.

جواب بھارتی غزل

نصرت مرزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیس ستمبر 2014ء کو امریکی صدر براک اوباما اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی ملاقات نے نریندر مودی کے غبارے میں ہوا بھر دی، انہوں نے امریکا سے واپس آتے ہی پاکستان کی سرحدوں پر بلا اشتعال فائرنگ شروع کردی تھی اور کہا کہ پاکستان کو سبق سکھانے کے لئے ایک گولی کا جواب پانچ گولی چلا کردیا جائے۔ پھر 26 جنوری 2015ء کو امریکی صدر براک اوباما یوم جمہوریہ کی پریڈ پر دہلی تشریف لائے تو اُن کی خوشی دیدنی تھی، وہ اپنے حواس کھو بیٹھے تھے اور بھارتی میڈیا اپنے اچھے دنوں کی نوید سنا رہا تھا۔

یہاں اوباما نے اُن کو پاکستان کے بارے میں محتاط رویہ اختیار کرنے کو کہا اور اس سے پہلے جان کیری نے احمدآباد جا کر مودی سے ملاقات کی اور انہیں افغانستان کے معاملے میں متنبہ کیا تھا کیونکہ پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف نے امریکا کے اپنے 15 روزہ دورے میں پینٹاگون اور جان کیری کو ناقابل تردید ثبوت پیش کئے تھے کہ بھارت بلوچستان میں مداخلت کر رہا ہے اور وہاں دہشت گردی میں ملوث ہے۔ اسی طرح سے انہوں نے اشرف غنی صدر افغانستان کو بھی اس سلسلے میں واضح طور پر نہ صرف ثبوت فراہم کئے تھے بلکہ سارے معاملے کی نزاکت کو سمجھایا تھا کہ وہ بھارت کی عیاری سے بچیں۔ شاید اسی لئے یا مصلحتاً اشرف غنی تاحال بھارت کے دورے پر نہیں گئے.

صدر براک اوباما نے بھارتی وزیر اعظم کو جتلانے کی کوشش کی تھی کہ وہ پاکستان کو کمزور نہ سمجھے، یہ پانچ گولی والا معاملہ نہیں ہے، دوسرے یہ کہ امریکا جو بساط ایشیا بحرالکاہل میں بچھا رہا ہے اس بساط کو تلپٹ نہ کریں بلکہ بھارت کو چاہئے کہ وہ امریکا کا چین اور مشرق بعید میں ساتھ دے اور اپنی سمت درست کرے۔ جس کی وجہ سے بھارت کو اپنی کم مائیگی کا احساس ہوا اور اُس کو اندازہ ہوا کہ جو چاہتے تھے وہ اُن کو نہیں ملا تو وہ قدرے ہوش میں آیا اور اس لئے بھی کہ چین نے پاکستان کے چیف آف دی آرمی اسٹاف کو اوباما کے دورہ بھارت کے دوران بیجنگ کی دعوت دے کر امریکا اور بھارت دونوں کو سخت پیغام یہ کہہ کر دیا کہ پاکستان چین کا ٹھوس اتحادی ہے اور امریکا کے اچھے دن اِس پیغام کے ساتھ ہی فضاء میں تحلیل ہو گئے، اِس کے بعد ہی بھارت نے اپنی وزیر خارجہ کو چین بھیجنے کا فیصلہ کیا اور نریندر مودی صاحب خود بھی جون 2015ء میں چین کا دورہ کریں گے۔

اسلئے کہ بھارت کو یہ بات سمجھ میں آگئی ہوگی کہ امریکا اُس کو اپنے مفاد میں استعمال کرنا چاہتا ہے وہ پاکستان کو بالکل اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا چنانچہ اس نے بھی اپنی اترانے والی پالیسی ترک کرکے زمینی حقائق پر مبنی پالیسی وضع کرنے کی ضرورت کو محسوس کیا ہوگا اور زمینی حقائق کو مزید سمجھا ہوگا۔ نریندر مودی کو شریر بچے کا کردار ادا کرنے کی بجائے ایک ذمہ دار ملک کے سربراہ کے طور پر اپنے آپ کو پیش کرنا چاہئے۔ پاکستان ٹیڑھی کھیر ہے، اُس کو نگلنا ناممکن ہے، اس لئے مزید اچھا یہ ہوگا کہ مودی پاکستان اور انڈیا سے آگے دیکھیں کہ وہ کہاں استعمال ہوسکتے ہیں اور اِس خطے کو عالمی جنگ کا اکھاڑہ بنانے سے روکنے کی سبیل کریں۔

اوباما کی بھارت کے یوم جمہوریہ میں مہمانِ خصوصی کے طور پر آمد اور بھارت کی بڑھتی ہوئی اشتعال انگیزی کے بعد ضرورت اِس امر کی تھی کہ بھارت کو واجبی جواب دیا جائے چنانچہ پاکستان نے ایک تو اسٹیلتھ کروز جوہری میزائل کا 2 فروری 2015ء کو تجربہ کرکے بھارت کو پیغام بھیجا کہ پاکستان ایٹمی صلاحیت اور میزائل کے معاملے میں اُس سے کہیں آگے ہے، وہ طویل فاصلے کے علاوہ 60 کلومیٹر تک جوہری میزائل مارنے کی صلاحیت سے آراستہ ہے جو بھارت کے کولڈ اسٹارٹ ڈوکرائن کو بھی بے اثر کرتا ہے تو اس کے پاس ’’رعد‘‘ کروز میزائل ایسا ہے جو 350 کلومیٹر تک بحر دبر میں کسی بھی ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے، جو راڈار پر دیکھا نہیں جا سکتا اور نہ ہی اُس کی آواز سنی جاسکتی ہے۔

اگرچہ بھارت نے پاکستان کی سرحدوں پر سپر سونک میزائل نصب کردیئے ہیں مگر وہ ’’رعد‘‘ کا مقابلہ نہیں کرسکتے، اس لئے بھی کہ وہ راستے کی ہر رکاوٹ سے بچتا ہدف پرجا کر گرتا ہے اوررعد کی 350 کلومیٹر کی رفتار کا اعلان ہوا ہے جو 700 بھی ہوسکتی ہے اور 1400 کلومیٹر بھی ہو سکتی ہے کیونکہ پھر صرف انجن کی تعداد بڑھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ بات سب سمجھتے ہیں، بھارتی بھی سمجھتے ہوں گے۔ پاکستان کی دفاعی زنبیل میں دُنیا کو حیران کر دینے کےلئے کئی اور بھی میزائل اور اسلحے موجود ہیں جن کا کسی وقت بھی اظہار کیا جاسکتا ہے۔ قابل اعتماد ڈرون ہیں، ان ڈرونوں سے زیادہ بہتر ہیں جو بھارت اسرائیل سے خرید رہا ہے۔ اس کے علاوہ اوباما کی بھارتی جمہوریہ پر آمد کا جواب بھی دیا جانا ضروری ہے۔

چنانچہ پاکستان نے سات سال بعد یوم جمہوریہ کی پریڈ کو بحال کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جو 23 مارچ 2015ء کو ہوگی۔ اس میں پاکستان اپنے جدید ہتھیاروں کی نمائش کرے گا اور کچھ کو ابھی بچا کر رکھے گا۔ اس میں دُنیا کی ابھرتی ہوئی معاشی اور فوجی سپرطاقت چین کے صدر ژی جنگ پنگ مہمانِ خصوصی ہوں گے۔ یہ ایک طرح کا جواب آں غزل ہے۔ ہم کئی دفعہ لکھ چکے ہیں کہ پاکستان جارحیت پسند ملک نہیں اور نہ ہی اُس کے توسیع پسندانہ عزائم ہیں، وہ اپنے دفاع کے لئے حکمت عملی وضع کرتا ہے اور اگر اس کو مجبور کیا جائے گا تو وہ بہت کچھ کرسکتا ہے، امریکا کے سارے کھیل کو صرف اکیلا پاکستان ہی بگاڑ سکتا ہے مگر وہ صرف اپنے تحفظ تک اپنے آپ کو محدود رکھتا ہے۔

پاکستان کو دو لخت کیا گیا، اِس کی سزا بھارت کو 26 سال تک بھگتنا پڑی پھر روس کو بھی افغانستان میں سزا کے مرحلے سے گزرنا پڑا کیونکہ وہ بھی مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا ذمہ دار تھا۔ اسی طرح سے امریکا کو کم مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور اگر مزید ہمیں چھیڑا جائے گا تو معاملات بہت بگڑ جائیں گے۔ امریکا اب سپر طاقت نہیں رہا، اگرچہ اس کا اصرار ہے کہ دُنیا کا نظام وہی وضع کرے گا مگر سوائے اس کے کہ دُنیا کو عالمی جنگ سے دوچار کردے۔ اُس کے پاس دُنیا پر اپنی مرضی تھوپنے کی صلاحیت کمزور پڑ چکی ہے۔

پاکستان کے لئے امریکا دشمن ملک نہیں ہے لیکن اگر وہ بھارت کی طرف زیادہ جھکا اور اس نے ایٹمی معاملے میں بھارت کی غیر ضروری مدد کی، اُس کو ایٹمی سپلائی گروپ کا ممبر بنانے کی ایک حد سے بڑھ کر کوشش کی تو پاکستان اپنے دفاع میں کسی حد تک بھی جانے کو تیار ملے گا۔ ہم نے ایٹم بم بھی بھارت کے جواب میں بنایا تھا اور اب امریکا بھارت کو زیادہ اہمیت دے رہا ہے تو ہمیں چین اور روس کو اہمیت دینا ہو گی۔ ہم اس سے بھی آگے جا سکتے ہیں جو امریکا خوب سمجھتا ہے۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.