.

اس ملک میں سچ بولنے والوں کا قحط نہیں!

نازیہ مصطفیٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وہ برطانوی راج کے دوران ہندوستانی سول سروس کا ایک رکن تھا، اپنی محنت، لگن اور لیاقت کی بدولت وہ ترقی کرتا کرتا برطانوی راج میں گورنر کے اہم منصب پر جا پہنچا، قیام پاکستان سے پہلے وہ سندھ کا آخری برطانوی گورنر تھا۔ قائداعظم محمد علی جناح کی بے مثل قیادت میں پاکستان کا قیام عمل میں آچکا تومختلف صوبوں کے گورنر تعینات کرنے کا مرحلہ آیا۔ قائداعظم محمد علی جناح نے مشاورت کے بعد جی ایچ ہدایت اللہ کو سندھ اور سرجارج کوننگم کو شمال مغربی سرحدی صوبے(کے پی کے) کا گورنر مقرر کردیا، لیکن پنجاب کا گورنر مقرر کرنے کا وقت آیا توقائد کے ذہن میں صرف ایک ہی نام تھا، سندھ کے آخری برطانوی گورنر کا نام۔ قائد کے نزدیک یہ نام سچائی کا استعارہ تھا، جو سچ کیلئے خود اپنے (بندوں، نظریات اور حکومت کے خلاف) بولنے سے بھی گریز نہ کرتا تھا،قائد کا ایہ انتخاب اس وقت درست ثابت ہوا جب وہ کشمیر پر مسلمانوں، کشمیریوں اور پاکستانیوں کی بلند آہنگ آواز بن کر ابھر۔

بھارتی صوبے کے ایک برطانوی گورنر سر مورس ہیلیت کے نام اپنے ایک خط میں اس نے لکھا کہ بھارت کشمیر کو پاکستان پر دباو¿ برقرار رکھنے کیلئے اپنے زیر نگیں رکھنا چاہتا ہے کیونکہ بھارت کے نزدیک پاکستان پر کبھی بھی حملہ آور ہونے کیلئے کشمیر کی وہی اہمیت ہے جو چیکوسلواکیہ پر حملہ کرنے کیلئے ہٹلر کے نزدیک آسٹریا کی اہمیت تھی۔ وہ اس قدر سچ بولتا تھا کہ اُس کے سچ سے برطانوی ایوان بھی خوفزدہ ہو جاتے تھے، بس قائد کو اس کی یہ عادت پسند تھی۔ قائد کی رحلت کے بعد پنجاب میں سیاسی اکھاڑ پچھاڑ شروع ہوگئی۔ اُسے 1949ء میں وزیراعلیٰ پنجاب افتخار حسین کو برطرف کرکے گورنر راج نافذ کرنے کا کہا گیا تو اُس نے اس کی سخت مخالفت کی اور گورنر راج لگانے کی بجائے استعفیٰ دے کر برطانیہ واپس چلا گیا۔ سچ کا یہ علمبردار کوئی مسلمان گورنر نہیں بلکہ قائد اعظم کا انتخاب ایک غیر مسلم سر رابرٹ فرانسس موڈی نے کیا تھا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سچ ایک بہت بڑی نعمت ہے، صرف بولنے والے کیلئے ہی نہیں بلکہ سچ سننے والے اور سچ کو برداشت کرنے والے کیلئے بہت بڑی نعمت ہے، سچ کا کوئی نعم البدل یا متبادل بھی نہیں ہو سکتا۔ سچ صرف وہ نہیں ہوتا جو آپ بولتے ہیں یا جس سے آپ کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں،سچ تو ہر حال میں سچ ہوتا ہے، یہ تاریخ بناتا بھی ہے اور تاریخی کرداروں کو بھی پروان چڑھاتا ہے، اب یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ چوہدری سرور پنجاب کی گورنرشپ سے استعفیٰ دے کر تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں یا وہ تاریخ بنانے کیلئے ایک نئے عزم کے ساتھ نئی منزلوں کے مسافر ہوئے ہیں، لیکن جن حالات میں انہوں نے استعفیٰ دیا اور اپنے اپنے استعفے کے بعد پریس کانفرنس میں اُنہوں نے جو وجوہات بیان کیں، اس میں سب سے اہم بات یہی تھی کہ اُن کے نزدیک اِس ملک میں سچ کا قحط ہے۔

چوہدری سرور کی یہ پریس کانفرس ہر لحاظ سے اہم تھی کہ میڈیا کی جدت کے اس دور میں کسی بھی چھوٹے بڑے لیڈر کا بولا ہر ہر لفظ ریکارڈ ہوجاتا ہے اور تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے، آئیے دیکھتے ہیں کہ بطور گورنری کے سترہ ماہ میں چوہدری سرور کو حکومت میں کتنا جھوٹ نظر آیا اور انہوں نے کتنا سچ پیش کیا؟چوہدری سرور نے کہا کہ گورنر شپ سے مستعفی ہونے کے بعد اب وہ کشمیر کا مقدمہ آزادی سے لڑ سکیں گے تو اس سے اچھی بات اور کون سی ہوسکتی بھلا؟ کون نہیں جانتا کہ مسئلہ کشمیر اُن انگریزوں کا پیدا کردہ ہے، جن کے ملک میں چوہدری سرورکئی دہائیاں قیام پذیر اور بارہ تیرہ برس پارلیمنٹ کے رکن رہے، تو کیا وہ سچ کا قحط ختم کرنے کیلئے برطانیہ جا کر انگریزوں کے خلاف مقدمہ لڑیں گے کہ تقسیم ہند کے وقت انگریزوں کی غلط اور مفاد پرستانہ حکمت عملی کی وجہ سے جنوبی ایشیا کے اُس سب سے خطرناک مسئلے نے جنم لیا جس کی وجہ سے اب تک لاکھوں قیمتی جانیں ضایع ہو چکی ہیں۔

کیا سچ کا قحط ختم کرنے کیلئے چوہدری سرور سچ سچ بتانا پسند کریں گے کہ لینڈ مافیا کے وہ کون سے عناصر تھے، جو ان سے بھی زیادہ طاقتور تھے؟ لینڈ مافیا نے کب کب اور کہاں کہاں چوہدری سرور کو اپنی طاقت دکھائی؟ کیا چوہدری سرور بتائیں گے اگر ان کے علم میں کوئی لینڈ مافیا یا لینڈ مافیا کی کوئی کارروائی آئی تو انہوں نے اس کے خلاف ایکشن لینے کیلئے حکومت کو کوئی ہدایت، سفارش یا تجویز دی یا کوئی سمری ہی ارسال کی ہو؟ جب چوہدری سرور خود ہی کہہ رہے ہیں کہ اس نظام میں اگر فرشتے بھی حکمرانی کیلئے اتر آئیں تو معاملات درست نہیں ہوسکتے، تو پھر اُنہوں نے نظام کو تبدیل کرنے کیلئے حکومت کے اندر کیا کوئی لابنگ کی، کیا اس حوالے سے چوہدری سرور نے وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیراعظم پاکستان کے ساتھ ملاقات کر کے انہیں نظام کی خامیاں بتانے کی کوشش کی؟ کیا انہوں نے نظام کی اصلاح کیلئے کسی بھی سطح پر آواز اٹھائی۔ چوہدری سرور کیا بتانا پسند کریں گے کہ نظام تعلیم اور صحت کے شعبے میں کیا کیا تبدیلیاں لانے کے خواہش مند تھے اور ان کے راستے میں کس نے اور کیا کیا روڑے اٹکائے گئے؟

کیا چوہدری سرور نے تعلیم اور صحت کے شعبے میں تبدیلیوں کیلئے پہلے سے کوئی ہوم ورک کر رکھا تھا؟ اور کیا انہوں نے کوئی حکمت عملی بنا رکھی تھی؟ کیا گورنری کا عہدہ سنبھالنے سے پہلے چوہدری سرور کو معلوم نہیں تھا کہ اٹھارہویں ترمیم کی منظوری کے بعد پاکستان میں صدر مملکت اور صوبائی گورنروں کے عہدے محض نمائشی عہدے ہیں ، جن کی اپنی آئینی حدودقیود ہیں، یا پھر انہوں نے مسلم لیگ ن کی قیادت سے کوئی خاص عہدو پیمان لیے تھے؟ یا انہوں نے میاں نواز شریف اور شہباز شریف سے کوئی معاہدہ کیا تھا کہ وہ اِس اِس شعبے کو اپنی مرضی اور منشاءکے مطابق چلانا چاہیں گے۔ قارئین کرام!!پنجاب کے پہلے گورنر سر فرانسس موڈی نے اِس لیے استعفیٰ دیا کہ انہیں پنجاب کی حکومت کے خلاف سازش کرنے کو کہا گیا تھا، لیکن موڈی نے جواب میں کہا کہ اس ملک میں قحط الرجال تو ہو سکتا ہے لیکن سچ بولنے والوں کا قحط نہیں۔

پنجابیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے موڈی نے کہا تھا ”جو لوگ تاج برطانیہ کے سامنے سچ بول سکتے ہیں، وہ گورنر راج کے میرے غیر آئینی اقدام کے خلاف کیوں نہیں بولیں گے؟ میں جا رہا ہوں کیونکہ اس ملک میں سچ بولنے والوں کا قحط نہیں!“۔ موڈی کے برعکس مستعفی ہونے والے پنجاب کے آخری گورنر چوہدری سرور کہتے ہیں کہ اس ملک میں سچ کا قحط ہے۔ اور اِس ملک میں اگر واقعی سچ کا قحط ہے تو کم از کم چوہدری سرور تو پورا سچ بول جائیں۔ اگر چند روز بعد چوہدری سرور کو پاکستان تحریک انصاف کا صدر مقرر کر دیا گیا (جس کا قوی امکان ہے) تو اُس صورت میں چوہدری سرور تحریک انصاف کے سابق صدر جاوید ہاشمی کے اُس ”الزام“ سے اپنا دامن کیسے چھڑا پائیں گے کہ ”لندن سازش“ میں عمران خان اور طاہر القادری کے درمیان ہونے والی ملاقات میں جناب سابق گورنر بھی موجود تھے؟ آپ نے جو برسوں میں نیک نامی کمائی ، وہ آپ کے آدھے اور مبہم سچ کی وجہ سے داؤ پر لگی ہے جناب! آپ نے اپنی یہ نیک نامی بچانی ہے تو چوہدری صاحب! پورا سچ بولیں! کیونکہ اس ملک میں سچ بولنے والوں کا قحط نہیں!

پس کالم: دو خبریں بہت اہم ہیں۔ ایک خبر تو وہی ہے کہ جو کالم کے آخری حصے میں بیان کردی ہے جبکہ دوسری خبر بھی ”خوشی“ کی خبر ہے۔ وہ خبر یہ کہ جھنگ سے تعلق رکھنے والے ایک سابق ایم این اے کی اسلام آباد میں ایک خوبروسیکیورٹی ایکسپرٹ کے ساتھ منگنی طے پاگئی ہے اور دونوں جلد رشتہ ازدوج سے منسلک ہوجائیں گے۔ دیکھیں یہ جوڑا کب تک اس خبر کو چھپاتا ہے؟ عمران اور ریحام کی طرح خبرکی تردید کرتا ہے کہ یا پھر اِسے خوشی کی بات سمجھ کر اپنے چاہنے والوں کو ڈھول باجے بجانے کا موقع دیتا ہے؟

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.