.

ہارس ٹریڈنگ کیوں؟

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہدف، ہارس ٹریڈنگ کا خاتمہ اور جمہوریت کی مضبوطی ہر گز نہیں۔ اپنی اپنی‘ جماعت کے اندر لیڈران کی آمریت کو یقینی بنانا اور اسے دوام دینا ہی مقصود ہے۔ اسی لئے میاں نوازشریف صاحب اور عمران خان صاحب سینیٹ کا انتخاب شو آف ہینڈ سے کرانے کے لئے بے تاب ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا میاں نوازشریف کی مسلم لیگ کے اندر رتی بھر جمہوریت موجود ہے اور کیا سینیٹ کے لئے امیدواروں کی نامزدگی انہوں نے پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی یا پھر ووٹروں یعنی ممبران صوبائی اسمبلی کی مشاورت سے کی ہے ؟ نہیں ہر گز نہیں ۔ ان کے خاندان کے افراد اور چند چمچوں نے بیٹھ کر امیدواروں کی فہرست بنائی ہے۔ معیار پیسہ اور ذاتی پسند ناپسند اور کچھ سیاسی مجبوریوں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ اب ممبران صوبائی اسمبلی جو اصلاً سیاسی غلام ہیں سے کہا جارہا ہے کہ جن کو انہوںنے امیدوار بنا رکھا ہے ‘ وہ آنکھیں بند کرکے انہیں ووٹ دیں۔ یہی سوال تحریک انصاف کے حوالے سے اٹھتا ہے۔ کیا تحریک انصاف کے اندر جمہوریت نام کی کوئی چیز ہے اور کیا خان صاحب نے سینیٹ کے لئے امیدواروں کا چنائو پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی سے پوچھ کر یا پھر ممبران صوبائی اسمبلی کی رائے لے کر کیا ہے۔ نہیں ہر گز نہیں۔

جس طرح میاں نوازشریف صاحب نے گزشتہ ایک سال کے دوران پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس نہیں بلایا ‘ اسی طرح خان صاحب نے اسے بھی عضومعطل بنا دیا ہے اور من پسند افراد پر مشتمل کور کمیٹی فیصلے کررہی ہے ۔ یہ لیڈران کرام خود تو ان لوگوں کو عہدے اور ٹکٹ دیتے ہیں کہ جو صاحب سرمایہ ہوتے ہیں لیکن اپنے سیاسی غلام یعنی اراکین پارلیمنٹ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان کے اشارے پر اپنی رائے کا استعمال کریں۔ جس طریقے سے سینیٹ کے ٹکٹ دئیےگئے ہیں وہ جمہوریت ‘ سینیٹ اور اراکین صوبائی اسمبلی کی توہین ہے ۔ جہاں تک پیپلز پارٹی کا تعلق ہے وہ تو الحمد للہ اعلانیہ طور پر قاعدے ‘ اصول اور اخلاقیات سے کب کی مبرا ہوچکی ہے۔ لیکن میاں نوازشریف کی ’’اصول پسندی‘‘ دیکھ لیجئے کہ اسلام آباد کے لوگوںکی نمائندگی کے لئے ایک جاگیردارنی کو سندھ سے اور ہمارے ایک مہربان کو خیبرپختونخوا سے لاکر ٹکٹ دلوایا گیا ہے ۔اسی طرح سندھ ہی سے اپنے دو چہیتوں کو پنجاب لاکر امیدوار نامزد کیا ہے جو پنجاب کے ممبران اسمبلی اور عوام کے حق پر ڈاکہ ہے ۔

سوال یہ ہے کہ یہ نشستیں سرائیکی پٹی جو پہلے سے محرومیوں کی شکار ہے ‘ کو کیوں نہیں دی گئیں۔اسی طرح تحریک انصاف کی قیادت نے بھی کوشش کی کہ خیبرپختونخوا سے پنجاب کے جہانگیر خان ترین اور فوزیہ قصوری کو منتخب کرادے اور پہلے سے ہزارہ ڈویژن میں ووٹ بھی رجسٹرڈ کرائے گئے تھے لیکن میڈیا میں بروقت احتجاج کی وجہ سے ایسا نہ ہوسکا ۔ پارٹی وفاداری کو معیار بنایا جائے تو خیبرپختونخوا میں صوبائی صدر پیر صابر شاہ اور بلوچستان میں سیدال ناصر کو نظرانداز کرکے من پسند افراد کو ٹکٹوں سے نوازا گیا ۔ بلوچستان میں انوارالحق کاکڑ جیسے صاحب مطالعہ اور متوازن سیاسی کارکن کو محروم رکھا گیا ۔ اسی طرح تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا میں سوائے شبلی فراز کے باقی کسی امیدواروں کو علم‘ تجربے یا پارٹی وفاداری کی بنیاد پر امیدوار نہیں بنایا۔ ایک ہی معیار مدنظر رکھا گیا یعنی پیسہ ۔ محسن عزیز صاحب پارٹی عہدیدار نہیں بلکہ صاحب سرمایہ ہیں ۔ نعمان وزیر صاحب کا بھی یہی پیمانہ ہے ۔ خاتون امیدوار کی کوالیفکیشن یہ ہے کہ وہ چیف سیکرٹری آزاد کشمیر کی اہلیہ ہیں ۔

اسی طرح عام انتخابات میں پی ٹی آئی کے مقابلے میں انتخاب لڑنے والے ترکئی خاندان کے سینیٹ کے امیدوار کی حمایت کی جارہی ہے کیونکہ یہ خاندان اربوں کا مالک ہے ۔ خیبرپختونخوا اسمبلی میں پیپلزپارٹی کے پاس جتنے ایم پی ایز موجود ہیں‘ وہ بمشکل ایک نشست جتواسکتے ہیں لیکن تین اہل سرمایہ کو امیدوار بنایا گیا ہے جس کا واضح مطلب یہی ہے کہ باقی دو ووٹ خریدیں گے ۔ اب میاں نوازشریف صاحب ‘ عمران خان صاحب اور آصف علی زرداری صاحب خود تو ٹکٹ اور عہدے بانٹتے وقت پارٹی سے پوچھتے ہیں اور نہ میرٹ اور اہلیت کو مدنظر رکھتے ہیں لیکن اپنے اراکین اسمبلی کو سیاسی غلام بنا کر مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ قائدین کے فیصلوں سے سرمو انحراف نہ کریں ۔ تاہم سوال یہ ہے کہ جب لیڈروں کا معیار دولت ہو تو پھر ایم پی ایز اور ایم این ایز اس کو معیار کیوں نہیں بنائیں گے؟

جب لیڈر میرٹ کی بجائے چاپلوسوں اور چہیتوں کو نوازیں گے تو پھر ممبران اسمبلی کیوں میرٹ اور پارٹی ڈسپلن کی پابندی کریں ؟۔ اگر وہ سیاسی غلام نہیں بلکہ انسان ہیں تو مسلم لیگی اراکین اسمبلی کو میاں نوازشریف سے ضرور پوچھنا چاہئے کہ جناب عالی !آپ نے کس سے مشاورت کرکے پارٹی ٹکٹ الاٹ کئے ہیں ۔ کس کے مشورے سے آپ نے ممنون حسین کو صدر‘ چوہدری سرور کو گورنر ‘ عرفان صدیقی کو مشیر‘ زاہد حامد کو وزیر اور ماروی میمن کو بے نظیر انکم سپورٹ کی چیئرپرسن بنا دیا ہے۔ آپریشن ضرب عضب سے لے کر کراچی آپریشن تک اور چین کے ساتھ سمجھوتوں سے لے کر عمران خان کے ساتھ سازباز تک‘ کیا کسی معاملے میں ان اراکین اسمبلی سے ذرہ بھر بھی مشاورت کی گئی ہے؟ ان میں ہمت ہو تو وہ سوال اٹھائیں کہ کس اصول کے تحت ان کی قسمتوں کا اختیار مریم نواز صاحبہ اور کیپٹن صفدر صاحب کو دے دیا گیا ہے ؟۔

سیاسی غلام بن جانے والے پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی میں ہمت ہو تو وہ خان صاحب سے سوال پوچھنے کی جرات کرلیں کہ خان صاحب !ہم میں سے کس سے مشورہ کرکے آپ نے پارٹی کے منتخب عہدیداروں کی چھٹی کر اکر اعظم سواتی کو پختونخوا کا صدر اور جہانگیر ترین کو مرکزی جنرل سیکرٹری کے طور پر ہمارے سروں پر بٹھایا۔ کس سے پوچھ کر آپ نے منتخب صدر جاوید ہاشمی کو فارغ کیا اور چھ ماہ سے مرکزی صدر کے عہدے کو خالی رکھا ہواہے ؟۔ جب اسکرپٹ کے تحت دھرنوں کو پروگرام بنا کر اسمبلیوں اور جمہوریت کو دائو پر لگایا جا رہا تھا تو کیا ان اراکین اسمبلی سے کسی نے مشاورت کی تھی اوراب جب مسلم لیگ (ن) سے ساز باز ہورہی ہے تو کیا کسی نے ان کی رائے پوچھی ہے ؟

