.

تنظیم اسلامی کانفرنس کی پارلیمانی یونین کا اجلاس

ڈاکٹر فرقان حمید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گزشتہ ہفتے ترکی کے تاریخی، ثقافتی اور سیاحتی شہر استنبول میں تنظیم اسلامی کانفرنس کی پارلیمانی یونین کا دسواں اجلاس منعقد ہوا۔ میری ذاتی رائے کے مطابق تنظیم اسلامی کانفرنس آج تک مسلمانوں کاکوئی بھی مسئلہ حل کروانے میں کامیاب ہوسکی ہے اور نہ ہی مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ کر سکی ہے لیکن ان تمام باتوں کے باوجود یہ تنظیم آج بھی قائم ہے ۔ صدر ترکی رجب طیب ایردوان نے بالکل صحیح کہا ہے کہ تنظیم اسلامی کانفرنس اجلاس منعقد کرنے کے سوا کوئی کام نہیں کررہی ہے بلکہ اس تنظیم کی حالت فارسی زبان کے اس محاورے سے’’ آمدند، نشستند و رفتند‘‘ ( اکٹھے ہوئے، صحبت کی اور منتشر ہوگئے) بالکل واضح ہو جاتی ہے ۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار تنظیم اسلامی کانفرنس کی پارلیمانی یونین کے دسویںاجلاس سےافتتاحی خطاب کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ مسلمان ایک جگہ جمع تو ہو جاتے ہیں لیکن وہ اپنے مقاصد حاصل کر نے میں ناکام رہتے ہیں۔ اقوام متحدہ میں اسلامی ممالک کی تعداد ایک تہائی ہونے کے باو جود سلامتی کونسل میں ایک بھی اسلامی ملک کو کوئی مقام حاصل نہیں ہے ۔ سلامتی کونسل میں صرف پانچ ممالک ہی اپنی اجارہ داری قائم کیے ہوئے ہیں ۔ دنیا میں اس وقت مسلمانوں کی آبادی 1.7 بلین ہے لیکن اتنی زیادہ آبادی ہونے کے باوجود مسلمانوں کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اپنی نمائندگی کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں مسلمانوں کے خلاف آپریشن جاری ہے اور مسلمانوں کو مسلمانوں ہی کا دشمن بنایا جا رہا ہے۔ بہنے والا خون مسلمانوں ہی کا خون ہے ، مرنے والے اور مارنے والے دونوں ہی مسلمان ہیں۔ دہشت گرد اور دہشت گرد تنظیمیں کسی بھی صورت مسلمانوں یا پھر عالم اسلام کی نمائندگی نہیں کرتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی میں ملوث دہشت گرد مسلمان ہو ہی نہیں سکتے ہیںکیونکہ اسلام میں کسی بھی انسان کو ناحق قتل نہیں کیا جاسکتا، اسلام اس قسم کے قتل و غارت کی ہر گز اجازت نہیں دیتاہے۔ اس لئے دہشت گردی کو مذہب اسلام سے جوڑنے سے گریز کیا جانا چاہئے اور ان حلقوں کو متنبہ کیا جانا چاہئے جو دہشت گردی کو مذہبِ اسلام سے منسلک کرتے ہیں۔ اس موقع پر صدر ایردوان نے کہا کہ جس طرح گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کرنے والوں کا قتل دہشت گردی ہے بالکل اسی طرح تمام مذاہب کی مقدس ہستیوں کی توہین اور ان کا تمسخر اڑانا بھی اپنی طرز کی دہشت گردی ہے اور سب کو اس قسم کی دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھانے کا پورا پورا حق حاصل ہے۔

اس کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے کی۔صدر ِایردواننے پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق کو انقرہ میں نئے صدارتی محل میں شرفِ ملاقات بخشا۔ دوران اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترکی اور پاکستان کے تعلقات دونوں ممالک کی حکومتوں کے درمیان قائم تعلقات نہیں ہیں بلکہ یہ تعلقات دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تعلقات ہیں اور یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک میں حکومتیں تبدیل بھی ہوجائیں تو ان تعلقات پر کوئی منفی اثرات مرتب نہیں ہوتے ہیں ۔ ترکی اور پاکستان کے درمیان تاریخی، ثقافتی، سیاسی لحاظ سے بڑے دیرینہ اور گہرے تعلقات ہیں۔ ان دونوں ممالک کے درمیان موجود ان خصوصی تعلقات کو دونوں ممالک کی پارلیمنٹوں کے درمیان بھی قائم ہونے کی ضرورت ہے۔ترکی پاکستان کو مستحکم بنانے کے لئے ہر ممکنہ تعاون جاری رکھے گا۔

پاکستان اس وقت جس نازک دور سے گزر رہا ہے ہم امید کرتے ہیں پاکستان اپنی ان مشکلات پر قابو پاتے ہوئے ایک بار پھر ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔ اس موقع پر سردار ایاز صادق نے صدرِ ترکی کو پاکستان کی پارلیمنٹ اور پاکستانی عوام کی جانب سے نیک خواہشات سے بھی آگاہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات تمام امتحانات پر پورےا ترے ہیں ۔ بارہ سال قبل ترکی نے جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کی قیادت میں بڑی سرعت سے ترقی کی جانب اپنے سفر کو جاری رکھتے ہوئے معجزہ کر دکھایا ہے جس پر پاکستان کو بے حد خوشی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو اپنے اپنے ملک میں جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے کے لئے مشترکہ طور پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

اسپیکر ایاز صادق سے انقرہ میں راقم کو بھی بات چیت کرنے کا موقع میسر آیا راقم نے ترکی ریڈیو اور ٹیلی وژن کی اردو سروس کے نمائندے کے طور پر ایک انٹرویو بھی کیا ۔جناب ایاز صادق نے تنظیم اسلامی کانفرنس میں ان کی جانب سے سانحہ پشاور کے کی مذمت کرنے کے لئے پیش کی جانے والی قرار داد کے بارے میں کہا کہ اس قرار داد کو متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا حالانکہ اس قرارداد کے ساتھ دیگر قرار دادوں کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن اس قرارداد کو الگ ہی خصوصی طور پر منظور کرلیا گیا جوکہ پاکستان کے لئے ایک بہت بڑی کامیابی ہے ۔ قومی اسمبلی میں پیرس کے گستاخانہ خاکوں کے بارے میں منظور کردہ مذمتی قرا رداد کے بارے میں انہوں نےکہا کہ ’’ او آئی سی پارلیمانی یونین کے اجلاس میں مجھے پاکستان کی جانب سے قرار داد پیش کرنے کا موقع میسر آیا۔

اجلاس میں تمام اراکین نے پاکستان کی اس قرارداد کی حمایت کی اور اراکین نے میرے پاس آکر شکریہ بھی ادا کیا جو پاکستانی ہونے کے ناتے میرے لئے ایک بہت بڑا اعزاز تھا۔‘‘ انہوں نے اس دوران دنیا بھر میں مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت کو ختم کرنے کے لئے تیار کیے جانے والے پلان کے بارے میں آگاہی فراہم کرتے ہوئے کہا کہ’’ میں نے پورا ایک سال فرقہ واریت کو ختم کرنے اور صرف ایک مسلمان ہونے پر زور دینے کے لئے ایک پلان تیار کیا تھا جسے اس پارلیمانی یونین کے اجلاس کے دوران ایران ، سعودی عرب اور کویت کی قومی اسمبلیوں کے اسپیکروں کو پیش کیا اور اس پر بات چیت بھی کی تاکہ ہم فرقہ واریت سے دور صرف مسلمان ہونے پر زور دے سکیں۔

انہوں نے کہا کہ نگر مسلمانوں کو مستقبل میں گستاخانہ خاکوں کے حملوں سے بچنا ہے تو پھرہمیں اقوام متحدہ اور عالمی عدالت سے رجوع کرنا ہوگا اور ہم تنظیم اسلامی کانفرنس سے یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ اس سلسلے میں اقوامِ متحدہ سے رجوع کرتے ہوئے نہ صرف مسلمانوں بلکہ تمام مقدس ہستیوں اور پیغمبروں کے بارے میں توہین آمیز خاکوں اور مضامین شائع کرنے کے خلاف قانون منظور کرائے تاکہ جس طرح مغرب میں ہولو کاسٹ پر کوئی کچھ نہیں لکھ سکتا اور ہولو کاسٹ کی نفی نہیں کرسکتا اسی طرح ہمیں بھی سب کے ساتھ مل کر مستقل طور پر ان خاکوں پر پابندی لگوانا ہوگا ورنہ ایسے خاکے شائع ہوتے رہیں گے اور مسلمان احتجاج کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں کرسکیں گے۔

اسپیکرایاز صادق سے پاکستان کی اندرونی صورت حال سے متعلق بھی بات چیت ہوئی انہوں نے کہا کہ وہ غیر جانبدار رہتے ہوئے حلقہ 122 میں دھاندلی کیس کے عدلیہ اور ٹربیونل میں موجود ہونے کی وجہ سے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے ۔ فوجی عدالتوں کے قیام کی منظوری دئیے جانے کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئین میں ترمیم کرتے ہوئے ان عدالتوں کو دہشت گردی کی روک تھام اور دہشت گردوں کو کڑی سزا دینے کے لئے خصوصی فوجی عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے لیکن اگر قومی اسمبلی چاہے تو واضح اکثریت سے اس اختیارات کو واپس بھی حاصل کرسکتی ہے ویسے بھی یہ اختیارات دو سال کے لئے ہیں اور دو سال بعد یہ اختیارات خود ہی واپس سول عدلیہ کو حاصل ہو جائینگے۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.