.

ہارس ٹریڈنگ اور اب 22 ویں ترمیم کا تماشا

وکیل انجم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سیاست میں ممبران پارلیمنٹ کی جانب سے کسی لالچ اور فائدے کی خاطر اپنی پارٹی کو چھوڑ کر دوسرے گروہ سے مل جانے کے عمل کو سیاسی اصطلاح میں ہارس ٹریڈنگ کہا جاتا ہے۔ گھوڑا اپنا فائدہ سوچتا ہے اور یہ فائدہ کسی بھی قسم کا ہو اس میں مالی منعفت کا رنگ نمایاں نظر آتا ہے۔ گھوڑے کا جتنا وزن ہوتا ہے، اتنے اچھے دام ملتے ہیں۔ دنیا میں اس کھیل کو بے ضمیری کا عنوان بھی دیا جاتا ہے۔ ایسا گھوڑا یا کھلاڑی مہذب معاشرے میں بے وقعت اور سیاست میں زیرو ہی رہتا ہے۔ ہماری سیاست کے رنگ بھی عجب ہیں۔ گھوڑے اپنے ووٹرز کو دھوکہ دے کر۔۔۔ہیرو کے ہیرو ہی رہتے ہیں۔ جس طرح کی ہوائیں آج کل مارکیٹ کی چل رہی ہیں، بڑے بڑے پارساؤں کے پتے پانی ہونے لگے ہیں ۔اُن کا نظریہ ہے ان کے ایک فیصلے سے انہیں دس پندرہ کروڑ مل جائیں، ایک کیا کئی نسلیں خوشحالی کی آغوش میں آ جائیں گی۔ یہ سوچ گمراہ کن، اخلاقی، مذہبی اور جمہوری آداب کی توہین ہے اس سوچ کے خلاف تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پوری شدت سے آواز اٹھائی ہے کہ سینیٹ انتخاب اوپن ہونا چاہیے۔ اُن کے مطابق ہارس ٹریڈنگ ہو رہی ہے۔ بولیاں لگ رہی ہیں۔ وجہ یہ تھی تحریک انصاف کا ایک رکن صوبائی اسمبلی کھلے عام بک گیاتھا۔ وہ ایک آزاد امیدوار کا تجویز کنندہ بن گیا۔ مسلم لیگ (ن) کا بھی ایک رکن آزادامیدوار کا تائید کنندہ بن گیا۔ دونوں نے کیاکچھ لیا یا نہیں لیا یہ تو اللہ ہی جانتا ہے۔ عمران خان کو خدشہ ہے اُن کی پارٹی کے ارکان دولت کے آگے ڈھیر نہ ہو جائیں اور سینیٹ کے انتخاب میں ممبران اسمبلی کا شیرازہ ہی نہ بکھر جائے ۔ تحریک انصاف کا ہم خیال گروپ کافی عرصے سے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کیلئے چیلنج بنا ہواتھا۔ یہ گروپ آج تشکیل نہیں پایا۔ اب اس گروپ کے قائد جاوید نسیم نے عمران خان کو یقین دلایا ہے کہ وہ تحریک انصاف کے امیدواروں کو ہی ووٹ دیں گے لیکن وہ اپنا اصل کام تو دکھا چکے ہیں۔ اگر وہ تصدیق کنندہ نہ بنتے تو ممکن تھا یہاں مقابلہ کی صورت ہی پیدا نہ ہوتی۔ تمام پارٹیاں اپنا اپنا حصہ لے کر مطمئن ہو جاتیں۔ خیبر پختونخوا میں آزاد امیدوار میدان میں ہیں جس سے خرید و فروخت کے قصے عام ہو رہے ہیں۔ 20 سے 25 کروڑ لگ رہی ہیں جس پر جماعت اسلامی کے امیر سیخ پا ہیں۔ اُن کے ممبران اسمبلی کے خلاف ریمارکس خاصے توہین آمیز اور سخت ہیں۔ اُن کا کہنا ہے بھیڑ بکریوں کی طرح قیمتیں لگ رہی ہیں۔ اس سے دو قدم آگے بڑھتے ہوئے انہوں نے اس خرید و فروخت کو سیاسی دہشت گردی قرار دیا ہے۔ یہ افسوسناک صورت حال ہے۔ ہارس ٹریڈنگ روکنے کیلئے عمران خان اور مسلم لیگ (ن) نے جس طرح کے رویے کا مظاہرہ کیا ہے، محسوس ہوتا ہے دونوں جماعتیں مستقبل میں حقیقی جمہوریت کی طرف پیش قدمی کرنا چاہتی ہیں۔ میاں نواز شریف چاہتے ہیں اس اہم ایشو کا جواب 22 ویں ترمیم کے ذریعے دیا جائے۔ اس کے علاوہ وہ یہ بھی چاہتے ہیں یہ کام وہ اتفاق رائے اور سیاسی جماعت کو اعتماد میں لے کر کریں جس کیلئے حکومت کی دو کمیٹیاں پہلے ہی کام کر چکی تھیں جو اپنی رپورٹ بھی پیش کر چکی ہیں۔ وفاق کی علامت اس ادارے کے انتخاب میں ہارس ٹریڈنگ روکنے کے نام سے حکمران جماعت کیلئے یہ مشکل بھی پیدا ہو سکتی ہے کہ وہ اتفاق رائے سے دور چلی جائے اور سینیٹ کے چیئرمین کا انتخاب اس کے ہاتھ سے نکل جائے۔ اب 22 ویں ترمیم کے نام پر جو کچھ ہونے والا ہے محسوس ہوتا ہے اس ترمیم کا انجام بھی سرائیکی صوبہ کی ترمیم جیسا ہی نہ ہو۔ 22 ویں ترمیم میں ہم دو خوفزدہ سیاسی جماعتوں کا چہرہ بھی دیکھ سکتے ہیں۔ پیپلزپارٹی تو اس ترمیم کے خلاف کھل کر آ رہی ہے۔ مسلم لیگ سے اس کی مفاہمت نہیں ہو سکی۔ اُسے مسلم لیگ (ن) نے پنجاب سے سیٹ دینے سے انکار کر دیا۔ سینیٹ انتخاب میں پی پی پی کسی معجزے کی منتظر ہے۔ پنجاب، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور اسلام آباد میں انہوں نے سینیٹ کے امیدوار میدان میں اتارے ہیں مگر یہاں کسی جگہ بھی اُن کا ایک بھی امیدوار کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اس کے پاس اتنے ووٹ ہی نہیں۔ یہاں تو تحریک انصاف کی دوغلی پالیسی بھی کھل کر سامنے آ رہی ہے ۔ اس کے ارکان قومی اسمبلی سے استعفیٰ دے چکے ہیں۔ استعفیٰ دینے کے باوجود کچھ ارکان مراعات لے رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی تعریف کرنے کے باوجود اُن کے ارکان 22 ویں ترمیم کا حصہ بننے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے ترمیم کے حوالے سے پیپلزپارٹی کو ناراض کر دیا ہے۔ پیپلزپارٹی چاہتی تھی مفاہمت کے نام پر وہ پنجاب سے ایک نشست لے لے۔ پنجاب میں پیپلزپارٹی کے ارکان اسمبلی کی تعداد صرف 8 ہے اور اسے کم و بیش ایک اوپن نشست جیتنے کیلئے تقریباً 46 ارکان کی ضرورت ہے۔ جہاں تک 22 ویں ترمیم کے پاس ہونے کا تعلق ہے جو طریقہ کار حکومتی کمیٹیاں تجویز کر رہی ہیں اس سے سیاسی جماعتوں کی آمریت قائم ہونے کا خدشہ ہے۔ سینیٹ کے انتخاب سے پہلے اگر 22 ویں ترمیم پاس ہوتی ہے تو ہارس ٹریڈنگ روکنے کے نام پر خفیہ رائے شماری کا حق سلب ہو جائے گا۔ اے این پی کی قیادت کا کہنا ہے کہ خفیہ بیلٹ جمہوریت کا حسن ہے اور اس سے عداوتیں بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔ ہارس ٹریڈنگ روکنے سے پہلے سیاسی جماعتوں کو اپنے کردار، اپنی تنظیم اور قیادت کے رویے کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لئے کوئی مثبت اور درمیانی راستہ سامنے آنا چاہیے۔ یہ تو پرانا کھیل ہے۔ ٹکٹ دیتے ہوئے باکردار لوگوں کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں بھیجنے سے ہارس ٹریڈنگ کا عمل رک سکتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کی قیادت کا اپنا کردار سوالیہ نشان ہے۔ یہاں ماضی کا تذکرہ ضروری سمجھتا ہوں۔ 2012ء کے انتخاب میں پیپلزپارٹی کے عام کارکن اسلم گل کسی ہارس ٹریڈنگ سے نہیں، پارٹی کی کمزوری سے ناکام ہوئے تھے۔ سیاسی کمزوریاں اور ہارس ٹریڈنگ ساتھ ساتھ چلتی رہی ہیں۔ ہارس ٹریڈنگ کا سوال اپنی جگہ ہے یہ کھیل نیا نہیں، برسوں پرانا ہے۔مارچ 2009ء کے سینیٹ انتخابات میں مفاہمت اور جمہوریت کے جو مظاہرے عوام نے دیکھے اُس میں ارکان اسمبلی کی خرید و فروخت کسی سے چھپی ہوئی نہیں تھی۔ مولانا فضل الرحمن جو پیپلزپارٹی کے اتحادی اور کشمیر کمیٹی کے چیئرمین تھے، سینیٹ کے اس انتخابات کے بارے میں اُن کا یہ تبصرہ دلچسپی سے خالی نہیں تھا۔ انہوں نے کہا ’’ہارس ٹریڈنگ نہیں، اصطبل ٹریڈنگ ہوئی ہے۔‘‘ اس کی تصدیق اُس وقت کے وفاقی وزیر حمید اللہ خان اور اخونزادہ چٹان نے بھی کی تھی۔میاں شہباز شریف کا سینیٹ 2009ء کے انتخابات میں یہ کہنا کچھ امیدوار نوٹوں کی بوریاں لے کر گھوم رہے ہیں۔ مارچ 1991ء کے انتخابات میں بھی روپیہ پیسہ خوب چلا تھا۔ سیاسی جماعتوں کی حقیقت اُس وقت کھلی جب ایک امیدوار کمانڈر خلیل جس کو کسی کی حمایت حاصل نہیں تھی، وہ پورے 32 ووٹ لے کر کامیاب ہوا تھا اور اُس کا نمبر سب سے اوپر تھا۔ اُن کے پیچھے تھے ایک اور دولت مند سینیٹر گلزار، عوامی نیشنل پارٹی کے 2 ارکان اس جمعہ بازار میں فروخت ہو گئے ۔ عوامی نیشنل پارٹی کے صدر خان عبدالولی خان کو یہ کہنا پڑا کہ میری پارٹی بھی اس جمعہ بازار میں رسوا ہوئی ہے۔خیبرپختونخوا میں آئی جے آئی کے دو ارکان مطلوبہ ووٹ پورے ہونے کے باوجود بھی ہار گئے۔ قومی اسمبلی میں اس شکست پر ایک رکن نے نکتہ اعتراض بھی اٹھایا۔ سندھ کی صورت حال تو ایسی تھی جام صادق کی ایماء پر پیپلزپارٹی کے تین ارکان کو اٹھایا، دباؤ اور لالچ میں اپنے حق میں ووٹ ڈلوائے۔ اغوا ہونے والے ان ارکان کا پیپلزپارٹی کو یہ نقصان ہوا کہ اسے سندھ میں چار کی بجائے تین نشستیں ملیں۔ 1994ء اور 1997کا حال بھی برا تھا۔پیپلزپارٹی کا دور حکومت جو 2008ء سے شروع ہوا تھا، اس نے سینیٹرز کو ڈویلپمنٹ میں ترقیاتی سکیمیں دے کر سینیٹرز کو بھی شکست کے راستے پر لگا دیا۔ 22 ویں ترمیم کے حوالے سے جو کچھ حکومت کر رہی ہے، اُس کا بنیادی مقصد تو سینیٹ کے انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ روکنا ہے۔ نیک نیتی سے کئے ہوئے اس کام کا انجام یہ نہیں ہونا چاہیے کہ یہاں سیاسی جماعتوں کی آمریت قائم ہو جائے۔

بہ شکریہ روزنامہ نئی بات

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.