.

جوزف گوئبلز کے پیروکار

یاسر پیرزادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جوزف گوئبلز ،ہٹلر کا پروپیگنڈا کا وزیر تھا ، 1931ء میں اس کی شادی میگڈا نامی عورت سے ہوئی جو ایک بچے کی ماں تھی اور پہلے سے طلاق یافتہ تھی، میگڈا کے بیٹے کا نام ہیرلڈ تھا ،گوئبلز اور میگڈا کی شادی میں ہٹلر بطور گواہ شریک ہوا تھا۔شادی کے بعد جوزف گوئبلز اور میگڈاکے چھ بچے پیدا ہوئے ،سب بیٹیاں ۔ بڑی بیٹی کا نام ہیلگا سوزان تھا، گوئبلز کو اس سے بے حد پیار تھا، جب بھی وہ دفتر سے گھر لوٹتا تو سیدھا ہیلگا کے پاس جاتا اور کئی گھنٹوں تک اسے گود میں لے کر پیار کرتا رہتا۔گوئبلز کی دوسری بیٹی کا نام ہیلدے گارڈ ٹراڈل تھا ، وہ اسے پیار سے صرف ہیلدے کہہ کر بلاتا تھا ،تیسری بیٹی کا نام ہیلمٹ کرسچن تھا،یہ بہت حساس بچی تھی مگر پڑھائی میں قدرے کمزور تھی ،جب ا س کی اسکول ٹیچر نے گوئبلز کو بتایا کہ اس بچی کا اگلی جماعت میں جانا مشکل ہے تو گوئبلز نے اس کی پڑھائی میں ذاتی دلچسپی لینی شروع کی اور اس پر اتنی محنت کی کہ ہیلمٹ کی بہترین نمبروں سے اگلی جماعت میں ترقی ہوئی۔چوتھی بیٹی کا نام ہولڈائن کیتھرین تھا،گوئبلز کو اپنی اس بچی سے بھی بہت پیار تھا،پانچویں بچی کا نام ہیڈوگ جوہانا تھا، اسے سب پیار سے ہیڈا کہتے تھے ،گوئبلز کی سب سے چھوٹی بیٹی کا نام ہیڈرن الزبتھ تھا ،اس کی پیدائش 29اکتوبر کو ہوئی جس روز گوئبلز کی بھی سالگرہ تھی۔

دوسری جنگ عظیم میں اتحادی فوجوں کے ہاتھوں جب جرمنی کی شکست تقریباً یقینی ہو گئی تو 22اپریل 1945ء کو گوئبلز اپنی بیوی اور ان چھ بچیوں کے ساتھ ہٹلر کے برلن والے بنکر میں منتقل ہو گیا ۔ہٹلر، اس کی محبوبہ ایوا برائون، گوئبلز اور اس کی بیوی میگڈا کو اس وقت تک اپنی موت کا یقین ہو چکا تھا لیکن ان چھ معصوم بچیوں کو کچھ پتہ نہیں تھا کہ آئندہ چند روز میں ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے ۔گوئبلز نے ہٹلر کے برلن نہ چھوڑنے کے فیصلے کی حمایت کی اور میگڈا نے بھی اپنے شوہر کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ۔میگڈا کے الفاظ تھے ’’اس کے علاوہ کوئی با عزت نتیجہ ممکن نہیں!‘‘بنکر میں ہر گزرتے لمحے کے ساتھ موت ان کے قریب آ رہی تھی، میگڈا ان حالات میں جب اپنی بچیوں کو دیکھتی تو اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے ، اس کی کوشش ہوتی کہ بچیوں سے سامنا کم ہو اسی لئے اس نے بچیوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری ہٹلر کی ذاتی سیکریٹری ٹراڈل جنگ (Traudl Junge) کے سپرد کر دی تھی، یہ سیکریٹری جنگ میں زندہ بچ رہی جس نے بعد میں بتایا کہ بچیاں ہر و قت ہنستی کھیلتی رہتی تھیں ،انہیں کچھ علم نہیں تھا کہ آگے ان کی قسمت میں کیا ہونے جا رہا ہے ۔صرف ہیلگا، جو بچیوں میں سب سے بڑی تھی، اسے جنگ کے خطرناک نتائج کا اندازہ تھا ۔اپنی چھوٹی بہنوں کے بر عکس وہ ماں کے اس جھوٹ سے بہلنے کو تیار نہیں تھی کہ ہٹلر دشمن فوجوں کو شکست دینے میں کامیاب ہو جائے گا۔

اس موت کے بنکر میں ان بچیوں کے آخری دس دنوں کی کہانی لرزا دینے والی ہے، بچیاںروزانہ ہٹلر کے ساتھ ہاٹ چاکلیٹ پیتیں، اسے اپنے ہوم ورک کے بارے میں بتاتیں اور کبھی یہ نہ جان پاتیں کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ہٹلر کا رویہ عجیب ہوتا جا رہا ہے ۔یکم مئی 1945ء کو جب ان کی ماں نے بچیوں کوآ خری مرتبہ بستر پر لٹایا تو انہیں نہیں پتہ تھا کہ ان کی ماںکچھ دیر بعد انہیں موت کا انجکشن لگا نے والی ہے ،ماں نے بتایاکہ انہیں انجکشن کے ذریعے دوا دی جائے گی، اس کے بعد ڈاکٹر کنز (Dr. Kunz) نے بچیوں کو مورفین کا ٹیکہ لگایا جس سے وہ بیہوش ہو گئیں ۔میگڈا نے ڈاکٹر کنز سے کہا کہ اب ان بچیو ں کو سائنائیڈ دے دیا جائے مگر اس ڈاکٹر نے انکار کر دیا ۔ اس کے بعد میگڈا نے ہٹلر کے ایک ڈاکٹر Ludwig Stumpfegger سے کہا جس نے میگڈا کی مدد سے سائنائیڈ کیپسول مسل کر بچیوں کے دانتوں کے درمیان رکھ دیا جب وہ سب گہری نیند میں تھیں۔بچیوں کو مارنے کے بعد میگڈا اور گوئبلز بنکر سے نکل کر اوپر باغ میں آگئے جہاں میگڈا نے بھی سائنائیڈچبا لیا جبکہ گوئبلز نے پستول کی مدد سے خود کشی کر لی۔دو دن بعد جب روسی افواج بنکر میں داخل ہوئیں تو انہیں بستر میں بچیوں کی لاشیں ملیں، بچیاں شب خوابی کے لباس میں تھیں ،ان کی چٹیاں بنی ہوئیں تھیں ،بالوں میں ربن لگا ہوا تھا ،چہرے پر کوئی نشان نہیں تھا،سوائے ہیلگا کے جس کے چہرے کے نشانات سے بعد میں ثابت ہوا کہ اس بارہ برس کی بچی نے سائنائیڈ چباتے وقت مزاحمت کی تھی ۔مرنے والی تمام بچیوں کی عمریں چار سے بارہ برس کے درمیان تھیں ۔ہولوکاسٹ میں مرنے والے پندرہ لاکھ بچوں میں یہ بچیاں بھی شامل ہیں!

گوئبلز کی بچیوں کا قتل ہولوکاسٹ سے جڑا ہوا ایک واقعہ ہے ،دنیا آج کل اسی ہولوکاسٹ کے ستّر برس مکمل ہونے پر تقریبات منا رہی ہے، ستّر سال قبل جرمنی کے آسچ وٹز (Auschwitz) کیمپ سے روسی افواج نے ان لوگوں کو رہائی دلوائی تھی جو اس کیمپ میں اپنی موت کے دن گن رہے تھے، اس قسم کے کنسنٹریشن کیمپوں میں لاکھوں افراد کو گیس چیمبرز میں بند کرکے ہٹلر کے حکم پر قتل کر دیا گیا تھا۔ ہر واقعے کی طرح ہولوکاسٹ کو بھی ہم لوگ شک کی نظر سے دیکھتے ہیں، یہ سوچے سمجھے بغیر کہ جس ملک میں لاکھوں لوگ مارے گئے وہ ملک اس قتل عام کا اعتراف کرتا ہے اور جن ممالک، مذاہب اور نسل کے لوگ مارے گئے وہ بھی یہ کہتے ہیں کہ ان کے لوگ مارے گئے مگر ہماری منطق ہی نرالی ہے، حقیقت کا انکار کرکے ہم یوں مطمئن ہو جاتے ہیں گویا اس سے حقائق بھی بدل جائیں گے۔اسامہ بن لادن کے بارے میں بھی ہمارا یہی حال تھا ،مارنے والوں نے کہا ہم نے اسے مار دیا ہے ، مرنے والوں نے مان لیا کہ ان کا لیڈر مارا گیا مگر ہمیں اب تک اس میں شبہ ہے۔ ہماری denialism کی اسی عادت نے ہمیں آج اس حال تک پہنچا دیا ہے کہ بازاروں، اسپتالوں، اسکولوں ، مسجدوں ، امام بارگاہوں اور مزاروں میں دہشت گرد ہمارے مرد ، عورتیں اور بچے مارتے ہیں، اس کی ذمہ داری ڈنکے کی چوٹ پر قبول کرتے ہیں مگر ہم کہتے ہیں کہ نہیں یہ تم نہیں ہو سکتے، دراصل یہ تمہارے لباس میں کوئی اور ہے۔

اس مریضانہ سوچ کی بنیادی وجہ ناقص طرز استدلال ہے ،ہر شخص کے ذہن کا ایک ماڈل ہوتا ہے اور وہ شخص اسی ماڈل کے زیر اثر اپنی رائے قائم کرتا ہے ، مثلاًہندو گھرانے میں پیدا ہونے والا زیادہ تر ہندو ذہن کے ماڈل کے زیراثر رہتا ہے جبکہ مسلمان یا کرسچین گھرانے میں پیدا ہونے والے اکثر اپنے اپنے ماڈل کے تابع ہی رہتے ہیں ۔جب ہم لوگ دنیا کو سمجھنے کے لئے کسی جامد ماڈل کا استعمال کرتے ہیں تو جو حقائق ہمارے اس ماڈل میں فٹ نہیں آتے ہم انہیں شک کی نظر سے دیکھتے ہیں یا پھر سرے سے رد ہی کر دیتے ہیں ۔تاہم نئے حقائق سامنے آنے کے بعد اگر ہم اپنے ماڈل پر نظر ثانی کرنے پر آمادہ ہوجائیں تو اس صورت میں حقیقت سے انکار ممکن نہیں رہتا ۔مثال کے طور پر ہمارا پسندیدہ ماڈل ہے کہ ہم بے حد عظیم قوم ہیں اور یہ جو ہم ترقی نہیں کر پارہے اس کی وجہ وہ سازشیں ہیں جو پوری دنیا ہمارے خلاف کرتی ہے ۔اس ماڈل میں یہ حقائق فٹ نہیں ہوتے کہ ملک میں بربریت کا کھیل کھیلنے والے کوئی اور نہیں وہی لوگ ہیں جنہیں ہم نے گزشتہ کئی برس سے اپنے ملک میں رکھا ہوا ہے ،ہربم دھماکے کے بعد ہمارے اس ماڈل کی دھجیاں اڑتی ہیں مگر ہم ٹس سے مس نہیں ہوتے، اسی کو faulty thinking pattern کہتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں خدا جب کسی کی بربادی چاہتا ہے تو اس کی مت مار دیتا ہے ! گوئبلز کی طرح ہم بھی اپنے ہاتھوں سے اپنے بچوں کا قتل کر رہے ہیں !

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.