.

21 ویں ترمیم ۔۔۔۔ دوغلے سیاستدان

وکیل انجم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

21 ویں ترمیم کے ذریعے فوجی عدالتوں کے قیام پر کسی جماعت کو اعتراض نہیں جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی نے اس کے حق میں خوشی خوشی سے ووٹ ڈالا۔ جماعت اسلامی یا مولانا فضل الرحمن بھی اس پر معترض نہ تھے تاہم ان کو 21ویں ترمیم میں مذہب یا فرقے کے نام پر اعتراض تھا جبکہ کپتان بائیکاٹ پر تھا۔ آل پارٹیز کانفرنس میں تمام جماعتوں نے حمایت کی تھی۔ وزیر داخلہ نثار علی خان نے فوجی عدالتوں کو جمہوریت کے برعکس قرار دیا لیکن وقت کی ضرورت قرار دیا ہے۔ 21 ویں ترمیم پر وکلاء نے یوم سیاہ منا لیا ہے اور معاملہ سپریم کورٹ کے دروازے پر دستک دے چکا۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے آل پارٹیز کانفرنس میں فوجی عدالتوں کے قیام پر اتفاق کیا تھا مگر حامد علی خان کو اس کے خلاف سپریم کورٹ میں بھیج دیا۔ یہ سیاستدانوں کے سمجھنے کا سوال ہے جب پاکستان دہشت گردی کی جنگ میں جھلس رہا ہے تو وہ اپنا مثبت رویہ سامنے لے کر آئیں۔21 ویں ترمیم پر جو اعتراضات ہیں، اُس کو 22ویں ترمیم کے ذریعے درست کر دیا جائے تاکہ دہشت گردی جو آج اصل ہدف ہے اُس کا مقابلہ کیا جا سکے۔

ہمارے سیاستدان بھی کیا خوب ہیں وہ تو جمہوریت کے نام پر بھی سیاسی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں۔ جس کی حالیہ مثال ہم نے دیکھی ہے جب پارلیمنٹ کو یرغمال بنانے کی کوشش کی گئی۔ دو سیاسی قوتیں طاقت کے بل بوتے پر اسلام آباد کے اہم ریاستی دفاتر پر قابض رہیں۔ پارلیمنٹ کو کام سے روکنے کی بار بار کوششیں کیں۔ سپریم کورٹ جانے والے راستے اس طرح بند کر دیئے گئے کہ ججوں کو بڑی مشکل سے عدالت عظمیٰ تک رسائی ملی۔ شاہراہ دستور کو کچرے کے ڈھیر اور دھوبی گھاٹ میں تبدیل کر دیا گیا۔ ٹیلی ویژن پر حملہ کیا، اُس پر قبضہ کرکے انقلابیوں اور آزادی مارچ والوں نے ریاست کے خلاف بغاوت جاری رکھیں۔ کہنے کو تو پرامن تھے لیکن 126 دن کے دھرنے سے ان کی حکمرانی کا تاثر ملنے لگا تھا۔

