.

دشمن کے ساتھ تجارت ؟

نجم سیٹھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاک بھارت تجارتی تعلقات کے موضوع پر حالیہ دنوں دہلی میں ایک کانفرنس کاانعقاد کیا گیا۔اس وقت پاکستان سے بھارت کی طرف آنے والی برآمدات کا حجم صرف اعشاریہ چھ بلین ڈالر ہے جبکہ بھارت پاکستان کو تقریباً دو بلین ڈالر کی اشیاءبھیجتا ہے۔ اس کے علاوہ دبئی یا دیگر ممالک کے ذریعے بھجوائی جانے والی اشیاء بھی دوبلین ڈالر کے لگ بھگ ہوتی ہیں۔ کانفرنس کے شرکا ءاس بات پر متفق تھے کہ اگر پاکستان بھارت کو ایم ایف این(تجارت کے لئے پسندیدہ قوم) کاد رجہ دے دے تو ان کے درمیان دس بلین ڈالر تک تجارت کے امکانات موجود ہیں۔ اس تجارت میں کسی کی فتح کو دوسرے کی شکست سے تعبیر نہیں کرنا چاہیے لیکن ہم عرصہ ٔ دراز سے اس خدشے کے اسیر ہیں کہ اس تجارت میں پاکستان کی نسبت بھارت کو زیادہ فائدہ ہوگا۔ اب تک ایسا کیوں نہیںہوا ہے؟

طویل عرصے سے، پاکستان کی پوزیشن یہ تھی کہ تجارتی سرگرمیوںسے پہلے کشمیر کا اہم مسئلہ حل کیا جائے اور باہمی اعتماد کو پروان چڑھایا جائے، تاہم 1999ء میں لاہور کانفرنس کے دوران وزیر ِ اعظم نواز شریف اور اٹل بہاری واجپائی نے عہد کیا کہ اب ’’اہم مسائل‘‘ کے حل کی شرط کو ختم کرکے تمام معاملات کا احاطہ کرنے والے مربوط مذاکرات شروع کیے جائیں گے۔ بدقسمتی سے لاہور میں ہونے والی مثبت پیش رفت کو کارگل نے سبوتاژ کردیا۔ 2001ء میں آگرہ کانفرنس کے دوران بھارت نے پاکستان کے اہم مسئلے ’’کشمیر‘‘ کے مقابلے میں اپنا اہم مسئلہ ’’دہشت گردی‘‘ لا کھڑاکیا ۔ اس کے نتیجے میں مربوط مذاکرات ، خاص طور پر دوطرفہ تجارت، کے امکانات ایک مرتبہ پھردھول بن کر اُڑ گئے۔ اس کے بعد جنرل پرویز مشرف نے پہلے مسٹر واجپائی اور بعد میں ڈاکٹر من موہن سنگھ کے ساتھ بیک چینل ڈپلومیسی اور کشمیر کے آئوٹ آف باکس (غیر روایتی) حل کی طرف قدم بڑھایا، لیکن پھر مشرف کی اقتدار سے رخصتی اور 2008ء کے ممبئی حملوں نے سب کچھ ختم کر دیا۔

جب نواز شریف نے 2013ء میں اقتدار سنبھالا تو پاک بھارت تجارتی معاملات کم و بیش جمود کا شکار تھے۔ اُن حالات میں مسٹر شریف نے تجارت کو سیاست سے الگ کرنے اور بھارت کو ایم ایف این کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا۔ بھارت کا بھی یہ دیرینہ مطالبہ تھا کہ تنازعات کے حل سے پہلے تجارت کے ذریعے اعتماد سازی کا مرحلہ طے کیا جائے۔ بہت سی عرق ریزی کے بعد ایک معاہدہ تیار کیا گیا اور توقع تھی کہ ڈاکٹر سنگھ اسلام آباد آکر اس پر دستخط کریں گے، لیکن پھر بھارت میں عام انتخابات کا مرحلہ آگیا۔ آخری لمحوں پر پاکستان نے فیصلہ کیا کہ وہ بھارت میں ہونے والے انتخابی نتائج کا انتظار کرے گا تاکہ نئی دہلی میں اقتدار سنبھالنے والی نئی حکومت تجارتی معاہدے پر دستخط کرے تو بہتر ہوگا۔ اس سے دوطرفہ تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششوں کو مدد ملے گی۔ اسی جذبے کے ساتھ نواز شریف نے نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی۔ اگرچہ پاکستانی وزیر ِ اعظم کو ملکی طاقتوں نے خبردار کیا تھا کہ وہ گجرات میں مسلمانوں کے قتل ِعام میں ملوث ہونے والے رہنما سے امن کی امید نہ رکھیں لیکن مسٹر شریف امن کو موقع دینا چاہتے تھے۔

