کچھ لوگوں پر جن آتے ہیں

محمد بلال غوری
محمد بلال غوری
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

بھوت ،آسیب اور جنات کا تصور اتنا ہی پرانا ہے جتنی انسانی تاریخ۔جنات کے وجود کی تصدیق تو قرآن مجید سے بھی ہوتی ہے مگر کیا جنات کسی دوشیزہ پر دل وجان سے فدا بھی ہو سکتے ہیں ؟اور کیا جنات کسی انسان کے جسم میں داخل ہو سکتے ہیں؟بھوت نام کی کسی شے کا اس دنیا میں وجود ہے یا پھر یہ سب قصے کہانیاں ہیں ؟یہ وہ سوالات ہیں جو ایک عرصہ سے میرے ذہن میں تھے مگر بھلا ہو آل رائونڈر حارث سہیل کا جس نے ان سوالات کی شدت مزید بڑھا دی۔ہماری کرکٹ ٹیم ان دنوں ورلڈ کپ کھیلنے کے لئےامریکہ نیوزی لینڈ میں ہے۔حارث سہیل ہوٹل کے کمرے میں سوئے ہوئے تھے کہ اچانک انہیں کسی بھوت کی موجودگی کا احساس ہوا جس نے ان کا بستر زور سے ہلا کر جگا دیا ۔کال کرنے پر جب ٹیم منیجر ان کے کمرے میں پہنچے تو وہ خوف سے تھر تھر کانپ رہے تھے اور باقی رات انہوں نے ٹیم منیجر کے کمرے میں جاگ کر گزاری۔خدا جانے یہ کوئی بھوت تھا یا بھتنی جس نے ہمارے قومی کرکٹر کو پریشان کیا۔یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ۔اس سے پہلے 2005ء میں آسٹریلیا کے بعض کھلاڑیوں نے ’’لوملے کاسل ہوٹل‘‘ میں مافوق الفطرت مخلوقات کی شکایت کی تھی۔بعد ازاں لندن کے ’’لنگھم ہوٹل‘‘ میں آسٹریلوی کھلاڑی بریٹ لی نے بھوت کی موجودگی پر کمرہ تبدیل کیا ،اسی طرح شین واٹسن کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہ بھوت سے ڈر کراپنے کمرے سے بھاگے تھے۔

گویا بھوت پریت صرف مشرقی ممالک تک محدود نہیں ہیں بلکہ مغربی ممالک تک بھی ان کی رسائی ہے۔معروف برطانوی مصنفہ جے کے رائولنگ کی ہیری پوٹر سیریز کی کھڑکی توڑ مقبولیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں بھی جادو ٹونے کو پذیرائی حاصل ہے۔جس طرح ہمارے ہاں بچے عمروعیار کے من گھڑت کارنامے شوق سے پڑھتے ہیں اس طرح برطانوی بچے ہیری پوٹر سے رغبت رکھتے ہیں۔مگریہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ جنات کا سایہ ہمیشہ کسی خاتون پر ہی کیوں ہوتا ہے مرد وں کی طرف ان کی توجہ کیوں نہیں جاتی؟اور اگر وہ صنف نازک کی طرف مائل ہوتے ہیں تو پھر سنہرے بالوں والی وہ خوبرو گوریاں تو بہت ہی بد قسمت ہیں کہ نیم عریاں کپڑے پہن کر،گھومتی اور جھومتی پھرتی ہیں مگرکوئی جن یا بھوت ان پر عاشق نہیں ہوتا ۔اس کے برعکس سانولی سلونی ایشیائی لڑکیاں آنکھوں میں سرمہ ڈال لیں تو جنات پیچھے پڑ جاتے ہیں ۔ان کے گول مٹول بچوں کو دلفریب حرکتوں کے باوجود نظر نہیں لگتی اور ہم اپنے کالے کلوٹے بچے کو بھی نظر بد سے بچانے کے لئے کالا دھاگہ پہناتے ہیں ۔ان کی لش پش،نئی نویلی مرسیڈیزاوربی ایم ڈبلیو کسی ٹونے ٹوٹکے کے بغیر حادثے سے محفوظ رہتی ہیں مگر ہمیں اپنی پرانی مہران اور آلٹو کے پیچھے بھی کوئی کالی لیر باندھنا پڑتی ہے تاکہ کسی کی نظر نہ لگے۔

ہمارے ہاں کالے علم کی کاٹ پلٹ کے ماہر عامل بابے جس قدر کثرت سے پائے جاتے ہیں اور جنات بھگانے والوں کی دکانیں جس دھج سے چل رہی ہیں ،انہیں دیکھ کر تو لگتا ہے کہ دنیا جہاں کے جنات اوربھوت پاکستان میں ہی بسیرا کیے ہوئے ہیں ۔ہاں جب پاکستانی بیرون ملک جاتے ہیں تو ان کے ساتھ اتنی ہی تعداد میں یہ مافوق الفطرت مخلوق بھی ہجرت کر جاتی ہے۔مثال کے طور پر برطانیہ میں اقامت پذیر پاکستانیوں کے ہاں عاملوں کی بہتات ہے۔کچھ عرصہ قبل برطانوی حکومت نے ایک تحقیقاتی کمیٹی کے ذریعے یہ کھوج لگانے کی کوشش کی کہ کسی نفسیاتی مسئلے کی صورت میں ایشیائی کمیونٹی کے لوگ با الخصوص پاکستانی کسی معالج سے رجوع کرنے کے بجائے عامل کی خدمات کیوں حاصل کرتے ہیں۔وارک میڈیکل اسکول کے پروفیسر سورن سنگھ نے خاصی جستجو کے بعد جو رپورٹ مرتب کی اس میں یہ نتیجہ اخذ کیا کہ جنہیں بھوت پریت سمجھ کر جادو ٹونے سے علاج کرانے کی کوشش کی جاتی ہے وہ دراصل ذہنی بیماریاں ہوتی ہیں ۔

ایک معروف پیرا سائیکالوجسٹ جان کاکوبا نے اپنی تصنیف ’’گھوسٹ ہنٹرز ‘‘ میں یہ تاویل پیش کی ہے کہ آئن اسٹائن کا نظریہ اضافت بھوتوں کے وجود کو ثابت کرتا ہے۔اس نظریئے کے مطابق توانائی مختلف اشکال تو اختیار کر سکتی ہے مگر اسے ختم یا فنا نہیں کیا جا سکتا۔پیرا سائیکالوجی کے مطابق روح بھی توانائی کی ایک شکل ہے جو برقی مقنا طیسی قوت کی صورت میں انسانی جسم میں مقید ہوتی ہے۔انسان مرتا ہے مگر روح کا وجود موت کے گھاٹ نہیں اترتا۔انسان کی موت کے بعد روح عالم ارواح کی طرف پرواز کر جاتی ہے لیکن ان ماہرین کے مطابق جو افراد مرتے وقت کسی انتقام یا بدلے کی آگ میں جل رہے ہوں یا کسی قسم کی شدید محبت یا نفرت کی کیفیت سے گزر رہے ہوں تو ان کی روح دوسرے جہان پرواز کرنے کے بجائے ،دنیا میں ہی بھٹکتی رہتی ہے اور لوگوں کو پریشان کرتی ہے۔ہالی ووڈ اور بالی ووڈ میں اس موضوع پر بہت سی فلمیں بنائی گئیں جو دیکھنے والوں نے بیحد پسند کیں۔پیرا سائیکالوجی کے ان ماہرین کے مطابق کسی شخص کی روح یا بھوت از خود کچھ کرنے سے قاصر ہے ،اسے کوئی بھی کام کرنے کے لئے کسی انسان کی مدد درکار ہوتی ہے۔لہٰذا وہ ہمارے اردگرد بھٹکتے رہتے ہیں تاوقتیکہ کسی انسان کی مدد سے اپنا مشن مکمل کر لیں اور پھر یہاں سے رخصت ہو جائیں۔ہمارے ہاں یوں تو انواع و اقسام کے بہت سے بھوت اور آسیب موجود ہیں مثال کے طور پر دہشت گردی کا بھوت ،طالبان کا آسیب،مہنگائی کا جن،ضعیف العتقادی کا دیو،جہالت کی بدروح ،شدت پسندی کی چڑیلیں وغیرہ مگر میرے خیال میں انسان خود بہت بڑا جن ہے جسے کسی الہ دین کے چراغ کی حاجت نہیں۔جنہیں ہم بھوت یا آسیب سمجھتے ہیںوہ دراصل انسانوں کی ہی ایک قسم ہے۔

یہ محیر العقول بھوت انسانوں کی مدد سے اپنا ایجنڈا آگے بڑھاتے ہیں۔ کچھ ایسے بھوت بھی ہیں جو ہماری ’’معصوم ‘‘ حکومتوں کی مدد سے بحران در بحران جنم دیتے رہتے ہیں ۔مثال کے طور پر پیٹرول کا بحران،سی این جی کی قلت، بجلی کا شارٹ فال، یہ سوچ کر ہی دل دھک دھک کرنے لگتا ہے کہ خد اجانے آگے چل کر یہ بد بخت بھوت کیا کر ڈالے۔جس طرح ہمارے ہاں گھوسٹ اسکول اور گھوسٹ اسپتال ہوتے ہیں ،اسی طرح گھوسٹ حکومتیں بھی ہوتی ہیں ۔یہ بیچاری خود کچھ نہیں کرتیں ،جن ان سے کرواتے ہیں ۔یہ جن اس قدر طاقتور ہیں کہ پلک جھپکنے میں کچھ بھی کر سکتے ہیں۔محض سیاستدان ہی نہیں ،ممبر پر بیٹھے مولانا حضرات بھی ان کے مطیع و فرمانبردار ہیں ۔میرے قبیلے کے کئی قلمکار اور اینکر بھی ان کے اشاروں پر ناچتے ہیں ۔ چنانچہ ان سے کوئی خطاء ہو جائے تو ان کے پیچھے کارفرما بھوت یا جن کو کوسنے دیں انہیں برا بھلا نہ کہیں۔ان حالات کی مناسبت سے میں مجھے مرحوم سلیم احمد کی نظم یاد آتی ہے جو ایسے ہی جنات کے اثرات سے متعلق لکھی گئی تھی۔

بچپن میں بوڑھوں سے سنا تھا
کچھ لوگوں پر جن آتے ہیں

جو ان کو بھگائے پھرتے ہیں
وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں

اپنے آپ نہیں کہتے
جن ان سے کہلاتے ہیں

اب اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے
کچھ لوگوں پر لفظ آتے ہیں

جو ان کو بھگائے پھرتے ہیں
وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں

اپنے آپ نہیں کہتے ہیں
لفظ ان سے کہلاتے ہیں

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں