.

جوابی تزویراتی بیانیہ

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غلطی ہماری تھی یا پڑوسیوں کی یا پھر دونوں کی لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان اپنے قیام سے لے کر آج تک بیک وقت مشرقی اور مغربی سرحدوں سے خطرات سے دوچار رہا۔ عوام کبھی دشمن نہیں رہے لیکن افغانستان میں پاکستان کو دوست حکومتیں بہت کم دیکھنے کو ملیں۔ افغانستان خود کبھی پاکستان کے لئے براہ راست خطرہ نہیں رہا لیکن جب بھی موقع ملا ہندوستان نے اس کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا اور جواب میں پاکستان، افغانستان کو قابو میں رکھنے اور اسے ہندوستان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ اسی طرح سوویت یونین کا افغانستان میں آنے کا ایک مقصد بھی پاکستان کے قریب مورچہ بنانا اور مستقبل میں اسے زیر کر کے گرم پانیوں تک پہنچنا تھا۔ آبادی کے لحاظ سے پاکستانی فوج کا سائز بہت بڑا ہے لیکن ہندوستان کے مقابلے میں یہ تعداد آدھی سے بھی کم ہے۔ اسی طرح پاکستان کی قومی آمدنی کے تناسب سے پاکستان کے دفاعی بجٹ کا سائز فلاحی ریاستوں کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے لیکن ہندوستان کے دفاعی بجٹ کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ ان دو طرفہ خطرات اور طاقت کے عدم توازن کی روشنی میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے دفاعی لحاظ سے غیرروایتی طریقوں کی طرف رجوع کیا۔

افغانستان کے محاذ پر چونکہ براہ راست فوجی مداخلت مشکل تھی، اس لئے سوویت یونین جیسی طاقت کے مقابلے کے لئے افغانستان کے اندر امریکہ اور عرب دنیا کے تعاون سے مجاہدین کی صورت میں پراکسیز (Proxies) کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ آغاز ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ہوا اور جنرل ضیاء الحق کے دور میں یہ پالیسی پورے عروج کو پہنچی۔ افغان مجاہد تنظیموں کو چونکہ پاکستان میں کھل کر نظریاتی اور مالی غذا فراہم کرنا مقصود تھا، اس لئے ان کے لئے پاکستانی قوانین کو نرم کردیا گیا۔ ان کو اور ان کے پاکستانی ہمدردوں کو ملک کے اندر اسلحہ لے کر چلنے اور اس کے انبار لگانے کی اجازت دی گئی۔ ان کی نظریاتی غذا کے لئے مدرسوں کے قیام کے ساتھ ساتھ ریاستی سرپرستی میں جہادی لٹریچر تقسیم ہونے لگا۔ شریعت اور معاشرت کے حوالے سے مجاہدین کی سوچ جو بھی رہی لیکن چونکہ وہ سوویت یونین اور ہندوستان کے مقابلے میں پراکسی کا کردار بخوبی ادا کررہے تھے، اس لئے ان کی اور پاکستان کے اندر ان کے سرپرستوں کی سرپرستی‘ ریاستی اداروں کی طرف سے جاری رہی ۔ سوویت یونین کے انخلاء کے بعد یہی تجربہ مشرقی بارڈر پر مقبوضہ کشمیر میں بھی آزمانے کی کوشش کی گئی اور ملک کے اندر بھی جہادی تنظیموں کی حوصلہ افزائی کا آغاز ہوا۔

ایک وقت آیا کہ افغانستان کے داخلی حالات کی وجہ سے مجاہدین کے شاگرد طالبان کے نام سے اپنے استادوں کے خلاف میدان میں نکلے۔ وہ پاکستان کے تزویراتی مقاصد حاصل کرنے کے حوالے سے مجاہدین سے بھی دو قدم آگے تھے، چنانچہ ان کی سرپرستی کا عمل بھی مزید شدت اور ڈھٹائی کے ساتھ شروع ہوا۔ اس دوران مشرقی سرحد پر مصروف عمل پاکستانی مجاہدین اور افغان طالبان کے درمیان بھی رابطے استوار کئے گئے اور ایک وقت میں طالبان کے افغانستان کو کشمیر کی آزادی کے لئے بیس کیمپ کے طور پر بھی استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔ نائن الیون کے بعد حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ امریکہ کی قیادت میں پوری دنیا پاکستان کی ان پراکسیز کے خلاف میدان میں نکل آئی چنانچہ جنرل پرویز مشرف نے مجبور ہوکر افغان طالبان کو قربان کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے ردعمل میں طالبان اور مجاہدین کے ایک حلقے میں یہ سوچ فروغ پا گئی کہ پاکستان نے انہیں استعمال کرکے بے وفائی کی، اس لئے انہوں نے اپنی بندوقوں کا رخ پاکستان کی طرف کرلیا۔ تب پرویز مشرف کی دلیل یہ تھی کہ انہوں نے ایسا کشمیر کاز کی خاطر کیا لیکن پھر جب افغانستان میں امریکہ اور افغان حکومت نے پاکستانی مفادات کو زک پہنچانا شروع کیا تو انہوں نے بھی افغان طالبان سے متعلق کسی حد تک ماضی کی پالیسی کی طرف رجوع کرنا شروع کیا۔ چنانچہ یہ پالیسی اپنائی گئی کہ جو طالبان اور مجاہدین سرحدوں سے باہر مصروف ہیں، انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا اور جو پاکستان کے اندر کارروائیاں کریں گے، انہیں بیڈ طالبان قرار دے کر طاقت کے ذریعے ختم کیا جائے گا۔ چونکہ مشرقی اور مغربی سرحد پر یہ لوگ پاکستان کے تزویراتی مقاصد کو پورا کررہے تھے، اس لئے پاکستان کے اندر ان کے نظریاتی منابعے کو بھی نہیں چھیڑا گیا۔

