اب ہوش آیا جناب کو!

پروفیسر شمیم اختر
پروفیسر شمیم اختر
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

یوں تو حکومت پاکستان وزیر خارجہ سے ہی محروم ہے لیکن اس خلا کو پر کرنے کے لیے وزیراعظم نواز شریف نے دو معمر سرکاری اہلکاروں کو ملازم رکھا ہوا ہے جن میں عالمی بینک کے سابق عہدیدار جناب سرتاج عزیز کو اپنا مشیر امور خارجہ و سلامتی جبکہ جناب فاطمی کو بھی خارجہ پالیسی کے مشیر کی حیثیت سے مامور کر رکھا ہے لیکن سرتاج عزیز ضعیف العمری کے باوجود بڑے متحرک اور فعال ہیں۔ اگر انہیں باقاعدہ وزیر خارجہ بنا دیا جائے تو وہ اس منصب سے بخوبی عہدہ برآ ہو سکتے ہیں البتہ ہمیں فاطمی صاحب (معذرت کے ساتھ) گاڑی کا فاضل پہیہ جیسے نظر آتے ہیں شاید اس لیے کہ وزیراعظم ان کی صلاحیت اور تجربے سے کماحقہ فائدہ نہیں اٹھاتے حالانکہ وہ منجھے ہوئے سفارتکار ہیں اور کم از کم ٹیلی ویژن پر تو بین الاقوامی امور پر بڑے طول طویل تبصرے کرتے رہتے ہیں۔ بہر صورت وزیراعظم جس کو جس شعبے کا اہل سمجھتے ہیں اسے اسی حد تک رکھتے ہیں۔

اس بار امریکہ بھارت تزویراتی تصور/ منصوبے کے پاکستان سے متعلق مضمرات پر حسب توقع طارق فاطمی کی بجائے جناب سرتاج عزیز بولے، اور خوب بولے۔ انہوں نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر 2008ء میں بھارت اور امریکہ کے پر امن جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی کے معاہدے پر عمل درآمد میں حائل چند رکاوٹوں کو دور کیے جانے پر پاکستان کے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس (غیر مساوی) اقدام سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہو جائے گا جبکہ امریکہ کو خطے میں توازن برقرار رکھنے کے لیے تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کا دوسرا اعتراض اوباما کا بھارت کو سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کی حمایت پر تھا کیونکہ ان کے بقول جو ریاست سلامتی کونسل کی قرار دادوں کی خلاف ورزی کرتی ہے وہ اس عالمی تنظیم کی رکنیت کی اہل ہرگز نہیں ہو سکتی (ڈان بدھ 28 جنوری 2015ء)۔ یہ پاکستان کا اصولی مؤقف ہے جس پر ماضی کی ہر حکومت اصرار کرتی رہی ہے۔ یوں بھی اقوام متحدہ کے منشور کی شق 3 کے مطابق اقوام متحدہ کی رکنیت کی اہل وہ ریاست ہو گی جو اس (اقوام متحدہ) کے منشور کے عائد کردہ فرائض کی انجام دہی کے قابل اور اس کے لیے آمادہ ہو۔ چنانچہ اس شق کی رو سے تو بھارت اور اسرائیل دونوں اقوام متحدہ کی رکنیت کے اہل نہیں ہیں۔ یہی صورت جوہری مواد فراہم کرنے والی 48 ریاستی تنظیم (NSG) میں بھارت کی رکنیت کے بارے میں بھی ہے۔ اوباما نے NTP (ایٹمی اسلحہ کے عدم پھیلاؤ) کی پالیسی سے انحراف کرتے ہوئے بھارت کو غیر مشروط طور پر NSG کی رکنیت کی حمایت کر دی جبکہ اس کی رکنیت کی اہل وہی ریاستیں ہو سکتی ہیں جنہوں نے اس معاہدے (NPT) پر دستخط کیے ہوں۔ بھارت، پاکستان اور اسرائیل نے اس پر دستخط نہیں کیے۔ یہی اعتراض چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان HUA نے اشارتاً کنایتاً کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ NSG کی رکنیت کے بارے میں کچھ شرائط ہیں جنہیں پورا کرنے کے بعد ہی اتفاق رائے سے بھارت کو اس کی رکنیت حاصل ہو سکتی ہے۔ اگر چین اس پر اڑ جائے کہ NSG میں رکنیت کے لیے بھارت کو NPT پر دستخط کرنے ہوں گے ورنہ وہ اس کی حمایت نہیں کرے گا تو امریکہ سر پٹخ دے لیکن وہ بھارت کو اس تنظیم کی رکنیت نہیں دلا سکتا۔