دہشت اور خوف ہر طرف تھا۔ شاہ محمود قریشی تحریک انصاف کے ٹائیگروں کو لے کر تھانے پر حملہ آور ہوئے تو عمران خان نے قیدیوں کو رہا کرا لیا۔ ایسا تو دوسری جنگ عظیم میں بھی نہیں ہوا تھا۔ جنگ کے دنوں میں بھی لندن کی عدالتیں بغیر رکاوٹ کے انصاف دے رہی تھیں مگر ہمارے ہاں تو عدالتوں سے احتجاجیوں نے اچھا سلوک نہیں کیا تھا۔ برطانوی وزیراعظم چرچل نے دوسری جنگ عظیم کے دوران کہا تھا جب تک عدالتیں انصاف دے رہی ہیں ، شکست ان کا مقدر نہیں بن سکتی۔ جن لوگوں نے اسلام آباد میں جو کچھ کیا تھا یہ کھلم کھلا سیاسی دہشت گردی تھی۔ پارلیمنٹ پر حملے کے حوالے سے یہ انکشاف بھی سامنے آ چکا ہے کہ پنجاب کے دور دراز علاقوں سے کس طرح کرائے کے انقلابی اسلام آباد لائے گئے۔ بین الاقوامی میڈیا کے روبرو اس کی تصدیق شرکاء میں سے کچھ نے کی تھی۔ آج 21 ویں ترمیم کا زمانہ ہے۔ یہ ترمیم ایسی ہے جن کی ماضی میں بہت سی سیاسی جماعتیں مخالف کرتی چلی آئی ہیں۔ اب انہوں نے ٹھنڈے پیٹوں قبول کر لیا ہے۔ سینے پر بھاری پتھر رکھ کر ہی سہی۔ اگر ایسا نہ کرتے یہ سیاستدانوں کو معلوم ہے پھر کیا ہوتا۔ ایک ترمیم سے ان کی جان چھوٹ گئی۔ ان میں پیپلزپارٹی سب سے آگے رہی۔

دعوے کی حد تک تو پیپلزپارٹی جمہوریت کی حاکمیت اور اُس آئین کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے اور ایسا آئین ہی اس کیلئے آئیڈیل ہے جو ذوالفقار علی بھٹو نے بنایا تھا مگر اس میں بھی 6 ترامیم تو خود ذوالفقار علی بھٹو نے کر ڈالی تھیں۔ رضا ربانی نے 21 ویں ترمیم کے حق میں ووٹ دیتے ہوئے خوب آنسو بہائے تھے، اُن کے یہ آنسو بہت بڑے طبقے کو متاثر کر گئے۔ بے چارہ اکیلا رضا ربانی کیا کر سکتا تھا۔ رضا ربانی کے یہ آنسو تو ہم نے دیکھے لیکن پورے 5 سال تک اُن کی حکومت جمہوریت اور اداروں کا جس انداز سے مذاق اڑاتی رہی وہ اپنی جگہ پر اہم ہے۔ این آر او پر جو تماشا لگایا، ججز کی بحالی اور ڈوگر عدالتیں جو کچھ کرتی رہی ہیں وہ کہانی الگ ہے۔ پنجاب میں مسلم لیگ (ن)کی حکومت کو ختم کرنے کے بعد ہارس ٹریڈنگ کرنے کیلئے وزیر داخلہ نے آئی بی کے فنڈ سے قوم کے 58 کروڑ روپے کہاں استعمال کئے۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے۔ اگر شہباز شریف جو اکثریت والا وزیراعلیٰ تھا چلا گیا تو اُن کی جگہ اکثریتی جماعت والے وزیراعلیٰ کو موقع دیا جاتا لیکن یہاں تو گورنر راج آ گیا تھا۔ سیاسی کارکنوں کو سبق سکھانے کیلئے زرداری فرمان کے ذریعے 27 فروری 2009ء کو سرسری سماعت کی خصوصی عدالتوں کا آرڈیننس جاری ہوا جس میں موبائل عدالتیں قائم کی گئیں۔ حکم نامہ نئے ضلعی مجسٹریٹ تعینات کرنے سے ظاہر تھا یہ زرداری کی پسند کی عدالتیں اور مجسٹریٹ ہونے تھے۔ جنہوں نے موقع پر پہنچ کر سزا سنانی تھی۔ مقدمات کی سماعت کے دوران یہ قانونی تقاضوں سے بھی بالاتر سرسری سماعت کی عدالتیں تھیں۔ یعنی نہ شہادت، نہ دلیل اور نہ کوئی وکیل۔ یہ تھیں فوری انصاف کے نام پر پنجاب میں سرسری عدالتیں جس کا مقصد انصاف کی بالادستی کے نام پر افتخار چودھری اور شہباز شریف کو بحال ہونے سے روکنا تھا۔ اُس وقت پنجاب کا منظر یہ تھا ججز بحالی کیلئے لانگ مارچ شروع ہونے والا تھا۔ پنجاب میں احتجاجی تحریک کا ردھم مسلم لیگ (ن) کے حق میں جا رہا تھا۔ سلمان تاثیر مرحوم گورنر پنجاب تھے۔ وہ پسند کی حکومت لانے کیلئے لوٹا کریسی کی سرگرمیوں میں خود شریک تھے۔ سرسری سماعت کی خصوصی عدالتیں قائم کرکے پیپلزپارٹی نے رائج قائم عدالتی نظام پر حملہ کیا تھا۔ یہ آرڈیننس جمہوریت پر بھی حملہ تھا۔ پیپلزپارٹی اچھی حکمرانی پر رواں ہوتی تو ایسی صورت پیدا ہی نہ ہوتی۔

