.

زندہ انسانوں کے سودے،ہم زندہ قوم ہیں

نازیہ مصطفیٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قوموں پر بلاشبہ عروج و زوال آتے رہتے ہیں، قومیں ابھرتی ہیں اور ڈوبتی ہیں اورڈوبتی ہیں تو اپنی غلطیوں سے سبق سیکھ کر اقوام عالم کے افق پر دوبارہ ابھر آتی ہیں۔ قوموں پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹتے ہیں، قوموں کو امتحان درپیش رہتے ہیں اور قوموں کو کٹھن آزمائشوں کی بھٹیوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اِن تمام مراحل میں صرف وہی قومیں سرخرو ہوکر آگے بڑھتی ہیں جو اپنے ماضی کے روشن باب کو تاج بناکر سر پر رکھ لیتی ہیں۔ مگر بیسویں صدی کے آغاز میں عثمانیوں پر جو کوہ غم ٹوٹا، اُسکی مثال تاریخ میں خود ترکوں کے سوا دوسری کوئی نہیں۔ کہاں انیسویں صدی تک تین براعظموں پر پھیلتی ہوئی عثمانی سلطنت اور کہاں بیسویں صدی کے آغاز پر استنبول کے توپ قاپی محل تک سکڑ جانیوالا عثمانی حکومت کا سکہ اور حکم شاہی! اِس مسلسل سمٹتے تخت شاہی کے دور میں پہلی جنگ عظیم کے بعد اتحادیوں نے عثمانی سلطنت کے حصے بخرے شروع کیے تو شام کا علاقہ فرانس کے حصے میں آیا اور دولت عثمانیہ نے بڑی پس و پیش کے بعد یہ حقیقت قبول کی۔ معاہدہ انقرہ کے بعد عثمانیوں نے شام پر فرانس کا قبضہ تسلیم کرلیا، آٹھ صفحات اور متعدد شقوں پر مشتمل اس معاہدے میں ایک شق سب سے دلچسپ اور اہم سمجھی جاتی ہے۔ اس معاہدے کے تحت یوں تو سارا شام ترکوں کے ہاتھ سے نکل گیا، لیکن اِس مذکورہ شق کے تحت دریائے فرات کے قریب قلعہ الجعبرمیں ایک ایکڑ پر مشتمل قطعہ اراضی پر ترکوں کا پرچم لہرانے کا حق تسلیم کیا گیا۔ اس قطعہ اراضی پر ایک ایسی عمارت تھی جس پر ترک اپناسرخ پرچم لہراسکتے تھے اور چالیس کے لگ بھگ ترک فوجی بھی اِس عمارت کی حفاظت کیلئے موجود رہ سکتے تھے۔ یہ عمارت ترکی کے سفارتخانے کی تو نہیں تھی لیکن اِسے سفارتخانے سے زیادہ اہمیت اور تقدس حاصل تھا۔ یہ عمارت دراصل ایک مقبرہ تھا اور مقبرہ بھی کسی اور کا نہیں بلکہ عثمانی سلاطین کے جد امجد سلیمان شاہ کا مقبرہ تھا۔

یہ سلیمان شاہ خود سلطان نہیں تھا البتہ عثمانی سلطنت کے بانی عثمان بن ارطغرل خان کا دادا اور چھتیس ترک سلاطین کا جدامجد ضرور تھا۔ یہ سلیمان شاہ بارہویں صدی عیسوی میں دریاعبور کرتے ہوئے فرات کی لہروں کے ساتھ بہہ گیا تھا، قلعہ الجعبرکے قریب اِس مقبرے میں سلیمان شاہ کی باقیات دفن کی گئیں، انیس سو چوہتر میں سیلاب کے بعد یہ مقبرہ دریائے فرات کے کنارے ہی ایک نئی جگہ تعمیر کیا گیا ۔ وقت گزرتا چلا گیا اور شام نے فرانس سے بھی آزادی حاصل کرلی، لیکن معاہدہ انقرہ کی یہ مذکورہ شق جوں کی توں رہی۔ معاہدے کی اس شق کو ترکوں کی سیکولر حکومتوں نے ختم کیا نہ ہی شام میں حافظ الاسد یا کسی دوسرے بعث حکمران نے اِس معاہدے کو منسوخ کیا اور یوں چورانوے برس گزر گئے، شام کے اندر یہ عمارت ترکی کی ملکیت رہی اور پوری نو دہائیوں تک یہاں ترکی کا سرخ قومی پرچم پوری آن بان اور شان کے ساتھ لہراتا رہا، لیکن گزشتہ ہفتے اکیس اور بائیس فروری کی رات اس عمارت پر سے ترکوں کا سرخ پرچم اتار لیا گیا۔ یہ پرچم کسی اور نے نہیں بلکہ خود ترکوں نے اُس وقت اتارا جب ترک افواج کے کمانڈوز کا ایک مسلح دستہ ٹینکوں اور گن شپ ہیلی کاپٹر کے ساتھ علاقے میں داخل ہوا۔ ترک دستے نے مقبرے میں سے سلیمان شاہ کی باقیات نکالیں، ترکوں کا سرخ پرچم اتارکر پورے احترام کے ساتھ لپیٹا، مقبرے کو منہدم کیا اور ترک شام سرحد پر واپس آگئے۔کمانڈوز نے سلیمان شاہ کی یہ باقیات شام کی سرحد کے اندر دو سو میٹر کے فاصلے پر دفن کردیں، جہاں ترک حکومت کے مطابق سلیمان شاہ کا نیا اور شاندار مقبرہ تعمیر کیا جائیگا۔سلیمان شاہ کا مقبرہ اور باقیات کا مقام تبدیل کرنے کا فیصلہ صرف اِس لیے کیا گیا تاکہ علاقے میںشدت پسند جنگجوئوں کی تنظیم داعش اسلام کی دیگر مقدس ہستیوں کے مزارات کی طرح سلاطین عثمانیہ کے جد امجد کی قبر کی بھی بے حرمتی نہ کرڈالے۔

پاکستان میں اگرچہ داعش نہیں ہے، لیکن داعش سے ملتی جلتی کئی تنظیمیں پہلے ہی روبہ عمل ہیں۔ اِنہی تنظیموں میں سے ایک سانحہ پشاور جیسے دلوں کو دہلا دینے والا سانحے کی ماسٹر مائنڈ بھی ہے۔ یہ وہ سانحہ ہے جس کے بعد ملکی سطح پر دہشت گردی کے خاتمے کیلئے قومی ایکشن پلان ترتیب دیا گیا اور قومی سیاسی و عسکری قیادت نے ملک سے دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کا عہد اور عزم کیا۔ آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے جب تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے اتفاق کیا تھا تواُس وقت دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے 17 سفارشات بھی پیش کی گئی تھیں، جن میں ملک میں انٹیلی جنس نظام کو مربوط اور فعال بنانا، ملک میں کرمنل جسٹس سسٹم کو موثر اور تیز کرنا، انٹیلی جنس معلومات اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں میں فاصلے کم کرنا شامل تھا۔ اِن سفارشات میں مذہبی منافرت پھیلانے پر مکمل پابندی، فاٹا کیلئے فوری قانون سازی اور دہشت گردوں کے سوشل میڈیا کا استعمال روکنے کے اقدامات سمیت دیگر امور بھی شامل تھے۔وزیراعظم نواز شریف نے قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کیلئے اپنی نگرانی اور سربراہی میں خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دی تھی اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کیلئے وزارت خزانہ اورا سٹیٹ بینک کو احکامات بھی جاری کیے تھے، لیکن جیسے ہی شہداء پشاور کے قبروں کی مٹی ذرا خشک ہوئی، سیاسی قبیلے کی جیسے نیت ہی بدل گئی، یہی وجہ ہے کہ قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد سست روی کا شکار ہوچکا ہے، فوجی عدالتیں بنانے کیلئے آرمی ایکٹ میں ترمیم سمیت آئین میں اکیسویں ترمیم تو کرلی گئی لیکن سانحہ پشاور کو دوڈھائی ماہ گزرنے کے باوجود کوئی فوجی عدالت کام شروع نہ کرسکی۔قومی ایکشن پلان کے دیگر نکات پر عملدرآمد کیلئے بھی صوبوں میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوسکی۔ البتہ اس دوران سانحہ شکار پور سمیت دہشت گردی کے متعدد واقعات میں کئی قیمتی جانیں ضرور ضائع ہوگئیں۔

