.

خطے میں کشیدگی میں اضافہ امریکی شہ پر

نصرت مرزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مغرب اور امریکہ پوری دُنیا میں مسلمانوں کے خلاف صفِ آرا ہیں، اُن کا خون بے دریغ بہایا جارہا ہے، مسلک، مذہب، لسان اور بدلے کی بنیاد پر تقسیم کیا جارہا ہے اور ایسے لوگوں کو مسلح کیا جارہا ہے جو مذہب سے نابلد ہیں۔ وہ مذہب جو امن و سلامتی کا پیغام دیتا ہے، اُن کے مذہب سے ناآشنا لوگوں کو غربت، اُن کے جوش، انتقام، مسلکی نفرتوں کو ابھار کر دین اسلام کے ماننے والوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کردیا ہے۔ نائیجیریا جیسے ملک میں بوکو حرام جیسی تنظیم کو مضبوط کیا جارہا ہے تاکہ وہ اسلام کے نام پر عیسائیوں کو مارے اوراسلام کو مغرب میں بدنام کریں، اس کا سربراہ اسلام کی بنیادی تعلیم سے ناآشنا ہے۔ اِس طرح آئی ایس نامی تنظیم کے لوگوں کو مغرب نے پالا، پڑھایا پھر تربیت دے کر عراق میں داخل کردیا ہے جو انسانوں کا خون بہانے کو کھیل سمجھتے ہیں، اس سے وہ اپنے ہیرو ازم کے تصور کی تشفی کرتے ہیں۔ ایک آئی ایس کے لڑاکا نے فرانس میں اپنے والدین کو لکھا کہ انہوں نے زندگی میں کیا کیا ہے، صرف کپڑے پہنے اور کھلایا مگر اب وہ کچھ کام کررہے ہیں۔ اطلاعات کے بموجب وہ عراق کےایک علاقے میں حکومت چلا رہے ہیں، وہ اپنے حکم پر عملدرآمد کراتے ہیں، ورنہ ماردیتے ہیں۔ مقصد تو عراق کی تقسیم تھا جو مغرب نے پورا کرادی ہے، عراق کوتین حصوںمیںتقسم کرنے کے منصوبے تکمیل کے مراحل ہیں جو طے ہورہے ہیں۔ اسی طرح سے مغرب کے جہاں بھی اثرات پہنچتے ہیں وہاں مسلمانوں کا خون بہنا شروع ہو جاتا ہے، یورپ کے بادشاہوںنے کونسل بنا رکھی ہے وہ مسلمانوں کی دل آزاری کے منصوبے بناکر مسلمانوں کو اشتعال دلاتے ہیں اور پھر خود مسلمان اپنا نقصان کرنا شروع کردیتا ہے۔ فرانس کے سپلائی کے ٹینکروں کی فرانسیسی تیل نہ لے جانے سے پہلے کسی عاقل سے یہ نہیں ہوا کہ فرانس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرتے تو ان کو پتہ چلے کہ اُن کو معاشی طور پر کتنا نقصان ہوا۔ پھر پاکستان کو لے لیں یہاںجو انتہا پسند پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کررہے ہیں جو امریکہ کے پروردہ ہیں۔

پاکستان پر حملہ تو نہیں کیا جاسکتا البتہ اِسے مشکل میں ڈالے رکھنا ہے پھر پاکستان اور بھارت پر آجائیں تو یہ ڈھکی چھپی بات تو نہیں تھی جو امریکی صدر نے بھارت کو اپنا سچا اتحادی قراردیا، فطری اتحادی بھی کہہ سکتے تھے کہ دونوں کے مقاصد مسلمانوں کا خون بہانا ہے۔ 25 اور 26 جنوری 2015ء کو بھارتی یوم جمہوریہ کے موقع پر بطور مہمان خصوصی آنے والے امریکی صدراوباما نے بھارت کو غیرمعمولی اہمیت دی، اُسے اقوام متحدہ میں مستقل نشست دلانے سے لے کر نیوکلیئر سپلائی گروپ میں شامل کرنے تک اوربھارت سےتجارت کرنے اور بھارت کو ٹیکنالوجی فراہم کرنے تک کے معاملات طے کرلئے گئے۔ امریکہ نے بھارت کو 4 کھرب روپے دینے کا اعلان بھی کیا ہے جو قرضوں یا سرمایہ کاری کی مد میں ہوں گے۔ ہم نے 3 ستمبر 2014ء کو بھارت کی بڑھتی اہمیت کے عنوان سے لکھے گئے کالم میں اس کی اطلاع پہلے سے دیدی تھی۔