اگرچہ تقریب ِ حلف برداری میں دونوں رہنمائوں نے دوستی اور اپنائیت کا اظہار کیا لیکن مسٹر مودی جلد ہی اپنی اصلیت پر آگئے اور تمام عمل کو پٹری سے اتار دیا۔ اس سے نواز شریف کی داخلی طور پر سبکی بھی ہوئی اور اُنہیں تنقید کانشانہ بھی بنایا گیا۔ اب صورت ِحال یہ ہے کہ طرفین تجارتی سامان کی بجائے الزامات اور گاہے بگاہے فائرنگ کے تبادلے میں مصروف رہتے ہیں۔ اب یہ بھارتی وزیر ِ اعظم پر منحصر ہے کہ ان ہمسایہ ممالک کے تعلقات کب معمول کی طرف جاتے ہیں۔ اس دوران دونوں ممالک کے میڈیا میں موجود جہاںسخت گیر نظریات رکھنے والے افراد جنگ کے شعلوں کو ہوا دیتے رہتے ہیں وہیں امن کی بات کرنے والے بھی اپنی اپنی آراء کے ساتھ سامنے آتے ہیں ۔ اس صورت ِحال میں میڈیا بھی force-multiplier کے طور پر سامنے آتا ہے ۔ سرحد کے دونوں طرف ریٹنگ کے خبط کا مارا ہوا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سکیورٹی اسٹبلشمنٹ کے بیانیے کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ اس کے پیچھے غرور اور تعصب کے ملے جلے جذبات بھی کارفرما ہوتے ہیں۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا میڈیا مسئلے کا حل پیش کرسکتا ہے یا یہ بذات ِخود اس کا حصہ ہے؟ماضی میں اس کا کردار مثبت کی نسبت منفی زیادہ رہا ہے۔ پاکستانی میڈیا نے 1989 میں بے نظیر بھٹو کو راجیو گاندھی کے ساتھ ثقافتی معاہدے پر دستخط کرنے سے روک دیا تھا۔ اسی طرح بھارتی میڈیا نے مسٹر گاندھی کو 1991ء میں پاکستان کے ساتھ سیاچن پر کسی معاہدے پر دستخط کرنے سے باز رکھا تھا۔ اس کے بعد 1997ء میں ایک مرتبہ پھر انڈین میڈیا نے آئی کے گجرال کومربوط مذاکرات شروع کرنے سے روک دیا اور 1998ء میں دونوں ممالک کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں کا جنون پیدا کردیا۔ 1999ء تک دونوں ممالک میں بس ڈپلومیسی اور نواز شریف اور اٹل بہاری واجپائی کے درمیان شروع ہونے والے مربوط مذاکرات کا خیر مقدم کیاگیا۔تاہم 2001 میں جنرل پرویز مشرف اور مسٹر واجپائی کے درمیان ہونے والے آگرہ مذکرات بھی پٹری سے اتر گئے، چنانچہ دونوں ممالک کی قیادت نے بیک چینل ڈپلومیسی کی اہمیت محسوس کی۔مربوط مذاکرات شروع کرنے کی آخری کوشش شرم ا لشیخ، مصر ، میں دیکھنے میں آئی جب پاکستانی وزیر ِ اعظم یوسف رضا گیلانی اور ان کے بھارتی ہم منصب ، ڈاکٹر سنگھ کے درمیان ملاقات ہوئی ، لیکن بھارتی میڈیا نے ایک مرتبہ پھر دال نہ گلنے دی اور ڈاکٹر سنگھ پر الزام لگایا کہ وہ پاکستان کوبہت زیادہ رعایتیں دے رہے ہیں۔

اس داغدارتاریخ سے ہم کیا نتیجہ نکال سکتے ہیں؟ پہلی بات یہ ہے کہ اگر نواز شریف اور نریندر مودی ایک دوسرے کے ساتھ تجارت کا فیصلہ کرتے ہیں تو دونوں ممالک کا میڈیا ایک عامل قوت کے طور پراُسی طرح سامنے آئے گا جس طرح 1999 ء میں ہوا تھا۔یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ انڈین میڈیاکو بھی اُسی طرح کاروباری انداز میں چلایا جارہا ہے جس طرح پاکستان میں۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر یہ موقع ضائع کردیا گیاتو طرفین ایک مرتبہ پھر روایتی محاذآرائی کی دلدل میں دھنس جائیں گے۔ اس سے ایسا ماحول سامنے آئے گا جس میں تجارت کو دشمن کے ساتھ لین دین کے مترادف سمجھا جائے گا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.