.

انتہا پسندی کے مسائل اور علاقائی طاقتیں

ڈاکٹر رسول بخش رئیس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دھشت گردی اور انتہا پسندی کے عفریت کے وجود میں آنے کی وجوھات یقینی طور پر مقامی ہیں لیکن اسے پالنے اور تقویت دینے میں دیگر ممالک میں موجودگی رکھنے والے گروہوں اور افراد کی معاونت بھی حاصل ہے۔ پاکستان میں کام کرنے والی مختلف تنظیمیں اور تحریکیں بھی اس میں اپنا اپنا حصہ ڈالتی ہیں۔ صرف مشرقِ وسطیٰ کے ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد یا نجی تنظیمیں ہی نہیں بلکہ کچھ ریاستیں بھی خفیہ طور پر(جو دراصل اتنی خفیہ بھی نہیں ہوتی) ایسے گروہوں کی مدد کرتی ہیں جو ان کے مقاصد کے حصول میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔اس وجہ سے دھشت گردی کا مسلۂ انتہائی پیچیدہ ہوجاتا ہے کیونکہ پاکستان کھل کر ان ریاستوں سے بات نہیں کرتا ہے۔

اس چیلنج کا ایک اور اہم پہلو اس کا وسیع سکیل اور وہ مدت ہے جس میں حکمران طبقوں کی روایتی غفلت اور بے حسی کی وجہ سے اسے پھلنے پھولنے اور اپنی جڑیں مزید گہری گاڑھنے کا موقع مل گیا۔ پشاور واقعے سے پہلے حکومتوں میں شامل کسی قابلِ ذکرگروہ یا سیاسی رہنما نے انتہا پسندی کو کچلنے کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا تھا۔ اس معاملے سے اغماض کی پالیسی برتی گئی یہاں تک کہ اس نے ہماری سلامتی کو چیلنج کرنا شروع کردیا۔ دوبڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان ہونے والی ایک عشرے پر محیط رسہ کشی کے دوران، دونوں نے اپنے اپنے دور میں انتہاپسندوں کو ناراض نہ کرنے میں ہی عافیت گردانی۔ بلکہ بعض نے تو سیاسی مفاد کے لیے انتہا پسند تنظیموں سے تعاون بھی طلب کیا۔اس کے بعد ظاہر ہے کہ ان کے خلاف کارروائی کی گنجائش نہیں نکلتی تھی۔

انتہا پسندی کا چیلنج فرقہ واریت اور دھشت گردی کو فروغ دیتا ہے۔ یہ ہمارا قومی مسلۂ تو ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ علاقائی مسلۂ بھی ہے۔ عراق، شام، لیبیا اور یمن میں داعش کا سراٹھانا کوئی اچنبے کی بات نہیں ۔ یہ دراصل مختلف ریاستوں کی دیرینہ پالیسیوں کا شاخسانہ ہے۔ اس کی جڑیں عقیدے کی غلط تشریح کے ساتھ ساتھ مسلک اور مذہبی منافرت میں گڑی ہیں۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ داعش کی سفاکیت سے وہ ریاستیں بھی خطرہ محسوس کررہی ہیں جو اس کی پیداوار کی ذمہ دار تھیں۔ چنانچہ آج بہت سی علاقائی ریاستیں اپنے انٹیلی جنس اور فوجی ذرائع یک جان کرتے ہوئے داعش کے خلاف کارروائی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔کچھ علاقائی ریاستوں نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے داعش کے خلاف بننے والے عالمی اتحاد میں بھی شمولیت اختیار کی ہے تاکہ اس فتنے کوجلد از جلد کچلا جاسکے۔

داعش سے الحاق رکھنے والے گروہوں کو افغانستان اور پاکستان سے بھی حمایت مل سکتی ہے کیونکہ یہاں موجود انتہا پسندگروہ بھی انہیں نظریات کے حامل ہیں جو داعش کے ہیں۔ ان سب کا مقصد ایک اسلامی خلافت کا قیام ہے۔ پاکستان میں کچھ عرصے سے اس کے لیے فکری طور پر زمین تیار کی جارہی تھی۔ کچھ ایسے اشارے ملتے ہیں کہ یہاں کے کچھ مقامی گروہ داعش کے ساتھ روابط قائم کرچکے ہیں ۔داعش کے حق میں ملک کے کچھ مخصوص حصوں میں کی جانے والی وال چاکنگ کی خبریں بھی آتی رہتی ہیں۔کسی کو اس کا مقامی امیر مقرر کیے جانے کی بازگشت بھی سنائی دیتی ہے۔ خدامعلوم ان خبروں میں کتنی صداقت ہے لیکن ایک بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں کام کرنے والے انتہا پسندگروہوں کے مشرقِ وسطیٰ کے روابط کی تاریخ موجود رہی ہے۔ اس سے انکار کرنا حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہوگا۔

کئی عشروں سے پاکستان اور افغانستان میں مشرقِ وسطیٰ سے فنڈز کا بھاری بہاؤ جاری ہے۔ اس کازیادہ تر رخ انتہا پسند گروہوں کی طرف ہے کیونکہ وہ مسلک اور نظریات کے اعتبار سے مشرقِ وسطیٰ کی ریاستوں کے قریب ہیں۔ ایک طرح سے پاکستانی متحارب مسالک کا میدانِ جنگ بن چکا ہے۔ اس کی وجہ ایران اور سعودی عرب کی نظریاتی دشمنی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس نظریاتی کشمکش کی بنیادی وجہ مذہب نہیں بلکہ کمرشل تصورات ہیں ،تاہم ان کے لیے فرقہ وارنہ تناؤ کا ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔ افغان جنگوں کی وجہ سے پاکستانی ریاست کے شمالی مغربی سرحدی علاقوں میں حکومت کی علمداری برائے نام رہ گئی۔ ان علاقوں میں انتہا پسند جمع ہوگئے۔ اس کو فنڈز فراہم کرنے میں مشرقِ وسطیٰ کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اگرچہ ایسا سوویت یونین اور کیمونزم کے خلاف جہاد کے لیے کیا گیا تھا لیکن فنڈز کی فراہمی کے لیے ہم مسلک گروہوں کا ہی انتخاب کیا گیا اوریہ محض اتفاق نہیں تھا۔

جس دوران پاکستان اور اس کا معاشرہ انتہا پسندی کے چیلنج سے نبردآزما ہونے کے لیے ہاتھ پاؤں ماررہا ہے، ہمیں اس کے خلاف ایک تازہ بیانیے کی ضرورت ہے۔ نیشل ایکشن پلان پر عمل کیا جارہا ہے اور یہ اچھی پیش رفت ہے لیکن ہمیں وسیع تر خطوط پر سوچنے کی ضرورت ہے کہ یہ مسلہ علاقائی جہت رکھتا ہے۔ اس لیے علاقائی طاقتوں کو اس میں شامل نہ کرنا غلطی ہوگی۔ سب سے پہلے ہمیں افغانستان کے ساتھ اچھے اور قریبی تعلقات درکار ہیں ۔ اس کے بعد ہی ہم انتہا پسندی اور دھشت گردی کے خلاف کامیابی کی امید کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات بھی ضروری ہیں کیونکہ دشمنی اور تناؤ کی وجہ سے پراکسی جنگ کا تصور ابھرتا ہے۔ اس کے لیے انتہا پسند گروہ ناگزیر ہوجاتے ہیں۔ اس وقت ، جبکہ فوجی اپریشن کامیابی سے جارہی ہے، سفارتی محاذ سے بھی کچھ اچھی خبریں آرہی ہیں۔ تاہم مشکل لیکن اہم قدم مشرقِ وسطیٰ کی طرف سے آنے والے نظریاتی اور فنڈز کو روکنا ہے۔ اگر ریاست نے اس طرف چشم پوشی کی پالیسی جاری رکھی تو بہت دیر ہوجائے گی اور فرقہ وارانہ طاقتیں مزید مضبوط ہوجائیں گی۔اگر افغانستان اور دیگر ریاستوں کا تعاون شامل رہے تو ان طاقتوں کی حوصلہ شکنی ہوگی اوراُنہیں شکست دینا آسان ہوجائے گا۔ تاہم اس وقت جبکہ فوج اپنا کام کررہی ہے، حکومت کے کرنے کے بھی بہت سے کام ہیں۔ کیا آنے والے دنوں میں ہم حکومت کو یہ مشکل لیکن ضروری کام سرانجام دیتے دیکھیں گے؟

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.