.

مصر کے آڈیو لیکس کے دعوے کی بیہودہ مہم

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری ایوان صدر سے متعلق نام نہاد آڈیو لیکس کے دعوے پر مبنی سکینڈل ان دنوں زیر بحث ہے۔ اس سکینڈل کے حوالے سے باور یہ کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ مصری ایوان صدر کو میڈیا کے میدان میں بہت کچھ سیکھنا ہے۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ یہ مہم ایسی پروپیگنڈا مہمات میں سے انتہائی ناکام مہم ثابت ہوئی ہے۔ یہ بھی ثابت ہو گیا ہے کہ میڈیا کتنا ہی طاقتور موزوں جواز اور اپنی ساکھ کے بغیر کسی چیز پر اثر انداز ہونے یا اسے تبدیل کرنے میں ناکام رہتا ہے۔

اگر میں ان آڈیو لیکس کے پس منظر اور محرکات سے آگاہ نہ ہوتا تو میں یہ سوچ سکتا تھا کہ یہ ایوان صدر کی ہی ایک کاوش ہے تاکہ ہمیں نیک نیت سے قائل کرنے کی ایک کوشش کے لیے ایسا کیا گیا ہے۔

سکینڈل

وہ لوگ جو اس کے پس منظر سے واقف نہیں ہیں کہ ساری کہانی اور مہم عرب رائے عامہ کو متاثر کرنے کے لیے گھڑی گئی۔ اس لیے کہا گیا کہ اس میں مصری قیادت کی فول کالز ٹیپ کرکے جن سے مصر کے خلیجی ممالک کے بارے میں ارادوں اور نیت کا پتہ چلتا ہے۔

ہمیں خوف ہے کہ ہمیں عسکری منصوبوں اور منظر ناموں کے بارے میں سننے کو ملا جو بند دروازوں کے اندر بیٹھ کر فون کالز پر خلیجی ملکوں کے حوالے سے داعش کے ساتھ ملکر تیار کیے گئے۔ لیکن یہ سب محض خالی خولی باتیں ہیں، ان باتوں سے کم اہم جو عوامی جلسوں یا کافی شاپس پر گپ شپ کے حوالے سے کی جاتی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اس میں مسئلہ کہاں ہے کہ جب مصری یہ کہتے ہیں کہ خلیجی ممالک کے پاس بہت دولت ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ سچ ہے، دوسری بات یہ کہ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ خلیج میں ہر روز کسی الجھن کے بغیر ہوتا ہے۔ اس لیے اس وقت کے فوجی سربراہ عبدالفتاح السیسی کی انکشاف کی گئی نام نہاد بات چیت کہ وہ صدارت کرنا چاہتے تھے نہ کوئی راز تھا، نہ حیران کن بات تھی۔ یہ بات تب کہی جا سکتی ہے جب ہم یہ کہیں کہ ٹیپس درست ہیں اور یہ گھڑے نہیں گئے ہیں۔

لیکن یہ اپنی جگہ درست ہے کہ یہ فون کالز کسی اسرائیلی یا امریکی کے ساتھ ہونے والے کسی رابطے یا کسی اجلاس پر مبنی نہیں ہیں۔ اس لیے خفیہ ریکارڈنگز نے کسی ذاتی مالی اکاونٹ کا انکشاف کیا ہے نہ ہی ہم نے فون کے دوران کسی متعلقہ شخص کی آواز سنی ہے۔ اس ٹیپ میں ایسا کچھ نہیں ہے۔

اشتہار

ان مبینہ آڈیو لیکس کے سننے کے بعد کہ یہ مصری صدر اور ایوان صدر کا بہترین اشتہار ہیں۔ یہ نام نہاد لیکس ایک بدنیتی پر مبنی بے تکلف کوشش کے سوا کچھ نہیں۔ جس کا مقصد مصری اور خلیجی ملکوں کی حکومتوں کے درمیان اختلاف یا اشتعال پیدا کرنے کی اپنی سی کوشش کرنا ہے۔

تاہم اس کی حقیقت کو جانے بغیر کہ وہ مصری قیادت کا بہتر تشخص پیش کر رہے ہیں انہوں نے اسے ختم کر دیا اور مصری قیادت کو شکوک سے بالاتر ظاہر کر دیا۔ نہ کہ اس طرح جس طرح سیسی کے مخالفین اسے پیش کرنا چاہتے ہیں۔

ہم خوفزدہ تھے کہ ہم نے خلیجی ملکوں کی سلامتی کو درپیش مسائل کے بارے میں سن رکھا تھا۔ نیز خطے کے خطرناک امور کے بارے میں اس دوہری پالسی کے بارے میں بھی سن رکھا تھا۔ اگر ان مبینہ آڈیو لیکس کا متن اور مواد واقعی بہت زیادہ مان لیا جائے تب خلیجی ملکوں کو یہ ضرور باور ہونا چاہیے کہ دوطرفہ تعلقات کانا پھوسی اور سنی سنائی باتوں یا گپ شپ کی بنیاد پر نہیں ہوتے بلکہ موقف اور دوطرفہ مفادات کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں۔ مصر کا استحکام خلیجی ممالک پوری عرب دنیا کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ اس لیے اس کے استحکام کو نقصان پہنچانے اور اس طرح کی کوشش جعلسازی کے ساتھ سیاسی تعلقات کو متاثر کرنے کی کوششوں الٹا نقصان ہو گا۔ اس لیے عرب حکومتیں جو اپنی سلامتی کی ضرورتوں سے خوب آگاہ ہیں وہ اس جعلسازی کو قبول نہیں کریں گے۔

جہاں تک مصر کی مالی امداد کا تعلق ہے، خلیجی ملک سمجھتے ہیں کہ وہ سیسی کی نہیں مصر کی مدد کر رہے ہیں اور نو کروڑ اہل مصر پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ اہم سوال یہ ہے کہ اس جعلی کھیل میں جو بھی شامل ہے ہمیں اسے نیچا دکھانا ہے یا دوسروں کو بھی موقع دینا چاہیے کہ وہ سلامتی کے لیے مسائل پیدا کریں۔ اگر دوسری آپشن کو اختیار کیا گیا تو ہر ایک کو مشکل میں ڈال دیں گے۔

مصری بحران

تاہم یہ باور رہنا چاہیے کہ روپیہ پیسا ہے ہر مسئلے کا حل نہیں ہے۔ سب سے پہلے مصری رجیم کو اپنا اعتماد دینا ہو گا اور بعد ازاں رہنمائی کہ ان وسائل کو کس طرح بروئے کار لانا ہے تاکہ ایسا نہ ہو کہ یہ وسائل بخارات کی طرح اڑ جائیں۔

یہ ان ملکوں کے لیے ایک چیلنج ہے جو مصر کو امداد دیتے ہیں۔ ان میں سعودی عرب،متحدہ عرب امارات اور کویت شامل ہیں۔ یہ تبھی ممکن ہے کہ یہ رقوم مصر کے پیداواری منصوبوں میں کام آئیں۔ اس سے مقامی اور بین الاقوامی سمایہ کاروں می توجہ بھی مصر کی طرف مبذول ہو گی۔ لیکن اس کا انحصار خلیجی ملکوں کی اس کمٹمنٹ پر ہو گا جو وہ مصری حکومت اور مصر کے لیے رکھتے ہیں کہ افراتفری پھیلانے والوں سے اسے بچائے رکھیں۔ اگر عرب دنیا کا اہم ستون ان کے مقابل ٹھہر نہ سکا تو کوئی بھی ٹھہر نہیں سکے گا۔

خطے کے باہر بھی اہل دانش اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں اور مصری استحکام کی حمایت کی بات کرتے ہیں۔ لہذا پروپیگنڈہ کرنے والے کامیاب نہیں ہو سکیں گے، اگر منصوبہ بند اور یکساں طور پر مقبول تحریک نہیں ہیں۔ سچ بتایا جانا چاہیے،کہ یہ مذموم کوشش ایک بے ہودہ کوشش ہے۔ جو میں نے منصوبہ سازی اور پروڈکشن کی سطح پر سن رکھا ہے۔ ان آڈیو لیکس کے نتائج جلد الٹ جائیں گے۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.