.

''اگر بہ او نہ رسیدی تمام بو لہبی است''

نجم الحسن عارف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی ایک اہم دینی جماعت کے مرکز منصورہ لاہور میں اگلے روز آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ آل پارٹیز کانفرنسیں کچھ عرصہ سے پاکستان میں معمول کا حصہ بنتی جارہی ہیں ۔ ان کانفرنسوں کی بہتات کا ہو جانا جہاں ایک مثبت اشارہ ہو سکتا ہے ہے کہ قوم کے بڑوں میں مل بیٹھ کر سوچنے ، سمجھنے اور آئندہ کے لیے لائحہ عمل طے کرنے کا داعیہ ماضی کے مقابلے میں بڑھ رہا ہے۔ وہیں اس تصویر کا دوسرا رخ اچھا نہیں ہے کہ ایسے پے در پے واقعات ہو رہے ہیں جو پورے پاکستان کے لوگوں کے لیے تکلیف دہ اور تشویشناک ہیں۔ بلکہ بات اس سے بھی بڑھی ہوئی ہے ۔ اکابر قوم کے سر جوڑ کر بیٹھنے سے بھی عملی نتائج سامنے نہیں آرہے اور معاملہ نشستند ، گفتند اور برخاستند والا ہو گیا ہے۔

جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کی دعوت پر ہونے والی اس اے پی سی کا موضوع کوئی سیاسی یا پارلیمانی تنازعہ ہر گز نہیں بلکہ سید کونین اور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کا معاملہ تھا۔ اس محبت کے لیے جہاں سابق صدر مملکت رفیق احمد تارڑ ایسی بزرگ شخصیت موجود تھی وہیں ملک کی موجودہ حکران جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ ان جماعتوں کے قائدین بھی نمایاں طور پر موجود تھے جنہیں عرف عام میں مذہبی یا دینی جماعتیں کہا جاتا ہے۔ مولانا سمیع الحق، پروفیس حافظ محمد سعید، اور دوسرے بہت سارے اکابر جمع تھے۔ ایک اور اچھی بات اقلیتی نمائندوں کی موجودگی بھی تھی ۔ جس کا صاف مطلب تھا کہ اس آل پارٹیز کانفرنس کا مقصد کسی مذہب ، نسل یا ملک کے خلاف اکٹھ اور گٹھ جوڑ کرنا ہر گز نہیں، بلکہ خالصتا مثبت ایجنڈا تھا کہ اس کانفرنس کے شرکاء نبی آخرالزماں کی ناموس کے لیے ایک ہیں اور دنیا میں جنونی ، جنگلی یا توہینی نظریات کے ساتھ بالکل نہیں۔ اس لیے کانفرنس کے شرکاء توہین ، دل آزاری اور نفرت کو اسلوب زندگی بنانے والوں کو پیغام دینا چاہتے تھے کہ آج کا گلوبل ویلیج جنگلی خواہشات وروایت کے نہیں اجتماعی انسانی اقدار کے فروغ کا متقاضی ہے۔

