.

مشکلات کے مقابل

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

موجودہ صورت حال میں الجھا دینے دینے والا سوال آزاد شامی فوج کے سائز کے بارے میں ہے۔ اس سوال سے الجھی ہوئی اور مبہم تصویر کا خوب اندازہ ہو جاتا ہے کہ کس طرح آسانی سے فریقین اپنا اپنا پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ شام کی اسد رجیم کا اس تصور کو آگے بڑھانے میں مصروف ہے کہ شامی اپوزیشن باہم منقسم اور عملا صاف کر دی گئی ہے۔ جبکہ شامی اپوزیشن اسی دعوے کو اپنے حق میں استعمال کرتی ہے کہ شامی رجیم اس طرح درحقیقت اس کے ان ساٹھ ہزار جنگجووں کو ہی تسلیم کر رہی ہے۔ جو فری سیرئین آرمی 'ایف ایس اے'' کے ارکان ہیں۔

لیکن اس منظر نامے میں جو چیز واضح، یقینی اور صاف ہے وہ یہ ہے کہ مغربی قوتوں کی طرف سے ''ایف ایس اے'' کو ملنے والی امداد میں کمی آچکی ہے۔ ممتاز اخبار وال سٹریٹ جرنل کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ''شامی حزب اختلاف کے لیے امریکی امداد میں کمی ہو چکی ہے۔'' اس رپورٹ کے مطابق '' امریکا نے ایک ماہ کے دوران آزاد شامی فوج کو فی سپاہی کے حساب سے کل سولہ گولیوں کے برابر اسلحہ فراہم کیا ہے۔ ''

امریکی دفتر خارجہ کی طرف سے اس بارے میں پچھلے بدھ کے روز کہا گیا ''رواں سال کے آغاز سے ہم نے شام کی اعتدال پسند اپوزیشن کو دو اعشاریہ سات ملین کی غیراسلحی امداد فراہم کی ہے، اس فرا ہم کردہ امداد میں پانی کے ٹرک، جنریٹرز اور خوراک وغیرہ شامل تھی۔'' امداد میں اس کمی کے باوجود اعتدال پسند شامی اپوزیشن قابل تحسین ہے کہ وہ مستقل مزاجی سے رکاوٹوں کے سامنے موجود ہے۔

اس پر مستزاد یہ کہ ترکی نے بھی اب '' ایف ایس اے'' اور اس کی قیادت کی سرگرمیوں میں رکاوٹیں پیدا کرنا شروع کر دی ہیں۔ غالبا اس کی وجہ بیرونی دباو ہے۔ ان تمام مشکلات کے باوجود ایف ایس اے نے جنوبی شام میں اپنا کنٹرول مضبوط کرنا شروع کر دیا ہے۔ ایک جانب ''ایف ایس اے '' نے درعا اور اس کے مضافات میں اپنی پوزیشن مستحکم بنانا شروع کی ہے اور دوسری جانب آزاد شامی فوج کے بہت سے فوجی ہیں کہ ان میں سے بہت سوں کو کئی ماہ سے تنخواہ بھی ادا نہیں کی گئی ہے۔

شامی اپوزیشن کی قائم کردہ حکومت میں وزیر دفاع سلیم ادریس کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے تمام دھڑوں کو متحد کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں تاکہ اپوزیشن کی متحدہ فوج ساٹھ ہزار جنگجووں پر مشتمل ہو سکے۔ سلیم ادریس نے ایک مفروضے کی بنیاد پر کہا ''دنیا کو یہ محسوس ہو جائے گا کہ عالمی برادری کے پاس شام کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے صرف شامی اپوزیشن کی صورت میں ایک ہی آپشن ہے اور اسی کی مدد سے داعش سے نمٹا جا سکتا ہے۔'' کیونکہ یہ شامی اپوزیشن ہے جو تمام شامی عوام، تمام مذاہب، فرقوں اور قبائل کی نمائندہ ہے۔ بعض امریکی سیاستدان اور قانون ساز بھی اس امر سے اتفاق کرتے ہیں کہ داعش کی شکل میں موجود خطرے سے نمٹنے یہی ایک طریقہ ہے۔

امریکی سینیٹ کی دفاعی امور سے متعلق کمیٹی کے ایک رکن نے اس موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا '' امریکی حکومت کو شامی اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی ''ایف ایس اے'' کو ضرور مدد دینی چاہیے کیونکہ ہمارے پاس شام کے حوالے سے یہی ایک آپشن ہے۔''

اس کے باوجود ''ایف ایس اے'' کی امداد میں ہچکچاہٹ کا عمل جاری ہے، لیکن اس کی قیادت خطے کے ملکوں کی سوچ کو تبدیل کرنے کی اہل ثابت ہو سکتی ہے۔ شامی اپوزیشن اگر خود کو حقیقی معنوں میں متحد کرلیتی ہے تو اس کی قیادت مغربی ممالک کی پر اسرار سوچوں میں تبدیلی لانے کی اہلیت رکھتی ہے۔ کم از شامی اپوزیشن کے عسکری محاذ پر ایسا ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ اس کے مقابل سیاسی قیادت موجودہ مشکل صورت حال میں زیادہ اہمیت کی حامل نہیں رہی۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.