.

سیاسی جغرافیائی حالات کی تبدیلی

ڈاکٹر رسول بخش رئیس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آزادی کے وقت سے ہی ہماری سوچ، ہماری تحریروں، ہماری سکیورٹی اور خارجہ پالیسی پر جو چیز غالب رہی ہے، وہ خوف ہے. اس خوف کی بنیاد ہمارا یہ تجذیہ ہے کہ ہمارا اسٹریٹیجک ماحول غیر محفوظ ہے، خطے میں طاقت کا تواذن بگڑ رہا ہے، طاقتور بھارت اور کمزور افغانستان ہمارے دشمنوں کی معاونت کر رہے ہیں اور ہم سازشوں کا شکار ہونے جا رہے ہیں. ہم اپنے خطے کے سیاسی جغرافیائی معروضات کے حوالے سے اپنے مفروضوں کو حقیقت مان کر انکی بنیاد پر اپنی قومی سلامتی کے خدو خال وضع کرتے ہیں اور ان پر کاربند ہو جاتے ہیں. تاہم تاریخ کا سفر جاری رہتا ہے، اس میں سکوت محال ہے. قومیں اور ملک متحرک انداز میں آگے بڑھتے ہوئے دستیاب امکانات سے استفادہ کرتے ہیں.

یقینا ہمارے تمام خوف و خدشات بے بنیاد اور غیر حقیقی نہیں کیونکہ بہت سے تلخ تاریخی حقائق انکی تصدیق کرتے ہیں. آزادی کے ابتدائی دور میں بھارت کی طرف سے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ، مشرقی پاکستان میں فوجی مداخلت، افغانستان میں سوویت یونین کی جارحیت اور اس خطے میں عالمی طاقتوں کی لڑی گئی دو عظیم اور طویل جنگیں ثابت کرتی ہیں کہ ہمارے خدشات بے بنیاد نہیں. ان واقعات پر نگاہ دوڑانے سے ہمیں علم ہوتا ہے کہ ہم دنیا کے جس خطے میں موجود ہیں، وہ عالمی طاقتوں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے. تاہم خود کو درپیش خطرات کا علم ہونا اور انکی ماہیت کو سمجھا کافی نہیں، اصل چیلینج انسے نمٹنا ہے. کیا ہم ان سے نمٹنے کی پیش بندی کرنے کے لیے تیار ہیں یا پھر وقت آنے پر ہی ہماری تمام تر فعالیت متحرک ہوتی ہے ؟ اگر ان مسائل کا تعلق دوسروں کے برے ارادوں سے ہے تو ہمیں ان سے لڑنے کا طریقہ سوچنا ہوگا. اسکے لیے ہمیں دوسروں کے پھیلائے ہوئے جال میں الجھنے کی بجائے خود آگے بڑھ کر اس لڑائی کو اپنے انداذ میں لڑنا ہے.

ایک بات سمجھنے کی ہے کہ ہمسائے قسمت کی طرح اٹل ہوتے ہیں. دنیا کا کوئی ملک بھی انہیں تبدیل نہیں کر سکتا، اور نہ ہی انہیں پرامن طریقے سے رہنے اور تعاون کرنے کے لیے آمادہ کر سکتا ہے. تاہم کچھ مخصوص پالیسیاں اپناتے ہوئے انکا رویہ کسی حد تک اپنی موافقت میں ڈھالا جا سکتا ہے تاکہ ان سے درپیش خطرے کو زائل کرتے ہوئے اپنے لیے مفاد حاصل کیا جا سکے. اسی کا نام سفارت کاری ہے. جس دوران ہماری سکیورٹی کو اندرونی و بیرونی خطرات لاحق ہیں، سیاسی جغرافیائی حقائی کے روایتی پیمانوں کو بیک جنبش قلم مسترد کرنا بھی ممکن نہیں، تاہم انکا از سر نو جائزہ لیتے ہوئے اس امر کی آگاہی حاصل کرنا ضروری ہے کہ روایتی جمود کی جگہ خطے کے متحرک امکانات کیا ہیں اور ہم انہیں اپنے مفاد میں کس طرح استعمال کر سکتے ہیں.

اس وقت جس چیذ کی کمی محسوس کی جا رہی ہے وہ جیو پالیٹیکل معروضات کے پیس منظر میں موجود وسیع لینڈ اسکیپ سے، جس میں ہمارے لیے امکانات کے بہت سے پہلو موجود ہیں، لاعلمی، یا اسے بوجوہ نظر انداذ کر دینے کی پالیسی ہے. میں اس بات کی وضاحت کرنا چاہوں گا. پاکستان کی جنوب ایشیائی شناخت کو جو اسکے ثقافتی، تاریخی اور مزہبی ورثے سے جڑی ہوئی ہے، مسترد نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی ایسا کرنا چاہیے. یقینا امریکی ساجھے داری سے تقویت پا کر ابھرتا ہوا بھارت، جو اس وقت طاقت کے غرور سے سرشار ہے اور جس کی سیاست اور سکیورٹی امور پر ہندو قوم پرستوں کا قبضہ ہے، پاکستان کے لیے باعث تشویش ضرور ہے لیکن ہمیں اپنے سامنے آپشن صرف عسکری محاز آرائی، فتح یا شکست کی صورت ہی نہیں رکھنے چاہئیں، بلکہ ہمیں مستقبل کے امکانات کو سامنے رکھتے ہوئے عملی طرذ عمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے. ماضی کے زخموں کو کریدنے یا انکا حساب کتاب برابر کرنے کے عزائم پالنے میں دانائی نہیں. دنیا کے بہت سے دیگر ممالک کی طرح پاکستان بھی ایک اہم حقیقت کو نظر انداذ کر رہا ہے کہ تاریخ کے عمل کا ایک مستقل قانون تبدیلی ہے.

کسی ملک، معاشرے، سائنس، معیشت اور انکی وجہ سے سوچ میں ہونے والی تبدیلی کا عمل جاری رہتا ہے. اس سے دنیا میں دوطرفہ تعلقات کی جہت بھی تبدیل ہوتی رہتی ہے. یہی وجہ ہے کہ امریکہ، جو پاکستان کا تین مرتبہ سٹریٹیجک اتحادی رہا ہے، ہم سے زیادہ بھارت کے قریب ہو رہا ہے. دوسرے طرف بھارت اور اسکی قیادت اس پارٹنرشپ کی اہمیت کو سمجھتی ہے. انھوں نے بھی اپنے آپ کو داخلی، یا کم اذکم خارجہ طور پر بدل لیا ہے.

اس وقت پاکستان کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے سیاسی جغرافیائی معروضات پر چھائے ہوئے خوف کے پردے کو چاک کرنے کی ہمت کرے. اسے اپنے اوپر اعتماد کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ ایک اہم اور طاقت ور ملک ہے. ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم معیشت ، قدرتی زراعئ کی ترقی اور سیاسی استحکام پر توجہ دیں اور یقین رکھیں کہ دنیا کی کوئی طاقت ہمیں ختم کرنے کے در پے نہیں. کسی کے پاس اتنی فرصت نہیں ہے کہ وہ بیٹھ کر ہمارے خلاف ساذشیں کرتا رہے. دراصل ہمارا دشمن ہمارے درمیان ہی موجود ہے . تاہم پاکستان کو اعتماد کون دے گا، یہ ایک قابل بحث سوال ہے. اسکے لیے قیادت کی ضرورت ہوتی ہے. یاد رہے کہ پاکستان بھی دنیا کے دیگر ممالک کی طرح تاریخ کی منطق سے نہیں بچ سکتا. تبدیلی کی منطق . جہاں طاقتور فوج دشمن کی جارحیت کو روکتی ہے، موثر سفارت کاری دوستوں میں اضافہ کرتی ہے. اس وقت جبکہ ہم اپنے دشمن سے جنگ کر رہے ہیں، ہمیں اپنی سرحدوں کے آس پاس دوستوں کی ضرورت ہے. دوست بنانا کمذوری نہیں، دانائی ہے. ہمارے شمال مغرب کی طرف تجارت، توانائی اور طاقت کے وسیع امکانات موجود ہیں. ہم ان سے استفادہ کر سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے ہمیں اس تاریخی تبدیلی کا خود ہی حصہ بننا ہے وگرنہ زمانہ تو اپنی چال چل ہی رہا ہے. جو قومیں آگے بڑھ کر اس چال کو اپنے مطابق نہیں ڈھالتیں، وہ اس کے تلے روندی جاتی ہیں. یقینا ہمارے پاس بہت سے امکانات موجود ہیں.

بہ شکریہ روزنامہ "دنیا"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.