.

پائلٹ کی ہلاکت کے بعد اردن کے لیے خطرات

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کے لیے شام میں جاری بحران اردنی پائلٹ معاذ کساسبہ کی بہیمانہ ہلاکت کے واقعے کے مقابلے میں زیادہ صبر آزما اور خطرناک ہے۔ ثانی الذکر جرم بلاشبہ ایسا مکروہ واقعہ ہے۔ جس کا مقصد پوری عرب دنیا اور اقوام عالم کی سطح پر ایک ہنگام کی سی صورت حال کے ساتھ ساتھ اردن میں ایک اشتعال کی فضا پیدا کرنا تھا۔ داعش کی طرف سے اس گھناٶنے جرم کا ایک مقصد اردن کے بارے میں اس کے عزائم کا اظہار بھی تھا۔ اردن جس کے شمالی پڑوسی شام کو ایک سنگین قسم کے بحران کا سامنا ہے۔

میرے خیال میں اردن کا شام میں ایک ایسا اہم کردار ہے، جو اس نے ابھی تک ادا نہیں کیا ہے۔ اگرچہ اس نے شام میں جاری جدوجہد سے خود کو دور رکھنے کی کوشش کی۔ لیکن اہل شام نے اردن کو اس جاری بحران سے دور رہنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ شامی رجیم خوب جانتی ہے کہ اردن کے ساتھ لگنے والی سرحد علاقائی سطح پر ایک سرخ لکیر ہے اس لیے اسے عبور نہیں کرے گی جبکہ داعش کا خیال ہے کہ اردن اس کے لیے بہترین ہدف ہے، جسے وہ حاصل کر سکتی ہے۔

وجہ یہ ہے کہ اردن خالصتا سنی بود وباش، ماحول اور کلچر کا حامل ایک ملک ہے۔ اس کے پڑوس میں اسرائیل ہے۔ اگر جغرافیائی حوالے سے دیکھا جائے تو اردن داعش کے جنوب کی جانب راستے کو مکمل کرتا ہے۔ داعش کا یہ راستہ عراق کے جنوب مغرب سے ہوتا ہوا سعودی عرب کے لیے براہ راست خطرے کا باعث ہے۔

داعش کی ایک خاص بات یہ ہے کہ حملہ کرتے ہوئے وہ یہ نہیں دیکھتی کہ متعلقہ علاقے میں سنی اقلیت میں ہیں یا کمزور ہیں۔ جیسا کہ عراق کے شیعہ صوبے ہیں یا شام میں علویوں کے علاقے پر حملے کی مثال ہے بلکہ اس کے سامنے یہ بات ہوتی ہے کہ وہ ان علاقوں کو اپنے قبضے میں لینے کی کوشش کرتی ہے، جن کے بارے میں وہ سمجھ لے کہ ان علاقوں کو وہ فتح کرکے اپنے لیے افرادی قوت کے ذخیرے کے طور پر استعمال کر سکتی ہے۔

ایسی افرادی قوت جو مذہبی فرقہ واریت کی بنیاد پر داعش کی حمایت کرے، خواہ یہ افرادی قوت داعش کے سیاسی نظام کو قبول نہ کرتی ہو۔ جو کوئی داعش کی عراق اور شام میں سرگرمیوں پر نظر رکھتا ہو وہ سمجھ سکتا ہے کہ یہ تنظیم کس طرح سوچتی اور آگے بڑھتی ہے۔ میں اس موقع پر داعش اور اس کے مقاصد پر زیادہ بات کرنے کے بجائے یہ کہنا چاہوں گا یہ تنظیم اردن کو شامی رجیم کے مقابلے میں زیادہ برا دشمن سمجھتی ہے۔ جس طرح اس نے اپنی بندوقوں کی نالیاں شام کی آزاد فوج کے خلاف کھول رکھی ہیں۔ گویا شامی حزب اختلاف کی حمایت یافتہ آزاد فوج کو دونوں طرف سے دشمنی کا سامنا ہے۔

اردن نے شام کے حوالے سے گذشتہ چار برسوں کے دوران اپنا کردار ادا نہیں کیا ۔ اس کی وجہ اس کا یہ واضح موقف رہا کہ اس تصادم میں ملوث ہونے سے گریز کی پالیسی اپنائے رکھتی ہے۔ تاہم تصادم میں ملوث نہ ہونا ایک آپشن نہیں رہتا جب شامی رجیم کی طرف سے اپنے شہریوں پر کی جانے والی بمباری کو پڑوسی ملک سن رہا ہو اور پانچ لاکھ سے زائد نقل مکانی کرنے والوں کو اپنے ہاں پناہ دے چکا ہو۔ پانچ لاکھ سے زائد پناہ گزینوں کی آبادی بلاشبہ سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی کے لحاظ سے ایک چیلنج ہے۔ یوں اپنی خواہش کے برعکس اسے شام کی صورتحال کا حصہ بننا پڑا، ایک فریق کے حق میں جبکہ دوسرے کے خلاف۔ یہ کوئی راز نہیں ہے کہ آزاد شامی فوج شمالی اردن کی طرف جمع ہے۔

میری مراد یہ ہے کہ شام کی جنوبی سرحد کے اندرون میں آزاد شامی فوج کا تقریبا مکمل کنٹرول ہے۔ لیکن ابھی تک یہ ایسی فوج نہیں ہے جو دارالحکومت دمشق پر قبضے کے لیے کافی جدید اسلحہ رکھتی ہو۔ جو درعا سے صرف ایک سو کلومیٹر دور اور ایک گھنٹے کی ڈرائیو پر ہے۔

اگر اردن اور آزاد شامی فوج کی حمایت کرنے والے دوسرے ممالک اس سے پہلے فری سریئن آرمی کو دمشق فتح کرنے کے قابل بنانے کا رسک لے لیتے تو ممکن ہے ہمیں آج جس پیچیدہ اور خطرناک صورت حال کا سامنا ہے، یہ درپیش نہ ہوتی۔ ایسی صورتحال، جس میں دہشت گرد تنظیمیں دنیا کے لیے ایک بڑے خطرے کے طور پر نمودار ہوئی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اردن، سعودی عرب، عراق اور خطے کے دیگر ممالک شامی بحران کے مضمرات کو نظر انداز کر سکتے ہیں۔ کیا ان تمام دہشت گرد تنظیموں اور شامی رجیم کے مجرمانہ کردار کو مزید دس سال تک برداشت کیا جا سکتا ہے۔ کیا کوئی صرف ترکی کی سرحد یعنی شمالی محاذ پر بھروسہ کر سکتا ہے، جہاں النصرہ فرنٹ کی صورت میں ایک دوسری دہشت گرد تنظیم کا غلبہ ہے؟ اس صورت حال نے اردن کے لیے تقریبا ایک ہی راستہ بچا ہے۔

ہم نے دیکھا ہے کہ کوبانی کو داعش کے قبضے سے چھڑانا کتنا مشکل تھا۔ دوسری جانب کردستان کے اس علاقے کو داعش سے خطرات لاحق ہیں جس علاقے کو پچھلی دو دہائیوں سے قلعہ بند کر رکھا گیا ہے۔ اسی طرح داعش نے مسلسل دو بڑے عراقی شہروں موصل اور کرکوک کو اپنے قبضے میں لے رکھا ہے۔ داعش کے اس قبضے کے خاتمے کے لیے امریکی اور ایرانی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔

اس منظر نامے کے ہوتے ہوئے ہم داعش کی طرف سے موجود خطرے کو کمتر نہیں کہہ سکتے۔ یہ حملہ کرنے کی صلاحیت رکھی ہے، غلبہ پانے کی اہلیت کی حامل ہے اور اپنے کنٹرول کو وسعت دینے کی اہل ہے۔ داعش کے جس قتل و غارتگری کے مکروہ انداز کا اردنی پائلٹ کو نشانہ بنا ہے یہ انداز دراصل اردن اور دوسروں کو دھمکانے کے لیے تھا۔ اردنی پائلٹ معاذ کساسبہ کے قتل کی ویڈیو کے دیکھے جانے کے بعد ایک خوف کی فضا ہے۔ اس ویڈیو سے یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ شہریوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے داعش کے عسکریت پسندوں کی آمد ہی کافی ہے۔ جیسا کہ عراقی شہروں میں ہوا وہ آئے اور اور انہوں نے تیزی سے قبضہ کر لیا۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.