.

امریکہ کی پہلی افغان جنگ

محمد عامر خاکوانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان سے امریکہ کی واپسی کے دن جیسے جیسے قریب آ رہے ہیں، اس خطے میں ناءن الیون کے بعد جاری کھیل کے حوالے سے مختلف امریکی مصنفین کی کتابیں منظر عام پر آ رہی ہیں/ امریکہ میں ایک اچھا رواج ہے کہ مختلف اہم عہدوں پر فائز اکثر افسران خواہ انکا تعلق فوج سے ہو، پنٹاگون یا سی آئی اے سے۔ وہ اپنے تجربات، مشاہدات اور آنکھوں دیکھے واقعات پر مبنی کتاب لکھتے ہیں۔ تاریخ کا ریکارڈ درست کرنے کے لئے گوہی بھی ہوتی ہے اور ایک طرح سے انکا نقطہ نظر بھی سامنے آتا ہے۔ ان میں سے بہت متنازع شخصیات کے کہے یا لکھے کو ھرف بہ ھرف قبول نہیں کیا جاتا اور میڈیا میں تنقیدی اور تجزیاتی مضامین شائع ہوتے ہیں، جس میں یہ جاءزہ لیا جاتا ہے کہ جو وقت حکومت یا اس حکومتی پالیسی کا حصہ کیوں بنے رہے، یہ بات اسوقت کیوں نہیں کہی؟

یہی وجہ ہے کہ بیشتر سابق وزرائے خارجہ، دفاع اور خفیہ اداروں کے ایجنٹ کتابیں تحریر کرتے ہیں۔ ظاہر ہے ان کتابوں کی کلئیرنس ہوتی ہے اور ممکن ہے کہ بعض حساس معلومات شائع کرنے کی اجازت نہ دی گئی ہو۔ اسکے باوجود کچھ نہ کچھ تو سامنے آ ہی جاتا ہے۔ ہمارے جیسے تیسری دنیا کے اخبار نویسوں اور لکھنے والوں کو بند دروازوں کے پیچھے ہونے والے کھیل کی جھلک مل جاتی ہے۔ ان کتابوں اور ان سے ظاہر ہونے والی معلومات کا آزادانہ تجزیہ البتہ ہمارے ہاں بھی ہونا چاہیے۔ کوئی مصنف مقدس نہیں ہوتا، اسکی کچھ باتیں درست تو بعض غلط اور کسی خاص ایجنڈے کے تحت لکھی جا سکتی ہیں۔

افغانستان میں امریکی افواج ایک طرح کی شکست فاش سے دوچار ہوئی ہیں۔ بعض لوگ امریکی شکست کی اصطلاح پر ناراض ہوجاتے ہیں۔۔ انہیں لگتا ہے کہ شائد یہ جملہ شدت پسندوں کے بیانہ کو سپورٹ کر رہا ہے یا پھر اس بات سے ہمارے ہاں رومانویت آمیز عسکریت پسندی میں اضافہ ہو گا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور افغانستان سے شکست کا گہرا گھائو گلوا کر واپس جا رہی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ امریکی افواج کے ساتھ ویتنام جیسا سلوک نہیں ہوا، انکے چند ہزار فوجی یہاں مقیم رہیں گے۔ اسکے باوجود یہ بھی حقیقت ہے کہ جب کوئی سپرپاور کسی ملک پر ایک ایجنڈے کے تحت حملہ کرے اور کئی سال وہاں رہنے، اچھا خاصا جانی نقصان اور بے پناہ مالی نقصان اٹھانے کے باوجود وہ ایجنڈا پورا نہ ہو سکے تو عسکری زبان میں اسے شکست ہی کہتے ہیں۔

امریکہ کے مشہور وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے ایک بار کہا تھا "ریگولر آرمی اگر گوریلا گروپ یا تنظیم کو شکست نہ دے سکے تو یہ ریگولر آرمی کی شکست ہے۔" یہ مشہور عسکری اصول کی طرف اشارہ تھا، فوج کی جیت کے لئے ضروری ہے کہ دشمن تنظیم کا مکمل صفایا کیا جائے، جبکہ گوریلا تنظیم کیلئے اپنے وجود کو برقرار رکھنا ہی اسکی فتح تصور ہوگی۔ امریکہ افغانستان میں القاعدہ کے مکمل صفایا اور طالبان کے خاتمے کا ایجنڈا لے کر آیا۔ تیرہبرس گزرنے کے بعد پتہ چلا کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد بھی القاعدہ قائم ہے، اسکا نیٹ ورک جڑا ہوا ہے، القاعدہ نے مستقبل کے لئے کئی نئے محاذ کھول رکھے ہیں، اسکے ساتھ افغان طالبان کو شکست دینے میں امریکی فوج مکمل طور پر ناکام ہوئی ہیں۔ اپنے ہاتھوں جن افغان طالبان لیڈروں کو دہشت گرد کہا، ان کے سروں کی قیمت مقرر کی، اب خود ہی انکے خلاف الزامات واپس لئے ، دہشت گردی کا لیبل پھاڑ ڈالا اور اب انہی طالبان سے مذاکرات کر رہے ہیں۔ طالبان کے لئے مستقبل کے افغان سیٹ اپ میں جگہ بنائی جا رہی ہے۔اس سے بڑی ناکامی اور شکست کیا ہوگی؟

