.

گھڑی ساز کا فسانہ

مطیع اللہ جان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یوں لگتا تھا کہ سارا شہر سڑک پر امڈ آیا ہے۔ ایک چھوٹی سی ایجاد لوگوں کو گاڑی سے فٹ پاتھ پر لے آئی تھی۔ گاڑیاں گھروں میں کھڑی کر کے لوگ صبح سویرے ہی ملازمت کے لیے پیدل نکل پڑتے۔ یہ کوئی پٹرول کا بحران نہیں تھابلکہ اس ایجاد کے باعث پٹرول کی مانگ میں کچھ کمی ہی واقع ہوئی تھی۔ ایک معمولی گھڑی ساز نے اپنی اس کو شش سے لوگوں کو اپنی زندگی کی سانسیں گننے کے قابل بنا دیا تھا۔ اس کا ماننا تھا کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔اور اس ایجاد کے ذریعے لوگ لمحہ بہ لمحہ اپنی زندگی میں اضافے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ سائنسدان پریشان تھے اور ڈاکڑ صاحبان بے روزگاری کے خوف میں مبتلا۔ سائنسدان حیران تھے کہ جو خیال ایک معمولی گھڑی ساز کے ذہن میں آیاوہ چاند اور مریخ پر کمند ڈالنے والے ترقی یافتہ ممالک کو کیوں نہ سوجھا۔گاڑیاں اور موٹر سائیکل تیار کرنے والی کمپنیوں اور ان کے ایجنٹوں نے پٹرول بیچنے والی بری فرموں کے ساتھ ملکر اس گھڑی ساز کی ایجاد کو مذہبی، سائینسی، معاشی اور میڈیکل حوالوں سے نشانہ بنانا شروع کر دیا۔

اخباروں اور ٹی وی چینلوں میں بڑے بڑے اشتہارات کے ذریعے کفر کا فتوہ لگوایا گیا۔ اور دلیل دی گئی کہ اپنی آخری سانس سے لاعلم ایک انسان اس نئی ایجاد سے زندگی میں اضافہ کرنے کا دعویٰ کر کے دائرہ اسلام سے خارج ہو گیا ہے۔ چند ماہرین کا دعوی تھا کہ اس ایجاد سے انسان زمانہ قدیم میں پہنچ جائے گا اور اپنا زیادہ وقت پیدل سفر میں گزار کر نئی تحقیق اور ایجادات کے کام سے دور رہے گا۔ کاروباری اور معاشی حلقوں کا شکوہ تھا کہ زیادہ وقت پیدل چلنے میں گزار کر کاروبار اور معیشت کو نقصان پہنچایا جائے گا۔ دوسری طرف کچھ دوسرے ماہرین نے شور مچایا کہ لوگوں کا بڑی تعداد میں فٹ پاتھوں پر امڈ آیا ماحولیات اور شہر کی صفائی کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہو گا۔

مگر تمام منفی مہم کے باوجود لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے گھڑی ساز کی ایجاد خریدنے کے لیے لاہور شہر کا رخ کر لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے کچھ دوسری کمپنیوں نے دوسر ے شہروں میں یہ مال بیچنے اور برآمد کرنے کا کام شروع کر دیا۔ سمجھ دار گھڑی ساز نے اپنی ایجاد کی جملہ حقوق کو محفوظ کرنے کے بعد بیرون ملک کمپنیوں سے بھی رابطہ کیا اور چند ماہ کے اندر ہی ایک معمولی گھڑی ساز دنیا کے میڈیا پر بھی سرخیوں کی زینت بن گیا۔ ملک کے تمام پارکوں میں عوام کا ایک ہجوم پیدل چلتا نظر آنا شروع ہو گا۔لوگ خالی سڑکوں پر امڈ آئے اور ان کی کوئی منزل نہ تھ ی ۔یہ محض تیز چلتے اور اپنی کلائی کے ساتھ بندھی اس ایجاد پر بار بار نظر ڈال کر خوش ہوتے تھے ،ہر شخص صرف نیندپوری کرنے یا کام کاج کی غرض سے ہی پیدل چلنا بند کرتااور پھر دوبارہ زندگی کی جانب تیز چلنا شروع ہو جاتاسردی ہو یا گرمی پینے کے پانی کی بوتل ہاتھ میں لیے اور پسینے میں شرابور وقت کا پیچھا کرتے یہ نوجوان ،بوڑھے ،بچے اور عورتیں ہنستے کھیلتے اپنی اپنی سمت میں چلتے رہتے ۔آخر یہ کون سی مشین تھی جسے دیکھ کر لوگ پیدل چلنا شروع ہو جاتے تھے۔

یہ ایک ایسی ڈیجٹل گھڑی تھی جس میں وقت نہیں بلکہ سال ،مہینے،دن،گھنٹے ،منٹوں اور سیکنڈوں کا شمار ہوتا تھا۔یہ انسانی عمر کی گھڑی تھی ۔ موت کا ٹائم بم ۔ہر انسان کی معمول کی دل کی دھڑکن کی رفتار سے تھوڑی رفتار کی ہر دھڑکن کے ساتھ اس گھڑی کے کاونٹر پر ایک سیکنڈ کا اضافہ ہو جاتا،ساٹھ سیکنڈ کا منٹ بنتا،ساٹھ منت کا ایک گھنٹہ ،چوبیس گھنٹوں کا ایک دن ،تیس دنوں کا ایک مہینہ اور بارہ مہینوں کا ایک سال کا اضافہ اس گھڑی کے اکاونٹ میں ظاہر ہو جاتا۔جو جتنا زیادہ پیدل چلتا زندگی کی اس گھڑی میں اتنے ہی سیکنڈ،گھنٹوں ،دنوں اور سال کا اضافہ ہوتا۔بات صرف سوچ اور مقابلے کی تھی سڑکوں پر پیدل چلنے والے لوگ اپنے دل کی تیز دھڑکن کے ساتھ ایک سیکنڈ کے اضافے کو اپنی زندگی میں اضافہ تصور کرتے اور لمحہ بہ لمحہ اس اضافے کی خوشی میں انکے قدم رکنے کا نام ہی نہ لیتے تھے۔ عورتیں، بوڑھے ، بچے اور نوجوان ایک مقابلے کی مانند تیز اقدام سے پیدل چلتے اور اپنی زندگی کے سیکنڈوں ، منٹوں ، گھنٹوں ، مہینوں اور سال کا ایک دوسرے سے موازنہ کر کے خوش رہتے۔

