.

ترکی میں سیاسی ہلچل

ڈاکٹر فرقان حمید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں سات جون 2015ء کو ہونے والے عام انتخابات سے قبل ماہ فروری ہی میں سیاسی ہلچل دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اس کی ایک وجہ دس فروری تک سرکاری ملازم کا اپنے اپنے عہدوں سے مستعفی ہو کر عام انتخابات کے لئے پارٹی ٹکٹ حاصل کرنا ہے۔ (پاکستان میں کسی بھی سرکاری ملازم کو ریٹائرڈ ہونے کے دو سال بعد سیاست میں حصہ لینے کی اجازت ہوتی ہے جبکہ ترکی میں ایسا کوئی قانون نہیں ہے اور اپنے عہدے سے مستعفی ہونے والا امیدوار اگر چاہے تو انتخابات کے دو ماہ بعد واپس اپنی نوکری پر بحال ہوسکتا ہے) سرکاری ملازمین نے عام انتخابات میں حصہ لینے کے لئے دھڑا دھڑ استعفے دینے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور زیادہ تر سرکاری ملازمین نے جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (آق پارٹی) کا ٹکٹ حاصل کرنے کے لئے رجوع کیا ہے۔ مستعفی ہونے والوں میں سب سے اہم شخصیت ترکی کی قومی خفیہ سروس MIT کے سربراہ حقان فدان ہیں۔ حقان فدان صدر ایردوان کے دست راست سمجھےجاتے ہیں اور راقم نے اپنے سات جنوری 2015ء کے ’’ایردوان کا اپنے محافظوں پر جاسوسی کا الزام‘‘ کے زیرعنوان کالم میں ترکی کی قومی خفیہ سروس کے سربراہ حقان فدان کا ذکر تفصیل کے ساتھ کیا ہے۔

یہاں پرصرف اتنا بتاتا چلوں کہ حقان فدان نے کس طرح ایردوان حکومت کا تختہ الٹنے اور ایردوان نے کس طرح حقان فدان کو حراست میں لینے کی کوششوں کو ناکام بنایا۔ صدر ایردوان مرمرہ یونیورسٹی میں معدے کی بیماری کے باعث معمولی قسم کا دوسرا آپریشن کروانے کے لئے یونیورسٹی اسپتال روانہ ہوئے تو موقع سے فائدہ اٹھا کر انقرہ عدلیہ کے پراسیکیوٹرصدر الدین ساری قایا نے حقان فدان کو حراست میں لینے کی کوشش کی تاکہ دوران حراست حقان فدان سے ایردوان سے متعلق تمام معلومات حاصل کرتے ہوئے اور اس معلومات کی روشنی میں آق پارٹی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے اور اس دوران پارلیمنٹ کے اندر ہی آق پارٹی کے کسی دیگر رہنما کو پارٹی کا چیئرمین اور وزیراعظم منتخب کروایا جائے لیکن ایردوان کے آخری لمحوں میں اپنے پروگرام میں تبدیلی اور آپریشن نہ کروانے کے فیصلے سے یہ سارے کا سارا منصوبہ دھرے کا دھرا رہ گیا اور یوں وزیراعظم ایردوان کی آخری لمحوں میں حقان فدا کو حراست میں جانے سے بچا کر نہ صرف حقان فدان کی اہمیت کو اجاگر کردیا بلکہ وزیراعظم ایردوان خود بھی اپنے ساتھیوں اور محافظوں کی حرکات و سکنات اور مقاصد سے آگاہ ہوگئے۔ اس طرح ترک سیاست میں حقان فدان کو الگ ہی مقام حاصل ہوگیا۔

ترکی کی قومی خفیہ سروس MIT کے مستعفی سربراہ حقان فدان واحد سرکاری ملازم ہیں جو بڑی دھوم دھام سے ترکی کی سیاست میں قدم رکھ رہے ہیں ۔ ان کے خفیہ سروس کے سربراہ کی حیثیت سےاپنے عہدے سے استعفیٰ پورے ملک میں زیربحث ہے۔ ترکی کے کسی سرکاری ملازم کی اپنے عہدے سے مستعفی ہو کر عام انتخابات میں حصہ لینے کی شاید ہی کوئی خبر شائع ہوئی ہولیکن حقان فدان کے اپنے عہدے سے مستعفی ہو کر سیاست میں حصہ لینے کی خبریں متحدہ امریکہ سے لے کر اسرائیل اور ایران کے ساتھ ساتھ ترکی کے اپنے اخبارات کی سرخیاں بنی ہوئی ہیں۔ اسرائیل کی خفیہ سروس موساد اور اسرائیلی لابی ، متحدہ امریکہ کی خفیہ سروس سی آئی اے حقان فدان کو ایران کے بہت قریب سمجھتی ہیں اور انہوں نے حقان فدان کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے لئے کئی ایک ڈرامے بھی رچائے لیکن وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہیں ۔ علاوہ ازیں فتح اللہ گؤلن حوجہ اور ان کی تحریک بھی حقان فدان کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتی رہی ہے یعنی دوسرے الفاظ میں حقان فدان ان سب کی آنکھوں میں کھٹکتے رہے ہیں۔ ان تمام ممالک اور گؤلن تحریک کی حقان فدان کی مخالفت کی سب سے اہم وجہ حقان فدان کا اپنی مملکت سے گہری محبت کرنا اور قوم پرست ہونا ہے۔ انہوں نے اپنے دور میں کسی بھی غیر ملکی خفیہ سروس کو اپنے ملک کی خفیہ سروس کے معاملات میں دخل اندازی کرنے کا موقع نہیں دیاا ور ترکی کی قومی خفیہ سروس کو آزادا نہ راہ پر گامزن کرنے کے ساتھ ساتھ علاقے کی مضبوط ترین سول خفیہ سروس کا روپ عطا کیا۔ ترکی کی خفیہ سروس اس سے پہلے کبھی بھی اتنی مضبوط نہ تھی جتنی کہ موجودہ دور میں ہے۔ پھر اس خفیہ سروس میں جو نئی بات دیکھی گئی ہے وہ ماضی سے ہٹ کر سویلین افراد اورخاص طور پر سیاستدانوں کی جاسوسی کرنے کی بجائے غیر ملکی دخل اندازی کو روکنا اورغیر ملکی خفیہ ہاتھوں کا پتہ لگانا اور اسے ایک گلوبل خفیہ سروس کا معیار عطا کرنا ہے۔

حقان فدان کے اپنے عہدے سے مستعفی ہوکر آق پارٹی کے پروں تلے سیاست میں قدم رکھنے کے بارے میں مختلف تبصرے کئے جا رہے ہیں۔ حزبِ اختلاف کی جماعت ری پبلیکن پیپلز پارٹی اور نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی نے حقان فدان کے آئندہ انتخابات کے بعد موجودہ وزیراعظم احمد داؤد اولو کی جگہ لینے اور صدر ایردوان کے ساتھ مل کر ملک میں صدارتی نظام کے تحت حکومت چلانے کا خیال ظاہر کیا ہے جبکہ صدر ایردوان نے حقان فدان کے سیاست میں آنے کے بارے میں بڑا غیر متوقع بیان جاری کیا ہے۔ صدر ایردوان نے لاطینی امریکہ کے ممالک کے چھ روزہ دورے پر روانہ ہونےسے قبل بیان دیتے ہوئے حقان فدان کے اس فیصلے کے بارے میں کہا ہے ’’میں فدان کے اس فیصلے کو ایک مثبت فیصلہ نہیں سمجھتا ہوں۔ میں نے وزیراعظم سے بھی اس سلسلے میں بات کی ہے تاہم اس بارے میں فیصلہ کرنے کا حق وزیراعظم کو حاصل ہےلیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حقان فدان کو بھی دیگر سرکاری ملازمین کی طرح انتخابات میں حصہ لینے کا حق حاصل ہے۔‘‘ صدر ایردوان کے اس بیان پر مختلف تبصرے کئے جا رہے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ صدر ایردوان نے یہ بیان صرف اس لئے دیا ہے کہ ان سیاسی رہنماؤں اور عوام کو بتادیا جائے کہ حکومت کے بارے میں حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار صرف وزیراعظم ہی کو حاصل ہے اور وزیراعظم ان کی تمام باتوں کو ماننے کے پابند نہیں ہیں ۔ ایردوان کے اس غیر متوقع بیان کے بارے میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ عوام کو یہ باور کروایا جاسکے کہ ملکی سیاست میں ایردوان کے الفاظ ہی حرفِ آخر نہیں ہوتے ہیں اور وزیراعظم احمد داؤد اولو کوئی کٹھ پتلی وزیراعظم نہیں ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا یہ بھی خیال ہے صدر ایردوان نے اپنے ہاتھوں سے سیاست سے دور رہنے والی دونوں شخصیات احمد داؤد اولو اور حقان فدان کو سیاسی تربیت فراہم کرتے ہوئے پروان چڑھایا اور احمد داؤد اولو طویل عرصے تک ان کے دستِ راست کی حیثیت سے فرائض بھی ادا کرتے رہے ہیں لیکن اب ملک کو عالمی سطح پر ایک طاقتور ملک ثابت کرنے کا موقع آن پہنچا ہے اور حقان فدان جو عالمی سیات کی اونچ نیچ سے پوری طرح آگاہ ہیں اور عالمی خفیہ سروسز کو بھی اچھی طرح جانتے ہیں کو آگے لاتے ہوئے ترکی کو ایک طاقتور ملک کے طور پر پیش کیا جائے اور حقان فدان کے ساتھ مل کر صدارتی نظام کو قائم کرتے ہوئے اسے دنیا کے گنے چنے ممالک کی فہرست میں شامل کیا جاسکے۔

ناچیز کی ذاتی رائے کے مطابق حقان فدان نے ترکی کی قومی خفیہ سروس کے سربراہ کے طور پر مستعفی ہو کر کئی ایک رسک بھی لئے ہیں اور کئی ایک چیزوں سے محروم بھی ہوجائیں گے کیونکہ خفیہ سروس کے سربراہ ہونے کے ناطے ان کو جو اعلیٰ مقام حاصل تھا ایک عام رکن پارلیمنٹ یا پھر وزیر ہونےکے باوجود حاصل نہ ہوسکے گا۔ تاہم یہ بھی خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انتخابات کے بعد وزیراعظم احمد داؤد اولو کی کابینہ میں پہلے انہیں نائب وزیراعظم بنایا جائے گا اور بعد میں ان کو وزیراعظم کے عہدے پر ترقی دی جاسکتی ہے۔ اس کی سب سے اہم وجہ جنوب مشرقی اناطولیہ یا کردوں کے مسئلے کے حل کرنے کی کنجی ان کے پاس ہونے اور فتح اللہ گؤلن تحریک کو جلد از جلد اس کے انجام تک پہنچانے کا مہرہ بھی حقان فدان کے پاس ہونے اور ایردوان کے ساتھ مل کر اس مہرے کا استعمال کئے جانے کو بتایا جا رہا ہے۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.