکستان میں انقلاب کے ذریعے ایک ایسی ریاست قائم کرنا چاہتا ہے جس میں ریاستی بندوبست بلا شرکت غیرے اس مخصوص مذہبی طبقے کے ہاتھ میں ہو ان میں سے ایک حلقہ جمہوری سیاست کے ذریعے اس مقصد کا حصول چاہتا ہے اور سیاسی جماعتوں کے ذریعے موجود نظام میں متحرک ہے، جبکہ دوسرا حلقہ زیر زمین سرگرمیوں کے ذریعے اس انقلاب کی تیاری میں مصروف ہے۔ یہ حلقہ سینکڑوں چھوٹی بڑی تنظیموں میں بٹا ہوا ہے جن میں سے کچھ ذہن سازی میں مصروف ہیں، کچھ کی بنیادی حکمت عملی مسلح جدوجہد ہے۔ یوں مخصوص مذہبی سیاسی جماعتیں ہوں، کالعدم تنظیمیں ہوں یا ذرائع ابلاغ اور بیرونی ممالک میں ان کے ہمدرد ہوں یہ سارے ایک ہی مقصد کیلئے سرگرم ہیں۔

دوسری طرف پاکستان کا عام آدمی، متوسط طبقہ اور اشرافیہ کی ایک بڑی غالب اکثریت ایسی ہے جو مذہب سے لگائو بھی رکھتی ہے اور دنیاوی معاملات میں مذہب سمیت دیگر تمام مظاہر کو ملحوظ رکھتے ہیں۔ عمومی طور پر یہ موجودہ پارلیمانی جمہوری نظام، بنیادی انسانی حقوق اوردنیا بھر میں رائج لبرل تصورات کو پسند کرتے ہیں، انہیں مذہب سے اپنے لگائو سے متصادم بھی خیال نہیں کرتے۔ افسر شاہی، عدلیہ اور فوج سمیت اشرافیہ کا ایک بڑا حصہ ریاست کے سیکولر یا نیم سیکولرتصور کو بہتر خیال کرتا ہے۔ پاکستان کو بنانے اور اس کا انتظام چلانے والے افراد اکثر اسی فکر سے تعلق رکھنے والے رہے ہیں۔

پاکستان کےمستقبل کو بہتر بنانے کے لئے رواداری، اعتدال پسندی، اجتہاد، آزادانہ تحقیق کے کلچر آزادی، مذہب کی اخلاقی تعلیمات پر زور،مذہب اور سیاست کا کم سے کم تعلق، تمام مذاہب، فرقوں اور مکاتب فکر کے ساتھ برابری کا سلوک جیسے اقدامات پر عمل کرنا بہت ضروری ہے۔ جس کے لئے ریاست اور معاشرے کوبنیاد پرستی اور انتہا پرستی کی سوچ کا راستہ روکنا ہو گا جو طاقت کے زور پر مذہبی آمریت قائم کرنے کیلئے کوشاں ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں