اوباما کیا اور بھارت کیا

عبدالقادر حسن
عبدالقادر حسن
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

ان دنوں خبروں میں اور خبروں سے زیادہ ذہنوں میں امریکی صدر اوباما کا بھارتی دورہ چھایا ہوا ہے اور خبریں ایسی ہیں کہ پاکستانی صحافت اور پاکستانی قدرے یا زیادہ پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ ہم پاکستانیوں کی بھارت کے ساتھ جتنی دشمنی پرانی ہے امریکا کے ساتھ اتنی دوستی پرانی ہے۔ قیام پاکستان کے شروع میں پاکستان کو دورے کی ایک دعوت روس سے آئی تھی اور ایک امریکا سے۔ ہم امریکا چلے گئے اور بھارتی روس پہنچ گئے۔

تب سے ہم امریکی صف میں کھڑے ہیں اور بھارت کچھ پہلے تک روسی صف میں کھڑا تھا اور اب وہ ماسکو سے بہت دور واشنگٹن میں پہنچ چکا ہے اور امریکا کو جپھیاں ڈال رہا ہے جب کہ ہم جو زندگی بھر امریکا پر جان نچھاور کرتے رہے آج اسے اپنے رقیب سے بغل گیر ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ اس ساری صورت حال میں نہ بھارت کا کوئی کمال ہے نہ امریکا کا بلکہ جو کچھ بھی ہے وہ سب ہمارا کیا دھراہے اور وہ اس طرح کہ ہم نے نہ تو پاکستان کو صحیح پاکستان بنایا نہ خود صحیح پاکستانی بن سکے۔ خبر ہے کہ ہمارے سربراہ حکومت کی اربوں کی دولت میں گزشتہ سال ساٹھ کروڑ کا اضافہ ہوا ہے جب کہ بھارت میں کسی سیاستدان کی اتنی دولت کا کوئی تصور نہیں ہے۔ ہم دولت کے پیچھے بھاگتے رہے ہیں اور بھارت اپنے ملک کے پیچھے اس طرح ہم دونوں برابر کے کامیاب رہے ہیں۔ بھارتی قومی وقار کے اثاثوں میں اضافہ کرتا رہا ہے ہم غیر ملکی بینکوں کے اثاثوں میں اضافہ کرتے رہے ہیں۔

ہم پاکستانی ایشیا کے ایک بہت ہی اہم حصے میں آباد ہیں، پہلے تو ہم نے اپنے رقیب بھارت کو دونوں طرف سے جکڑا ہوا تھا، اب سقوط ڈھاکا کے بعد ہم نے بھارت کے گرد اپنا حلقہ خود ہی توڑ دیا ہے لیکن پھر بھی بھارت کے راستے میں بیٹھے ہیں اور اسے مغرب کی طرف بہت لمبا چکر کاٹ کر جانا پڑتا ہے جس سے وہ بہت پریشان ہے اور افغانستان میں بہت سرمایہ کاری کر رہا ہے، سرمائے کی بھی اور سیاست کی بھی، امریکا نے بھی اس کی کوششوں کا اعتراف کیا ہے اور اسے افغانستان میں اپنا ساتھی قرار دیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ہم ڈٹے رہیں تو افغانستان بھارت کے لیے ایک دور دراز کا ملک ہے جس کا راستہ بہت دشوار ہے۔

اس علاقے کی اہمیت یوں بھی تاریخی حقیقت ہے کہ وقت کی تمام سپر پاور نے اس حصے پر قبضہ جمانے کی سر توڑ کوشش کی ہے، برطانیہ روس اور اب امریکا لیکن یہ تینوں یہاں سے رسوا ہو کر نکلے ہیں مگر انھوں نے اس خطے کی عالمی اہمیت کے پیش نظر اس پر تسلط جمانے یا اسے اپنے اثر میں لانے کی کوشش کی ہے اور جان پر کھیل کر یہ کوشش کی ہے مگر کامیابی نہیں مل سکی کیونکہ افغان عوام نے غلامی نہیں دیکھی۔ مذکورہ تین عالمی سپر پاورز کی طرح اب بھارت بھی امریکا کی مدد سے افغانستان پر نمایاں اثر قائم کرنا چاہتا ہے لیکن بزدل بھارت کی کیا حیثیت ہے۔

اپنی جدی پشتی نفسیاتی کمزوری پر قابو پانے کی ایک کوشش ہے لیکن ہمارے ماضی میں عملاً یہ صورت رہی ہے کہ افغان عوام ہمارے ساتھ رہے ہیں جب کہ افغان حکمران بھارت کے ساتھ۔ اس سوال پر گفتگو تو جاری رہے گی جس میں امریکی مداخلت سے کچھ تبدیلی محسوس ہو رہی ہے مگر اصل معاملہ امریکا اور بھارت کا ہے جس کے پس منظر پاکستان دشمنی ہے۔

