.

وہ بھی لعنت کر گیا..

انصار عباسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میرے گزشتہ کالم ـ’’روشن خیالی یا بے غیرتی‘‘ پر کچھ حضرات نے اعتراض کیا کہ روشن خیالی کو بے غیرتی کے ساتھ کیوں جوڑا گیا۔ اس کے جواب میں میں لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) شاہد عزیر کی کتاب سے ایک واقعہ اور کچھ اقتباسات پیش کر رہا ہوں تا کہ قارئین کو اندازہ ہو سکے کہ پاکستان میں روشن خیالی کا کیا مطلب ہے ۔جنرل عزیز روشن خیالی کے ایک واقعہ کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’میری ریٹائرمنٹ کے بعد مارچ 2006ء میں، جن دنوں مین NAB میں تھا، امریکہ کے صدر حضرت جارج بُش اسلام آباد تشریف لائے۔ رات کو پریزیڈنٹ ہائوس میں کھانا ہوا اور ایک ثقافتی پروگرام پیش کیا گیا۔ پروگرام میں پاکستان کی تہذیب پر ایک نگاہ ڈالی گئی، کہ ہماری تہذیب پر تاریخ کے کیا اثرات رہے۔ پہلی تصویر ہمارے معاشرے کی موئن جو دڑو کے ادوار کی پیش کی گئی۔ نیم عریاں لڑکیوں نے ناچ کر ہمیں سمجھایا کہ ہماری ثقافت کی ابتدا کہاں سے ہوئی۔ پھر بتایا گیا کہ الیگزینڈر کے آنے سے ہم نے ایک نیا رنگ حاصل کیا۔ اس رقص میں فیشن بدل گیا اور لباس بھی مزید سکڑ گئے۔ پھر اگلا رقص عکاسی کرتا تھا ہندوانہ تہذیب کی برہنگی کا، جس کا اثر ہماری تہذیب پر رہا۔ جب لباس غائب ہونے لگے تو میں ڈرا کہ آگے کیا آئے گا۔ لیکن پھر کافرستان کی رقاصائیں آ گئیں، کہ یہ اب بھی یہاں ناچتی ہیں۔صرف اس پیشکش میں کچھ ملبوس نظر آئے۔ اگلے رقص میں چھتریاں لئے برطانیہ کی میم صاحبائیں دکھائی گئیں، جنہوں نے چھتریوں کے علاوہ دستانے بھی پہنے تھے اور کچھ رومالیاں ہاتھوں سے باندھی ہوئی تھیں۔ پھر اگلے رقص میں پاکستان کی موجودہ تہذیب کی عکاسی میں لڑکوں اور لڑکیوں نے مل کر، خفیف سے ملبوس میں جنسی کنائیوں (sexual innuendoes) سے بھرپور رقص پیش کر کے حاضرین کو محظوظ کیا۔

آخر میں ایک اور انوکھا رقص پیش کیا گیا اور کہا گیا کہ یہ وہ مستقبل ہے جس کی طرف ہم رواں ہیں۔ اسٹیج پر برہنہ جانوروں کی مانند بل کھاتے، لپٹتے ہوئے اپنے مستقبل کی تصویر دیکھ کر جی چاہا شرم سے ڈوب مروں، مگر حیوانیت نے آنکھیں بند نہ ہونے دیں۔ بچپن میں سنا تھا کہ یہاںکبھی محمد بن قاسم بھی آیا تھا اور بہت سے بزرگان دین بھی۔ مگر شاید اُن کا کچھ اثر باقی نہ رہا تھا۔جب ہم اپنا تماشا دکھا چکے اور حضرت بش اُٹھ کر جانے لگے تو تمام مجمع بھی اُن کے پیچھے دروازے کی طرف بڑھا۔ وہ دروازے پر پہنچ کر رک گئے۔ پھر ہماری طرف مڑے تو سارا مجمع بھی ٹھہر گیا۔ دانت نکال کر اپنے مخصوص انداز میں مسکرائے، گھٹنے جھکا کر کو لہے مٹکا ئے، دونوں ہاتھوں سے چٹکیاں بجائیں اور سر ہلا کر تھوڑا اور مٹک کر دکھایا، جیسے کہہ رہے ہوں، ’’ہُن نَچو‘‘۔ جس کی خوشی کے لیے ہم نے قبلہ بدل لیا، اپنی تاریخ جھٹلا دی، اپنا تمدن نوچ کر پھینک دیا، وہ بھی لعنت کر گیا۔روشن خیالی کے نام پر بے شرمی اور بے غیرتی کے اس واقعہ کو بیان کرنے سے پہلے جنرل عزیز لکھتے ہیں: ’’CGS کی کرسی پر دو سال مجھ پر بہت بھاری گزرے۔ سب کچھ ہی غلط ہوا۔ افغانستان پر غیر جانبداری کا جھانسا دے کر امریکہ سے گٹھ جوڑ کیا اور مسلمانوں کے قتل و غارت میں شامل ہوئے۔ نئے نظام کے وعدے پر آنے والا ڈکٹیٹر ریفرنڈم کے جعلی نتیجے کے بل بوتے پر پانچ سال کے لیے صدر بنا، نااہل اور کرپٹ سیاستدانوں کی حکومت فوج کے ہاتھوں قائم کی گئی، امریکہ کے دبائو پر کشمیر کو خیر آباد کہا، بلوچستان میں علیحدگی پسندی کی آگ لگائی گئی، کاروباری ٹی وی چینلز کھولنے کا فیصلہ کر کے قوم کی فکریں بھی منڈی میں رکھ دیں۔ پھر ’’سب سے پہلے پاکستانــ‘‘ کا دوغلا نعرہ لگایا اور دین کو روشن خیالی، اعتدال پسندی (enlightened moderation) کا نیا رنگ دیا--- دین اکبری سے آگے نکل کر، دین پرویزی۔ پاکستان میں دین کا رجحان ختم کرنے کے لیے یہ نسخہ امریکہ کا تجویز کردہ تھا۔ قبلہ واشنگٹن کی طرف موڑ نے کے بعد آہستہ آہستہ لوگوں کے ذہنوں کو قابو کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ تمام ٹی وی چینلز پیش پیش رہے۔ ایک سے ایک عالم اور فقیہ خریدے گئے۔ فرقہ وارانہ تنظیموں کے گند کو اُچھال اُچھال کر اُسے جہادیوں سے جا ملایا۔پھر مُلا کی جہالت کو مروڑ کر دین کو بدنام کیا اور اُسے نیا رنگ دے کر، نئی اصلاحات پیش کی گئی۔ اسلام کے قواعد پر چلنے کو ’’بنیادپرستی‘‘ کہا گیا، پھر اُسے ’’شدت پسندی‘‘ سے جا ملایا۔ یعنی ’’ملا کی جہالت کو چھوڑ دو اور اصل اسلام پر آجائو، وہ یہ ہے جو میں بتا رہا ہوں‘‘۔ کچھ سچ میں تمام جھوٹ ملا کر، ڈھولک کی تھاپ پر ایک ناچتا ہوا معاشرہ سیدھی راہ بتائی گئی۔ جہاں ہر شخص کو اللہ کی رضا چھوڑ کر اپنی من مانی کی چھوٹ ہو۔ جب منزل دنیا کی رعنائیاں ہو اور دھن دولت ہی خدا ہو، تو پھر یہی سیدھی راہ ہے۔‘‘

جنرل عزیر مزید لکھتے ہیں:’’پھر عورتوں پر معاشرے میں ہوتے ہوئے مظالم کو دینی رجحان سے منسلک کیا گیا اور حقوق نسواں کو آزادی نسواں کا وہ رنگ دیا گیا کہ عورت کو عزت کے مرتبے سے گرا کر نیم عریاں حالت میں لوگوں کے لیے تماشا بنایا۔ایک مرتبہ کور کمانڈر کانفرنس میں کور کمانڈروں نے ملک میں پھیلتی ہوئی فحاشی پر اظہار تشویش کیا تو مشرف ہنس کر کہنے لگے میں اس کا کیا کروں کہ لوگوں کو ایک انتہا سے روکتا ہوں تو وہ دوسری انتہا کو پہنچ جاتے ہیں اور پھر بات کو ہنسی میں ٹال دیا۔ مگر حقیقت مختلف تھی۔ صدر صاحب کی طرف سے باقاعدہ حوصلہ افزائی کی گئی اور پشت پناہی ہوئی تو بات یہاں تک پہنچی۔ اس سلسلے میں کئی NGOs بھی کام کر رہی تھیں اور بے بہا پیسہ خرچ کیا جا رہا تھا۔ یہ سب کی آنکھوں دیکھا حال ہے۔ GHQ آڈیٹوریم میں جنرلوں کو فوجی سیریمونیل لباس (ceremonial dress) میں، جو خاص احترام کے موقع پر پہنا جاتا ہے، بٹھا کر گانوں کی محفلیں سجائی گئیں۔‘‘
مشرف دور میں شروع کی جانی والی اس روشن خیالی کی داستان کو میں نے قارئین کے سامنے ایک ایسے گواہ کی گواہی کے ساتھ پیش کیا جو نہ صرف مشرف کو قریب سے جانتا تھا بلکہ اُس دور میں روشن خیالی کے نام پر اس بے غیرتی اور بے ہودگی کے وجوہات سے بھی واقف تھا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.