.

نیا برمودا مثلث یا چین کیخلاف موسمی تغیراتی جنگ؟

نصرت مرزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

2005ء کے زلزلہ کو قدرتی آفات سمجھا گیا تھا مگر 2010ء میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے اور جاپان میں 2011ء میں زلزلہ اور سونامی کے بعد دُنیا کے اکثر صاحبِ علم لوگوں کو شبہ ہوا کہ وہ مصنوعی ہوسکتے ہیں، میں نے اپنے کالموں میں اس کا ذکر کیا تو ایمری نامی ایک مشہور تھنک ٹینک نے میرے اُردو مضمون کا ترجمہ کرکے اپنے ساتھ منسلک کیا اور اس کا خوب پرچار کیا گیا ، مجھے ایمری کے بارے میں پتہ تک نہ تھا، میں نے سوال اٹھایا تھا کہ ایسا کیوں ہے کہ جب بھی X37B خلائی جہاز خلاء میں بھیجا گیا، دُنیا کسی نہ کسی قدرتی نما تباہی سے دوچار ہوجاتی ہے، اِس خلائی جہاز کی عمر صرف 9 ماہ ہے، اِس عرصے تک وہ کارآمد ہوتا ہے، اس وقت دُنیا میں یہ سوال زیربحث ہے کہ بحرجنوبی چین میں امریکہ کیا کررہا ہے کہ اب تک ملائیشین ایئرلائن کے دو جہاز اِس سمندر میں گر چکے ہیں، ایک مسافر بردار ہوائی جہاز8 مارچ 2014ء کو اِس سمندر میں گرا تھا۔

تاہم دوسرا جہاز جو 28 دسمبر 2014ء کو غائب ہوا اس کا ملبہ مل گیا ہے۔ ملبہ نہ ملنے سے پہلے اکثر لوگ اِس کو دوسرا برمودا مثلث کہنے لگے تھے مگر جہاز کے ملنے کے بعد یہ تصور تو اب ختم ہوگیا۔ 8 مارچ 2014ء کو ملائیشیا کے طیارے کی تباہی کے بعد یوکرائن میں 17 جولائی 2014ء کو ملائیشیا کا ہی ایک جہاز مار گرایا گیا۔ اس سلسلے میں دو باتیں اہم ہیں ایک تو جو طیارہ 8 مارچ 2014ء کو تباہ ہوا اس پر اکثر تحقیق کرنیوالے صحافیوں کا کہنا ہے کہ امریکہ وہاں کچھ کررہا ہے اور اب یہ کہا جارہا ہے کہ کیونکہ وہاں وہ کچھ کررہا ہے تو پھر جہاز کو اپنی طرف آتا دیکھ کر اُس کو گرا دیا گیا اورجس طرف اس کا ملبہ گرا اُس کے مخالف سمت پر امریکہ نے اُس کے ملبے کو تلاش کرنے کے لئے اپنی اور عالمی ٹیموں کو لگادیا اور یوکرائن میں اس لئے گرایا گیا تاکہ یہ نہ سمجھا جائے کہ امریکہ نے 8 مارچ کو طیارہ گرایا تھا بلکہ طیارہ گرنا معمول کی بات ہے یا کہ روس نے بھی مار گرایا، بعد میں اِس کی تصدیق ہو گئی کہ روس اِس عمل میں شامل نہیں اور اس طیارے کو گرانے میں یا تو یوکرائن کے علیحدگی پسند شامل ہیں یا خود یوکرائنی حکومت، روس کا اصرار اس بات پر ہے کہ یہ یوکرائنی حکومت کا کام ہے کہ اس علاقے میں تجربات کر رہی تھی جبکہ امریکی کہتے ہیں کہ روس نواز باغیوں نے یہ جہاز گرایا۔

تیسرا جہاز 28 دسمبر 2014ء کو گرایا۔ یہ انڈونیشیا کے استعمال میں تھا مگر وہ تھا ملائیشین طیارہ۔ دوسرا سوال یہ اٹھا کہ ملائیشین طیارے ہی کیوں نشانہ بن رہے ہیں۔ اس کا اسٹرٹیجک پہلو تو یہ ہوسکتا ہے کہ امریکہ چین کے خلاف جو محاذ بنارہا ہے اس میں ملائیشیا اس کے ساتھ نہیں ہے، وہ چین سے جڑ گیا ہے، جب امریکہ اور جاپان سنگاپور میں شنگریلا کانفرنس کررہے تھے تو ملائیشین حکام چین کا دورہ کر رہے تھے۔ دوسرے یہ کہ ملائیشیا کی معیشت ترقی یافتہ بن چکی ہے وہ ہدف ہوسکتا ہے، وہاں چینی نسل لوگ کافی بڑی تعداد میں رہتے ہیں اور امریکہ چین کے خلاف محاذ آرائی کر رہا ہے، اس لئے ہوسکتا ہے اس کے دوستوں کو بھی کمزور کر رہا ہو۔ سوال یہ بھی ہے کہ پھر پاکستان کو زلزلہ اور سیلاب کے عمل سے کیوں گزارا گیا ہے، پھر گیاری سیکٹر کا واقعہ ہوا، اِس سارے عمل کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ مانا جا رہا ہے۔ 2010ء میں تو X37B خلائی جہاز فضاء میں تھا، 2005ء کا علم نہیں، اس وقت وہ کہاں تھا اور یا امریکہ زمینی پلیٹوں میں انرجی ڈالنے کا کام کسی اور طریقہ سے کرتا ہے، اس کا بھی پتہ نہیں، البتہ یہ بات یقین سے کہی جاتی ہے کہ امریکہ کے پاس ہارپ نامی ٹیکنالوجی موجود ہے، وہ پٹنٹ شدہ ہے، اس کا نمبر 4,686,605 ہے، جس سے زلزلہ، سیلاب اور سونامی لایا جا سکتا ہے اور جاپان میں سونامی لانے کی دھمکی امریکہ دے چکا تھا۔

