.

کیا اقبالؒ جمہوریت کے مخالف تھے؟.

حامد میر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یہ نومبر 2014ء کی بات ہے۔ بنگلہ دیش کے اخبار پروتھم ایلو (نئی صبح) کے ایڈیٹر مطیع الرحمان کی دعوت پرجنوبی ایشیا اورمشرق وسطیٰ کے ایک اہم صحافی ڈھاکہ میں ایک چھت تلے اکٹھے بیٹھے تھے اور اپنے اپنے وطن میں اہل صحافت کو درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کررہے تھے۔ پروتھم ایلو بنگلہ دیش میں بنگالی زبان کا سب سے بڑا اخبار ہے جس کی روزانہ اشاعت 50 لاکھ سے زیادہ ہے۔

اس اخبار کے ایڈیٹر مطیع الرحمان اور پبلشر لطیف الرحمان کو حسینہ واجد کی حکومت کی طرف سے سخت دبائو کا سامنا ہے۔ مطیع الرحمان پر کئی حملے ہو چکے ہیں اوران کے خلاف مختلف عدالتوں میں ایک درجن سے زائد مقدمات زیر سماعت ہیں۔ ان کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ بنگلہ دیش میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموش نہیں رہتے جس پر حکمران جماعت کی اہم شخصیات انہیں آئی ایس آئی کا ایجنٹ قرار دیتی ہیں جبکہ پچھلے دنوں ایک پاکستانی اخبار نے انہیں ’’را‘‘ کا ایجنٹ لکھا کیونکہ انہوں نے اپنی داستان غم سنانے کیلئے جو محفل بپا کی اس میں پاکستان سے مجھے بلانے کی گستاخی کر ڈالی تھی۔ ان کی اس محفل میں میرے بائیں ہاتھ مصر کے مشہور اخبار ’’الاہرام‘‘ کے ایڈیٹر تشریف فرما تھے۔ چائے کا وقفہ ہوا تو انہوں نے بتایا کہ آجکل مصر میں اخوان المسلمون کے مخالفین جمہوریت کے خلاف علامہ اقبالؒ کے اشعار کے بہت حوالے دیتے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ علامہ اقبالؒ کی شاعری کا عربی زبان میں کس نے ترجمہ کیا؟ انہوں نے ذہن پر زور دیکر کہا کہ علامہ اقبالؒ کی شاعری کے اولین عربی تراجم ڈاکٹر عبدالوہاب عزام نے کئے تھے۔ میں نے انہیں بتایا کہ علامہ اقبالؒ کی شاعری کو ڈاکٹر ظہور احمد اظہر (سابق استاد پنجاب یونیورسٹی لاہور) نے بھی عربی میں ترجمہ کیا لیکن اقبالؒ کو جمہوریت کا مخالف قرار دینا مبالغہ آرائی ہے۔

شاعر مشرق نے مغربی جمہوریت کے بارے میں بار بار اپنی تشویش کا اظہار تو کیا لیکن ان کی شاعری میں نظر آنے والی اس تشویش کو ان کے خطبات کی روشنی میں پرکھا جائے تو وہ مغربی جمہوریت کی بجائے ’’سلطانی جمہور‘‘ پر یقین رکھتے تھے۔ ہماری گفتگو جاری تھی کہ راجشاہی یونیورسٹی کے ایک سابق وائس چانسلر صاحب نے بھی علامہ اقبالؒ کے بارے میں اپنی معلومات کی دھاک جما دی۔ بتانے لگے کہ علامہ اقبالؒ کو بنگالی زبان میں سب سے پہلے کلکتہ یونیورسٹی کے استاد ڈاکٹر امید چکرورتی نے ترجمہ کیا ان کے بعد میزان الرحمان، ڈاکٹر محمد شہید اللہ اور کوی فرخ احمد سمیت کئی بنگالی ادیبوں نے علامہ اقبالؒ کے ’’شکوہ‘‘ اور ’’جواب شکوہ‘‘ کے علاوہ ’’بانگ درا‘‘ اور ’’اسرار خودی‘‘ کا بھی بنگالی میں ترجمہ کیا۔ ان صاحب نے دعویٰ کیا کہ پڑھے لکھے بنگالی علامہ اقبالؒ کو ان کی جمہوریت پسندی کی وجہ سے پسند کرتے ہیں کیونکہ بنگلہ دیش کی تمام بڑی لائبریریوں میں علامہ اقبالؒؒ کی شاعری سے زیادہ ان کے خطبات زیادہ آسانی سے دستیاب ہیں اور یہ خطبات انگریزی میں تھے۔ ان خطبات میں اقبالؒ نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ ایسی جمہوریت کا راستہ اختیار کریں جو مغربی جمہوریت کی خامیوں سے پاک ہو۔ افسوس کہ پاکستان میں بھی علامہ اقبالؒ کو شاعر مشرق تو تسلیم کیا جاتا ہے اور پڑھے لکھے لوگ ان کی اردو شاعری سے کافی واقف ہیں لیکن ان کی فارسی شاعری اور ان کے خطبات سے پاکستانیوں کو بھی زیادہ آگاہی نہیں۔

