.

ٹی وی ’’اینکرز‘‘ اور دولت مند توجہ فرمائیں.

عظیم ایم میاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جب سے صدر اوباما دہلی یاترا کرکے لوٹے ہیں امریکہ سے ہم پاکستانیوں اور پاکستان کے لئے ناخوشگوار خبروں کا سلسلہ جاری ہے لگتا ہے کہ صدر اوباما اپنی میعاد صدارت کے بقیہ دو سال بھارت۔ امریکہ قربتوں کو بڑھانے میں صرف کریں گے اور بھارت کو جنوبی ایشیا کے مکمل اور عملی چوہدری ہونے کی دستار بندی کرکے ہی وہائٹ ہائوس سے رخصت ہونے کا مشن رکھتے ہیں مگر ڈیموکریٹ باراک اوباما کے سیاسی مخالفین یعنی امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت کے حامل ری پبلکن اراکین اس سلسلے میں کیا موقف اختیار کرتے ہیں اور کیا رکاوٹ کھڑی کرتے ہیں یہ ابھی طے ہونا باقی ہے۔ البتہ اوباما انتظامیہ کی جانب سے تو اہل پاکستان کے لئے ناخوشگوار خبروں کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے۔ مگر امریکی معاشرتی نظام اور میڈیا سے دو ایسی تازہ خبریں ہیں جو پاکستان کے دو اہم طاقتور طبقات کے لئے تو تشویش اور فکر کی دعوت لئے ہوئے ہیں بلکہ ان طبقات کے بعض افراد کے لئے تو انتہائی ناخوشگوار خبریں ہیں لیکن پاکستانی عوام کے لئے بڑی خوشگوار بھی ہیں۔

پہلی خبر یہ ہے کہ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک قسط وار تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا ہے کہ کس طرح دنیا کے مالدار افراد نیویارک کی مشہور بلڈنگوں میں انتہائی قیمتی فلیٹ اور جائیداد خریدنے کے لئے مختلف طریقوں اور ایجنٹوں سے مدد لیتے ہیں وہ مختلف ناموں سے (SHELL COMPANY) بنا کر اپنی دولت سے جائیداد خریدتے ہیں کہ اصل مالک کا نام پتہ نہ چل سکے۔ ’’نیویارک ٹائمز‘‘ نے اپنی تحقیقاتی کاوشوں سے بہت سے ایسے غیرملکی شخصیات کے ناموں اور دیگر تفصیلات کا پتہ چلایا ہے اور بعض نام اپنی پہلی قسط میں ہی ظاہر کردئیے ہیںجن میں ابھی کسی پاکستانی کا نام تو نہیں البتہ بھارت، چین اور بعض دیگر افراد کے نام بھی ہیں اور ان پر الزامات اور جرائم کی تفصیل بھی ہے۔ رپورٹ یہ بھی اشارہ کرتی ہے کہ امریکی ایف بی آئی اور دیگر ادارے ان افراد کے ناموں کرداروں، ذریعہ دولت اور دیگر معاملات سے واقف بھی ہیں اور ان کی نگرانی بھی کررہے ہیں۔

صرف نیویارک کے علاقے مین ہٹن میں ٹائم وارنر کمپنی کی ایک بلڈنگ میں کئی کئی ملین ڈالرز کا ایک فلیٹ خریدنے والوں کی تفصیل ہی کافی ہے۔ امریکہ میں انویسٹ کی جانے والی اس دولت میں ذرائع کے مطابق وہ غیرملکی بھی ہیں جنہوں نے کرپشن اور جرائم کے ذریعے اپنے ملکوں میں سمیٹی ہوئی دولت کو امریکہ لاکر ’’شیل کمپنی‘‘ بناکر اور مختلف طریقوں سے سرمایہ کاری کی ہے تاکہ اصل مالک کا نام ظاہر نہ ہوسکے۔ کرپشن، جرائم اور دیگر طریقوں سے کمائی ہوئی اور اپنے عوام سے لوٹی ہوئی دولت کو امریکہ میں لاکر چھپانے کے انجام کی بھی ابتدا نظر آرہی ہے۔

امریکی ادارے تو آجکل اپنے امریکی شہریوں کے بیرون امریکہ رکھے جانے والے بینک اکائونٹس اور خرید کردہ جائیدادوں کی تلاش کرکے تحقیقات کررہے ہیں کہ کس امریکی نے ٹیکس سے بچنے کے لئے بیرون امریکہ کتنا کچھ چھپایا ہوا ہے۔ وہ امریکہ میں بھی غیرملکی شہریوں کی اپنے ملک اور عوام سے لوٹی ہوئی دولت، کرپشن منی اور کرائم منی کی سرمایہ کاری، مالکان کے ناموں اور ملکیتوں سے بخوبی واقف ہیں۔ جب بھی امریکی نظام کو ضرورت محسوس ہوئی وہ امریکی قانون کے مطابق جس کے خلاف ضروری سمجھے گا اقدام کرے گا۔ ایسی دولت کے بارے میں امریکی قانون واضح ہے۔ سالہا سال سے چھوٹے بڑے ممالک کے حکمرانوں، سیاستدانوں، کرائم مافیا وغیرہ کی جانب سے اپنے ممالک سے لوٹ کر غیرملکوں میں جائیدادوں اور انوسٹمنٹ کے انبار لگانے کا عمل جاری ہے تو ساتھ ہی ساتھ فلپائن کے مارکوس اور ایران کے شاہ کی غیرممالک میں اربوں ڈالرز کی دولت ضبط اور ہڑپ کرنے کا عمل بھی جاری ہے۔ یہ درست ہے کہ پاکستانی عوام سے لوٹی کرپشن کی دولت پاکستانی عوام کو نہیں ملے گی مگر یہ دولت ان کے ہاتھ سے بھی نکل جانے کا قوی امکان ہے جو اسے چھپا کر بیرون ملک جمع کرکے اپنی نسلوں کو خوشحال زندگی فراہم کرنے کی خوش فہمی میں بیٹھے ہیں۔


میڈیا ہی کے حوالے سے ایک اور خبر ایسی ہے جس پر ہماری صحافی برادری کو خوشگواری کا اظہار کرتے ہوئے توجہ دینا چاہئے اور پیشہ صحافت کے اس معیار کی داد دینا چاہئے جو امریکی ٹی وی این بی سی کے نیوز اینکر اور شعبہ نیوز کے منیجنگ ایڈیٹر ’’برائن ولیمز‘‘ کے تازہ واقعہ کی صورت میں دنیا کے سامنے آیا ہے۔ وہ کچھ یوں ہے کہ برائن ولیمز جو امریکی ٹی وی این بی سی کی شام کی خبروں کے اینکر پرسن ہیں اور ان کی خبریں روزانہ 93 لاکھ ناظرین اعتماد کے ساتھ دیکھتے ہیں عراق کی جنگ کے دوران وہ رپورٹر تھے 2003ء میں ایک امریکی ہیلی کاپٹر پر زمین سے فائر کیا گیا تو اس فوجی ہیلی کاپٹر کو مجبوراً لینڈنگ کرنا پڑی۔ جنگی نامہ نگار برائن ولیمز نے لینڈنگ کے وقوعہ سے ٹی وی پر خبر نشر کی کہ جس ہیلی کاپٹر کو دشمن کے فائر کی بدولت لینڈنگ کرنا پڑی وہ اس ہیلی کاپٹر میں سوار تھے۔ موقع واردات سے یہ رپورٹ نشر ہوگئی اور مبارک، شجاعت، سلامت کے شور میں خبر چل گئی۔ ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے برائن ولیمز این بی سی نیوز کے مینجنگ ایڈیٹر کے عہدے پر جا پہنچے اور ساتھ ہی ساتھ این بی سی کے سب سے اہم نیوز بلیٹن کے اینکر ہوکر امریکی ناظرین میں اعتماد، حقائق اور مستند رپورٹنگ کی علامت بن گئے۔ ان کے چینل نے بھی ان کا امیج بنانے کے لئے کئی ملین ڈالرز خرچ کئے بلکہ ان کی ساکھ شہرت اور مقبولیت کے باعث گزشتہ دسمبر میں مزید پانچ سال کے لئے 10 ملین ڈالرز سالانہ مشاہرہ کا کنٹریکٹ بھی کرلیا۔ لیکن گزشتہ روز یہ بات سامنے آئی کہ برائن ولیمز اس ہیلی کاپٹر میں سوار ہی نہیں تھے جس پر زمینی فائرنگ کے باعث عراق میں مجبوراً لینڈنگ ہوئی برائن ولیمز نے انگریزی لفظ (CONFLATED) استعمال کرتے ہوئے یہ کہا کہ وہ لینڈنگ کرنے والے ہیلی کاپٹر کے پیچھے آنے والے ہیلی کاپٹر پر سوار تھے۔ لیکن بحث طول پکڑ گئی۔

برائن ولیمز پر صرف خود کو ابھارنے کے لئے عوام سے غلط بیانی اور عوام کو گمراہ کرنے کا الزام لگا۔ تازہ اطلاع یہ ہے کہ برائن ولیمز کے اس معاملے کی تحقیقات شروع ہے۔ وہ خبریں نہیں پڑھیں گے۔ اپنے عملے اور ساتھیوں کے نام پیغام میں اس نے معافی مانگی اور ادارے کی نیک نامی پر حرف آنے کا بھی اعتراف کیا ہے۔ اب تحقیقاتی کمیٹی صرف ہیلی کاپٹر کے واقعہ کی تحقیقات تک ہی محدود نہیں بلکہ برائن ولیمز کی کترینہ طوفان کے بارے میں رپورٹنگ اور دیگر تمام رپورٹنگ اور اس کے رویوں کا جائزہ لے کر فیصلہ کیا جائے گا۔ نیویارک ٹائمز اور دیگر اخبارات میں برائن ولیمز کی اس لغزش اور جھوٹ پر مضامین میں مذمت، تنقید اور شرمساری کا اظہار ہے۔ یہ تو برائم ولیم نے تسلیم کرلیا کہ وہ فائر کی زد میں آنے والے ہیلی کاپٹر میں سوار نہیں ۔ آج بارہ سال بعد 2003ء کے ایک واقعہ کی غلط رپورٹنگ کے منظرعام پر آنے کے بعد این بی سی ٹی وی کے منیجنگ ایڈیٹر کا موجودہ عہدہ اور مستقبل دونوں ہی دائو پر لگ گئے ہیں۔ ہم امریکی میڈیا، امریکی فیشن، امریکی ڈپلومہ اور امریکی لائف اسٹائل کے تو خوب گرویدہ ہیں اور اپنے پروگراموں میں اس پر فخر کا اظہار کرتے ہیں۔ گزشتہ ایک سال میں اپنے پاکستانی میڈیا پر نظر ڈالئے ہمارے بعض ’’اینکر پرسنز‘‘ نے جس جانبدارانہ موقف، رائے اور رپورٹنگ کے ذریعے ملکی حالات اور سیاسی جماعتوں کے بارے میں عوام کو گمراہ کیا ہے وہ ہم سب کے سامنے ہے۔ برائن ولیمز کے عوام کو گمراہ کرنے کے الزام سے موازنہ اور پھر خود احتسابی ایک جائز بات ہے۔ اگر سبق لیں تو بعض اینکرز کے لئے یہ ناخوشگوار خبر صحافت کے مستقبل کے لئے خوشگوار خبر ہے۔

بہ شکریہ روذنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.