.

شاہ سلمان کا پہلا پیغام مسلمان حکمرانوں کے نام

ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میں نے خادم حرمین شریفین شاہ عبداللہ کا آخری پیغام دنیا بھر کے حکمرانوں اور امیر کبیر انسانوں کے نام ایک کالم میں لکھا تھا آج میں سعودی عرب کے نئے بادشاہ شاہ سلمان کا پہلا پیغام پیش کرنا چاہتا ہوں۔ یہ پیغامات دونوں بادشاہوں نے براہ راست نہیں دیے مگر میں نے محسوس کیا ہے کہ یہ اہم پیغامات ہیں جن پر غور کرنا چاہئے۔ دنیا کے چوتھے امیر ترین انسان شاہ عبداللہ جب اپنے آخری سفر پر سفر آخرت کے لئے روانہ ہوئے تو ان کے دونوں ہاتھ خالی تھے۔ وہ کچھ بھی ساتھ لے کے نہ گئے۔ یہ پیغام خاص طور پر نواز شریف اور ”صدر“ زرداری کے لئے تھا۔ ”صدر“ زرداری نے اپنی اہلیہ شہید بی بی کو اپنے ہاتھوں سے قبر میں اتارا تھا۔ وہ ”صدر“ زرداری سے زیادہ امیر تھی۔ نہ وہ کچھ ساتھ لے کے گئی نہ کسی کو کچھ دے کے گئی۔ ”صدر“ زرداری کی سب دولت اور اقتدار بے نظیر بھٹو کا مرہون منت ہے۔

نواز شریف کے والد محترم ہی شریف فیملی کی دولت اور حکمرانی کا موجب تھے۔ وہ واقعی ایک درویش، محنتی اور دانا انسان تھے۔ نواز شریف اور شہباز شریف دونوں اپنے والد کا بے حد احترام کرتے تھے اور ان کی ہر بات کی تعمیل کرتے تھے۔ وہ جب دفن جا رہے تھے تو شریف برادران موجود نہ تھے۔ ہم نے ان کو قبر میں اتارا۔ وہ صرف اپنی نیکیاں اور بھلائیاں ساتھ لے گئے۔ سب لوگ وہاں ان کے لئے محبت عزت اور نیاز مندی کا اظہار کر رہے تھے۔ یہ نہیں کہ وہ نواز شریف شہباز شریف کے والد تھے بلکہ شریف برادران ان کے بیٹے تھے۔

”صدر“ رفیق تاڑر بڑے میاں صاحب میاں محمد شریف کی باتیں کرتے تھے اور روتے تھے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ شاہ عبداللہ کا آخری پیغام نواز شریف اور ”صدر“ زرداری کے لئے ہے اور عام طور پر ہمارے ہر امیر کبیر انسان کے لئے ہے۔ شاہ عبداللہ نے دنیا بھر کے مسلمانوں اور مسلمان ملکوں کے لئے بھلائی کے اقدامات کئے ہیں۔ اس دور میں بھی نواز شریف کو ڈیڑھ ارب ڈالر دیے اور وہ جلا وطنی کے دنوں میں شریف فیملی کے میزبان تھے۔ انہوں نے مہمان نوازی کا حق ادا کر دیا۔ نواز شریف کے پاکستان آنے میں بھی شاہ عبداللہ کا کردار ہے۔

میرے ماموں بہت اعلیٰ ڈاکٹر، غلام اکبر نیازی سعودی عرب میں تھے۔ تو ولی عہد جناب عبداللہ کے سپیشل معالج تھے۔ وہ پرنس عبداللہ کے ساتھ ساتھ ہوتے تھے۔ ان کے خیال میں وہ خوبصورت خوابوں جیسے انسان تھے۔ پاکستان سے ان کی محبت ایمان کی طرح ان کے لہو میں تھی۔ جب وہ پاکستان آئے تو لاہور میں شریف فیملی کی دوستانہ خدمت خاطر سے بہت متاثر ہوئے تھے۔ شالیمار میں ان کے اعزاز میں تقریب میں شہباز شریف نے عربی میں تقریر کی تھی۔ سارے سعودی بادشاہ پاکستان کے دوست تھے۔

اب شاہ سلمان بھی پاکستان کے لئے ایسی ہی محبت رکھتے ہیں اور انہوں نے کہا کہ شاہ عبداللہ کی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ مگر میرے خیال میں شاہ سلمان کا جو پہلا پیغام ہے وہ بھی ان کے ایک عمل سے سامنے آیا ہے۔ یہ بھی سارے مسلمان حکمرانوں اور خاص طور پر امریکہ کے فرماں بردار مسلمان حکمرانوں کے لئے شاہ سلمان کا پہلا پیغام واضح اور حکیمانہ ہے۔ حکومت اور حکمت میں فاصلے ختم ہونا چاہئیں۔