21 ویں ترمیم تو عدالت عظمیٰ پہنچ چکی۔ وفاق اور صوبائی حکومتوں کو اس پر دلائل دینے پر نوٹس ہو چکا۔ حالات کے بدلنے اور فوجی عدالتیں قائم ہونے سے دہشت گردی کے خلاف معاملہ آگے بڑھے گا۔ ماضی کا ایکشن ری پلے ہونے والا ہے ۔ویسا ہی لگنے لگا ہے جیسا آپریشن 1992ء میں اندرون سندھ کے ڈاکوؤں کے خلاف کیا گیا۔ کامیابی کے بعد یہ سفر بڑھتے بڑھتے کراچی تک پہنچ گیا۔ کراچی آپریشن میاں نواز شریف کے دور میں شروع ہوا تھا۔ 1993ء میں بے نظیر بھٹو اقتدار میں آئیں تو اس کا اصل فوکس بھی کراچی بن گیا تھا۔ ’’کراچی بدامنی کیس‘‘ میں سپریم کورٹ کے حکم کے بعد شروع ہونے والے ٹارگٹڈ آپریشن کو بند نہیں کیا جائے گا۔ معاملہ تو آگے کا ہے سیاسی دہشت گردی کو روکنے کیلئے 22 ویں ترمیم پر خاموشی سے کام جاری ہے۔ مستقبل میں اب ایسا نہیں ہو سکتا۔ کوئی سیاسی جماعت کسی شہر کو بند کرنے کی دھمکی دے اور بند ہو جائے۔ سیاسی دہشت گردی کے سوال پر بھی بحث شروع ہو چکی۔ ایم کیو ایم ہی نہیں بلکہ تمام جماعتوں کے عسکری ونگ کا حساب کتاب بھی ہونے چلا ہے۔ ایم کیو ایم نے چند دن پہلے اپنے ایک عہدیدار کی ہلاکت کے بعد کراچی کو بند کرا دیا۔ یہ صورتحال خاصی پریشان کن ہے۔ 12 مئی 2007ء کو بھی سیاسی دہشت گردی کے کچھ مناظر ٹیلی ویژن کیمروں نے دکھائے تھے وہ حیران کر دینے والے اور چیلنج تھے اور آج بھی ہیں۔ سندھ کی تازہ صورتحال یہ ہے ایک کارکن کی ہلاکت پر پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان ٹھن گئی ہے۔ کراچی پولیس کے چیف غلام قادر تھیو نے موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے غیر ملکی میڈیا کو پریشان کر دیا ہے کہ لوگ اپنے جرائم چھپانے کیلئے سیاسی جماعتوں کا سہارا لیتے ہیں۔ اگر وہ یہ اعتراف کر لیتے زیادہ بہتر ہوتا کہ سیاسی جماعتیں ان کو اپنے مقاصد کیلئے بھی استعمال کرتی ہیں۔ کراچی پولیس چیف ان کے مقاصد سے بھی آگاہ ہیں۔ پرامن پاکستان آنے والی نسلوں کی ضرورت ہے۔ اس ضرورت سے ہمیں غافل نہیں ہونا چاہیے۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.