18 اگست 2014ء کو امریکی وزیر دفاع چک ہیکل بھارت کے دورے پر آئے تھے اور دفاعی میدان میں بھارت کو کئی اہم پیشکش کی تھیں جس میں بھارت کو عالمی طاقت بنانے اور اُس کی خواہش کے مطابق پاکستان کو زیر کرنے کیلئے7 جدید ٹیکنالوجی پر مشترکہ تحقیق کے ساتھ ایسی جدیدٹیکنالوجی پر کام کرنے اور مشترکہ پیداواری صلاحیت بڑھانے کی بات کی تھی جو اس سے پہلے انہوں نے کسی اور ملک کو یہ پیشکش نہیں کی۔ اِن میں ہدف کے راستے میں حائل ہر چیز سے بچ کر یا تباہ کر کے ہدف کو نشانہ بنانے والا میزائل، سپر کمپیوٹر جس میں زیادہ سے زیادہ معلومات اکٹھی کی جا سکیں، مستعد متحرک نگرانی کا نظام، ہاک 21 جیونئیل زمین سے فضا میں مار کرنے والا میزائل، مقناطیسی غلیل جو چھوٹے سے بحری جہاز پر بڑے سے بڑا طیارہ اتارنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اِس کے علاوہ اور بھی ہتھیاروں کی پیشکش کی تھی، جس سے بھارت کی باچھیں کھل گئیںکہ وہ یہی چاہتا ہے کہ وہ بھارت اور مہا بھارت بنے، افغانستان، ایران سے لے کر انڈونیشیا تک اُس کی سلطنت ہو، اِس میں تاحال پاکستان حائل رہا ہے۔ اس سلسلے میں امریکہ نے بھارت کی زبان میں گفتگو کرکے جماعت الدعوۃ، حقانی نیٹ ورک اور دائود ابراہیم گروپ کا نام بھی لیا، جو بھارت کو اکسانے کے مترادف ہے اور خطے میں کشیدگی کو ہوا دینے کی ایک اور کوشش قرار پائے گی۔ اس سے بھارت پھول کر غلطی کرے گا اور پاکستان اور چین کے ساتھ چھیڑچھاڑ جاری رکھے گا۔ تاہم امریکی صدر کے بھارت کے یوم جمہوریہ میں بطور مہمان خصوصی شریک ہونے کے دوران بھارت نے اپنے ایٹمی اگنی میزائل کی نمائش نہیں کی جس کی نمائش کی بھارتی خواہش پر ہم نے اپنے 19 جنوری 2015ء کے کالم میں اعتراض کیا تھا۔ معلوم نہیں یہ کریڈٹ ہمیں لینا چاہئے یا نہیں تاہم اس کی نشاندہی کرنے کا کریڈٹ ہم ضرور لے سکتے ہیں کہ اس کے بعد اگنی 5 کی نمائش نہیں کی گئی، جس پر بھارت میں حکومت کے خلاف بھارتی عوام اور میڈیا کا شدید ردعمل سامنے آرہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی تاریخ میں اس سے بڑا خراب موڑ نہیں آیا جس نے اُس کے سارے حساب تلپٹ کردیئے ہوں کہ دہشت گردی کیخلاف قربانیوں کو نظرانداز کردیا گیا۔ دہشت گرد اُس کیخلاف حملے کرنے کے لئے کھلے چھوڑ دیئے ہیں اور بھارت کو کھلی چھٹی دیدی گئی ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف ہر طرح کی سازش کرے یا پراکسی جنگ لڑے یا مغربی سرحدوں سے مداخلت کرے۔ امریکی صدر اوباما نے بھارت کو افغانستان میں بھی اچھا ساتھی قرار دیا۔

اسی وجہ سے اگست اور ستمبر میں بھارت کے انگریزی و ہندی اخبارات یہ لکھ رہے تھے کہ بھارت کے اچھے دن آگئے ہیں۔ یہ پاکستان کیلئے لمحہ فکریہ ہے کہ وہ ایسے حالات سے نمٹنے کے لئےکس طرح کی پالیسی وضع کرے۔ اوباما نے جہاں مودی کی پیٹھ ٹھوکی تو چین نے پاکستان کے چیف آف دی آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کو اوباما کے دورئہ بھارت کے دوران چین آنے کی دعوت دی اور پاکستان کو اپنے تعاون کا یقین دلایا یا واضح کیا کہ پاکستان چین کا قابل اعتماد دوست ہے اور اس کا کوئی متبادل نہیں۔ پاکستان کے خدشات ہمارے خدشات ہیں، ہر سطح پر دوست ملک کی مددکریں گے۔ واضح رہے کہ میں اپنے کالموں میں لکھ چکا ہوں کہ چین نے اِس عزم کا اظہار کردیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مل کر ایک نیا عالمی نظام وضع کرے گا اور اس میں وہ کسی رکاوٹ یا کسی تامل یا کسی مصلحت کو خاطر میں نہیں لائے گا جس کا اعادہ انہوں نے اب سرکاری طور پرکردیا ہے۔ امریکہ نے بھارت کی اس طرح پیٹھ ٹھونک کر دراصل پورے ایشیا میں تنائو کی کشیدہ فضا کو یکدم ہوا دیدی ہے، جو نہ صرف جنوبی ایشیا اور براعظم ایشیا پر ہی موقوف نہیں بلکہ پوری دُنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ اس صورتِ حال میں پاکستان کے پاس کچھ مواقع بھی ہیں کہ وہ نئی صف بندی کرنا شروع کرے۔ اگر یہ تہذیبی جنگ کا پیش خیمہ ہے تو تمام مسلمانوں کو جمع کرے اور اس میں کلیدی کردار ادار کرے اور اگر ایٹمی معاملات میں پیش رفت کرنا ہے تو اس کو کرنے سے نہ چوکے۔ صرف افغانستان میں امریکہ کے استعمال شدہ اسلحہ کے لولی پاپ سے نہ بہلے اس خطے میں خوفناک منظرنامہ بن رہا ہے اس سے نمٹنے کی سبیل کرے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.