یہی صورت سلامتی کونسل میں بھارت کی مستقل رکنیت کی بھی ہے۔ اول تو بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کی خلاف ورزیاں کرتا رہا ہے۔ میری مراد بھارت یا پاکستان میں کشمیر کے الحاق کے لیے سلامتی کونسل کی نگرانی میں رائے شماری سے متعلق 21 اپریل 1948ء، 13 اگست 1948ء اور جنوری 1949ء کی قرار دادوں سے ہے جنہیں بھارت نے تسلیم کر لینے کے بعد ان پر عمل درآمد سے نہ صرف انکار کر دیا بلکہ اس متنازع ریاست کو ضم کر لیا۔

اسی طرح بھارت نے 1947ء میں حیدر آباد دکن سے کیے گئے اس وقت کی حیثیت برقرار رکھنے والے معاہدے Stand Still Agreement اور جونا گڑھ کے پاکستان سے الحاق کے باوجود ان دونوں ریاستوں پر فوجی حملے کر کے انہیں انڈین یونین میں ضم کر لیا۔ یہی نہیں بلکہ بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم بڑھتے گئے اور اس نے مشرقی پاکستان میں اندرونی بغاوت میں فوجی مداخلت کر کے ا س پر قبضہ کر لیا اور بعد ازاں وہاں باغیوں کو اس کا اقتدار سونپ دیا جنہوں نے بھارتی قبضے کے دوران بنگلہ دیش کے نام سے آزاد ریاست بنالی۔ اس معاملے میں بھی بھارت نے بنگلہ دیش میں متحاربین کے مابین مفاہمت پر مبنی اقوام متحدہ کی قرار داد کو مسترد کرتے ہوئے مشرقی پاکستان پر فوج کشی کر دی۔ یہ بین الاقوامی قانون یا اقوام متحدہ کی کونسی شق ہے جس کے مطابق کسی ریاست کو دوسری ریاست میں برپا بغاوت میں فوجی مداخلت کر کے اسے علیحدہ کرنے کا حق حاصل ہے؟ اگر یہی مروجہ بین الاقوامی قانون ہے تو ہر طاقتور ریاست دوسری ریاست میں بغاوت کرا کر اس پر حملہ کر سکتی ہے۔ یہ مثالیں تو روز روشن کی طرح عیاں ہیں کہ بھارت کس طرح یکے بعد دیگرے جنوبی ایشیا کی کئی ریاستوں پر فوج کشی کر چکا ہے بلکہ وہ اپنی ہمسایہ ریاستوں نیپال، سری لنکا اور مالدیپ کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتا رہتا ہے۔ ظاہر ہے یہ سب حرکتیں دو بڑی طاقتوں کی شہ پر کر رہا ہے جس سے علاقائی اور عالمی امن معرض خطر میں پڑ گیا ہے۔ وہ 1960ء میں کیے گئے برصغیر کے دریاؤں کے پانی کی تقسیم کے معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

بھارت مقبوضہ ریاست میں انسانیت کے خلاف جرائم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی میں ملوث ہے اور اس کی قابض فوج اسی ہزار کشمیری باشندوں کو قتل اور پندرہ ہزار خواتین کی عصمت دری کر چکی ہے۔ کیا وہ خواتین بھی دہشت گرد تھیں؟
اگر پاکستان کے حکمران اندرون ملک امن و استحکام اور قومی اتحاد برقرار رکھتے اور امریکہ کی غلامی نہ قبول کرتے تو نہ تو مشرقی پاکستان علیحدہ ہوتا نہ کشمیر پر بھارت کا ناجائز قبضہ باقی رہتا۔ کشمیر کا محاذ بھارت کے رحم و کرم پر چھوڑ کر امریکہ کی جنگ میں ملوث ہونا کہاں کی عقلمندی ہے؟ کونسی حکمت عملی ہے؟

اب کشمیر کے حریت پسندوں کو دہشت گرد کہا جا رہا ہے جبکہ وہ اپنے وطن کی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ایک غیر کشمیری طاقت کے فوجی قبضے کے خلاف۔ انہیں بین الاقوامی قانون کی رو سے جنگ آزادی War of National Liberation کا بھرپور قانونی حق اور تحفظ حاصل ہے۔ ان پر جنیوا کنونشن کے اضافی پروٹوکول (Additional Protocol II 1977) کا اطلاق ہوتا ہے اور ان کے قیدیوں کو جنگی قیدی قرار دیا جانا چاہیے جن کے ساتھ جنگی قیدیوں سے متعلق جنیوا کنونشن III مجربہ 12 اگست 1949ء کے تحت انسانی سلوک کیا جانا چاہیے نہ کہ بھارت کے انسداد دہشت گردی کے کالے اور بہیمانہ قانون کے تحت ۔ لیکن ہمارے حکمران اقوام متحدہ یا انسانی حقوق کونسل یا بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) میں یہ سوال کیوں نہیں اٹھاتے؟ اور سمجھتے ہیں کہ ناچ گانے، شعرو شاعری، سرحد پار تجارت، سمگلنگ یا نریندر مودی کو بدھائی دینے سے یا اوباما کی سفارش سے کام چل جائے گا؟ انہیں ہوش کیوں نہیں آتا؟

بشکریہ روزنامہ "نئی بات"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں