.

ماما جی پالیسی

جاوید چودھری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک خواجہ سراکسی پہلوان سے لڑ پڑا‘ لڑائی کے دوران خواجہ سرا نے پہلوان کو دھمکی دی ’’میں تمہارے ساتھ خوفناک سلوک کروں گا‘‘ پہلوان نے قہقہہ لگا کر جواب دیا ’’تم خواجہ سرا ہو‘ تم میرے ساتھ خوفناک سلوک کیسے کرو گے‘‘ خواجہ سرا کو اپنی غلطی کا احساس ہوا‘ وہ رکا‘ تھوڑا سا شرمایا اور پھر ہتھیلی پر ہتھیلی رگڑ کر بولا ’’ قریبی شہر میں میرے ماما جی رہتے ہیں‘ وہ ساڑھے چھ فٹ کے کڑیل جوان ہیں‘ میں انھیں بلاؤں گا‘ وہ تمہارے ساتھ خوفناک سلوک کریں گے‘‘ پہلوان نے قہقہہ لگایا‘ خواجہ سرا کی گردن پر مکا مارا‘ خواجہ سرا نالی میں گر گیا اور پہلوان سائیکل پر بیٹھ کر روانہ ہوگیا۔

آپ یہ لطیفہ ملاحظہ کیجیے اور اس کے بعد پاکستان کی خارجہ پالیسی کا جائزہ لیجیے‘ مجھے یقین ہے آپ خود کو وہ خواجہ سرا محسوس کریں گے جسے گالی دینے کے لیے بھی ماماجی کی ضرورت پڑتی ہے‘ آپ کو محسوس ہو گا‘ ہماری خارجہ پالیسی ‘خارجہ پالیسی نہیں ‘ ماما جی پالیسی ہے‘ آپ کو یقین نہ آئے تو آپ ملک کی تاریخ نکال کر دیکھ لیجیے ‘ ہمارے ملک میں تیل کا بحران ہو جائے تو یہ بحران سعودی عرب والے ماماجی حل کریں گے‘ ہماری وزارت خزانہ کو ملک چلانے کے لیے ڈالر چاہئیں‘ یہ ڈالر آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک والے ماماجی دیں گے۔

ہمارے ملک میں زلزلہ آجائے‘ سیلاب آ جائے اور خشک سالی ہوجائے‘ یہ مسئلے ترکی‘ بحرین اور یو اے ای والے ماما جی حل کریں گے‘ فوج کو اسلحہ چاہیے‘ ہم نے دہشت گردوں سے لڑنا ہے اور مسئلہ کشمیر حل کرنا ہے‘ یہ مسائل امریکا والے ماماجی حل کریں گے اور ملک کو بھارت اور امریکا سے بچانا ہے‘ ہمارا یہ مسئلہ چین والے ماما جی حل کریں گے‘ ہمارے ماماجی صرف سرحدوں سے باہر نہیں ہیں‘ ہم نے اپنی سہولت کے لیے لوکل ماماجی کا بندوبست بھی کر رکھا ہے‘ بھارت افغانستان میں اپنا اثر ورسوخ بڑھا رہا ہے‘ یہ مسئلہ حقانی ماماجی حل کریں گے‘ مقبوضہ کشمیر میں ہمارے مفادات کا خیال سعید ماماجی رکھیں گے۔

کراچی میں ٹارگٹ کلرز سے طالبان ماماجی نبٹیں گے‘ کوئٹہ اور پارا چنار کا مسئلہ جھنگ کے ماماجی حل کریں گے اور جھنگ کے ماما جی کا مقابلہ گلگت کے ماماجی کریں گے اور مہاجر ماما جی سے سندھی ماماجی نبٹیں گے اور سندھی ماماجی سے مہاجر ماماجی جنگ کریں گے‘ فوجی ماماجی سے جمہوری ماماجی لڑیں گے اور جمہوری ماما سے لڑائی بلے والے ماماجی کریں گے اور بلے والے ماماجی سے جوڈیشل ماماجی لڑیں گے اور جوڈیشل ماما جی سے میڈیا ماماجی نبٹے گا‘ یہ ہے ہماری کل ریاست‘ ماماجی‘ ماماجی اور بس ماماجی‘ بھانجے کیا کریں گے‘بھانجے صرف ہتھیلی رگڑیں گے۔

آپ کو میری بات عجیب محسوس ہو گی لیکن بدقسمتی سے یہ حقیقت ہے ہم اس ملک کو ماما جی پالیسی کے ذریعے چلانے کی کوشش کر رہے ہیں‘ آپ ملک کی پوری تاریخ سامنے بچھا کر بیٹھ جائیے‘ آپ کو پاکستان کی تاریخ میں ماماجی کے سوا کچھ نہیں ملے گا‘ کیا ہم نے 1965ء کی جنگ خود نہیں چھیڑی تھی؟ کیا آپریشن جبرالٹر ذوالفقار علی بھٹو اور میجر جنرل اختر حسین ملک کا مشترکہ کارنامہ نہیں تھا اور کیا یہ لوگ اس آپریشن کے ذریعے فیلڈ مارشل ایوب خان کی حکومت کمزور نہیں کرنا چاہتے تھے‘ کیا بھٹو نے برسوں بعد لندن میں سکندر مرزا کے سامنے یہ اعتراف نہیں کیا تھا ’’ ہم اگر انڈیا سے جنگ نہ چھیڑتے تو ایوب خان کبھی نہ جاتے‘‘ کیا یہ حقیقت نہیں۔

یہ سازش جب پاک بھارت جنگ بن گئی تو ہم جنگ سے جان چھڑانے کے لیے امریکی ماما جی اور چینی ماما جی کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے‘ کیا ایوب خان نے چین سے مدد مانگنے کے لیے بیجنگ کا خفیہ دورہ نہیں کیا اور چینی ماما جی نے پاکستان سے یہ نہیں کہا تھا ’’ ہم آپ کی مدد کریں گے لیکن آپ پہلے ہمیں یہ یقین دلائیں آپ جنگ میں واقعی سیریس ہیں‘‘ مگر ہم نے چین کو یقین دلانے کے بجائے بھارت کے ساتھ صلح کر لی‘کیا یہ حقیقت نہیں دنیا ہمیں 1970ء میں سمجھاتی رہی‘ مشرقی پاکستان سیاسی معاملہ ہے‘ آپ اسے سیاسی طریقے سے سلجھائیں‘ آپ ڈھاکا میں فوج کشی نہ کریں لیکن یحییٰ خان نے خود کو صدر بنانے کے لیے مشرقی پاکستان کو جنگ میں جھونک دیا‘ ہمارے جوان‘ ہمارے شہری مرتے رہے اور جرنیل شراب پی کر فرش پر گرتا رہا‘ ہم اس جنگ میں بھی امریکی اور چینی ماما جی کی طرف دیکھتے رہے۔

امریکی ماما جی بحری بیڑا تیار کرتے رہے اور چینی ماما جی نے ذوالفقار علی بھٹو کو جواب دیا ’’ آپ بھارت سے صلح کر لیں‘ آپ یہ جنگ نہیں جیت سکیں گے‘‘ کیا یہ حقیقت نہیں چواین لائی نے بھٹو صاحب سے کہا تھا ’’ آپ اگر صلح کرنا چاہتے ہیں تو ہم آپ کی مدد کے لیے بھارتی سرحدوں پر دباؤ بڑھا دیں گے’’ لیکن ہم نے صلح کی پیشکش کو چینی ماما جی کی طرف سے جنگی امداد سمجھا اور جب بھارت کی فوجیں مشرقی پاکستان میں داخل ہوئیں تو ہمارے فوجی بھارتی فوجیوں کو چینی فوجی سمجھ کر ان کے استقبال کے لیے نکل کھڑے ہوئے اور گرفتار کر لیے گئے‘ کیا ہم نے جنرل ضیاء الحق کے اقتدار کے لیے افغان جنگ نہیں لڑی تھی اور ہم اس جنگ کے دوران امریکی ماما جی کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتے نہیں رہے تھے اور جب یہ جنگ ختم ہوئی اور ملک 50 لاکھ افغان مہاجرین‘ کلاشنکوفوں اور ہیروئین کی منڈی بن گیا تو کیا ہم بے چارگی سے امریکی ماماجی کا انتظار نہیں کرتے رہے؟

کیا ہم نے کارگل کی جنگ خود نہیں چھیڑی تھی اور ہم جب کارگل میں پھنس گئے تو کیا ہم نے امریکی ماماجی کی مدد نہیں لی تھی اور امریکی ماماجی جب ہماری مدد کر چکے تو کیا ہم نے جنرل مشرف کو بچانے کے لیے میاں نواز شریف کی حکومت ختم نہیں کر دی تھی؟ کیا ہم نے جنرل پرویز مشرف کے اقتدار کے لیے دہشت گردی کی جنگ میں حصہ نہیں لیا اور کیا ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکی اور یورپی ماماجی سے امداد نہیں اینٹھتے رہے؟ کیا ہم طالبان لیڈر پکڑ کر گوانتاناموبے نہیں بھجواتے رہے اور ماماجی سے ڈالر وصول نہیں کرتے رہے؟ کیا بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف نے ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے امریکی‘ برطانوی اور سعودی ماماجی سے مدد نہیں لی۔

کیا این آر او متحدہ عرب امارات کے ماماجی نے نہیں کرایا تھا‘ کیا جنرل پرویز مشرف سے استعفیٰ امریکی‘ سعودی اور یو اے ای کے ماماجی نے نہیں لے کر دیا تھا؟ کیا آصف علی زرداری امریکی ماماجی کی ضمانت پر صدر نہیں بنے تھے؟ کیا ہم طالبان سے نبٹنے کے لیے امریکی اور یورپی ماماجی کی مدد نہیں لیتے رہے؟ کیا ہم نے امریکی ماماجی کو افغانستان میں الجھانے کے لیے گڈ طالبان ماماجی نہیں پالے؟ کیا ہم نے امریکی ماماجی کو ڈرون اڑانے اور چلانے کی غیرسرکاری اجازت نہیں دے رکھی؟ کیا ہم اپنی بقا کے لیے اب امریکی اور چینی ماماجی کو لڑانے کی کوشش نہیں کر رہے؟

کیا ہم امریکی ماماجی کو پریشان کرنے کے لیے روسی ماماجی سے تعلقات نہیں بڑھا رہے اور کیا ہم مشرق وسطیٰ میں شیعہ سنی لڑائی کا فائدہ اٹھانے کے لیے سعودی اور بحرینی ماماجی کی مدد نہیں کر رہے؟ کیا ہم نے انھیں فوجی بھرتی کرنے کی غیر سرکاری اجازت نہیں دے رکھی اور کیا یہ حقیقت نہیں، ہماری اس 68 سال کی ماماجی پالیسی کے باعث دنیا اب ہم پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں‘ یہ ہمیں اب امداد دینے کے لیے تیار ہے اور نہ ہی ہمارے لیے تجارت کے دروازے کھولنے کے لیے رضا مند‘ کیا ہم ملک کے اندر اور باہر دونوں جگہوں پر اکیلے نہیں ہیں؟

آپ کو میری بات عجیب محسوس ہو گی لیکن بدقسمتی سے یہ حقیقت ہے‘ دنیا میں ہمارے تین بڑے دوست تھے‘ چین‘ امریکا اور سعودی عرب‘ پاکستان اگر آج تمام تر بحرانوں کے باوجود سلامت ہے تو اللہ تعالیٰ کی نصرت کے بعد ان تین ممالک کی مہربانی تھی‘ چین ہمارا حقیقی دوست تھا‘ امریکا نے پاکستان کو آج تک سب سے زیادہ امداد دی ہے اور سعودی عرب اس وقت بھی ہمارے ساتھ کھڑا رہا جب پوری دنیا نے ہمارا ساتھ چھوڑ دیا تھا لیکن ہم اپنی ماما جی پالیسی کی وجہ سے ان تینوں دوستوں کا دل توڑتے رہے‘ وقت آگے چلتا رہا جب کہ ہم آج تک خواجہ سرا کے ماماجی کا انتظار کر رہے ہیں۔

آپ پاکستان اور بھارت کے تعلقات کو دیکھئے اور اس کے بعد چین‘ امریکا اور سعودی عرب کے رویئے میں تبدیلیاں دیکھئے‘آپ کو پوری بات سمجھ آ جائے گی‘ چین ہمارا دوست تھا‘ ہم نے چین کے ساتھ اس وقت دوستی کی پینگ بڑھائی جب دنیا کا کوئی ملک چین کے لیے اپنا دروازہ کھولنے کے لیے تیار نہیں تھا لیکن چین کے صدر ژی جن پنگ پاکستان کا دورہ منسوخ کر کے 17ستمبر 2014ء کو بھارت چلے گئے‘ یہ تین دن بھارت رہے اور انھوں نے وہاں 20 ارب ڈالر کے معاہدے کیے‘ ہم 65 برسوں سے امریکا کے دوست چلے آ رہے ہیں‘ ہم نے امریکا کے لیے سوویت یونین کے ساتھ جنگ تک لڑی لیکن امریکی صدر بارک اوباما 25 جنوری کو بھارت چلے گئے۔

اس دورے میں دونوں ملکوں کے درمیان سول جوہری معاہدہ بھی ہو گیا اور امریکا نے بھارت کو افغانستان میں اپنا بااعتماد ساتھی بھی ڈکلیئر کر دیا‘ اوباما اپنے دائمی دوست پاکستان نہیں آئے‘ یہ 1992ء تک اپنے دشمن رہنے والے بھارت چلے گئے‘ اوباما نے اس نریندر مودی کو بھی گلے لگا لیا جس پر امریکا نے مارچ 2005ء میں امریکا آنے پر پابندی لگا دی تھی اور آپ سعودی عرب میں کام کرنے والے بھارتی شہریوں اور پاکستانیوں کا ڈیٹا بھی نکال کر دیکھ لیجیے‘ آپ حیران رہ جائیں گے‘ سعودی عرب کی کمپنیاں پاکستانیوں پر بھارتی شہریوں کو فوقیت دیتی ہیں‘ سعودی عرب بھارت میں دھڑا دھڑ سرمایہ کاری بھی کر رہا ہے۔

یہ حقائق کیا ثابت کرتے ہیں؟ یہ ثابت نہیں کرتے ؟ دنیا میں ماماجی پالیسی کا دور ختم ہو چکا ہے‘ دنیا میں اب کوئی ملک خود بحران پیدا کر کے ماماجی کا انتظار نہیں کرسکتا چنانچہ ہم اب اگر باعزت طریقے سے زندہ رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں فوری طور پر تین کام کرنا ہوں گے‘ ہمیںبحرانوں کی فیکٹری بند کرنا ہو گی‘ہمیں اپنے قدموں پر بھی کھڑا ہونا ہو گا اور ہمیں ماماجی کا انتظار بھی ترک کرنا ہوگا۔ہم نے اگر فوری طور پر یہ تینوں کام نہ کیے تو ماماجی بچ جائیں گے لیکن بھانجے صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے.

بہ شکریہ روزنامہ "ایکسپریس"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.