جب صدر اوباما بھارت کا دورہ مختصر کر کے اور پاکستان کو نظر انداز کرتے ہوئے سعودی عرب پہنچے تو شاہ سلمان نے اپنی کابینہ کے ساتھ ائر پورٹ پر ان کا استقبال کیا۔ وہ ابھی دنیا کی واحد سپر پاور امریکا کے صدر اوباما سے بات کا آغاز ہی کر رہے تھے کہ نماز عصر کی اذان بلند ہوئی۔ یہ بادشاہوں کے بادشاہ حقیقی بادشاہ کائنات کے رب اللہ تعالیٰ کا بلاوہ ہے۔ ہم شاہ سلمان کے شکر گزار ہیں انہوں نے مسلمانوں کے شاندار ماضی کی یاد تازہ کر کے ہمارا سربلند کر دیا ہے۔ اللہ انہیں بھی سربلندی سے نوازے۔

یہ مسلمانوں کی نشاة ثانیہ کی خوشخبری بھی ہے۔ یہ غیرت ایمانی اور دینی حمیت کا بے مثال مظاہرہ ہے۔ انہوں نے صدر ابامہ سے کہا کہ میں اپنے اللہ کے حضور سجدہ¿ نیاز ادا کرنے کے لئے جا رہا ہوں اور وہ دنیا کے طاقتور ترین انسان صدر اوباما کو اکیلا چھوڑ کر مسجد کی طرف چل دیے۔ کراﺅن پرنس مقرن بن عبدالعزیز، شہزاد، محمد بن نائف ان کے اپنے بیٹے اور ساری کابینہ ان کے ساتھ چل پڑی۔ سب سے زیادہ طاقتور رب العالمین اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔

صدر ابامہ اکیلے کھڑے رہ گئے۔ شکر ہے کہ مشعل اوباما ان کے ساتھ تھی۔ ورنہ ان کے ساتھ بات کرنے والا بھی کوئی نہ ہوتا۔ صدر اوباما کو مشعل ابامہ کا شکر گزار ہونا چاہئے۔ یہ عجیب و غریب منظر ساری دنیا والوں نے دیکھا۔ دنیا کے حکمرانوں اور خاص طور پر پاکستانی حکمرانوں نے بھی دیکھا ہو گا۔

ہم نے دیکھا کہ وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے زمانے میں بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی کے اسلام آباد کے دورے کے دوران ان کے راستے میں کشمیر کے حوالے سے جتنے ہورڈنگز تھے اتار لئے گئے تھے۔ ایک ہورڈنگ میں کلمہ طیبہ اور پاکستان کا سبز ہلالی پرچم تھا۔ مسلمان حکمران کب سچے حکمران بنیں گے۔ حکام اور غلام ہم قافیہ ہیں اور ہم نے ہم معانی بھی بنا دیے ہیں۔ سارے عالم اسلام کو امریکہ نے نامعلوم قسم کی غلامی میں جکڑ رکھا ہے۔

اس حکمت پر بھی حکومت والے غور کریں کہ صدر ابامہ کے استقبال کے وقت نماز عصر کی اذان ہوئی۔ یہ دن کے زوال کا وقت ہے۔ یہ وہی سمجھ سکتا ہے جو عروج و زوال کی حقیقتوں سے واقف ہو۔ میرے قبیلے کے سردار شاعری کے خان اعظم منیر نیازی نے کہا ہے:

نہ حد ہے اس کے جمال کی
نہ حد ہے اس کے کمال کی
یہ نماز عصر کا وقت ہے
یہ گھڑی ہے دن کے زوال کی

اس حوالے سے قرآن حکیم میں ایک سورة بھی ہے۔ والعصر۔ قسم ہے زمانے کی۔ انسان خسارے میں ہے۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے، اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کرتے رہو اور صبر کی وصیت کرتے رہو۔ اس سورة میں عصر (زمانے) کی قسم اللہ نے کھائی ہے۔ وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ زمانے کو برا نہ کہو، زمانہ میں خود ہوں۔ انسان خسارے میں ہے اور حکمران تو بڑے خسارے میں ہیں جو بے ایمان اور بددیانت ہیں وہ حق کی بات نہیں سننا چاہتے اور صبر کو ایک مجبوری بنا دیا گیا ہے۔ شاہ عبداللہ اور شاہ سلمان ایک بڑے حکمران ہونے کے ناطے ہمارے شکریے کے مستحق ہیں۔

شاہ عبداللہ کے آخری پیغام اور شاہ سلمان کے پہلے پیغام کو سمجھنا اس کے مطابق زندگی گزارنا اور حکومت کرنا سب مسلمان حکمرانوں کا فرض ہے ہم صدر ابامہ کے دورے کے انتظار میں رہے اور شاہ سلمان انہیں ائر پورٹ پر انتظار میں چھوڑ کر عصر کی نماز ادا کرنے کے لئے مسجد میں چلے گئے۔

وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.