.

یمن کے بھی دو دارالحکومت اور دو حکومتیں

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مرحوم امیرِ کویت اور ولی عہد شہزادے کی اگست انیس سو نوے میں'' اقتدار سے محرومی '' کا اقدام عراق کے مقتول حملہ آور صدام حسین کے اس خواب کے کھو جانے کا سب سے اہم سبب بنا کہ وہ کویتی ریاست کے جائز وجود کو نابود کرے گا۔ کویت پر حملہ آور ہونے کے بعد صدام نے ہر ممکن کوشش کی کہ کسی طرح ریاست کویت پر اپنا حق حکمرانی مسلط کر سکے۔ اس مقصد کے لیے کویت کو ایک عراقی گورنری بھی قرارادیا گیا۔ لیکن انجام کار ناکامی ہوئی۔ تب ایک کویتی کو کویت کی حکمرانی سونپنے کی کوشش کی تو اسے بھی کویت کی کسی جماعت یا طبقے نے تسلیم نہ کیا۔

اسی صورت حال کا سامنا آج یمن کو ہے۔ یمنی صدر عبدالربہ منصور ہادی ان حوثی باغیوں کی حراست سے نکلنے میں کامیاب ہوچکے ہیں، جنہوں نے صدر ہادی کو صدارتی محل میں نظر بند کر دیا تھا۔ تاکہ حوثی کی ماتحتی میں صدر رہنا قبول کر لیں یا پھر استعفا دے کر گھر کو جائیں۔ لیکن صدر ہادی کا صدارتی محل میں حراست سے بچ نکل کر عدن پہنچ جانا ان کی جائز حکومت کے برقرار ہونے کا جواز بن گیا ہے۔

بجا کہ یمن میں کلی طور پر کویت والے حالات نہیں ہیں کہ خود حوثی صدام کی طرح بیرونی حملہ آور نہیں ہیں، بلکہ حوثی یمن کی افواج کا بھی حصہ ہیں۔ اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ یمن کے حوثی ایرانی رجیم کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں جبکہ عدن یمن کا دوسرا دارالحکومت ہے۔تاہم صدر ہادی کا عدن پہنچ جانا حوثی باغیوں کے لیے بہت بڑا دھچکا ہے۔ اس وجہ سے حوثی اپنا سوداکاری کا وزن بھی کھو بیٹھے ہیں۔ صدر ہادی کے عدن پہنچنے کا مطلب یہ ہے کہ یمن کے دو دارالحکومت ہیں اور دو ہی حکومتیں ہیں۔ تاہم ہادی کو تمام یمنی جماعتیں اور طبقات تسلیم کرتے ہیں۔ حتی کہ حوثیوں میں بھی انہیں تسلیم کیا جاتا ہے۔ اسی طرح اقوام متحدہ کی تنظیم آج بھی صدر ہادی کی حکومت کو ہی تسلیم کرتی ہے۔

اس جدوجہد میں ممکن ہے ملک کم از کم دو حصوں میں تقسیم ہو جائے۔ تا آنکہ حوثی اور ان کے اتحادی سازش کار معزول صدر علی عبداللہ صالح اس امر کو محسوس کر لیں کہ کھیل اب ان کے لیے پہلے سے زیادہ مشکل اور خطرناک ہوچکا ہے اور یہ تسلیم کرتے ہوئے وہ پیچھے ہٹ جائیں۔

عدن میں موجود حکومت کو اقوام متحدہ تسلیم کر لے گا ، عالمی برادری تسلیم کر لے گی، حتی کہ بڑی عالمی طاقتوں نے اپنے سفارت خانے چند روز قبل بند کر کے صدر ہادی کے صدارتی محل سے فرار ہونے کی تیاری میں ایک طرح سے کردار ادا کیا تھا۔ صنعا میں ایک نیم حکومت حوثیوں اور ان کے اتحادیوں کی نمائندگی کر رہی ہوگی ایک باضابطہ حکومت نہیں ہو گی۔ اس حکومت کو کوئی ملک کے اندر تسلیم کرے گا نہ ملک سے باہر۔ زیادہ امکان اسی بات کا ہے کہ حوثی اور علی عبداللہ صالح بے وقار ہوں گے۔ کیونکہ ان کی حکومت کے پاس وسائل کی عدم دستیابی کا مسئلہ سنگین ہوگا۔ نتیجتا آنے والی مزاحمت کا مقابلہ کرنا بھی مشکل ہو جائے گا۔

محاصرے کے دوران یہ اشارے بھی ملے کہ جنہوں نے بغاوت کے تانے بانے بنے تھے، انہوں نے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے یمن جمال بن عمر کے اس موقف کو مضبوط کرنے میں مدد کی کہ وہ حوثیوں اور علی عبداللہ صالح کو یمنی حکومت کا حصہ بننے اور اسے چیلنج نہ کرنے کے لیے قائل کریں گے۔

بہ شکریہ العربیہ

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.