.

وزیر داخلہ کا دورہ امریکہ.

عظیم ایم میاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہمارے اہل اقتدار خواہ وہ کسی سیاسی پارٹی یا حکمراں گروپ سے وابستہ ہوں۔ ان سب کے درمیان ایک بات مشترک ہے کہ عوامی خزانے کے سرکاری خرچ پر جب بھی وہ امریکہ کے دورے پر آتے ہیں تو ان کا طریقہ دورہ یا طریقہ واردات کچھ اس طرح ہوتا ہے 1)

وہ کمال فرمانبرداری کے ساتھ اپنے امریکی میزبانوں کے تمام ارشادات کو سنتے ہیں اور پھر اپنے اقتدار اور ذاتی خواہشات کے تناظر میں تجزیہ کرکے اپنی سعادت مندی کا یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں.

(2) ملاقات و مذاکرات ارشادات و مطالبات کے بعد وہ اپنے مائیک اور موقف کا رخ پاکستان کی طرف کرکے صرف یہ بتاتے ہیں کہ ان کا دورہ امریکہ اور امریکیوں سے ملاقات و مذاکرات انتہائی مفید اور کامیاب رہے.

(3) سرکاری خرچ پر امریکہ آنے اور پاکستان کی نمائندگی کرنے والے یہ عوامی نمائندے پاکستانی عوام کو یہ بھی ضرور بتاتے ہیں کہ انہوں نے کشمیر، دہشت گردی، پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی، پاکستانی معیشت، پاک امریکہ تجارت سمیت تمام مسائل پر امریکی حکام کے سامنے پاکستانی موقف کا اظہار کیا ہے لیکن یہ بالکل نہیں بتاتے کہ ان تمام موضوعات پر امریکی حکام نے کیا جواب ان کا موقف اس مسئلہ پر کیا اور کیوں ہے؟ کن نکات پر امریکہ اور پاکستان کے درمیان کیا اختلاف ہے اور اس اختلافی موقف سے ڈیل کرنے کے لئے کیا راستہ اختیار کیا جائے گا؟ عوام کے مفادات کی نمائندگی اور ترجمانی کرنے والے یہ اہل اقتدار مذاکرات کی حقیقت کو اپنے عوام ہی سے چھپاتے ہوئے اپنی جرات اظہار کا دعویٰ کرتے ہوئے وہ کچھ بتاتے ہیں جو انہیں امریکیوں کے سامنے سفارتی شائستگی کے ساتھ بھی بیان کرنے کی ہمت نہیں ہوتی۔

اگر امریکہ کے سرکاری دورے کرنے والے پاکستانی حکمرانوں اور نمائندوں کے بیانات کا صرف دس سال کا ریکارڈ ہی اکٹھا کرلیں اور ان کے دوروں کے مفید اور کامیاب ہونے کے دعویٰ کو تسلیم کرتے ہوئے جائزہ لیں تو اب تک کشمیر، دہشت گردی، اور پاک بھارت تعلقات کے مسائل امریکی حمایت اور تعاون سے اب تک حل ہوچکے ہوتے اور پاک امریکہ تعلقات میں سلالہ، ڈرونز حملے اور دیگر اختلافی مسائل جنم ہی نہ لیتے۔ اپنے ہر دورہ امریکہ کو مفید اور کامیاب قرار دینے والے اہل اقتدار کے دوروں کی کامیابی نہ جانے کہاں گم ہے۔ نظر کیوں نہیں آتی؟ صرف امریکی منڈیوں تک پاکستانی مصنوعات کی آزادانہ رسائی کا عام سا مطالبہ مشرف دور سے اب تک چلا آرہا ہے اور آج بھی تمام کامیاب اور مفید دوروں کے باوجود حل طلب ہے۔اس تمام تفصیل کا مقصد ہمارے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خاں کے حالیہ دورہ امریکہ اور امریکی وہائٹ ہائوس کی منعقد کردہ انتہا پسندی کے انسداد کے لئے کئی درجن ممالک کے نمائندوں کی سمٹ یعنی کانفرنس میں شرکت اور امریکی وزیر خارجہ جان کیری، صدر اوباما کی نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر سوزن رائس اور دیگر امریکیوں سے ملاقاتوں کا تجزیہ کرنا مقصود ہے۔