اسی سوچ کے تحت سوات میں سنجیدہ آپریشن ہوا لیکن شمالی وزیرستان میں آپریشن سے گریز کیا جاتا رہا۔ لیکن پاکستان کے پالیسی سازوں نے جیسا سوچا تھا، ویسا نہیں ہوسکا۔ افغانستان اور کشمیر میں کسی حد تک تزویراتی مقاصد تو پورے ہوتے رہے لیکن خود پاکستان، افغانستان بننے لگا۔ گویا بیرونی خطرات کے تناظر میں جن عناصر کی سرپرستی کی جاتی رہی، وہ اس قدر خطرہ بن گئے کہ سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو اعلان کرنا پڑا کہ اندرونی خطرہ، بیرونی خطرے سے زیادہ ہے۔ دھیرے دھیرے اندرونی خطرے کا یہ احساس بڑھنے لگا لیکن پچھلے سالوں میں کنفیوژن برقرار رہا۔ البتہ آرمی پبلک اسکول پشاور کے سانحہ کے بعد سیاسی اور عسکری قیادت نے مل کر یہ اعلان کیا کہ گڈ اور بیڈ کی تفریق کے بغیر اب ہر طرح کے مذہبی عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔ اس تناظر میں ایک قومی ایکشن پلان بھی سامنے لایا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ اب طاقت صرف قبائلی علاقوں میں نہیں بلکہ باقی ماندہ پاکستان میں بھی استعمال کی جائے گی ۔ گویا مشرقی اور مغربی بارڈر پر پراکسیز کے ذریعے اپنے دفاعی مقاصد حاصل کرنے کی پالیسی کی ناکامی کا اعتراف کرکے یہ عزم ظاہر کیا گیا کہ اچھے اور برے (گڈ اینڈ بیڈ) کی تمیز کئے بغیر سب کے خلاف کارروائی ہوگی ۔ گویا ہم نے اپنے سابقہ تزویراتی بیانیہ کے غلط ہونے کا قومی سطح پر اعتراف کرلیا(اگرچہ اس بیانیہ کے خالق اور وکیل کبھی قوم سے معافی نہیں مانگیں گے اور آج بھی مونچھوں کو تائو دے کر قوم کو بھاشن دیتے رہیں گے ) لیکن سوال یہ ہے کہ سابقہ بیانیہ سے تائب ہونے سے قبل ‘کیا ہم نے جوابی تزویراتی بیانیہ تشکیل دے دیا ہے ؟۔ افغان محاذ پر مشکلات وقتی طور پر کم ہوئی ہیں لیکن اگر پاکستان نے افغان حکومت کے حسب منشاء اپنے وعدے پورے نہ کئے تو دوبارہ ماضی جیسی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اس صورت میں مغربی فرنٹ سے ابھرنے والے خطرات کا مقابلہ کیسے کیا جائے گا؟۔ اسی طرح ہندوستان کشمیر کی آزادی پر آمادہ ہوا ہے اور نہ پاکستان کے بارے میں اس کا دل صاف ہوا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اگر جہادی تنظیموں کو واقعی دبایا جارہا ہے تو پھر مشرقی فرنٹ پر ہندوستان کی سازشوں کا مقابلہ کیسے ہوگا؟۔ قومی ایکشن پلان میں گڈ طالبان یا اچھے مجاہدین کو سوسائٹی میں ضم کرنے یا پھر بیڈ طالبان کے ساتھ مفاہمت کا کوئی راستہ تجویز نہیں کیاگیا ہے ۔ کیا سب کو یکساں طور پر طاقت کے ذریعے زیر کیا جائے گا اور اگر ایسا کیا جائے گا تو کیا اس صورت میں سب مل کر پاکستانی ریاست کے خلاف صف آراء نہیں ہوں گے ؟۔ ہم جسے حکمت عملی کی تبدیلی کہتے ہیں ‘ گڈ طالبان اور جہادی اسے بے وفائی سے تعبیر کریں گے ۔ ان کے نزدیک یہ ریاست پاکستان کی ان کے ساتھ دوسری بے وفائی ہوگی ۔ مستقبل میں اگر ان کی پھر ضرورت پڑی تو یہ لوگ شاید دوبارہ پاکستان پر اعتماد نہیں کریں گے۔

اگر تو اس ہتھیار کو ہمیشہ کے لئے پھینکا جارہا ہے تو پھر کیا ان کے متبادل کا انتظام کرلیا گیا ہے ۔ مدعا ہر گز یہ نہیں کہ میں سابقہ فرسودہ اور تباہ کن پالیسی سے رجوع کا متمنی ہوں۔ میں اس پالیسی کا ناقد ہی نہیں براہ راست متاثر بھی ہوں لیکن کسی بھی بیانیہ کو ترک کرنے سے قبل جوابی بیانیہ ضروری ہوتا ہے۔ جن خدشات کے پیش نظر وہ فرسودہ بیانیہ تشکیل دیا گیا تھا‘ وہ بڑی حد تک اب بھی موجود ہیں بلکہ ان کے ساتھ مزید خدشات بھی جنم لی چکے ہیں ۔ ان کے تناظر میں مذکورہ سوالات کے جوابات پر مبنی بیانیہ ضروری ہے۔ کسی نئے بیانیہ سے قبل سابقہ بیانیہ کو مکمل طور پر ترک کرنا نئے مسائل کو جنم دے گا۔ ہاں البتہ نیا بیانیہ انتہاپسندی اور عسکریت پسندی کی بجائے سفارت، تجارت، سیاست، سماجی روابط اور اسی نوع کے دیگر ذرائع پر مبنی ہونا چاہئے۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.