.

چیخ چیخ کی آواز بھی نہ آئی

نازیہ مصطفیٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فروری کے چار ہی دن گزرے تھے کہ میڈیا پر جاری ہونے والی ایک ویڈیو نے گویا ہر طرف آگ ہی لگادی ، یہ ویڈیو کیا تھی گویا انسانیت کو شرماکر اور سرجھکاکر رکھ دینے والا بربریت پر مبنی ایک منظر نامہ تھا۔ گوانتانامو کے دہشت ناک اور وحشت ناک قید خانے کے باسیوں کی وردی جیسے نارنجی رنگ کے کپڑے پہنے ایک شخص لوہے کے ایک پنجرے کے اندر موجود تھا، جس کے ہاتھ عقب میں بندھے ہوئے تھے، ویڈیو کے چند منٹ گزرنے کے ساتھ ہی آگ کا ایک شعلہ پہلے سے پھینکے گئے پیٹرول کی مدد سے راستہ پکڑ کر پنجرے کی جانب لپکا اور دیکھتے ہی دیکھتے سارے پنجرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، پنجرے میں موجود قیدی نے آگ کے اِن شعلوں سے بچنے کی اپنی سی کوشش کی، لیکن آگ نے نارنجی رنگ کا دامن پکڑ ہی لیا، پھر فضا میں انسانی گوشت کے جلنے کی بو گھلنے لگی، آگ کے شعلوں میں گھرے قیدی کی چیخ پکار شعلوں کی پھڑپھڑاہٹ میں دب کر رہ گئی۔

بیس بائیس منٹ میں زندہ انسان مکمل بار بی کیو کی شکل اختیار کرگیا، انسانی تاریخ کا ایک سیاہ ترین باب تحریر کرنے کے بعد یہ ویڈیو ختم ہو گئی اور ٹی وی سکرین پر مکھیاں بھنبھنانے لگیں، لیکن یہ ویڈیو دیکھنے والا کوئی بھی انسان کئی راتوں تک سو نہیں سکتا، ایک نوجوان کو زندہ جلانے کی یہ ویڈیو دولت اسلامیہ میں نقاب پوش جنگجووں کے زیر نگیں علاقے کی تھی اور مذکورہ ویڈیو میں بربریت کی نشانی بننے والا نوجوان کوئی اور نہیں بلکہ اردن کی فضائیہ کا ایک پائلٹ معاذ الکساسبہ تھا جبکہ اُسے اِس انجام تک پہنچانے والے اہل داعش بتائے گئے تھے۔

معاذ کو گزشتہ برس دسمبر میں جنگجووں نے اُس وقت حراست میں لیا جب وہ امریکی قیادت میں جاری فضائی کارروائی میں شامل تھا اور اس کا جہاز دولت اسلامیہ کے علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ داعش نے معاذ کی رہائی کے بدلے اردن میں قید القاعدہ سے تعلق رکھنے والی ایک عراقی خاتون جنگجو کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ اردن خاتون کو رہا کرنے پر رضامند تھا مگر حکومت نے اپنے پائلٹ کے زندہ ہونے کا ثبوت مانگا تھا لیکن اس سے پہلے کہ ’’قیدیوں‘‘ کا تبادلہ ہوتا، اردنی پائلٹ کو زندہ جلادیا گیا، یہ ویڈیو منظر عام پر آنے کی دیر تھی کہ اہل اردن غم و غصے سے غضب ناک ہوکر سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ اردنی غضب ناک بھلا کیوں نہ ہوتے؟ واقعہ ہی ایسا ہوا تھا کہ ہر اردنی غم، تکلیف، دکھ اور رنج سے تقریبا نیم پاگل ہو چلا تھا، اردن کی گلیاں مظاہرین سے بھر چکی تھیں اور ان مظاہرین کی قیادت کوئی اور نہیں بلکہ اردن کی ہر دلعزیز ملکہ رانیہ خود کررہی تھی۔

اُدھر پائلٹ کی ہلاکت کے خبر ملنے پر اردن کے بادشاہ عبداللہ امریکہ کا دورہ مختصر کر کے واپس وطن پہنچ گئے اور اپنے ایک بیان میں شہریوں سے مشکل کا سامنا کرنے میں متحد رہنے کی اپیل کی۔اِس واقعے کے بعد اردنی حکومت نے اعلان کیا کہ اپنے پائلٹ کا انتقام لینے کے لیے زمین ہلادینے والا جواب دے گی، جس کے بعد اردن نے القاعدہ کی خاتون ساجدہ الریشاوی سمیت ان قیدیوں کو پھانسی دیدی جن کی رہائی کا مطالبہ دولت اسلامیہ نے کیا تھا۔ امریکی صدر اوباما نے بھی پائلٹ کو جلائے جانے کے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے داعش کو شکست دینے کے لیے اپنے اتحادیوں کے ہمراہ کوششوں کو مزید تیز کرنے کا اعلان کیا۔

دوسری جانب سعودی عرب کے مفتی اعظم الشیخ عبدالعزیز آل الشیخ نے معاذ الکساسبہ کو زندہ جلانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’’زندہ انسان کو آگ میں جلانے والوں کا کوئی دین ومذہب اور اخلاق نہیں، کسی زندہ انسان کو آگ میں جلا کر موت سے ہمکنار کرنا اسلام میں قطعی حرام ہے، زندہ انسانوں کو جلانے کا غیر انسانی طرز عمل اُن خوارج کا وحشیانہ فعل ہے جو خود کو اسلام کا سب سے بڑا ٹھیکیدار سمجھتے ہیں، ان کے تمام دعوے باطل ہیں، وہ کفر کے راستے پر گامزن اور گمراہی کی نمائندگی کرتے ہیں اور اسلام کے کھلے دشمن ہیں، کسی بھی ذی روح کو آگ میں جلانا صرف اللہ کے اختیار میں ہے، اردنی پائلٹ معاذ الکساسبہ کو آگ میں جلانے والوں کا کوئی دین، ایمان اور اخلاق نہیں ہے، یہ مجرمانہ حرکت ایک مفسد اور فتنہ پرور گروہ کی کارستانی ہے، دنیا اِسے اسلام کی نمائندہ نہ سمجھے‘‘۔

قارئین کرام!! اردن کے ایک پائلٹ کو آگ میں زندہ جلانا یقینا ایک مذموم فعل تھا اور اس واقعے پر اردن، سعودی عرب اور عالمی برادری کا ردعمل بھی یقینا منطقی اور مدلل تھا۔ اِس واقعے کے فوری بعد جس طرح اردن کے بادشاہ اپنا امریکا کا دورہ ادھورا چھوڑ کر وطن واپس آ گئے اور جس طرح عوامی غم و غصے کے اظہار کیلئے کیے جانے والے مظاہروں کی قیادت خود اردنی ملکہ رانیا نے کی، وہ ایک زندہ قوم کی نشانی تھی۔

لیکن حیرت یا حیرت! کراچی میں ایک مافیا جماعت دو سو ساٹھ کے لگ بھگ محنت کشوں کو بھتہ نہ ملنے پر زندہ جلا دیتی ہے، دو سو ساٹھ زندہ انسان جلا کر کر کوئلہ بنا دیے جاتے ہیں، اردنی پائلٹ کے واقعہ سے دو سو ساٹھ گنا بڑا المناک سانحہ رونما ہوجاتا ہے،اِس واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ عدالت میں پیش بھی کردی جاتی ہے اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اِس واقعے کو حادثے کی بجائے قتل قرار دے کر اس میں ملوث اصل مجرموں، قاتلوں اور قاتل جماعت کے چہرے سے نقاب بھی نوچ ڈالتی ہے لیکن اس کے باوجود حکومت سے لے کر اپوزیشن تک اور خواص سے لے کر عوام تک کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی بلکہ اُس کے برعکس متحارب سیاسی جماعتیں بھی اِس مافیا کو بچانے پر کمر بستہ ہو جاتی ہیں۔

حد تو یہ ہے کہ دو سو ساٹھ انسانوں کو جلائے جانے پر کوئی مفتی اعظم بھی اُٹھ کر نہیں بولتا کہ’’زندہ انسان کو آگ میں جلانے والوں کا کوئی دین ومذہب، سیاست اور اخلاق نہیں، کسی زندہ انسان کو آگ میں جلا کر موت سے ہمکنار کرنا اسلام میں قطعی حرام ہے، زندہ انسانوں کو جلانے کا غیر انسانی طرز عمل خوارج کا وحشیانہ فعل ہے ، یہ سیاسی خوارج کفر کے راستے پر گامزن اور گمراہی کی نمائندگی کرتے ہیں اور اسلام اور پاکستان کے کھلے دشمن ہیں، کسی بھی ذی روح کو آگ میں جلانا صرف اللہ کے اختیار میں ہے،دو سو ساٹھ زندہ انسانوں کو آگ میں جلانے والوں کا کوئی دین، ایمان اور اخلاق نہیں ہے، یہ مجرمانہ حرکت ایک مفسد اور فتنہ پرور گروہ کی کارستانی ہے۔

دنیا اسے اسلام یا پاکستان کی نمائندہ نہ سمجھے‘‘۔ کیا یہ شرم کا مقام نہیں کہ ایک پائلٹ کو جلائے جانے پر سارا اردن جاگ اٹھا اور دو سو ساٹھ انسانوں کا باربی کیو بنائے جانے پر بھی ہمارے خراٹے نہیں تھم رہے؟ اہل اردن زندہ تھے، شاید اسی لیے آج عالمی برادری میں اردن کے پائلٹ کی لاش بھی زندہ ہے۔ تو کیا ہم مردہ ہو چکے ہیں کہ ہماری دو سو ساٹھ گلی سڑی لاشیں دیکھ کر کسی جانب سے چچ چچ کی آواز بھی نہ آئی؟

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.