آل پارٹیز کانفرنس میں جہاں یورپی ممالک میں توہین رسالت کے پے در پے واقعات اور ان کی حوصلہ افزائی کے رجحان کی مذمت کی گئی، وہیں ان دینی ، سیاسی اورمذہبی جماعتوں کی اکابر شخصیات نے بڑی درد مندی کے ساتھ اس امر کا مطالبہ کیا کہ حکومت پاکستان مغربی دنیا میں توہین رسالت کے لیے پائے جانے والے رجحانات کا تدارک کرنے کے لیے اسلامی سربراہی کانفرنس طلب کرے اور لگ بھگ ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے نمائندوں کے طور پر عالم غرب سے دوٹوک کہا جائے کہ انسانی اقدار کے خلاف، بقائے باہمی کے منافی اور امن دشمنی کے فروغ کے لیے توہین رسالت کے ذریعے کیے جانے والے مکروہ عمل کو روکا جائے۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان کے زیر صدارت یہ بڑا جائز اور صائب مطالبہ تھا۔ اس میں کہیں امن و امان کے مسائل پیدا کرنے کی بات کی گئی ہے نہ کسی قوم ، مذہب یا نسل کے خلاف جنون کا مظاہرہ کیا گیا بلکہ پورے سبھاو کے ساتھ اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے احترام پر مبنی پیرایہ اختیار کرنے کا مطالبہ کیے جانے پر زور دیا گیا ہے۔ کہ یہ کام جس قدر عالمی امن ، استحکام و ترقی اور بقائے باہمی کے لیے اہم ہے اس کا تقاضا ہے کہ اہل مغرب کے سامنے اس مطالبے کو اعلی ترین سطح سے پیش کیا جائے ۔ کیونکہ گلوبل ویلیج میں رہنے کے انداز بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ صرف اسی صورت آج کے اس عالمی دیہہ کی گلیاں اور بازار تصادم ، جھگڑے اور بدامنی سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ آس عالمی دیہہ میں کسی قوم، قبیلے، نسل اور محلے کی آزادی نہ لامحدود ہو سکتی ہے نہ کسی کی عزت و ناموس کو کسی دوسرے کی صوابدید اور رحم و کرم پر چھوڑا جا سکتا ہے۔ اس ناطے دیکھا جائے تو اہل پاکستان کی منصورہ سے ابھرنے والی یہ عالمی امن کی متفقہ آواز بڑی جائز، ضروری اور وقیع نظر آتی ہے ۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا عالم اسلام کے حکمران پیرس میں چارلی ہیبڈوکے بالواسطہ عالمی رہنماوں کے غیر معمولی اکٹھ سے بہت پہلے سر جوڑتے ، قدم سے قدم ملاتے اور عالمی برادری کو ملعون رشدی کی شیطانی آیات پر اس کی برطانیہ میں پذیرائی کیے جانے پر، ملعونہ تسلیمہ نسرین کے لیے اہل مغرب کے چشم براہ ہونے کے واقعے پر، امریکا میں اسلام مخالف فلم بننے پر یا بدبخت امریکی پادری ٹیری جونز کی قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کے اعلان پر اور چارلی ہیبڈو کی طرف سے پہلی بار توہینی کارٹون شائع کرنے کے سنگین واقعات میں سے کسی ایک موقع پر زندگی کا ثبوت دیتے۔ حمیت و غیرت کو عزیز ازجان رکھنے کا اظہار کرتے ۔ عالی برادری اور اقوام متحدہ کے سامنے اپنے سچے اور جائز جذبات کو برملا پیش کرتے۔ لیکن ایسا کچھ نہ کیا گیا۔ حد یہ کہ شر انگیزی کے مرتکب چارلی ہیبڈو کے لیے تو دنیا کے لیڈر اور حکمران جمع ہو گئے لیکن اللہ کے محبوب اور رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مسلم حکمرانوں نے ایسا کوئی اظہار نہ کیا۔

اب جبکہ پاکستان ایسے ملک کے تمام مکاتب فکر نے یک زبان ہو کر مطالبہ کر دیا ہے۔ کم ازکم اب یہ لازم ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو توہینی اقدامات کا نشانہ بنانے والو ں کے حکمرانوں یا سیاسی و پارلیمانی اداروں کے توسط سے اقوام متحدہ کے اجتماعی پلیٹ فارم کے ذریعے موثر پیغام دیا جائے کہ بہت ہو گئی۔ اب ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ بلا شبہ جتنا بہتر اور موثر پیرایہ اس حوالے سے اسلامی سربراہی کانفرنس اختیار کر سکتی ہے کوئی اور فورم نہیں کر سکتا۔ مسلم حکمرانوں کی گوناگوں مصروفیات اپنی جگہ، چیلنجوں کا سامنا بھی اپنی جگہ لیکن اگر وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اتنا وقت بھی نہیں نکال سکتے کہ شان رسالت پر ہونے والے رقیق حملوں کے خلاف پرامن رد عمل دینے کے لیے جمع ہوں ۔ تو بعید نہیں کہ نہیں کہ ان مسلم حکمرانوں کی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت و عقیدت پر انگلی اٹھنا شروع ہو جائے۔

مجھ جیسا ناچیز اس امر کی پاکستان کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف سے یہ توقع اس لیے زیادہ رکھتا ہے کہ یہ میرے علم میں ہے کہ میاں نواز شریف اپنے دور جلاطنی کے دوران مسجد نبوی کے ایک خاص گوشے میں بیٹھے رہا کرتے تھے جہاں سے انہیں سبز گنبد سامنے نظر آتا تھا۔ سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے اس لیے توقع رکھنے میں حق بجانب ہوں کہ ان کی شناخت ہی خادم حرمین شریفین کے حوالے سے ہے۔ ترکی کے طیب ایردوآن کے عثمانی اسلاف بھی محبت رسول میں کسی سے کم نہیں تھے۔ اہل ایران کے رہبر نے ملعون سلمان رشدی کے قتل کا فتوی دیا تھا۔ اردن ہاشمی سلسلے کا وارث ہونے کا دعویدار ہیں۔ اس لیے اے پی سی کی آواز پر ان ملکوں کے کان نہ دھرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بہت ممکن ہے کہ اسلامی سربراہان کم از کم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی کمٹمنٹ کا اظہار ضرور کریں جتنی کمٹمنٹ مغربی حکمران چارلی ہیبڈو کے ساتھ ظاہر کر چکے ہیں۔ لہذا ضروری ہے کہ مسلم سربراہان ایک بار مدینہ منورہ میں جمع ہو کر عالمی برادری کو یہ باور کرا دیں اس معاملے میں ہمیں آزمانے کی کوشش نہ کی جائے۔ ہم اس محبت کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔ ہمارا ایمان ہے ''اگر بہ او نہ رسیدی تمام بو لہبی است ۔''

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.