.

کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

حامد میر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ملاّ عبدالرئوف خادم کا تعلق افغانستان کے صوبے ہلمند سے ہے۔ 2001ء میں افغانستان پر امریکی قبضے کے بعد ملاّ خادم کو گرفتار کرکے گوانتا نا موبے بھیج دیا گیا۔ کچھ سال گوانتا ناموبے میں رکھنے کے بعد امریکیوں نے ملاّ خادم کو رہا کردیا۔ وہ ہلمند واپس آگیا اور پھر سے طالبان میں شامل ہوگیا۔ حال ہی میں اس نے اپنے گائوں کج کائی میں مسلح عسکریت پسندوں کا ایک اجلاس بلایا اور پھر اس نے ایک قریبی چیک پوسٹ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جو ملاّ عمر کے حامی افغان طالبان کے کنٹرول میں تھی۔ اس کوشش میں دونوں طرف سے کئی لوگ مارے گئے۔ ملاّ خادم کے نائب حاجی میرویس نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ملاّ عمر کی اطاعت چھوڑ کر شیخ ابوبکر البغدادی کی اطاعت قبول کرلی ہے اور اب ہلمند میں طالبان کا نہیں داعش کا جھنڈا لہرائے گا۔ طالبان اور داعش میں دوسری لڑائی کج کائی کے قبرستان میں ہوئی۔

قبرستان میں بعض مرحومین کی قبروں پر ان کے ناموں کے کتبے نصب تھے یا مختلف رنگوں کے جھنڈے لہرا رہے تھے۔ داعش نے حکم دیا کہ یہ کتبے اور جھنڈے ہٹا دئیے جائیں کیونکہ یہ غیر اسلامی ہیں۔ طالبان نے اس حکم کو رد کردیا اور پھر دونوں طرف سے بندوقوں کے ذریعے بات کی گئی۔ طالبان اور داعش دونوں خلافت کے حامی ہیں ایک کا امیر المومنین ملاّ عمر اور دوسرے کا خلیفہ شیخ بغدادی ہے۔ ملاّ خادم کہتا ہے کہ ملاّ عمر زندہ ہے تو سامنے آئے بصورت دیگر شیخ بغدادی کو امیر المومنین تسلیم کر لیا جائے۔ ہلمند میں طالبان اور داعش کہیں سڑکوں اور کہیں قبرستانوں پر قبضے کے لئے آپس میں لڑرہے ہیں۔ ان کی لڑائی سے تنگ آکر مقامی لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر دوسرے علاقوں کا رخ کررہے ہیں۔ خلافت کے حامی ایک خلیفہ پر متفق ہونے سے عاری ہیں۔ خود بھی تماشہ بنے ہوئے ہیں اور باقی مسلمانوں کو بھی تماشہ بنارہے ہیں۔ دوسری طرف پیرس سے شائع ہونے والا جریدہ چارلی ہیبڈو ہے۔ یہ جریدہ بار بار مسلمانوں کے پیارے نبیؐ کی توہین پر مبنی کارٹون شائع کر رہا ہے اور اپنی گستاخیوں کو مغرب کی سیکولر اقدار کے تحفظ کی جنگ قرار دے رہا ہے۔

ان گستاخیوں کے حامی بڑے فخر سے یہ نعرہ لگارہے ہیں’’میں بھی چارلی ہوں‘‘۔ایک طرف مذہب کے نام پر انتہا پسندی ہے۔ دوسری طرف سیکولرازم کے نام پر انتہا پسندی ہے۔ ایک طرف جمہوریت کو کفر قرار دیا جارہا ہے، دوسری طرف جمہوریت کے علمبرداروں نے اپنے ممالک میں اقلیتوں کی دل آزاری کو جمہوری رویہ قرار دے ڈالا ہے۔ ہم دو انتہائوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم ایک دفعہ پھر قیام پاکستان سے قبل کے زمانے میں جاچکے ہیں جب علاقہ اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح دو انتہائوں کے درمیان پھنسے ہوئے تھے۔ ایک طرف وہ ملاّ تھے جو تحریک پاکستان کو انگریزوں کی سازش کہتے تھے اور دوسری طرف سیکولر کانگریس تھی جو پاکستان کے حامیوں کو مذہبی جنونی اور فرقہ پرست قرار دیتی تھی۔ ملاّئوں کے ایک گروہ کے بارے میں اقبال نے کہا؎

تیری نماز میں باقی جلال نہ جمال
تیری اذاں میں نہیں ہے مری سحر کا پیام
قوم کیا چیز ہے قوموں کی امامت کیا ہے
اس کو کیا سمجھیں یہ بے چارے دو رکعت کے امام

