.

فی الحال اصل استنبول کا انتظار کریں

نازیہ مصطفیٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میگارا کے یونانیوں نے 667 قبل مسیح میں آبنائے باسفورس کے کنارے ایک شہر آباد کیا، جس کا نام یونانی بادشاہ بائزاس کے نام پر بازنطیم رکھا گیا تھا۔ 196ء میں رومی حکمران سیپٹی میس سیویرس اور پیسکی نیس نائیجر کے درمیان جنگ میں متحارب فوج نے بازنطیم کا محاصرہ کیا ، بم برسے، گولہ و بارود استعمال ہوا، پتھر برسائے گئے اوریوں یہ شہر تقریبا تباہ ہوگیا، لیکن فتح حاصل کرنے کے بعد سیپٹی میس نے بازنطیم کو دوبارہ تعمیرکر کے شہر نے کھوئی ہوئی عظمت لوٹا دی۔ بازنطیم اپنے پرکشش محل وقوع کی وجہ سے جنگجووں اور عالمی طاقتوں کے درمیان کئی صدیوں تک میدان جنگ بنتا رہا، تباہ ہوتا رہا اور پھر آباد ہوتا رہا۔ تیسری صدی عیسوی میں اس کے آثار مٹ چلے تھے کہ330ء میں قسطنطین اعظم نے ایک مبینہ خواب کے ذریعے مقام کی درست نشاندہی کے بعد اس شہر کو نووا رومہ (روم جدید) کے نام سے تعمیر کیا، ’’نووا رومہ‘‘ کا نام تو عام نہ ہوسکا البتہ قسطنطنیہ نے عالمی شہرت حاصل کرلی، بازنطینی دور حکومت کے دوران چوتھی صلیبی جنگ میں صلیبیوں نے شہر کو برباد کر دیا اور 1261ء میں مائیکل ہشتم پیلیولوگس کی زیر کمان نیسیائی افواج نے شہر کو دوبارہ حاصل کرلیا۔

اس شہر کے زبردست محل وقوع کی وجہ سے یہ شہر کئی زبردست محاصروں کے باوجود فتح نہ ہو سکا، ان محاصروں میں خلافت امویہ کے دور کے دو محاصرے اور پھر سلطنت عثمانیہ کے ابتدائی دور کے متعدد محاصرے ناکام ہوئے، لیکن 29 مئی 1453ء کو عثمانیوں کا چون روزہ محاصرہ بالآخر کامیابی سے ہمکنار ہوا اور یوں فتح قسطنطن یہ کی وہ خوشخبری پوری ہوئی جو ایک حدیث میں بیان کی گئی تھی، جس میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ’’تم ضرور روم کو فتح کرو گے، وہ فاتح بھی کیا باکمال ہوگا اور وہ فوج بھی کیا باکمال ہوگی!‘‘ یہ باکمال فوج عثمانی ترکوں کی فوج تھی اور وہ باکمال فاتح کوئی اور نہیں بلکہ اکیس سالہ سلطان محمد خان تھا۔ سلطان سفید رنگ کے گھوڑے پر فاتحانہ انداز سے داخل ہوا توصدیوں پر محیط بازنطینی اقتدار اور سلطنت کا خاتمہ ہوگیا، شاندار فتح کے بعد ترک سلطان نے محمد فاتح کے نام سے شہرت پائی اوراسلامی دنیا میں ہیرو کا مقام حاصل کرلیا۔ عثمانی دور میں یہ شہرزیادہ تر قسطنطنیہ ہی کہلاتا رہا، لیکن سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا تو 1935ء کے بعد سے اب یہ شہر استنبول کہلاتا ہے۔

استنبول آبنائے باسفورس کے جنوبی علاقے میں دونوں جانب واقع ہے ،اس طرح استنبول دو براعظموں میں واقع دنیا کا واحد شہر ہے۔ شہر کا مغربی حصہ یورپ جبکہ مشرقی حصہ ایشیا میں ہے۔ شہری حدود ایک ہزار 539 مربع کلومیٹر تک ہیں جبکہ صوبہ استنبول 5 ہزار 220 مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔ شہرمیں جون سے ستمبر تک موسم گرما کے دوران دن میں اوسطاً درجہ حرارت 28 ڈگری سینٹی گریڈ رہتا ہے۔ موسم گرما گرم اور پرنم جبکہ سردیوں میں بارش اور کبھی کبھار برف باری کے ساتھ شدید سردی اور سالانہ اوسطاً 870 ملی میٹر بارش بھی پڑتی ہے۔ ترکی کے نجی اشاعتی ادارے ’’روزنامہ زمان‘‘ اور ’’جہان نیوز ایجنسی‘‘ کی دعوت پر مطالعاتی دورے پر جب ہم اس شہر میںپہنچے تو برفباری اور برفانی ہواؤں کی وجہ سے موسم انتہائی سرد ہوچکا تھا۔