علامہ اقبالؒ کے خطبات کی یاد برادرم وجاہت مسعود صاحب کا کالم پڑھ کر آئی۔ انہوں نے درست لکھا کہ علامہ اقبالؒ نے پنجاب لیجسلٹیو کونسل کا الیکشن 1926ء میں لڑا تھا۔ لیکن ان کا ایک مشہور شعر 1924ء میں ’’بانگ درا‘‘ میں سامنے آیا تھا۔ اقبالؒ نے فرمایا تھا کہ

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
مذکورہ بالا شعر میں جمہوریت پر تنقید ہے مذمت نہیں ہے ورنہ یہ شعر کہنے کے کچھ عرصے بعد علامہ اقبالؒ خود الیکشن نہ لڑتے۔ اقبالؒ کے خیال میں اصلی جمہوریت یہ تھی ....
سلطانی جمہور کا آتا ہے زمانہ
جو نقش کہن تم کو نظر آئے مٹا دو

’’بانگ درا‘‘ کی اشاعت سے بہت پہلے علامہ اقبالؒ نے اسلام کے سیاسی نظام کے بارے میں لکھا کہ نبی کریم ﷺ نے اہم فیصلوں سے قبل مشاورت کی روایت کو برقرار رکھا۔ ان کے وصال کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ کو ہنگامی حالت میں خلیفہ منتخب کیا گیا۔ حضرت عمرؓ اتفاق رائے سے خلیفہ بنے۔ علامہ اقبالؒ نے کہا کہ مشاورت کا یہ نظام جمہوریت کے قریب تھا لہٰذا مسلمانوں کیلئے جمہوریت بہترین طرز حکومت ہے۔ یہی بات انہوں نے اپنے مشہور خطبات میں دہرائی۔ میں کئی مرتبہ اپنے کالموں میں علامہ اقبالؒ کی طرف سے قائداعظمؒ کو 28 مئی 1937ء کو لکھے جانے والے خط کا حوالے دے چکا ہوں جس میں انہوں نے فرمایا کہ اسلام کے قانونی اصولوں کے مطابق کسی مناسب شکل میں سوشل ڈیمو کریسی (سماجی جمہوریت) کو قبول کر لینا کوئی انقلاب نہیں بلکہ اسلام کی اصل روح کی جانب لوٹنا ہے۔ علامہ اقبالؒ نے ترکوں کے اس اجتہاد کی بھی تائید کردی تھی کہ خلیفہ کا منصب کسی منتخب شدہ جماعت کے حوالے بھی کیا جاسکتا ہے۔ علامہ اقبالؒ کے خیال میں خلیفہ کے روایتی تصور کو بحال کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ عالم اسلام میں ایسا موثر اتحاد آسان نہیں کہ محض ایک خلیفہ کے نمائشی تقرر سے وجود میں آجائے۔

علامہ اقبالؒ نے بڑے واضح الفاظ میں مسلمانوں کو اسلامی جمہوریتوں کی ایک برادری بن جانے کی تجویز دی۔ وہ شہنشائیت کو خلاف اسلام سمجھتے تھے اور ایک ایسی جمہوریت چاہتے تھے جس میں ارکان اسمبلی کا انتخاب ان کی جاگیر اور سرمایہ کی وجہ سے نہیں بلکہ اہلیت اور دیانت کی بنیاد پر ہو۔ اس رائے سے اختلاف کرنے والے کہہ سکتے ہیں کہ اقبالؒ تو ایسی خلافت چاہتے تھے جس میں دریائے نیل کے ساحل سے لیکر کاشغر کی خاک تک صرف ایک ہی پاسبان حرم کی حکومت ہو۔ اقبالؒ کے مختلف اشعار سے اپنی اپنی پسند کے مطالب برآمد کرنا بہت آسان ہے لیکن ان کے خطبات میں موجود ان کی اصل سوچ کی نفی ممکن نہیں ہے۔ جس زمانے میں علامہ اقبالؒ زندہ تھے وہ کاشغر میں بغاوت کا زمانہ تھا۔ یہ آج کے چین کے قیام سے پہلے کی بات ہے۔ چینی ترکستان (سنکیانگ) میں مسلمانوں نے بغاوت کی تو 16 مئی 1933ء کو علامہ اقبالؒ نے ایک تفصیلی بیان میں اس بغاوت کو انقلاب قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ بہت جلد ہندوستان اور روس کے درمیان ایک نئی مسلم ریاست وجود میں آئے گی۔ آج کے دور میں اقبالؒ کی شاعری کو درست تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اقبالؒ کا خیال تھا کہ دریائے نیل کے ساحل سے لیکر کاشغر تک ہر مسلمان پاسبان حرم ہے لہٰذا حرم پاک کے خلاف سازشیں بند کی جائیں۔ آخر میں 27 جولائی 1937ء کو علامہ اقبالؒ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کا ذکر کروں گا۔ شاعر مشرق نے اس بیان میں کہا کہ عرب اقوام اپنے بادشاہوں پر اعتبار نہیں کرسکتیں کیونکہ یہ بادشاہ فلسطین کے معاملے پر اپنے ضمیر کی آواز پر کوئی فیصلہ کرنے کے قابل نہیں۔ اب آپ خود ہی فیصلہ کرلیں کہ علامہ اقبالؒ جمہوریت کے حامی تھے یا ملوکیت کے حامی تھے؟

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.