دوسری طرف سیاست کو دین سے جدا کرنے کے حامیوں کو
اقبال نے یہ کہا؎

لادیں ہو تو ہے زہر ہلا ہل سے بھی بڑھ کر
ہو دیں کی حفاظت میں تو ہر زہر کا تریاق

علاقہ اقبال کا 1930ء کا خطبہ الٰہ آباد غور سے پڑھنے کی ضرورت ہے۔ اقبال نے شرکاء سے کہا’’کیا واقعی مذہب ایک نجی معاملہ ہے؟ اور آپ بھی یہ چاہتے ہیں کہ ایک اخلاقی اور سیاسی نصب العین کی حیثیت سے اسلام کا وہی حشر ہو جو مغرب میں مسیحیت کا ہوا ہے؟‘‘۔ خطبہ سمجھ نہ آئے تو اقبال کے اشعار کو سمجھیں؎

سیاست نے مذہب سے پیچھا چھڑایا
چلی کچھ نہ پیر کلیسا کی پیری
ہوئی دین و دولت میں جس دم جدائی
ہوس کی امیری، ہوس کی وزیری

اقبال پاپائیت کے نہیں اعتدال کے حامی تھے۔ مغربی جمہویرت کے نہیں روحانی جمہوریت کے حامی تھے۔28 مئی 1937ء کو علامہ اقبال نے قائد اعظم کو ایک خط لکھا جس میں کہا کہ عام مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ روٹی ہے ۔جواہر لعل نہرو کی لادینی اشتراکیت مسلمانوں کے مسائل کا حل نہیں، خوش قسمتی سے اسلامی قانون کے نفاذ سے اس مسئلے کا حل ہوسکتا ہے۔ اقبال نے لکھا کہ اسلامی قوانین کے گہرے اور دقت نظر مطالعے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اگر اس قانون کو اچھی طرح سمجھا جائے اور اس پر عمل کیا جائے تو کم از کم ہر شخص کے لئے حق روزی محفوظ ہو جاتا ہے۔

اسی خط میں اقبال نے فرمایا کہ سوشل ڈیموکریسی کا کسی موزوں شکل میں اور شریعت کے مطابق قبول کرنا کوئی نئی بات یا انقلاب نہیں بلکہ ایسا کرنا اسلام کی اصل پاکیزگی کی طرف لوٹنا ہوگا۔ اقبال نے قائد اعظم کو جتنے بھی خطوط لکھے قائد ا عظم نے ان خطوط کو اقبال کی وفات کے بعد خود شائع کرایا۔ قیام پاکستان کے بعد سیاستدانوں کی باہمی لڑائیوں اور پھر اقتدار پر جرنیلوں کے قبضے نے پاکستان کا حلیہ بگاڑ دیا تاہم 1973ء کا آئین اقبال اور قائد اعظم کے نظریات کے بہت قریب تھا۔ اس آئین کو پہلے جنرل ضیاء الحق نے پامال کیا، آئین توڑ کر ملک میں مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دیا گیا۔ پھر اس آئین کو جنرل پرویز مشرف نے ایک بار نہیں دو بار پامال کیا اور روشن خیالی کے نام پر امریکہ کو پاکستان میں فوجی اڈے دے دئیے۔ پاکستان کی سرزمین پر فوجی اڈے بنانے والے امریکہ کا صدر اوباما جنوبی ایشیاء میں آیا تو بھارت کا مہمان بنا۔ بھارت نے آج تک امریکہ کو فوجی اڈہ نہیں دیا۔

جمہوریت اور سیکولر ازم کے علمبردار اوباما نے نریندر مودی کو گلے لگایا جسے کچھ سال پہلے امریکہ نے اپنا ویزا دینے سے انکار کردیا تھا۔ اوباما نے ایک ایسے ملک کی فوج سے سلامی لی جو آئے دن مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتی ہے۔ایک ایسا ملک جہاں حکمران جماعت مسلمانوں اور مسیحیوں کو زبردستی ہندو بننے پر مجبور کرتی ہے اور انکار کرنے والوں کو آگ میں جلا ڈالتی ہے۔ آج اومابا طالبان اور داعش کے خلاف لڑنے کا عزم تو کرتا ہے لیکن بھارت میں مسلمانوں اور مسیحیوں کو آگ میں پھینکنے والوں کے بارے میں خاموش ہے۔ اوباما اور مودی کی محبت چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ مغرب کی جمہوری اقدار اور بھارت کا سیکولر ازم محض ایک ڈھونگ ہے۔ دونوں اپنے اپنے مفادات کے لئے اپنے اصول بدل لیتے ہیں۔ ہماری نجات نہ تو طالبان اور داعش کی نام نہاد خلافت میں ہے نہ ہی اس سیکولر جمہوریت میں جسے اوباما اور مودی کی محبت نے ایک مذاق بنادیا ہے۔ ہماری نجات اعتدال میں ہے۔ یہ اعتدال ہی اسلام ہے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین مکمل طور پر نافذہوجائے تو ہمارے کئی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ یہ آئین ہمیں خود نافذ کرنا ہے کسی دوسرے نے نافذ نہیں کرنا۔ یہ آئین اسی وقت نافذ ہوگا جب ہم اس کا خود احترام کریں گے اور آئین توڑنے والوں کو عبرت کی مثال بنائیں گے۔ قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر غالب لانا ہی وقت کی اہم ضرورت ہے ؎

فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.