قارئین کرام!! زندہ اور مردہ قوموں میں کیا فرق ہوتا ہے؟ اگر کوئی یہ فرق سیکھنا چاہے تو ترکوں سے سیکھ لے۔ترکوں نے پہلی جنگ عظیم میں شام جیسا پورا ملک ہاتھوں سے گنوانا گوارہ کرلیا لیکن اپنے پرکھوں کی باقیات کا سودا کرنا گوارہ نہ کیا۔ معاہدہ انقرہ میں شامل یہ شق نمبر نو نہیں تھی بلکہ ایک زندہ قوم کی نشانی تھی، جس نے اپنے ایک مردے کی باقیات کا سودا کرنا بھی اپنی حمیت اور غیرت کے منافی سمجھا۔ ترکوں کی ملی غیرت اور قومی حمیت کا اندازہ اِس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ مصطفی کمال پاشا کی سیکولر حکومت نے 3 مارچ 1924ء کو خلافت کے خاتمے کا اعلان کرکے سلطان اور ان کے اہل خانہ کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر جلاوطن کر دیا لیکن اس سیکولر حکومت نے بھی معاہدہ انقرہ کو ختم کیا نہ معاہدہ انقرہ کی اس شق نمبر نو کو کالعدم قرار دیا جس کے تحت تر عثمانی سلاطین کے جد امجد کے مقبرے کی حفاظت کیلئے چالیس فوجی ہمہ وقت شام میں تعینات رکھے جانے تھے۔ دوسری جانب ہم ہیں کہ اپنے زندہ لوگوں کو بیچنے پر بھی نہیں شرمائے اور چند ڈالروں کے عوض کہیں گوانتانامو بے جیسی جیلیں بھر نے پر لگے رہے تو کہیں جگہ جگہ خودکش حملہ آوروں کے فرینچائزر کھول کر بیٹھ گئے۔ یہی وجہ ہے کہ سانحے پر سانحے ہوتے چلے جاتے ہیں اور ہم ہر سانحے کے بعد صرف عزم اور عہد کرنے تک محدود ہوکر رہ جاتے ہیں، لیکن عملی طور پر ہماری کارکردگی صفر بھی نہیں ہے۔ہم نے مر جانے والوں کی باقیات کی کیا حفاظت کرنی ہے! ہم تو اپنے زندہ لوگوں کے ہی بیوپاری بن کر رہ گئے ہیں۔ ہمارا یہ رویہ کسی طور پر ایک زندہ قوم کی علامت نہیں ہوسکتا۔ہم نے اگر ایک زندہ قوم بننا ہے تو ہمیں ’’شق نمبر نو‘‘ کی دعا کرنی ہوگی۔ ہم نے اگر اپنے زندہ لوگوں کو بچانا ہے تو ہمیں اپنے مرجانے والوں کی ’’حفاظت‘‘ بھی کرنی ہوگی! یا للہ! ہمیں کچھ اور عطا کر یا نہ کر ہمیں شق نمبر نو ضرور عطا فرمادے!

بہ شکریہ روزنامہ نوائے وقت

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.