امریکہ کی اس شکست کو سامنے رکھتے ہوئے وہاں کے بعض مارین اور تجزیہ کاروں نے مختلف حیلے بہانوں سے اس ناکام ہایڈونچر کے مختلف حصے بنا کر انہیں گلوریفائی کرنے کا کام شروع کر دیا۔ حال ہی میں سی آئی اے کے سابق ایجنٹ رابرٹ گرنئیر کی کتاب 88 Days to Kandhar شائع ہوءی۔ گرئیر نائن الیون کے وقت پاکستان میں سی آئی اے کےسٹیشن چف تھے۔ اس کتاب میں ئائن الیون سے افغانستان کی طالبان حکومت کے خاتمے تک اٹھاسی دنوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ رابرٹ گرنئیر نے اسے امریکہ کی پہلی افغان جنگ قرار دیا، جو بقول انککے امریکہ نے جیت لی۔ مزے کی بات یہے کہ جسے پہلی جنگ کہا گیا، وہ حقیقت میں اس طرح ہوئی ہی نہیں۔ ابتدائی مزاحمت کے بعد افغان طالبان ایک سوچی سمجھی پلاننگ کے تحت شہری آبادی میں تحلیل ہو گئے۔ انکے اہم رہنما اپنے قبائل میں غائب ہو گئے، طالبان جنگجو عام آدمی بن گئے۔

اس دلچسپ کتاب کے بعض ابواب اٹلانٹک میگزین اور بعض دوسری ویب سائیٹس نےے شائع کئے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں سابق سی آءی اے چیف نے بڑے دلچسپ انداز میں کتاب تحریر کی ہے۔ رابرٹ گرنئیر کو واشنگٹن سے ٹاسک ملا کہ کسی طرح اسامہ بن لادن اور القاعدہ کے نمایاں افراد کو گرفتار کرا دیا جائے۔ اس مقصد کے لئے اس نے طالبان سے رابطہ کیا۔ روابط کی تفسیل بھی دلچسپ ہے،

ملا عمر کی جانب سے اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے نہ کرنے کا ٹکا سا جواب، مگر سب سے مزےدار حصہ طالبان کے ایک نامور کمانڈر ملا عثمانی سے ملاقات کی تفصیل ہے۔ ملا عثمانی کو ملا عمر کے بعد سب سے اہم کمانڈروں میں سے سمجھا جاتا تھا۔ رابرٹ گرنئیر نے سوچا کہ ملا عثمانی کو ملا عمر کے خلاف بغاور کے لئے رضامند کیا جائے، اپنی ملاقات میں اس نے اس حوالے سے ایک پورا روڈ میپ تیار کیا کہ کس طرح اس نے ملا عمر کو حفاظتی تحویل میں لے کر ریڈیو شریعت پر اعلان کرانا ہے، پھر اسامہ بن لادن اور القاعدہ لیڈروں کو امریکہ کے حوالے کرنے کے ساتھ عربوں کو ملک بدر کرنے کا اعلان کرنا ہے وغیرہ۔۔

ملا عثمانی نے خاصی بحث کی، پھر رضامند ہو گیا۔ گرنئیر نے مالی مدد یعنی رشور کی بھی پیش کش کی، مگر ملا نے وہ قبول نہ کی۔ آخر میں ملا عثمانی نے بڑے مزے سے کہا کہ تم بے فکر رہو، میں یہ سب تفصیل جا کر ملا عمر کو بیان کروں گا۔ رابرٹ گرنر جو اپنی طرف سے ملا عثمانی کو بغاور کے لئے تیار کر چکا تھا، وہ یہ فقرہ سن کر کرسی سے گرتے گرتے بچا۔ خیر یہ سب کوششیں ناکام رہیں اور امریکیوں نے افغانستان پر ہلہ بول دیا۔ حامد کرزئی کو تلاش کرنے کا سہرا بھی گرنئیر کے سر جاتا ہے۔ اس نے بتایا کہ جب کرزئی کو افغانستان لانچ کیا گیا تو اس نے ڈیزل سے چلنے والا ایک جنریٹر مانگا تاکہ جب اسے طالبان سے پسپا ہو کر بھاگنا پڑے تو موبائل چارج کر کے مدد مانگ لے ۔

یہ فرمائش سن کر سی آئی اے ایجنٹوں کو دھچکا لگا۔ رابرٹ گرنئیر جسے نائن الیون کے چھ سال بعد دوبارہ اس خطے میں اہم ذمہ داری سونپی گئی تھی، اس نے اس کتاب میں ان امریککی غلطیوں کی نشاندہی بھی کی جنکے باعث بقول اسکے جیتی ہوءی افغان جنگ ہار دی گئی۔ وہ پاکستان خفیہ ادارے کے سربراہ جنرل کیانی کا ذکر بھی کرتا ہے، جو بقول اس کے امریکی دبائو کا مقابلہ کرتے ہوئے پاکستانی مفادات کا خیال رکھنے کے لئے کوشارہے۔ امکہ افغانستان میں اپنا آخری رائونڈ کھیل رہا ہے۔ ممکن ہے آنے والے دنوں میں کوئی محرم راز ان دنوں کی غلطیوں کی تفصیل بحی بیان کرے۔ہمارے لئے مگر زیادہ اہم یہ ہے کہ ہم اپنے مفادات مقدم رکھتے ہوءے ان غلطیوں سے گریز کریں جنکا ارتکا ماضی میں کیا گیا۔

بہ شکریہ روزنامہ "دنیا"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.