بھارت کی پاکستان کے ساتھ دشمنی تو تاریخ کا ایک طویل قصہ ہے حیرت ہے کہ آج کے ہمارے لیڈر اس دشمن بھارت کے ساتھ دوستی میں مرے جا رہے ہیں۔ عمران خان بھی افسوس کرتا ہے کہ بھارت کے ساتھ تعلقات بگڑتے جا رہے ہیں۔ ہمارے ایک عمر رسیدہ سرکاری ماہر جناب سرتاج عزیز بھی بھارت سے تعلقات اچھے نہ ہونے پر پریشان ہیں اور جناب وزیراعظم تو آپ کو معلوم ہے کہ ان کے بقول وہ وزیراعظم بنے ہی بھارت دوستی کے لیے ہیں، ایسی سیاسی قیادت میں پاکستان بھارت کا کیا مقابلہ کرے گا۔ ایک پاکستانی کی حد تک میں بھارت سے ہرگز خوفزدہ نہیں ہوں بلکہ اس کے ساتھ دشمنی کو زیادہ کرنا چاہتا ہوں تاکہ اپنے اندر مقابلے کا جذبہ شدید اور توانا کر سکوں۔

پاکستان کے مقابلے میں بھارت آبادی اور رقبے میں بہت بڑا ہے اور غیر مسلم ہونے بلکہ اب تو مسلم دشمن ہونے میں اس کا مقام پہلے سے بھی بلند ہے اور غیر مسلم دنیا اس کو بہت اہمیت دیتی ہے امریکا اس کے ساتھ گوناگوں بلکہ خطرناک معاہدے بھی کر رہا ہے جو سب کے سب پاکستان کے خلاف جاتے ہیں۔ اس وقت مغربی دنیا میں مسلمانوں کے خلاف جو لہر اٹھی ہوئی ہے اس کا ایک بھرپور اندازہ پیرس کے جریدے کی حمائت سے ہوتا ہے جس کے حق میں بہت بڑے مظاہرے میں یورپ کے بہت سارے ملکی سربراہ بھی شریک ہوئے۔ مسلم دشمنی کی یہ لہر عالم اسلام کے سب سے اہم ملک پاکستان کے خلاف مسلسل جاری رہتی ہے جو واحد مسلمان ایٹمی قوت بھی ہے۔

امریکا اگر آج بھارت کے ساتھ جپھی ڈال رہا ہے تو اس کی گرمجوشی اس مسلم دشمنی کی ہے لیکن بھارت ہو‘ امریکا اس سے وہی پاکستانی ڈر سکتا ہے جو ایک کمزور پاکستانی ہے یعنی جس کا پاکستان کے اساسی نظریات پر یقین کمزور ہے۔ پاکستان کے مقابلے میں افغانستان ایک کمزور ترین ملک ہے ایک کوہستانی اور ترقی سے محروم ملک لیکن اس کے باشندے کمزور نہیں ہیں اور غلامی کے تصور سے بالکل ناآشنا ہیں جس کا ثبوت وہ تاریخ پر نقش کر چکے ہیں اور تاریخ کے ان صفحات کو مٹایا نہیںجا سکتا۔ ہم پاکستانی تو ماشاء اللہ ایک جدید ترقی پذیر قوم ہیں اور ذہین افراد کی قوم ہیں جو برے حالات میں بھی کارنامے سرانجام دیتی ہے۔

ہم اگر اپنی آزادی کو عزیز رکھیں اور یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ کسی کا غصہ ہونا ہمارے مذہب میں بھی جائز نہیں ہے تو بھارت سے وہی ڈر سکتے ہیں جو پاکستانی نہیں ہیں۔ امریکا بہت ہی بڑی طاقت ہے۔ افغانستان پر بم مار سکتا ہے لیکن افغانوں کو تباہ نہیں کر سکتا جس کا ثبوت ان دنوں افغانستان سے امریکا کا انخلا ہے جسے اوباما نے بھارت میں امریکا کا کام ختم ہونے کا نام دیا ہے۔ خواہش ہے کہ امریکا کی شہہ پر بھارت بھی افغانستان میں اپنا کوئی کام تلاش کر لے اور وہاں سے رام رام کر کے بھاگتا ہوا دکھائی دے۔ بھارت اپنے آپ کو منی سپر پاور کہتا رہے اور امریکا اسے یو این او کی سیکیورٹی کونسل کا رکن بنانے کی کوشش کرتا رہے وہ بھارت ہی رہے گا۔

جس کو ہم عام پاکستانی خوب جانتے ہیں سوائے ہمارے بزدل سیاسی قائدین کے۔ ہم پاکستانی اپنے قریب ترین پڑوسی افغانستان کی مثال ہی سامنے رکھیں تو بھارت کی ہر ڈینگ کو پرکاہ کی اہمیت بھی نہ دیں لیکن دلوں میں ایمان کی قوت زندہ ہونی چاہیے ہم پیدائشی اور نظریاتی طور پر مجاہد قوم ہیں جسے اس کے زبردست لیڈروں نے خوفزدہ کر رکھا ہے اور ہم سادگی میں ہر بار انھیں ہی ووٹ دے دیتے ہیں۔ ہمارے اعتماد کے جواب میں وہ جو حکومت قائم کرتے ہیں اس کے نمونے ہم ہر روز دیکھ رہے ہیں ان لیڈروں سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے سچے جرات مند پاکستانی بن کر زندہ رہیں تو جتنے بارک اوباما بھارت کا دورہ کرتے رہیں ان کے لیے ہمارے ڈاکٹر قدیر جیسے پاکستانی ہی کافی ہیں۔ قرآن پاک کی ایک آیت ہے کہ ڈرو مت اگر تم مسلمان ہو اور یہ ایک حتمی فیصلہ ہے کہ ایک مسلمان کے بارے میں۔

بہ شکریہ روذنامہ "ایکسپریس"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں