.

اللہ کی مرضی

مطیع اللہ جان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اس میں کوئی شک نہیں کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے، یہی اعتقاد ہمیں بڑے بڑے حادثات کے بعد دوبارہ جینے کا حوصلہ دیتا ہے۔ پشاور سکول کے بچوں کے شہادت کے بعد ان کے والدین کے کرب کا اندازہ کرنا کسی ماں باپ کیلئے مشکل نہیں۔ آج بھی بہت سے والدین اس سانحے کا سوچ کر آدھی راتوں کو اٹھ بیٹھتے ہیں اور شہید بچوں کے والدین کو صبر جمیل عطا کرنے کی دعا کرتے ہیں۔ اس سانحے نے پوری قوم کی نفسیات کو بدل کر رکھ دیا جس کیلئے سیاسی قائدین کے ساتھ ساتھ ماہرین نفسیات کے کردار سے بھی کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ گزشتہ دنوں ایک خبر نظر سے گزری کہ پشاور آرمی پبلک سکول کے شہید بچوں کے والدین کیلئے جماعت اسلامی کے زیر اہتمام خصوصی کیمپ کا انعقاد ہوا۔

کیمپ کا مقصد والدین کو اتنے بڑے سانحے کے بعد ذہنی اور نفسیاتی دباؤ کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمت دلانا تھا۔ یہ ایک احسن اقدام ہے جو خیبر پختونخواہ میں اتحادی حکمران جماعت کا فرض بھی بنتا تھا۔ کوئی شک نہیں کہ خوشی اور غمی اللہ تعالی کی طرف سے امتحان کی صورت میں نازل ہوتی ہے اس کے باوجود خدا کا عطاکردہ اختیار اور حکمرانی کی امانت کی حفاظت کرنا صاحب اقتدار کا بنیادی فرض ہے۔ ایک طرف صوبے کی حکمران اتحادی جماعت شہید بچوں کے والدین کو صبر کی تلقین کرتی ہے تو دوسری طرف وہ اللہ کی مرضی کے الفاظ کا سہارا لے کر اس سانحے میں اپنی سیاسی، مذہبی، انتظامی اور اخلاقی ذمہ داری سے پہلو تہی نہیں کر سکتی۔

یہ کیسے ممکن ہے کہ اتنے بڑے سانحے کے بعد بھی مذہب اور اخلاق کے منبر پر براجمان جماعت اسلامی ابھی تک اقتدار کی رسی کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہے۔ شہید بچوں کے والدین کو قرآن و سنت کے حوالے سے صبر کی تلقین کرنا قابل قدر سہی مگر کیا مسلمان رعایہ کے تحفظ میں ناکامی پر حکمرانوں کے احتساب سے متعلق بھی قرآن و سنت کا سبق واضح نہیں۔

یقینا شہید بچوں کے والدین کا اعتماد اللہ، قران اور اسکے رسول پر مکمل ہے اور انہوںنے انفرادی طور پر حوصلے اور ایمان کا جو مظاہرہ کیا وہ مظاہرہ شاید ہمارے بہت سے مذہبی رہنما بھی نہ کر سکیں۔بہتر ہو تا کہ جماعت اسلامی کے رہنما محترم سراج الحق از خود پشاور سکول کے شہید بچوں کے والدین کے سامنے پیش ہو کر انکو صبر کی تلقین کرتے اور ساتھ ہی حضرت عمر فاروقؓ کی مثل اقتدار کے لباس میں ’’اضافی کپڑے‘‘ کے استعمال کے لیے جواب دہ ہوتے۔ یہ بات درست ہے کہ صوبے میں اصل حکومت تحریک انصاف اور شہید بچوں کے سکول کے تحفظ کی ذمہ داری فوج کی تھی۔تو پھر جو دہشت گرد سکول میں داخل ہوئے کیا وہ خیبر پختونخواہ کے زیر انتظام سڑکوں اور راستوں سے نہیں گزرے؟۔

کیا صوبے کی پولیس کا اپنے خفیہ اداروں کے ذریعے ان کو روکنا فرض نہیں تھا؟اور پھر اس واقعہ میں قانونی ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے جماعت اسلامی نے حکومت میں ہوتے ہوئے صوبائی سطح کا تحقیقاتی عدالتی کمیشن کیوں نہیں بنایا۔اس کمیشن سے یہ تو حتمی طور پر معلوم ہو جاتا کہ شہید بچوں کی حفاظت میں غفلت کے حقیقی ذمہ دار کون ہیں۔ صوبے میں اتنی بڑی خونریزی کے بعد اقتدار کو قانونی نہیں تو اخلاقی اعتبار سے تو چھوڑنا جماعت اسلامی جیسی اصول پسند اور مذہبی جماعت کیلئے مشکل نہیں ہونا چاہئے تھا۔ اس سانحے کے بعد صورتحال اس کرکٹ میچ جیسی لگ رہی ہے کہ جس میں تحریک انصاف کے کپتان بیٹنگ اینڈ پر ٹک ٹک کرتے رہے اور جماعت اسلامی بائولر اینڈ پر خاموش کھڑی ہے جبکہ ن لیگ کے بائولر اس وجہ سے تیز گیند نہیں کرا رہے کیونکہ پچ کی تیاری اور منظوری میں ایمپائروں سے بڑی غلطی ہو گئی ہے۔

بائولر اینڈ پر کھڑی جماعت اسلامی بھی باقیوں کی طرح ایمپائر کے خلاف آواز اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں۔ تو پھر ایسی صورت میں جماعت اسلامی شہید بچوں کے والدین کو صبر کی تلقین کے سوااور کیا کر سکتی ہے۔ ہاں ایک اور کام ہو سکتا ہے۔ تمام مقتدر جماعتوں اور ان کے قائدین کے لیے ایک ورکشاپ کا اہتمام کیا جائے جس میں انھیں شرمندہ ہونے کی باقاعدہ تربیت دی جائے ایک ایسی شرمندگی جو رعایا کی حفاظت میں ناکامی پر ہر حاکم کو ہو اور شرمندگی کے ساتھ ساتھ اتنی جرات کا ہونا بھی لازمی ہو۔ اگر طاقت سے دہشت گردوں کا قلع قمع نہیں تو انھیں کارروائیوں سے روکا جا سکے۔

وہ نہیں تو کارروائی کے بعد انھیں پکڑا جا سکے۔ وہ نہیں تو گرفتار شدہ ملزمان میں سے ثابت شدہ دہشت گردوں کو سزا مل سکے۔ اگر یہ بھی نہیں تو کم از کم سزا یافتہ دہشت گردوں کی سزا پر فوری عمل ہو سکے اور اگر یہ سب کچھ نہیں ہو سکتا تو کم از کم ایسی ورکشاپوں میں اتنی اخلاقی جرات تو پیدا ہو کہ پشاور جیسے سانحات کے بعد ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے اقتدار کوچھوڑ دیا جائے اور پھر غفلت کے حتمی ذمہ داروںکا تعین کرنے کے لیے اپنے آپ کو تحقیقاتی کمیشن کے سامنے پیش کر دیا جائے۔ بدقسمتی سے ہماری چند مذہبی جماعتوں کے نزدیک اقتدار میں رہ کر ہی مذہب کی خدمت کی جاسکتی ہے اور اس کے لیے آمریت اور جمہوریت میں تمیز کرنا بے معنی ہے ۔ حکومت کرنے کا موقع ملے یا پھر اس کو چھوڑنے کا وقت آجائے تو بھی صبر و تحمل اور قناعت کی نصیحتیں محکوم عوام کے لیے مختص ہیں۔

بطور امیر جماعت اسلامی سراج الحق آرمی پبلک اسکول کے ایک سو چالیس بچوں کی دہشت گردوں کے حملے میں شہادت پر صوبائی حکومت سے علیحدہ کیوں نہیں ہوسکتے جب کہ انھوں نے اکتوبر دو ہزار چھ میں باجوڑ کے مدرسے میں ڈرون حملے کے باعث اسی سے زائد بچوں کی شہادت پر صوبائی وزرات سے استعفیٰ دیا تھا ۔کیا اب اقتدارسے باہر رہ کر صبر کرنا پشاور اسکول کے ایک شہید لخت جگر کی ماں کے صبر سے بھی زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ بات اتنی سی ہے کہ پشاور واقع کی ذمہ داری تو دہشت گردوں نے قبول کر لی ہے۔ اس کے روکنے میں ناکامی کی ذمہ داری کوئی قبول نہیں کر رہا اور نہ ہی اس کا باقاعدہ مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کی صوبائی حکومت جب چاہے تحقیقاتی کمیشن بنا سکتی ہے ۔اس میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں شہید بچوں کے ورثا کو معاوضہ یا زخمی بچوں کو علاج کی سہولتیں دینا کافی نہیں اور نا ہی زندہ بچ جانے والے بچوں کے ساتھ تصاویر کھینچوانا یا انھیں آٹوگراف دینا اور پھر شہید بچوں کے والدین کو قرآن و سند کے حوالے سے حوصلہ دینا تو انتہائی احسن اقدام سہی انھیں انصاف دینا بھی ضروری ہے اور یقینا ایسے انصاف کی فراہمی کے لیے بھی جماعت اسلامی کے پاس قرآن و سنت کے حوالے موجود ہیں ۔ ویسے تو ہر کام میں اللہ تعالی کی طرف سے کوئی بہتری ہوتی ہے اور ہر کام خدا چاہے تو ہوتا ہے۔ مگر اللہ کی مرضی کے سہارے جب کوئی نصیحت کرنے والا اپنی کوتاہیوں اور غفلت پر پردہ ڈالے اور مظلوموں کو گمراہ کرے۔ تو پھر کوئی شک نہیں کہ ایسے ناصح کی باتوں پر کان نہ دھرنے میں بھی اللہ کی مرضی شامل ہوتی ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ’’نوائے وقت‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.