یہ سوال بھی ہے کہ پاکستان کو کیوں نشانہ بنایا گیا، اِس کی اصل وجہ تو معلوم نہیں۔ پہلے اندازہ یہ تھا کہ شاید وہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کو پہاڑوں میں ڈھونڈھ رہے تھے اور بعد میں میدانی علاقوں میں یا پھر یہ کہ ہمارے اور چین کے درمیان کافی قربت ہے، اس لئے ہمیں تنبیہ کرنا چاہتے ہوں، اس لئے ہم اِس نتیجے پر تو فی الحال پہنچ سکتے ہیں کہ امریکہ چین کے خلاف زیادہ گہری منصوبہ بندی کر رہا ہے، عین ممکن ہے کہ وہ ایٹمی جنگ کی بجائے موسمی تغیراتی جنگ کے ذریعہ چین پر حملے کا منصوبہ بنا رہا ہو اور اس کے لئے بحرہند اور بحر جنوبی چین میں کئی اڈے تعمیر کررہا ہو، جہاں مشنری و آلات نصب کئے جاچکے ہیں۔ یاد رہے کہ 26 دسمبر 2004ء کو انڈونیشیا کے جزیرے سماٹرا میں پہلا سونامی آیا تھا جس میں کوئی ڈھائی لاکھ افراد لقمۂ اجل بن گئے تھے۔ گمان یہ ہے کہ اِس وقت کوئی حادثہ ہو یا تجربہ کیا گیا ہو جس نے یہ تباہی پھیلائی تھی۔ مارچ 2011ء کے سونامی پر میں نے جو مضمون لکھا تھا، اس پر امریکہ نے تردید نہیں کی بلکہ اُس کو دُنیا بھر میں اپنا رعب و دبدبہ کا سکہ جمانے کے لئے پھیلایا۔

ساری دُنیا کو اِس بات کی فکر ہونا چاہئے کہ کیا امریکہ انسانیت کو تباہ کرنے کے درپے ہے، وہ ایسے تجربات کر رہا ہے جس میں ایک غلطی بھی پوری انسانیت کو ختم کر سکتی ہے، 1970ء میں ہارپ کی ٹیکنالوجی کے حصول کے بعد امریکہ کا تکبر حد سے بڑھ گیا تھا۔ ڈاکٹر نک بیپگچ اور جین میننگ نے اپنی کتاب Angles don't play this HAARP، میں صدر کارٹر دور کے امریکی سلامتی امور کے مشیر سے یہ بات منسوب کی ہے کہ یورپ سے امریکہ سے لے جائے گئے، ’’عالمی طاقت کے مرکز‘‘ کو امریکہ ہر قیمت پر اپنے پاس رکھے گا چاہے اس کے لئے اسے جنگ کرنا پڑے یا سازشیں یا حکومتیں تبدیل کرنا پڑیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دُنیا میں زیادہ قابو شدہ اور کسی ایک رُخ پر چلنے والی سوسائٹی بتدریج معرضِ وجود میں لے آئی جائے گی۔ ایسی سوسائٹی کو وجود میں لانے کےلئے ٹیکنالوجی کا استعمال ضروری ہوگا۔ یہ سوسائٹی زیادہ سائنسی علم رکھنے والی اشرافیہ کے ایک گروپ کے ماتحت جنم لے گی۔

روایتی آزادی کے علمبرداروں سے صرفِ نظر کرکے اشرافیہ اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے ٹیکنالوجی کے استعمال سے گریز نہیں کرے گی، جس سے انسانوں کے عادات، انداز قابو میں رہیں اور وہ سوسائٹی مکمل نظروں میں رہے گی۔ اس سائنسی اشرافیہ کو یہ حق حاصل ہوگا کہ دُنیا کو اپنی طرز پر چلائے اور اپنی مرضی کے مطابق ڈھالے۔ اگر یہ کوشش ہورہی ہے تو چین اور روس کو اس پر خاص توجہ دینا چاہئے۔ صورتِحال کو مکمل طور پر امریکہ کے حق میں جانے سے پہلے اس کا سدباب کرنا چاہئے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ یہ معلوم ہو کہ امریکہ بحر ہند اور بحرجنوبی چین میں کیا کررہا ہے اور کیوں ایک اچھی جنگ لڑنے کی بات کررہا ہے یا صرف دھیان بٹا کر بحر ہند و بحر جنوبی چین میں اپنا کوئی خاص کام کررہا ہے جو چین کو مصنوعی قدرتی آفت کا نام لے کر تباہی کے عمل سے گزارے اور ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی اس تباہی سے دوچار کرے، اب تک ڈھائی لاکھ انسان سماٹرا کے سونامی میں، 26 ہزار جاپان کے سونامی میں پاکستان میں 2005ء کے زلزلہ میں ایک لاکھ کے قریب افراد اور ان طیاروں کے حادثوں میں 400 کے قریب لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ معلوم نہیں امریکہ کو اس وحشت کی اجازت کب تک دی جاتی رہے گی۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.