جو لوگ کئی دنوں کے پیدل سفر کے بعد اپنی زندگی میں کئی ہفتوں اور مہینوں کا اضافہ کرتے وہ اسی حساب سے کچھ دن آرام بھی کر لیتے تھے۔ مگر اس ایجاد کا ایک بہت پریشان کن پہلو یہ بھی تھا وہ یہ کہ اس گھڑی نما ایجاد کا صارف جب پیدل چلنا بند کرتا تھااور اس کے دل کی دھڑکن واپس نارمل پر آجاتی تھی تو تمام کمائے گئے سیکنڈ ، منٹ ، گھنٹے ، ہفتے ، مہینے اور سال ایک سیکنڈ فی سیکنڈ کی رفتار سے از خود ہی گھٹنا شروع ہو جاتے تھے۔ یعنی زندگی اور صحت کی جانب سفر کا رخ آرام کے دوران متضاد سمت کی طرف ہو جاتا تھا۔ ایسے میں لوگوں کے پاس ایک ہی راستہ تھا کہ وہ دن میں تیز پیدل چل کر اتنے لمحات اکھٹے کریں وہ رات کو سو کر بھی زندگی کے کافی لمحات بچا پائیں۔

گاڑی میں سفر کرنے والے لوگ کے بھی اپنی گاڑیوں کو دفتروں سے دور کھڑی کر کے پیدل چلنے کی عادت بنا لی اس کے علاوہ مخصوص پیدل چلنے کے اوقات کی بجائے اپنے دفاتر اور گھروں کو پیدل ہی روانہ ہوتے۔ اس ایجاد نے اچھی اور لمبی زندگی کے حصول کو نہ صرف ایک عوامی مشن بنا دیا بلکہ دنیا کا مقبول ترین کھیل بھی جسمیں شامل افراد بہترین کارکردگی پر بڑے بڑے انعامات کے حقدار ٹھہرے۔ ان میںخصوصا پیشہ ور اتھلیٹوں اور کھلاڑیوں کو بہت فائدہ ہوا جن کا کام ہی اپنی دل کی دھڑکنوں کو تیز رکھنا تھا۔ مگر ایک دن اچانک خبر آئی کے موت کے ٹائم بم کی سوئیوں کو پیچھے کی طرف چلانے والا گھڑی ساز مر گیا ہے۔ معلوم ہوااس کی اپنی گھڑی پر ابھی ایک سال سے زائد کا عرصہ موجود تھا۔

ایک دن اس گھڑی سازکے 10 سالہ بچے نے میڈیا کے سامنے روتے ہو ئے کہا کہ پاپا کی گھڑی نے غلط ٹائم بتایا اور وہ وقت سے پہلے مرگئے اسکے ایک اور انکشاف نے لوگوں کورلا دیا۔اس نے بتایا کہ وہ اپنے زیر استعمال ایجاد کو اتار کر آدھی رات کے وقت پاپا کی ایجاد پہن کر دوڑ لگایا کرتا تھا تاکہ میرے پاپا زیادہ عرصہ جی سکیں مگر ایکسا ہوا نہیں اس کا کہناتھا کہ میرے پاپا ہر صبح اپنے زیر استعمال ایجاد پر اپنی زندگی کے اعدادوشمار میں اضافہ دیکھ کر مسکرا دیتے اور مجھے پاس بلا کر کہتے کہ صحت اور زندگی ایسی دولت ہے جو نہ تو چوری ہو سکتی ہے اور نہ ہی کسی کو عطا کی جا سکتی ہے۔ مگر ایک خاص طریقے سے اسے بانٹا ضرور جا سکتا ہے اور میں نے بھی اس ایجاد سے صحت بانٹے کی کوشش کی ہے یوں بھی زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے گھڑی ساز کی موت کے بعد اور اسی طرح جب کئی لوگ اپنی اپنی مخصوص گھڑی پر فاضل زندگی کے کئی سال ہونے کے باوجود اس دنیا سے چلے گئے تو لوگوں نے جان لیا کہ یہ مشین ایک ایسا کھلونا تھی کہ جس نے کھیل ہی کھیل میں لوگوں کو صحت مند زندگی کے راز بتا دیے۔

دنیا ئے کھیل میں اس ایجاد کو دنیا کی بہترین کھیل قرار دیا گیا جو کہ بیک وقت پوری دنیا میں کھیلی جا رہی تھی۔ لوگ اپنی اپنی مخصوص گھڑی کے اعدادوشمار کی بنیاد پر امیر اور غریب کہلائے جاتے۔ یہ ایک ایسا کھیل تھا جو ہر انسان مرتے دم تک کھیلتا تھا۔مگر انسان کیا کرے وہ گھڑی ساز تو ہو سکتا ہے کار ساز نہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.