.

ترکی کا شامی سرزمین پر فوجی آپریشن

ڈاکٹر فرقان حمید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی سے باہر شام کی سرزمین پر واقع ’’مقبرہ سیلمان شاہ‘‘ ایک ایسا مقبرہ یا مزار ہے جو واقع تو شام میں ہے لیکن اس مقبرے پر پرچم ترکی کا لہراتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سلطنتِ عثمانیہ کے بانی عثمان غازی کے دادا کا مقبرہ ہے (لیکن تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ سیلمان شاہ کا تعلق کسی بھی طرح عثمانی خاندان سے نہیں ہے بلکہ ان کا تعلق سلجوقی خاندان سے اور سلجوقی دور میں وہ علاقائی امیر بھی رہ چکے ہیں) اور اس وقت شام کا علاقہ سلطنت عثمانیہ کی حدود میں شامل تھا اور سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد جدید جمہوریہ ترکی کے قیام اور شام پر قبضہ کرنے والے ملک فرانس کے درمیان 20 اکتوبر1921ء کو طے پانے والے سمجھوتے کی رو سے اس مقبرے اور آس پاس کی سرزمین کو ترکی کا حصہ قرار دے دیا گیا اور یوں اس وقت سے اس مقبرے پر ترکی کا پرچم لہراتا چلا آرہا ہے۔

1975ء میں اس علاقے میں بہنے والے دریائے فرات پر تعمیر کئے گئے بیراج میں اس مقبرے کو بہنے سے بچانے کے لئے اسے دریائے فرات کی چوٹی پر منتقل کردیا گیا اور اُس وقت سے یہ مقبرہ اسی علاقے میں قائم ہے لیکن موجودہ دور میں اب اس مقبرے کو دولتِ اسلامیہ کے دہشت گردوں کی جانب سے شدید خطرہ لاحق تھا اور کسی وقت بھی اس مقبرے کو دولت اسلامیہ کی طرف سے مسمار کئے جانے خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا جس پر حکومتِ ترکی نے کچھ عرصے سےاس مقبرے کو کہیں اور منتقل کرنے کے بارے میں پلان بنانا شروع کردیا تھا۔ حکومت ترکی نے اس مقبرے کو شام کی حدود کے اندر لیکن بفر زونیا خودمختار علاقے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا جو کہ ترکی کی سرحدوں سے صرف دو سو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور اس علاقے پر حکومتِ شام کا کوئی اثرورسوخ بھی نہیں رہا ہے۔ ترکی نے یہ فیصلہ اچانک اور کسی دیگر ملک کی رائے لئے بغیر کیا ہے۔ حکومت ترکی اور حکومت شام کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے کی رو سے ترکی کے38 فوجیوں کو اس مقبرے کی حفاظت پر مامور کرنے اور ان فوجیوں کو ہر ماہ تبدیل کرنےکا بھی حق دے دیا گیا۔

اس طرح ترکی دنیا میں واحد ملک ہے جس کے کسی غیرملک میں واقع مقبرے کو سفارت خانے جیسی حیثیت (کسی بھی ملک کی حدود میں واقع غیرملکی سفارتخانے کو عام طور پر یہ اعزاز حاصل ہوتا ہے) حاصل ہے۔ شام میں جاری خانہ جنگی کے دوران دولت اسلامیہ دہشت گرد تنظیم نے شام اور عراق جہاں جہاں اس نے قبضہ کیا ہے وہاں پر موجود مقبروں اور مزاروں کو غیر شرعی قرار دیتے ہوئے مسمار کرتی چلی آرہی ہے۔ دولت اسلامیہ کی ان حرکتوں کو دیکھتے ہوئے ترکی کو شام کی حدود میں واقع اپنے آباو اجداد کے مقبرے ’’سیلمان شاہ‘‘ کو بچانے کا فیصلہ کرنا پڑا۔

ترکی کی خفیہ سروس کو اس مقبرے کو دولتِ اسلامیہ کے نام کو استعمال کرتے ہوئے یا پھر دولتِ اسلامیہ کی جانب سےمسمار کئے جانے کی مسلسل اطلاعات موصول ہو رہی تھیں۔ ترکی نے تمام اطلاعات کا تمام پہلووں سے جائزہ لینے کے بعد ہی اس مقبرے کو اس کی جگہ سے بفر زون یا خودمختار علاقے میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ مختلف ذرائع کے مطابق سیلمان شاہ مقبرے کو تباہ کرتے ہوئے دراصل ترکی کو شام کی خانہ جنگی میں دھکیلنےکی کوشش کی جارہی تھی تاکہ ترکی کو اس جنگ میں دھکیل کر اس کی قوت کو کمزور بنایا جاسکے اور یہ ملک اس دلدل میں پھنس کر رہ جائے اور یوں یہ ملک جس رفتار سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے اس کی ترقی کی راہ کومسدود کیا جا سکے۔ انہی قوتوں نے کسی دور میں پاکستان کے ساتھ بھی ایسا کیا تھا اور پاکستان کو افغانستان کی جنگ میں جھونک دیا تھا جس کی وجہ سے آج بھی ہم تباہ ہو رہے ہیں۔ ترکی نے بر وقت مختلف طاقتوں کی جانب سے اسے اس کھیل میں دھکیل نے کے پلان کو سمجھتے ہوئےبڑی عقلمندی کا ثبوت دیا اور اس نےاس جنگ میں شامل ہونے کے بجائے وقتی طور پراس مقبرے کی جگہ کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ترکی نے اقوام متحدہ اور شام کو مراسلہ بھیجتے ہوئے اپنے اس فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے اور حالات کے بہتر ہونے پر اس مقبرے کو واپس اس کی اصلی جگہ پر منتقل کرنے کا حق بھی موجود ہونے کے بارے میں بتادیا ہے۔