حقیقت یہ ہے کہ سیاست میں خریدوفروخت کی بنیاد ہمارے ان سیاسی رہنمائوں نے ڈالی ہے اور سرمایے کی بنیاد پر عہدے اور ٹکٹ دینا ان سیاسی لیڈروں کا وطیرہ ہے لیکن اب جبکہ ان کو خطرہ ہے کہ ان کے ممبران اسمبلی بھی ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ووٹ فروخت کریں گے تو میاں صاحب اور خان صاحب ہارس ٹریڈنگ کے مخالف بن کر سینیٹ کے انتخاب کا طریق کار بدلنے کے لئے سرگرم عمل ہوگئے ہیں۔ طریق کار ضرور بدلنا چاہیے اور اگر ممبران کی مرضی ہو تو خوشی سے خفیہ رائے دہی کے ذریعے شو آف ہینڈ کا طریقہ اختیار کیا جائے لیکن اگر ممبران اسمبلی لیڈران کی غلامی سے نجات چاہتے ہیں تو اس کے ساتھ ساتھ نئے قانون کی رو سے یہ اجازت بھی ہونی چاہیے کہ ہر ممبر اپنے ضمیر اور مرضی کے مطابق ووٹ استعمال کرسکے گا۔ اور اب آخر میں دو واقعات :

(1) آفتاب احمد خان شیرپائو کے ساتھ خیبرپختونخوا کی وزارت اعلیٰ پر قبضے کے لئے مقابلے کے وقت میاں محمد نوازشریف صاحب نے خیبرپختونخوا کے اراکین اسمبلی کو خریدنے کی ذمہ داری اپنی پارٹی کے غفور خان جدون اور اے این پی کے فرید خان طوفان کو دی تھی ۔ کیپٹن صفدر اورمحترمہ ریحام خان کے علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک رکن صوبائی اسمبلی کو قائل کراکے فرید طوفان میاں صاحب کے پاس لاہور لے گئے ۔ بات طے ہوگئی لیکن ایم پی اے صاحب نے کہا کہ انہوں نے قسم کھا رکھی ہے کہ وہ میاں صاحب کے پیسوں کو ہاتھ نہیں لگائیں گے ۔ میاں صاحب اور فرید طوفان نے ان سے کہا کہ آپ اپنی قسم پر قائم رہئے۔ آپ جھولی کو ہاتھوں سے پکڑ کر آگے لائیے۔ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ فرید طوفان نے رقم ان کی جھولی میں ڈال دی۔ ایم پی اے صاحب رقم کو ہاتھ لگائے بغیر جھولی میں اسے گاڑی تک لے گئے اور پچھلی نشست میں پھینک کر ڈرائیور کو اسے گننے اور سنبھال کر رکھنے کا کہا۔ یوں ان کی قسم کی لاج بھی رکھی گئی اور میاں صاحب کا کام بھی ہو گیا۔

(2) پاکستان تحریک انصاف کے موجودہ صوبائی صدر اعظم سواتی صاحب امریکہ میں اپنا کاروبار بچوں کے سپرد کرکے ڈالروں کا انبار لے کرجب امریکہ سے واپس لوٹے تو پہلے انہوں نے ان ڈالروں کے عوض ضلعی نظامت حاصل کر لی۔

پھر انہیں سینیٹر بننے کا شوق ہوا تو ایم ایم اے کی قیادت سے رابطہ کرلیا۔ ایم ایم اے کی قیادت نے ان کے ساتھ ڈیل یہ کرلی کہ نصف ممبران ان کو پارٹی کی طرف سے دئیے جائیں گے اور باقی وہ ان کی صفوں میں سے اپنے لئے خود خرید لیں ۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور سینیٹر منتخب ہوئے۔اسی طریقے سے انہوں نے وزارت بھی حاصل کرلی۔

اسی دولت اور اپنے مخصوص کمالات کی وجہ سے عمران خان صاحب نے انہیں پارٹی کا صوبائی صدر بنا دیا تو پی ٹی آئی کے پرانے رہنمائوں نے ان کی نامزدگی کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ کے پی کے ہائوس کے ایک اجلاس میں بڑی تلخی ہوئی اور کچھ رہنمائوں نے خان صاحب کی موجودگی میں اعظم سواتی کے خلاف گواہیاں دیں تو خان صاحب نے یہ کہہ کر سواتی صاحب کے مخالفین کو رام کرلیا کہ بلدیاتی انتخابات تک سواتی صاحب کو برداشت کرلیں کیونکہ ان میں پیسوں کی بہت ضرورت پڑتی ہے ۔

ماشاء اللہ۔ اب یہی میاں نوازشریف صاحب اور عمران خان صاحب مل کر ہارس ٹریڈنگ کا راستہ روکنے چلے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.