.

ہر 33 ویں دن، ایک صحافی

زاہدہ حنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ملک کے تمام صوبوں اور شہروں کے صحافیوں کے لیے یہ کوئی نئی خبر نہیں کہ پاکستان میں صحافت ایک نہایت پرخطر شعبہ ہے۔ وہ ان خطروں سے روزانہ گزرتے ہیں اور ہر لمحہ موت کے مقابل رہتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ایکسپریس میڈیا گروپ، انتہا پسندوں کے حملوں کا ایک بار نہیں، کئی بار شکار ہوا ہے۔

میڈیا کے کئی دوسرے ادارے اس خطرناک صورتحال کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی طرف سے جاری ہونے والی 2013ء کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس برس پاکستان میں 11 صحافی مارے گئے۔ ہر 33 ویں دن ایک صحافی فرض کی ادائیگی کے دوران مارا جاتا رہا ہے۔ یہ شرح جنوبی ایشیائی ممالک میں سب سے زیادہ ہے۔ اسی وجہ سے 2013ء میں پاکستان کو صحافیوں کے لیے دنیا کا آٹھواں خطرناک ترین ملک قرار دیا گیا۔

بطور خاص بلوچستان کے صحافیوں کا کہنا ہے کہ وہ مشکل صورتحال کا سامنا کر تے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب انتہا پسند انھیں کوئی بیان شائع یا نشر کرنے کے لیے بھیجتے ہیں تو اس کے ساتھ ہی انھیں بیان کو شائع نہ کرنے کی صورت میں قتل کی دھمکیاں بھی ملتی ہیں۔ ایک مذہبی عسکریت پسند تنظیم کی پاکستانی شاخ نے ایک فتویٰ جاری کیا جس میں میڈیا پر ان کے خلاف پروپیگنڈے اور ان کے بیانات کو شائع نہ کرنے کا الزام لگایا گیا۔ اس فتویٰ میں ایک وارننگ بھی شامل تھی جس میں کہا گیا اگر میڈیا ان کے خلاف یک طرفہ رپورٹنگ جاری رکھے گا تو وہ میڈیا سے منسلک افراد کو ہدف بنائیں گے۔

اس پس منظر میں پیرس سے آنے والی یہ خبر حیران نہیں کرتی جس میں رپورٹرز بیانڈ بارڈرز کی سالانہ رپورٹ 180 ملکوں میں صحافت کی آزادی یا اس پر پابندی کا احوال بیان کرتی ہے۔ اس میں پاکستان کا شمار 159 ویں نمبر پر کیا گیا ہے۔

یہ ایک الم ناک بات ہے اور اس کے مختلف مظاہر ہمیں روز و شب نظر آتے ہیں۔ اس رپورٹ کے جاری ہونے سے 12 دن پہلے اسلام آباد میں ایک بین الاقوامی کانفرنس ہوئی جو میڈیا سے متعلق افراد اور صحافیوں کے تحفظ کے لیے بلائی گئی تھی۔ اس کی صدارت وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کی اور اس میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے بنائے جانے والی کمیٹی کے ایشیا کوآرڈینیٹر بوب ڈٹز کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان صحافیوں کے تحفظ کے لیے کچھ نہیں کر سکی ہے اور وہ نہایت غیر محفوظ فضا میں اپنی پیشہ ورانہ سرگرمیاں انجام دیتے ہیں۔

غیر منقسم ہندوستان میں جدید صحافت کی بنیاد اٹھارویں صدی میں ہی پڑ گئی تھی اور اس کی شروعات برطانوی صحافیوں نے کی تھی۔ ان میں کچھ وہ تھے جو ایسٹ انڈیا کمپنی کی زیرِ سرپرستی اخبار نکال رہے تھے اور جیمز ہکی جیسا بے دریغ لکھنے والا بھی تھا، جسے اپنی بے باک صحافت کی قیمت اخبار کی بندش، خود جیل میں وقت گزارنے اور آخرکار ہندوستان بدر کیے جانے کی صورت سہنی پڑی۔ یہی وہ روش تھی جو راجا رام موہن رائے اور ان جیسے دوسرے دبنگ اور باضمیر افراد نے اختیار کی۔ یہ لوگ جانتے تھے کہ برٹش راج کے ظلم و ستم سے لڑنے کے لیے انھیں بھی وہی طریقے اختیار کرنے پڑیں گے جن کو جیمز ہکی اور انگلستان کے دوسرے باشعور افراد نے اختیار کیا تھا۔ راجا رام موہن رائے نے اپنے اخبار کے لیے فارسی زبان کو وسیلہ بنایا لیکن آخرکار مختلف بندشوں کی بنا پر انھوں نے اپنا اخبار بند کر دیا۔

ایسٹ انڈیا کمپنی اور پھر برٹش راج سے فائدہ اٹھانے کے لیے کئی ہندوستانیوں نے اخبار نکالے۔ یہ وہ اخبار تھے جو ہندوستانیوں کے حقوق کے تحفظ کی بات کرنے کے بجائے برٹش سرکار کی حمایت کرتے تھے اور اس کا صلہ پاتے تھے۔ ایسا ہی ایک اخبار ’کوہ نور‘ تھا۔ وہ برٹش راج کا کس قدر حامی تھا، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے 12 مئی 1860ء کے پرچے میں نہایت حقارت آمیز انداز میں معزول کیے جانے والے آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ کی اولاد کے نام گنائے ہیں جو 1857ء کی جنگ آزادی میں شریک تھے اور جن میں سے زیادہ تر مارے گئے تھے۔ ان میں بہادر شاہ ظفر کے گیارہ بیٹے اور چار پوتے شامل تھے۔ اسی اخبار نے غدار الٰہی بخش کو انعام و اکرام دیئے جانے کا حال یوں لکھا ہے:
’’دہلی میں آئی ہوئی ڈاک سے واضح ہوا کہ ان دنوں سرکارِ انگریزی نے مرزا الٰہی بخش کو، کہ اس نے گرفتاری شاہ دہلی میں مدد کی تھی، ایک لاکھ روپیہ مرحمت کیا ہے اور کچھ تنخواہ ماہوار بھی مقرر کی ہے‘‘۔

برطانوی حکومت کے ظلم و ستم کا مقابلہ کرنے اور ہندوستانیوں میں سیاسی شعور بیدار کرنے کے لیے بہت سے ادیبوں اور صحافیوں نے اخبار نکالے۔ ان لوگوں کو سرکاری سطح پر ہر طرح کے عتاب کا شکار ہونا پڑا۔ ان میں مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا محمد علی اور مولانا حسرت موہانی سامنے کے نام ہیں۔ آزادی صحافت کی ایک باتصویر تاریخ میں درج ہے کہ مولانا برکت اللہ نے مہندر پرتاب اور مولانا عبداللہ کے ساتھ کابل میں ہندوستان کی ایک عارضی آزاد حکومت بھی قائم کر لی تھی۔ 1913ء میں، سان فرانسسکو (امریکا) میں ایک غدر پارٹی قائم ہوئی جس کا نام 1857ء کی جنگ آزادی کی یاد میں رکھا گیا تھا۔

اس نے ایک ہفتہ وار اخبار ’ہندوستان غدر‘ کے نام سے نکالا جس کی دیکھ ریکھ ’لالہ ہر دیال‘ کے ذمہ تھی۔ اس پارٹی کا مقصد تھا کہ برطانیہ کے تحت تمام غلام ملکوں میں ایک ساتھ بغاوت شروع کی جائے۔ اس زمانے میں ’ہندوستان غدر اخبار‘ میں ایک اشتہار چھپا تھا جس سے اس کے مزاج کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اشتہار کچھ یوں تھا: ’’ہندوستان میں غدر کے لیے بہادر سپاہیوں کی ضرورت ہے۔ تنخواہ: موت، قیمت: شہادت، پنشن: آزادی، میدان جنگ: ہندوستان‘‘۔

ہندوستان میں اس نئی بغاوت میں سب سے آگے بنگال کے رہنما راس بہاری بوس تھے۔ بغاوت کے لیے 12 فروری 1917ء کی تاریخ مقرر ہوئی تھی جس میں شمال مغرب میں پشاور سے لے کر مشرق میں ’چٹا گانگ‘ تک ایک ساتھ پولیس لائنوں پر اور خزانوں پر حملہ کرنا اور آخر میں جرمنی سے ملنے والے ہتھیاروں کی بنیاد پر اعلان جنگ کر دینا شامل تھا۔ اس بغاوت کو غداروں نے شروع ہونے سے پہلے ہی ناکام بنا دیا۔ اس کے ایک اہم سپاہی، دی جی پنگل، کو میرٹھ چھاؤنی کے پاس بموں کے ساتھ پکڑ لیا گیا، باغی فوجی نکال دیئے گئے، مقدمے چلے، سزائیں ہوئیں۔ پھانسیاں دی گئیں اور راس بہاری بوس چھپ کر جاپان چلے گئے۔ یہ ساری مہم باہمت صحافیوں نے چلائی تھی جس میں ہندو اور مسلمان سب ہی شامل تھے۔

دوسری جنگ عظیم کے زمانے میں ہندوستانیوں نے کئی اخبار نکالے جن کی شعلہ بیانی پڑھنے والوں کے دلوں کو گرماتی تھی۔ آزادی کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔ ان ہی میں سے ایک میں یہ لکھا گیا کہ غلامی خود ایک بہت بڑی لعنت ہے اور اس سے چھٹکارا حاصل کر لینا ہر غیرت دار آدمی اور ہر قوم کا فرض ہے مگر کبھی ٹھنڈے دل سے بیٹھ کر ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ آزادی حاصل کرنے کا اصلی مقصد کیا تھا؟ کیا انگریزوں کو اس ملک سے نکال دینے سے سب کچھ ایک دم ٹھیک ہو جاتا؟ اور انگریزوں کے ہندوستان کی زمین چھوڑتے ہی ہر شخص سکھ چین کی بانسری بجانے لگتا؟ سچ تو یہ ہے کہ یہ ساری جنگ روٹی، روزی، کپڑے کے لیے اور غربت کے خلاف تھی۔

یہ کہانی انگریزوں کی لوٹ کھسوٹ سے شروع ہوتی تھی۔ ہماری تجارت، صنعت، کارخانوں، دست کاریوں، کھیتی باڑی غرض ملک کے عوام کی روزی کمانے کے ہر ذریعے پر انگریزوں نے قبضہ جما لیا تھا اور آخر تک پہنچتے پہنچتے ہمارا اتنا خون چوسا جا چکا تھا کہ اب ہم غلام نہیں، فقیر تھے۔ ہر سال ملک کے کسی کونے میں قحط پڑتا تھا اور لاکھوں آدمی مر جاتے تھے۔ ہمارے مزدوروں اور کسانوں کو دو وقت پیٹ بھر روٹی بھی نہیں مل پاتی تھی۔ صرف 1943ء اور 1944ء کے دوران بنگال کے قحط میں لاکھوں لوگ بھوک سے مر گئے تھے جس پر ہندوستان کی تمام زبانوں میں بہت اچھی نظمیں، مضمون اور کہانیاں لکھی گئیں۔ اردو کے مشہور شاعر ساحر لدھیانوی نے ایسی ہی ایک نظم میں لکھا تھا:

’’پچاس لاکھ یہ مردہ گلے سڑے ڈھانچے… نظام زر کے خلاف احتجاج کرتے ہیں… سسکتی آہوں سے، دم توڑتی نگاہوں سے… بشر، بشر کے خلاف احتجاج کرتے ہیں‘‘

ماضی کے جھروکوں سے ہم جب صحافیوں کے اس کردار پر نظر کرتے ہیں، جس نے ہمیں آزادی دلائی اور آزادی کے بعد بھی قلم ایسے کاری ہتھیار سے آمروں اور غلط کار حکمرانوں کی نشاندہی کرتے رہنے کا فرض انجام دینا اپنا روزمرہ جانا تو ایسے میں اس بات پر حیران نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان صحافیوں کے لیے دنیا کا خطرناک ترین ملک ہے۔

پاکستان آمریت کے چار طویل اور خونیں ادوار سے گزرا ہے اور اب ایک طویل عرصے سے وہ مختلف ملکوں کی نیابتی جنگ کا میدانِ کار زار بنا ہوا ہے۔ یہاں سرکاری ایجنسیوں، انتہاپسند اور مذہبی دہشت گرد گروہوں کی عمل داری ہے۔ سب ہی اپنا اثر و رسوخ بڑھانے اور اپنا نظریہ حیات نافذ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ یہ حکومت کی ذمے داری ہے کہ وہ صحافیوں اور ٹیلی وژن چینلوں سے وابستہ افراد کو تحفظ فراہم کرنے کا فرض ادا کرے۔ جب تک یہ نہیں ہوتا، اس وقت تک صحافت سے وابستہ افراد آندھی میں چراغ جلاتے رہیں گے۔

بہ شکریہ روزنامہ ایکسپریس

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.