جیسا کہ اوپر عرض کرچکا ہوں ترکی نے سیلمان شاہ مقبرے کو تبدیل کرنے کا فیصلہ اچانک اور کسی دیگر ملک سے مشورہ کئے بغیر کیا ہے۔ ترکی نے ’’شاہ فرات آپریشن‘‘ کو آخری وقت تک خفیہ رکھا۔ ترکی نے سیلمان شاہ مقبرے سے سیلمان شاہ کی نعش کو اپنی سرحدوں کے سنگم پر صرف دو سو میٹر کے فاصلے پر شام کی حدود کے اندر ہی منتقل کرنے کےلئے دو فوجی آپریشن ایک ساتھ شروع کئے ایک فوجی دستہ سیلمان شاہ مقبرے کی جانب روانہ کیا گیا تو دوسرا دستہ مقبرے کے نئے مقام اَیشمہ کی جانب روانہ کیا۔ ان دونوں فوجی آپریشن کے دوران 39 ٹینکوں، 57 بکتر بند گاڑیوں اور 578 فوجیوں کو استعمال کیا گیا جو رات ڈیڑھ بجےمقبرے پہنچے اور مقبرے پر متعین 38 فوجیوں اور سیلمان شاہ کی نعش اور اس مقبرے میں موجود مقدس اشیا کو منتقل کیا۔ اس موقع پر خصوصی طور پر دعا کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔ اس تمام کارروائی کو رات پونے پانچ بجے مکمل کر لیا گیا اور مقبرے کی پرانی جگہ سے پرچم کو اتار کر نئے مقبرے والے مقام پر لہرا دیا گیا۔

اس فوجی آپریشن کا فیصلہ وزیراعظم کے دفتر میں کیا گیا تھا ۔ اس موقع پر وزیراعظم اور ترک مسلح افواج کے سربراہ جنرل نجدت اوزیل مسلح افواج کے ہیڈکوارٹر سے پورے فوجی آپریشن کی نگرانی کرتے رہے ۔ اس کارروائی کے دوران ترک فوجی دستوں کو کسی قسم کی جھڑپوں کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑا۔ تاہم فوجیوں کو جھڑپوں کا سامنا کرنے کی صورت میں تمام اقدامات کرنے کے اختیارات حاصل تھے۔ وزیراعظم احمد داؤد اولو نے صبح چھ بجے اس فوجی آپریشن کے مکمل ہونے کے بعد صدر رجب طیب ایردوان کو آگاہ کیا جنہوں نے بعد میں ترک قوم اور ترک مسلح افواج کو اس کامیابی پر مبارک باد پیش کی۔ وزیراعظم احمد داؤد اولو اور صدر رجب طیب ایردوان نے اگرچہ اس فوجی آپریشن کو کامیاب قرار دیا ہے لیکن حزب اختلاف نے اس فوجی کارروائی کوترکی کے لئے ایک بہت بڑا دھچکا قرار دیا ہے۔

ترکی کی حزب اختلاف کی جماعت ری پبلیکن پیپلز پارٹی کے رہنما کمالک لیچدار اولو نے ایک بیان دیا ہے کہ ترکی نے اپنی نوے سالہ تاریخ میں پہلی بار جنگ کئے بغیر اپنی سرزمین کو دشمنوں کےحوالے کردیا ہے جبکہ حزب اختلاف کی ایک اور جماعت نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی کے رہنما دولت باہچے لی نے کہا ہےکہ فوج کو اپنی سرزمین کا دفاع کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہے لیکن ترک فوج اپنی سرزمین کا دفاع کئے بغیر ہی واپس چلی آئی ہے۔ ترکی کے اس فوجی آپریشن کے خلاف اپنے شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے کھلی جارحیت قرار دیا ہے اور اسی قسم کا ردِعمل ایران نے بھی دکھاتے ہوئے ترکی کی جارحیت کو ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔ سیلمان شاہ مقبرے پر کئے جانے والےفوجی آپریشن کے بارے میں نیو یارک ٹائمز نے ترکی کے اس فوجی آپریشن کے دوران علاقے میں موجود کردی دستوں کی بھی حمایت حاصل ہونے سے آگاہ کرتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ علاقے میں ترک اور کرد تعاون کےنئے دور کا آغاز ہونے والا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.