رخصت ہوتے موسم سرما میں برفباری ہمارے میزبانوں کیلئے بھی حیران کن تھی، جتنے دن ہم استنبول میں رہے، مطلع ابر آلود رہنے کے ساتھ ساتھ بوندا باندی اور برفباری کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ میزبانی کی اعلیٰ روایات کے حامل برادر اسلامی ملک ترکی میں ہمارے میزبان ترگت پایان اور محمد فاتح جابر نے بتایا کہ استنبول میں برفباری تو ہوتی ہے، لیکن فروری میں برفباری پندرہ سال بعد دیکھنے میں آئی تھی۔ استنبول میں آمد کے بعد ہمارے دورے کا پہلا پڑاؤ اگرچہ میکسیکو کے پانچ ستارہ ہوٹلوں کی ایک معروف چین ’’بارسیلو‘‘کا ایک ہوٹل تھا، تاہم قدرے تازہ دم ہونے کے بعد ہماری منزل ایک میڈیا فورم تھا۔ جس میں پرتکلف روایتی ترک چائے کے ساتھ ساتھ طویل مذاکرے کا اہتمام کیا گیا تھا۔

مذاکرے میں میزبان ترک صحافیوں نے ہمیںنجی میڈیا اور صحافیوں کو درپیش پابندیوں کے بارے میں بتایا۔اسی شام ’’سمایولو ٹی وی ‘‘کی جانب سے عشائیے کا اہتمام تھا، سمایولو ٹی وی کے عالمی معیار کے دفاتر اور اسٹوڈیوز کے دورے میں بہت کچھ نیا دیکھنے اور سیکھنے کو ملا۔ میزبانوں نے بتایا کہ سمایو لوٹی وی پر گذشتہ کئی برس سے مسلسل چلنے والے ایک سوپ ڈرامہ میں کچھ ڈائیلاگ حکومت کو پسند نہ آئے، جس کی پاداش میں گذشتہ دو ماہ سے سمایولو گروپ کے چیئرمین ’’ہدایت کراکا‘‘ جیل میں بند ہیں۔اگلے روز ہماری منزل ترکی کا مشہور اخبار ’’روزنامہ زمان‘‘ تھی۔ 1986ء میں قائم ہونے والا یہ اخبار ترکی کے اصلاح پسند مفکر فتح اللہ گولن کے نظریے اور فکر کا پیروکار اور ترکی کی حکمران جماعت ’’آق‘‘ اور صدر رجب طیب اردگان کی پالیسیوں کا سخت ناقد سمجھا جاتا ہے۔

روزنامہ زمان ترکی کے علاوہ آسٹریلیا، آذربائیجان، بلغاریہ، جرمنی، رومانیہ، قازقستان، کرغستان، مقدونیہ، ترکمانستان اور امریکہ میںمقامی زبانوں میں بھی باقاعدہ چھپتا ہے جبکہ پینتیس ممالک میں باقاعدہ پڑھا جاتا ہے۔صرف ترکی میں اس اخبار کی تعداد اشاعت دس لاکھ کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے، جن میں سے نوے فیصد قاری باقاعدہ اور مستقل خریدار ہیں۔ یہ تعداد اشاعت اس اخبار کو ترکی کا مقبول ترین اخبار کا درجہ دینے کیلئے کافی ہے۔ ’’باغیچے لیور‘‘ نامی علاقے میں ’’روزنامہ زمان‘‘ کاصدر دفتر آٹھ منزلہ ایک پرشکوہ عمارت میں قائم ہے۔ حکومت کے خلاف اپنی سخت ناقدانہ پالیسیوں کی وجہ سے یہ گروپ آج کل حکومت کے زیر عتاب ہے، گزشتہ دسمبر میں مختلف الزامات کی بنا پر اس گروپ کے چیف ایڈیٹر مسٹر اکرم دخانی سمیت دو درجن کے قریب صحافیوں کو گرفتار کر لیا گیا، لیکن اس کے باوجود ادارے کی پالیسی میں کوئی فرق نہیں آیا، اسی عمارت میں ماہنامہ ’’ٹرکش ریویو‘‘ اور ’’جہاں نیوز ایجنسی‘‘ کے دفاتر بھی موجود ہیں۔

یہاں ادارے کے نائب صدر مصطفی ادیب یلماز اورمارکیٹنگ کے شعبہ کے سربراہ محمد فاتح نے مقامی سیاست کی پیچیدگیوں کو علاقائی اور عالمی تناظر میں بڑے شاندار طریقے سے بیان کیا۔ قارئین کرام! ترک میڈیامیں چاہے اسلام پسند ہوں ، لبرل ہوں یا سیکرلر عناصر ہوں، سب خلوص دل کے ساتھ ترکوں کی عظمت رفتہ کے حصول کیلئے کوشاں ہیں۔ ان کے نظریات ، نصاب اور طریقہ کار مختلف ہوسکتا ہے، لیکن سب کے سب محب وطن ہیں، میڈیا کے دفاتر کے دوروں کے علاوہ وہاں کی کاروباری اشرافیہ سے بھی ملاقاتیں ہوئیں، بازار بھی دیکھے، تاریخی مقامات میں رکھے تبرکات کی زیارت بھی کی اور مقامی کھانے بھی چکھے۔ اِس شہر بے مثال کا ہر منظر کتنا لاجواب ہے؟ آنے والے کالموں میں یقینا اِن کا تذکرہ ہوتا رہے گا ،فی الحال اصل استنبول کا انتظار کریں!

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.