وزیر داخلہ نثار علی خان کی سمٹ میں تقریر، دہشت گردی ختم کرنے کا پانچ نکاتی فارمولا امریکی تھنک ٹینک سے ان کا خطاب، امریکی سیکرٹری خارجہ کے ساتھ ان کی مشترکہ میڈیا بریفنگ، صدر اوباما کی نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر سوزن رائس سے ملاقات کے بارے میں پاکستانی پریس ریلیز اور دیگر متعلقہ تمام انفارمیشن میرے سامنے ہے۔ پاکستان کے مفادات کے نقطہ نظر سے تو مجھے زرداری دور کے وزیر داخلہ رحمٰن ملک اور موجودہ وزیر داخلہ نثار علی خان کے امریکی دوروں میں کوئی فرق نظر نہیں آیا۔ وہی روایتی الفاظ و بیانات، تعمیری مذاکرات، مفید دورہ، تعاون جاری رکھنا، دہشت گردی کا انسداد میں تعاون و حمایت کے بیانات ہی پھر پڑھنے کو ملے ہیں۔ چوہدری نثار نے اپنے پیشرو کے دورہ امریکہ کی روایت کو اپنائے رکھا۔ امریکی تھنک ٹینک کے سامنے انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قربانیوں کا بے باکانہ انداز میں جو ذکر فرمایا ہے وہ ان سے پہلے کئی حکمراں، وزراء، پاکستانی میڈیا اور متعدد غیرملکی شخصیات بیان کرچکے ہیں اور امریکی اس سے بخوبی آگاہ ہیں۔ مگر ان قربانیوں کے باوجود پاکستان آج کہاں کھڑا اور کن مسائل کا شکار ہے آج پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف اپنے ہی وسائل خرچ کرکے تنہا ہی یہ جنگ لڑنا پڑ رہی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے وزیر داخلہ نثار علی خاں کے ساتھ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے بند کمرے میں ملاقات و مذاکرات کے بعد مشترکہ طور پر برآمد ہوکر میڈیا کے کیمروں کے سامنے واضح طور پر جن تین نکات پر پاکستان کی تعریف کی ہے وہ پاکستان اور افغانستان میں تعاون کی رفتار، آپریشن ضرب عضب، استحکام جمہوریت اور خطے میں امن و استحکام کے لئے پاکستان کا کردار تھے۔ اس پہلے سے طے شدہ اقدامات اور پاکستانی کردار کی امریکی تعریف کا سرٹیفکیٹ تو حالیہ امریکی بیانات میں پہلے ہی آچکا ہے۔ وزیر داخلہ کے دورہ امریکہ سے پاکستان کو کیا حاصل ہوا؟ پڑوسی ملک کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہونے کے ثبوت امریکیوں کو پیش تو کردئیے مگر وزیر داخلہ کی موجودگی میں جان کیری کے میڈیا کے سامنے بیان میں اس کا حوالہ یا ذکر تک نہیں ہے۔ جو آپ کو بہت کچھ سوچنے کی دعوت دیتا ہے۔ امریکہ کی نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر سوزن رائس سے ملاقات اور ریمارکس میں اس بات پر امریکہ کا کوئی تبصرہ یا تاثر نہیں ملتا۔ ہاں پاکستانی میڈیا سے گفتگو میں اس پر زور نظر آیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور وزیر داخلہ کی مشترکہ میڈیا کے سامنے ریمارکس میں ایک اہم بات یہ بھی کہی گئی ہے کہ پاکستانی وزیر داخلہ سے مذاکرات میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں شدت اور تیزی کے بارے میں پاکستان کی تشویش کے بارے میں کافی تفصیل سے بات چیت ہوئی ہے۔ مگر امریکہ کی جانب سے پاکستان کی لفظی حمایت کے بیان کے علاوہ امریکی حمایت کا کوئی عملی طریقہ یا پلان سامنے نہیں آیا۔ ماضی کے امریکی دوروں کی طرح یہ بھی ایک اور دورہ امریکہ کا اضافہ سمجھا جائے۔ آخر پاکستان کے لئے زمینی حقائق میں کیا تبدیلی آئی یا آئے گی؟ ہمارے وزیر داخلہ کی تقریر میں دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے ایک پانچ نکاتی فارمولا بھی پیش کیا گیا ہے۔ جو انتہا پسندی کے خلاف گلوبل ایکشن کی بنیاد کے طور پر تجویز کیا گیا ہے۔

ان میں مقامی آبادی کو مستحکم کرنا، امن پسند اکثریت کا اعتماد حاصل کرنا، انتہا پسندی کے خلاف مقامی آبادیوں میں جرات پیدا کرنا، لوگوں میں انتہا پسندی کو فروغ دینے والے عوامل اور مسائل کا سدباب اور تعلیم کے ساتھ ساتھ تحمل اور بھائی چارے کو فروغ دینا شامل ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ وزیر داخلہ ان پانچ عوامل کے فروغ اور پاکستان میں عملی تجربہ کرکے اگر کوئی ’’ماڈل‘‘ امریکہ اور دنیا کے سامنے پیش کرتے تو انتہا پسندی کے خلاف وہائٹ ہائوس کی اس سمٹ میں ان کی تجویز کو توجہ اور پذیرائی ملتی۔ پاکستان دہشت گردی سے دنیا میں سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔ کیا ہم نے اس پانچ نکاتی فارمولے پر کہیں کوئی عمل کیا یا ابتدا کی؟ جس فارمولے کو ہم دنیا کے سامنے پیش کررہے ہیں اس کا کوئی تجرباتی نمونہ یا ریکارڈ خود ہمارے پاس نہیں۔ ہم سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ ہم سے ڈومور کا امریکی مطالبہ جاری ہے۔ مختصر یہ کہ وزیر داخلہ کا دورہ امریکہ بھی پاکستان کے قومی معاملات کے لئے ماضی کے روایتی دوروں کی طرح ایک مزید دورہ تھا جس سے زمینی حقائق میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی نہ ہوگی۔ انہیں قوم کو بھی یہ بتانا چاہئے کہ اس دورہ امریکہ سے پاکستان کے قومی مفادات اور قوم کو دہشت گردی سے نجات دلانے کے لئے کیا کچھ لے کر لوٹے ہیں؟ یہ جاننا پاکستانی عوام کا حق ہے کہ امریکی دورہ کرنے والے نمائندے قومی مفاد کے کونسے تقاضے پورے کرتے ہیں؟

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.